Pages

Most Popular

منگل، 21 جون، 2022

حقیقی مسیح اور انجیلی مسیح تحریر ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ


 

انجیلی مسیح اور حقیقی مسیح

      تحریر:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ          

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسی مبارک ہستی ہیں جنہوں نے تاریخ کے اوراق پر گہرے اثرات مرتب کیے مگر بدقسمتی سے ان کی حقیقی تعلیمات تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہوگئیں۔ان کی مصدقہ تعلیمات کے بارے میں ہمیں وحی جدید یعنی قرآن مجید سے ہی پتہ چلتاہے کیونکہ ان کے رفع آسمانی کے بعد انہدام یروشلم کاواقعہ ہوا جس میں ان کے شاگردوں،پیروکاروں اور عوام الناس کی بہت بڑی تعداد ماری گئی جو کہ ان کے اقوال کی سامع اور اعمال کی شاہد تھی۔یوں ان کے افعال واقوال کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع ہوگیااوربعدازاں لوگوں نے مسیح علیہ السلام کی طرف انتساب کرکے ان کے اقوال کو پیش کرناشروع کردیا۔[1]ایسے لوگوں میں پیش پیش وہ لوگ تھے جو پولوسی نظریات کے حاملین تھے جبکہ ان کے دوسری طرف مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کی زبانی روایات پر عمل کرنے والے تھے ۔ابتدائی صدی عیسوی میں ان دونوں گروہوں میں باہمی کشمکش ہی رہی تاہم چوتھی صدی عیسوی میں نقائیہ کونسل کے بعد پولوسی نظریات کوحکومت وقت کی طرف سے سند قبولیت عطا کی گئی یوں یہ گروہ غالب ہوا ۔ بعد میں یہی لوگ  مسیح کی حقیقی تعلیمات کے اصل علمبردارٹھہرےاوراسی فریق کے عقائد کی ترجمان کتب کو مسیحیت کی مسلمہ کتب کادرجہ دیاگیا۔غیریہودی اشخاص کی لکھی گئی ان کتب کی بدولت مسیح علیہ السلام کاتعلق یہودیت سے اجنبی ہوا اور ان کی ذات کے متعلق طرح طرح کے نظریات،عقائد اور تشریحات وجود میں آئیں جن کا سلسلہ آج بھی جاری ہے حالانکہ اگر مسیح علیہ السلام کی ذات مبارکہ  کو یہودی تناظر میں دیکھا جائے تووہ ایک نبی سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھے۔

                مسیح علیہ السلام کی بن باپ پیدائش  کومسیحیت نے ان کی ابنیت کی تائید میں پیش کیاحالانکہ یہودی معاشرے میں اس طرح کی پیدائش کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ بائبل میں کئی ایسی خواتین موجود ہیں جو کہ بالکل بانجھ تھیں اور اپنی انتہائی عمر میں خدائے تعالیٰ نے ان کو معجزانہ طریقے سے اولاد عطا کی۔ان خواتین میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ بی بی سارہ، حضرت یعقوب علیہ السلام کی دو اہلیائیں ربقہ اور راحیل اور حضرت سموئیل علیہ السلام کی والدہ بی بی حناہ شامل ہیں جو کہ بانجھ تھیں اور خداتعالیٰ نے عمر کے آخری حصے میں انہیں اولاد ودیعت کی۔عیسیٰ علیہ السلام کے ہی ایک معاصر نبی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی اس وقت ہوئی جب ان کےوالد حضرت زکریا علیہ السلام اور والدہ انتہائی عمررسیدہ اور بوڑھے ہوچکے تھے۔نیز یہودی معاشرےمیں اِس قسم کے تصورات بھی عام تھے کہ کوئی جن بھی عورت کو حاملہ کرسکتاہے۔ان عقائد کی بنیاد تورات کی روایات،وادی قمران کے صحائف اور دیگر یہودی ادب  ہیں ، جہاں اس قسم کی پیدائش  کی مختلف نظائر موجود ہیں ۔مگر ان کےلیے مسیح کی بن باپ پیدائش باعث عار اس لیے تھی کہ بی بی مریم یہودی ہیکل کی خدمت کے لیے وقف تھیں اور اسی میں رہا کرتی تھیں۔اسی وجہ سے انہوں نے بی بی مریم کو ملامت کانشانہ بنایاجس کاذکر ایک اپاکریفل صحیفہ(Protevangelion) میں بھی ملتاہے۔[2]مسیحیوں نے ولادت مسیح کے معاملے کو یہودی تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کی تشریحات مشرکانہ افکار کی روشنی میں کی اور اسے مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور ابنیت کی دلیل قرار دے کر انہیں خدا کاحقیقی بیٹا قرار دے دیا۔

                انجیلی روایات کے مطابق مسیح علیہ السلام کا پیشہ بڑھئی تھا۔ایک یہودی عبادت خانے میں جب انہوں نے پہلی بار خطبہ دیا لوگ ان کاکلام سن کر حیران رہ گئے کہ ایک بڑھئی کابیٹا کیسے ایسی حکمت بھری باتیں کرسکتاہے؟[3]تلمودی روایات کے مطابق آرامی لفظ بڑھئی ایک 'عالم'یا'ماہراستاد'کے لیے استعمال کیاجاتاتھا۔ایک برگزیدہ نبی کاکلام یقیناً حکمت سے بھرا ہی ہوتاہے مگر عالم مسیحیت نے اس لفظ کے یہودی معنیٰ کو ترک کرکے اس قضیہ سے مسیح علیہ السلام کو عالم الغیب ہستی بناکر پیش کردیاتاکہ ان کی الوہیت کو منوایاجاسکے یوں مسیح علیہ السلام کے ایک دلکش عکس کو تاریخ کے اوراق سے محو کردیاگیا اور آج اس انجیلی مقام کا مطلب اس کے حقیقی معانی سے ہٹ کر برآمد کیاجاتاہے۔[4]

                اسی طرح سے عیسیٰ علیہ السلام کے مختلف معجزات بالخصوص مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ کودیکھتے ہوئے مسیحیوں نے انہیں خدا قرار دے دیا حالانکہ اس طرح کے معجزات یہودی معاشرے میں عام تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کی ہی کئی معاصر یہودی بزرگ شخصیات ہیں جومردوں کو زندہ کرنے سمیت کئی کرامات و خرق عادات افعال صادر کرتے تھے۔ایسے لوگوں میں حننیاہ بن دوسا،ہونی وغیرہ شامل ہیں۔[5]

                مسیح علیہ السلام اپنی ساری زندگی گلیل کے علاقے میں بنی اسرائیل کے درمیان تبلیغ کرتے رہےاورکبھی یہاں سے باہر نہیں نکلے۔اگر کسی غیر قوم کے فرد نےآکر ان سے سوال بھی کیا تو بھی انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ میں صرف اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لیے بھیجا گیاہوں۔[6]انہوں نے جب کبھی اپنے شاگردوں کو تبلیغی مشن کے لیے روانہ کیاتوان کو بھی تاکید کی کہ اسرائیل کے گھرانوں کے علاوہ کہیں بھی مت جانا۔[7]ان کی ساری محنت کا رخ صرف یہودیوں کی طرف ہی تھا اور رفع آسمانی کے بعد بھی مسیح علیہ السلام کے ابتدائی ساتھی اس بات کا تصور بھی نہیں کرتے تھے کہ کوئی غیر قوم کاشخص ان کا ساتھی بنے گا۔[8]لیکن مقدس پولس کی آمد کے بعد سارا منظرنامہ بدل جاتاہے اور پولوسی نظریات پر مشتمل مسیحیت غیراقوام میں پھیلنا شروع ہوجاتی ہےجس کی تعلیم یہودیت سے بالکل ہٹ کر تھی۔جب ان غیریہودیوں نے زور پکڑا تودیگر فرقوں کو انحراف یاکفر کاالزام لگاکر بزورختم بھی کیاگیا اور ان کے صحائف کو تلف بھی کیاگیا۔آج بھی مسیحیت کے سینکڑوں فرقے موجود ہیں جوایک دوسرے پر بدعتی ہونے کاالزامات لگاتے رہتے ہیں۔[9]

 



[1] John P. Meier, A Marginal Jew, Vol I, p 22.

[2] Vermes, The Nativity: History and Legend, p 49–52.

[3] کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت،مرقس ۳:۶۔

[4] Vermes, Jesus The Jew: A Historian’s Reading of the Gospels, p 21–22.

[5] Vermes, p 69–72.

[6] کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت،متی ۲۴:۱۵۔

[7] کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، متی ۱۵:۱۰۔

[8] Vermes, Christian Beginning: From Nazareth to Nicaea (AD 30-325), p XIV.

[9] عبدالمجید،چوہدری،مسیحیت مغربی مفکرین کی نظر میں، ص113-114۔

مکمل تحریر >>

کون ہے جو مجھ میں گناہ ثابت کرے؟ عیسائی دعوے کی پس پردہ حقیقت


کون ہے جو مجھ میں گنا ہ ثابت کرے؟ عیسائی دعوے کی حقیقت

تحریر عبداللہ غازیؔ

آج کل ہمارے فیس بکی دیسی عیسائی دوستوں کو ایک انجیلی ورس کا زوردار بخار چڑھا ہوا ہے اور وہ جگہ جگہ پوسٹ کررہے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ کون ہے جو مجھ میں گناہ ثابت کرے؟( اس حوالے سے رابرٹ فضل نامی صاحب نے تو ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑ دیئے ہیں کہ دنیا کا کوئی شخص یسوع میں گناہ ثابت نہیں کر سکتا۔ ۔ بات صرف یہیں تک محدود رہتی تو ٹھیک تھا مگر اس بات کو بنیاد بنا کر پاکستانی دیسی عیسائی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کررہے ہیں جو کہ ایک مذموم اور قبیح فعل ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ و ایمان ہے کہ صرف حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام ہی نہیں بلکہ دنیا میں تشریف لانے والے تمام انبیاء کرام علیہم السلام ہرقسم کی معصیت و گناہوں سے پاک ہیں۔ ہمیں یسوع میں گناہ ثابت کرنے کی ضرورت بھی نہیں اور کوئی مسلمان ایسا سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام جیسی ہستیوں کی ذات میں گناہ تو درکنار کوئی نقص بھی تلاش کرنے کی جسارے کرے۔دوسری طرف عیسائی ہیں جن کی مذہبی کتب میں بدترین تحریفات ہو جانے کی وجہ سے عصمت انبیاء علیہم السلام کے عقیدے پر بدترین داغ آتا ہے اور دنیا کا ہر عیسائی انبیاء کرام علیہم السلام جیسی جلیل القدر اور راست باز ہستیوں کو بھی اپنی طرح ہی گناہ گار اور خطا کار سمجھتا ہے(نعوذباللہ من ذالک)

عیسائیوں کی یہ روش اس وجہ سے ہے کہ ان کو ملنے والے مقدس متون میں انسانی کلام کی آویزش ہو چکی ہے جس کا اقرار مسیحی علماء کو بھی ہے۔اس ضمن میں پادری جی ٹی مینلی لکھتے ہیں کہ

پاک نوشتوں میں ہر جگہ انسانی پہلو نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ بائبل میں ربانی اور انسانی عنصرناقابل جدا ہیں۔ "ہماری کتب مقدسہ" پادری جی ٹی مینلی،1998،مسیحی اشاعت خانہ،ص28"

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریف و تصریف ہوجانے کے بعد کسی بھی کتاب سے پیغمبر کی ذات کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ عیسائیوں کے پاس موجود اناجیل میں بھی تحریفات کی وجہ سے بہت سے الزامات یسوع مسیح پر بھی وارد ہو جاتے ہیں بالخصوص اس دعوے کی تو جڑ ہی کٹ جاتی ہے کہ کون ہے جو مجھ میں گناہ ثابت کرے گا۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ انجیل محرف خود یسوع مسیح ؑ کو گناہ گار ثابت کرتی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم ہرگز انہیں ایسا نہیں سمجھتے مگر انجیلی تحریفات کو عیاں کرنے اور عیسائیوں کا بخار اتارنے کے لیے کچھ گزارشات پیش ہیں۔

عالم عیسائیت کے نزدیک مقدس پولس کے فتوے کے بعد شریعت موسوی متروک اور ناقابل عمل ہو چکی ہے تاہم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو تفویض شدہ احکامات عشرہ کو آج بھی عالم عیسائیت میں قابل عمل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اناجیل اربعہ کے مطابق یسوع مسیح اکثر مقامات پر ان احکامات عشرہ کی پابندی و پاسداری کرتے نظر نہیں آتے ہیں۔

دس احکام میں سبت کی تعظیم و توقیر کا حکم بھی شامل تھا جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اناجیل اربعہ میں یسوع کہیں بھی سبت کی پابندی و پاسداری کرتے نظر نہیں آتے۔ اب اگر عیسائی بضد ہیں اور تاویلات نکالتے ہیں کہ یسوع نے سبت کی پابندی کی تھی تو پھر آج عالم مسیحیت سبت کو کیوں چھوڑ چکی ہے؟ اگر یسوع سبت کے دن کو خداوند کے حکم کے مطابق مناتے تھے تو پھر آج کے عیسائی سبت کو چھوڑ کر اتوار کے دن کو کیوں سینے سے لگائے بیٹھے ہیں؟

احکام عشرہ کا ایک حکم یہ بھی تھا کہ تو اپنے ماں باپ کی عزت کرنا۔جب کہ اناجیل میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یسوع نوعمری سے ہی اس حکم پر عمل کرنے سے مجتنب رہے۔ بارہ سال کی عمر میں ہیکل میں حاضری کے وقت غائب ہو کر تین دن رات تک انہوں نے اپنے والدین کو شدید ترین ذہنی و جسمانی تعذیب میں مبتلا رکھا اور دوبارہ مل جانے کے بعد بھی وہ اپنے والدین کی کوئی دل جوئی کرتے نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ اپنی منادی کے دوران بھی وہ اپنی والدہ کی بات پر کان دھرنے کے بجائے الٹا ان سے اعلان برات کر دیتے ہیں کہ "کون میری ماں اور کون میرا بھائی"(متی۱۲ :۴۸) اپنی والدہ کو اس طرح کا جواب دینا کون سی تعظیم کے زمرے میں آتا ہے؟

اسی طرح حکم عشرہ کا ایک حکم تھا کہ تو چوری نہ کرنا جب کہ اس حکم کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع اور ان کے شاگردسبت کے دن ،اس عظیم دن کی تعظیم کیے بغیر دھڑلے سے ایک کھیت میں گھس جاتے ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر گندم کی بالیاں توڑ توڑ کر پورے کھیت کو تہس نہس کر دیتے ہیں۔ (متی۱۲ :۱) اگر کسی دیسی عیسائی کی دکا ن میں گھس کر لوگ دکان کا مال کھانا شروع کردیں تو کیا وہ اسے چوری اور ڈاکہ تو نہیں سمجھے گا؟

احکام عشرہ کا آخری حکم یہ تھا کہ تو اپنے پڑوسی کی کسی چیز کا لالچ نہ کرنا اور نہ اس کے گدھے کا لالچ کرنا مگر انجیل میں واضح طور پردیکھا جا سکتا ہے کہ یروشلم میں داخلے کے وقت یسوع کے شاگرد شہر کے باہر بندھا گدھا چرا کر لے آتے ہیں اور دوہزار سال گزرنے کے باوجود آج تک وہ گدھا واپس نہیں کیا گیا۔ اپنے پڑوسی کا گدھا چرانا گناہ اور احکام عشرہ کی خلاف ورزی نہیں تو پھر کیا ہے؟

احکام عشرہ کے علاوہ انجیل یوحنا کے مطابق یسوع نے ایک مرتبہ جھوٹ بولنے کابھی ارتکاب کیا۔ انجیل کے مطابق یسوع کے بھائیوں نے ان سے کہا کہ آپ یہودیہ جا کر منادی کریں تاکہ وہاں کے لوگوں کو بھی علم ہو تو یسوع ان کو انکار کردیتے ہیں کہ میں یہودیہ نہیں جاؤں گا مگر جب ان کے بھائی یہودیہ چلے جاتے ہیں تو پھر یسوع بھی ان کے پیچھے یہودیہ پہنچ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یسوع کو یہودیہ جانا ہی تھا تو اپنے بھائیوں سے اس بارے میں غلط بیانی کی کیا ضرورت تھی؟یہ واضح جھوٹ نہیں تو پھر کیا ہے؟

اس کے علاوہ عہدنامہ جدید میں ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع ایک مردے کو چھوتے ہیں جب کہ شریعت موسوی کے مطابق مردے کو چھونے سے انسان ناپاک ہو جاتا تھا اور پھر ایک خاص شرعی طریقے سے عمل تطہیر مکمل کرکے ہی وہ دوبارہ سے پاک ہوتا تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو گناہ گار سمجھا جاتا تھا۔ عہدنامہ جدید میں ہم دیکھتے ہیں کہ یسوعؑ مسیح مردوں کو چھوتے تو ہیں مگر کسی بھی قسم کے شرعی عمل تطہیر سے گزرتے نظر نہین آتے۔ ان کے اس عمل کی کیا توجیح کی جائے ۔یہ بات ہم قاری پر چھوڑ دیتے ہیں۔

غرض کہ اس سلسلے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر ابھی صرف دیسی عیسائیوں کے قلوب و اذہان میں بنے بت کو توڑنا ضروری ہے جس کو پوجتے ہوئے وہ نبی مکرمﷺ پر دشنام طرازی کرتے اور گستاخیاں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ گستاخوں کو برباد کرے اور سلیم الفطرت لوگوں کوہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ سلام علی من اتبع الھدیٰ

 

مکمل تحریر >>

ہفتہ، 18 جون، 2022

اپاکریفل لٹریچر کیا ہے؟ ازقلم ڈاکٹر عبداللہ غازیؔ

 



















اپاکریفل ادب کیا ہے؟

تحقیق و تحریر:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ

                عہد نامہ جدیدکااپاکریفا وہ کثیر تحاریر ہیں جو کہ پہلی صدی عیسوی تانویں صدی عیسوی تک لکھی گئیں۔روایات کے مطابق یہ کتب عیسیٰ علیہ السلام کے شاگردوں یاان کے قریبی رفقاء نے لکھیں اور وسیع پیمانے پر کلیسا میں ملہم نوشتوں کے طورپر پڑھی جاتی رہیں بعدازاں تقریبا پانچویں صدی میں غالب کلیسا کیتھولک چرچ نے ان کی قانونی حیثیت کو مسترد قراردے دیا جبکہ 27کتب کو متفقہ طورپر الہامی کتب کی فہرست میں شامل کردیاگیا۔[1] اس طرح مختلف کلیساؤں میں مروج یہ تحاریر 'اپاکریفل'بن کر زمانے کی نظر سے مستور ہوگئیں ۔عہدقدیم کی اپاکریفل کتب کوبہت سے مسیحیو ں نے قانونی کتب(Canonical)کے طورپر تسلیم کیا مگر عہد نامہ جدید کی اپاکریفل کتب کی قانونی حیثیت ماننے سے انکار کردیا۔[2]

                ابتدائی مسیحیوں میں  تصلیب عیسوی ؑ کے بارے میں درجنوں روایات موجود تھیں اور معاشرے میں گردش کررہی تھیں مگراس کے باوجود چوتھی صدی عیسوی کے اختتام تک مسیحیوں میں مصلوبِ مسیح کے بارے میں متفقہ نظریہ موجود نہ تھا۔آج اس معاملے سے متعلق جو بھی بظاہر متفق علیہ نظریہ موجود ہے وہ قانونی کتب کی تشکیل(Canon of Scripture)کے بعد کا ہے۔اس کینن کو مرتب کرنے کے دوران بہت سی کتب خارج کردی گئیں جو آج اگر اس میں شامل ہوتیں تو صورتحال مختلف ہوتی۔[3]

                چوتھی صدی عیسوی کے بعد واقعہ تصلیب کی وہی تشریح وتعبیر درست تسلیم کی گئی جو کلیسا کی طرف سے رائج کردہ اناجیل کی روایات کے عین مطابق ہوں۔اس کے علاوہ ہرتعبیر وتوجیح کو بدعت سمجھا گیا حالانکہ اپاکریفل کہہ کر ردکی جانے والی کتب میں سے بہت سی کتابیں انجیل کے نام پر لکھی گئی تھیں اور ان میں شامل روایات واقعہ تصلیب کے بارے میں کئی مقامات پر اناجیل اربعہ سے مختلف الگ ہی داستان کے بارے میں خبر دیتی ہیں تاہم کچھ اناجیل مصلوبیت کے معاملے کو اہمیت ہی نہیں دیتیں اور اس سے پہلےہی مسکوت ہوجاتی ہیں۔ اس کی مثال یہوداہ اسکریوطی کی انجیل  ہےجس کا مصنف مصلوبیت کے واقعہ کواہمیت نہ دیتے ہوئے ذکر نہیں کرتا۔[4]

                 اگران سب کتب کی استنادی حیثیت کاجائزہ لیاجائے توتاریخی لحاظ سے انہیں مستند قرا ردیناممکن نہیں جس کی سب سے بڑی وجہ رومی سلطنت کاریکارڈ ہے جو اس متعلق کوئی خبر نہیں دیتا۔[5]اس معاملے میں بھی کوئی تاریخی معلومات دستیاب نہیں کہ ایک ہی واقعہ کے متعلق بیسیوں تفصیلات میں سے عالمی کونسلز(Ecumenical Counsels)نے کس معیار کے تحت منتخب کی جانے والی کتب کی صحت کاجائزہ لیا اور انہیں الہامی مسلمہ کتب کے طور پر منتخب کرلیا۔محققین کی نظر میں وہی کتب منتخب کی گئیں جو غالب پولوسی گروہ کے نظریات کی مؤید تھیں اس کے برعکس ہر وہ کتاب مسترد کردی گئی جو پولوسی نظریات سے میل نہیں کھاتی تھی اس کی ایک مثال بائبل کے قدیم نسخوں (Ancient Codex) میں موجود نسخہ سینائی میں میں شامل دو کتب ہرمس کاچرواہا اور برنباس کاخط ہیں جنہیں مدتوں تک الہامی کتب کے طور پر کلیسا میں پڑھا جاتا رہا اور بعدازاں ان کااخراج کردیاگیا۔[6]

 



[1] Frans Van Liere, An Introduction to the Medieval Bible,  p. 68–69.

[2] Van Voorst, Jesus Outside the New Testament: An Introduction to the Ancient Evidence, 203.

[3] Van Voorst, p 178–79.

[4] Elaine Pagels and Karen L. King, “English Translation of the Gospel of Judas,” in Reading Judas: The Gospel of Judas and the Shaping of the Christianity, p. 122.

[5] E. P. Sanders, The Historical Figure of Jesus, p. 49.

[6] قسیس معظم آرچ ڈیکن برکت اللہ ،صحت کتب مقدسہ،ص215-216۔


مکمل تحریر >>

جمعرات، 16 جون، 2022

انجیل پطرس اور واقعہ صلیب (قدیم مسیحی روایات میں مندرج واقعہ صلیب کی روایت کی تلخیص)


 








پطرس کی انجیل

                پطرس کی انجیل غیرقانونی(non-canonical)قراردی جانے والی اناجیل میں سے ایک ہے جسے کلیسا نے اپاکریفا قرار دے کر رد کردیا۔[1]غیرقانونی سمجھی جانے والی اناجیل میں یہ پہلی دریافت شدہ انجیل ہے جو 1886ء میں مصرکے شہر قاہرہ کے قریب سے دریافت ہوئی۔[2]تیسری صدی عیسوی کے ابتدا میں کلیسائی بزرگ اسے الہامی سمجھتے تھے اور اس سے اقتباسات نقل کرتے تھے۔ایوسبوس (Eusebius) نے  بھی اپنے خط (190ء-203ء) میں اس انجیل سے کچھ مواد نقل کیاہے اس کے علاوہ اوریجن(Origen) نے بھی یعقو ب کی انجیل کے ساتھ انجیلِ پطرس کاذکر کیاہے[3]اور اسے شمعون پطرس کی تصنیف قراردیاہے۔[4]اس انجیل کاایک بڑا حصہ عیسیٰ علیہ السلام کی  زندگی کے آخری ایام بالخصوصی مبینہ تعذیب کی روایات پر مشتمل ہےجوکہ ان کی تصلیب کاذمہ دار پینتس پیلاطوس کے بجائے ہیرودیس اینٹی پاس کو قرار دیتی ہیں۔علماکے مطابق اس انجیل کاماخذ وہی ہے جہاں سے اناجیل اربعہ کے مصنفین نے تعذیب کی روایات نقل کی ہیں۔[5]پطرس کی انجیل اس وقت تک کلیسا میں پڑھی جاتی رہی جب تک کہ اس کو پڑھنے اور رکھنے پر پابندی نہ لگادی گئی۔ابتدائی مسیحی دور میں یہ انجیل نہ صرف سیریا بلکہ مصر تک بہت سی کلیساؤں میں پڑھی جارہی تھی۔[6]

واقعہ تصلیب بمطابق انجیل پطرس

                اس انجیل کے مطابق جب عیسیٰ علیہ السلام کو سزا سنائی گئی تو قاضیوں اورہیرودیس سمیت کسی یہودی نے ہاتھ نہیں دھوئے کیونکہ وہ  دھونا نہیں چاہتے تھے۔پیلاطوس کھڑا ہوا اور ہیرودیس بادشاہ نے انہیں حکم  دیتے ہوئے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو لے جائیں اور اس کے ساتھ وہی کریں جو کچھ انہیں کہاگیاہے۔وہاں یوسف بھی کھڑا تھا جو کہ عیسیٰ علیہ السلام اور پیلاطوس دونوں کاہی دوست تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دینے والے ہیں لہذا وہ پیلاطوس کے پاس آیا اور اس سے لاش مانگی تاکہ اسے دفنادے۔ پیلاطوس نے ہیرودیس بادشاہ کو پیغام بھیجا اور لاش طلب کی ۔ہیرودیس نے کہا کہ برادرم پیلاطوس اگرکوئی اس کی لاش نہیں مانگتا تو ہم کو چاہیے کہ اس کو دفن کردیں کیونکہ سبت ہونے والاہے اور شریعت میں لکھا ہے کہ کسی مقتول پر سورج طلوع نہیں ہونا چاہیے۔چنانچہ انہوں نے بےخمیری روٹی کے پہلے دن سے قبل اسے(عیسیٰ علیہ السلام) لوگوں کے حوالہ کردیا اور وہ انہیں تیزی سے دھکیلتے ہوئے لے گئے۔لوگوں نے انہیں قاضی کی کرسی پر بٹھایا اور ارغونی جامہ پہنایا اوران میں سے ایک نے کانٹوں کاتاج ان کے سر پررکھا۔وہ سب کہہ رہے تھے کہ یہ یہودیوں کابادشاہ ہے۔ وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے ان کے چہرے پر تھوکا، تھپڑ وسرکنڈےاور کوڑے مارے۔وہ کہتے جاتے تھے کہ ہمیں خداکے بیٹے کی تعظیم کرنے دے۔اور انہوں نے دوبدکاروں کو لیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے درمیان صلیب پر لٹکا دیا لیکن وہ بالکل خاموش تھے گویا کہ انہیں کوئی درد نہ ہو۔ جب لوگوں نے صلیب کو سیدھا کھڑا کیا تواس پر لکھا کہ یہ اسرائیل کابادشاہ ہے۔ اورانہوں نے قرعہ ڈال کر ان کے کپڑوں کو بھی آپس میں تقسیم کرلیا۔ ان کے ساتھ مصلوب ہونے والے دونوں بدکار کہہ رہے تھے کہ ہم ان شیطان کاموں کی وجہ سے اس مصیبت میں مبتلاہوئے ہیں جوہم نے کیے ہیں لیکن اس کے ساتھ کیا ہواہے جو انسانیت کا نجات دہندہ ہے۔ا س نے تمہارے ساتھ کیا کیاہے۔کیونکہ وہ لوگ ان(عیسیٰؑ) پر سخت غضب ناک تھے لہذا انہوں نے حکم دیا کہ اس کی ٹانگیں نہ توڑی جائیں تاکہ یہ صلیبی صعوبتیں سہہ کر مرے۔اورابھی دن ہی تھا کہ سارے یہودیہ پر اندھیراچھا گیا۔ وہ سب گھبراگئے اور پریشان ہوگئےکہ سورج غروب ہوگیا جبکہ وہ(عیسیؑ) ابھی تک زندہ تھے کیونکہ لکھا ہے کہ سورج مقتول پر طلوع نہیں ہوگا۔ اور ان میں سے کسی نے کہا کہ اسے شراب ملا سیال پلاؤ۔ اورانہوں نے شراب ملا کر اسے پینے کے لیے دی اور انہوں نے تمام چیزیں پوری کیں اور ان کے گناہوں کو ان کے سروں پر پورا کیا۔۔۔بہت سے لوگ رات خیال کرکے لالٹین لے کر نکل پڑے اور دھوکہ کھا گئے اور اسی وقت عیسیٰؑ نے بلند آواز نکالی کہ اے میری طاقت اے میری طاقت تو نے مجھے چھوڑ دیا۔یہ کہہ کر وہ اٹھا لیے گئے اور اسی وقت ہیکل کاپردہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔وہاں موجود لوگوں نے ان کےہاتھوں میں لگی میخیں نکالیں اور ان کو زمین پر رکھا کہ اچانک ایک زلزلہ آیا۔اس وقت دن  کا نواں گھنٹہ تھا۔[7]

 



[1] Patrick Halton Thomas, On Illustrious Men, p 5–7.

[2] Van Voorst, Jesus Outside the New Testament: An Introduction to the Ancient Evidence, p 205.

[3] Origen of Alexandria, “‘The Brethren of Jesus’ Origen’s Commentary on Matthew in Ante-Nicene Fathers,” No Dated, vol. IX,

[4] Bart D. Ehrman and Zlatko Plese, eds., The Other Gospels: Accounts of Jesus from Outside the New Testament, p 191.

[5] Van Voorst, Jesus Outside the New Testament: An Introduction to the Ancient Evidence, p 205–6.

[6] Bart D Ehrman, Lost Christianities: The Battle for Scripture and the Faiths We Never Knew, p 27.

[7] F. Neirynck, “The Apocryphal Gospels and the Gospel of Mark,” in The New Testament in Early Christianity, p 171–75.





مکمل تحریر >>

جمعہ، 23 جولائی، 2021

مقدس پولس کی اُم المسلمین سیدہ ہاجرہ پر بہتان تراشی

 


مقدس پولس کی اُم المسلمین سیدہ ہاجرہ پر بہتان تراشی

تحریر:محمداصغر

تعلق کتنا گہرا، ربط کتنا خوبصورت ہے

لبوں پر مسکراہٹ اور سینوں میں کدورت ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیدہ حاجرہ سلام اللہ علیہا سے تعلق و ربط چاہے کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو مگر صلیبیوں کے کدورت بھرے سینے کبھی بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے ۔

صلیبیوں کے چہیتے پولس رسول نے گلتیوں کے نام خط میں سیدہ حاجرہ سلام اللہ علیہا اور سیدہ سارہ سلام اللہ علیہا کی مثال بیان کی ہے جس میں سچ کے ساتھ ساتھ جھوٹ کی آمیزش بھی کارفرما ہے کیونکہ جھوٹ سے جلال بلند کرنا تو پولس کی تعلیم کا بنیادی جز ہےحالانکہ پولس خود اس بات کا اقرار بھی کرتا ہے کہ ان باتوں میں تمثیل پائی جاتی ہے اور یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ عورتیں گویا دو عہد ہیں۔)گلتیوں 4:24(لیکن اس کے باوجود جھوٹ سے معمور ہو کر کچھ یوں بیان کر جاتا ہے کہ لونڈی کا بیٹا جسمانی طور پر اور آزاد کا بیٹا عہد کے سبب سے پیدا ہوا۔)گلتیوں 4:23(یعنی جھوٹ سے جلال کچھ اس طرح بلند کہ دو عہد کو صرف ایک عہد میں بند ۔

اب آگے چل کر پولس مزید آدھے سچ کے ساتھ آدھے جھوٹ کا پیوند کچھ اس طرح لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ تاریخ کو دھندلا سے مگر سب بےسودلکھا ہے ایک کوہ سینا پر کا ہے جس سے غلام ہی پیدا ہوتے ہیں اور وہ حاجرہ ہے ۔)گلتیوں 4:24(

یہ بات تو برحق ہے کہ سینا پر سے نسل در نسل غلام ہی پیدا ہوئے ۔پہلے مصریوں کے غلام پھر اسوریوں کے بعد میں بابلی فارسی اور یونانیوں کا طوق ان کے گلے میں پڑا جس کے بعد چار صدیوں تک رومیوں نے ان پر حکمرانی کی ،اسی لیے پولس نے اپنی اس ہزیمت کو مٹانے کی ناکام کوشش میں جھوٹ کا ٹانکا لگا کر لکھ دیا کہ (وہ حاجرہ ہے)حالانکہ یہ بات تاریخ عالم میں روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بنی اسمعیل نے کبھی بھی اپنے اوپر کسی دوسری قوم کے تسلط کو قبول نہیں کیااور پھر سیدہ حاجرہ سلام اللہ علیہا "سینا" کی نہیں "بیر سبع" کی رہنے والی تھیں۔(پیدائش 21:14)اور پولس چونکہ یہودی تھا اس لیے وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ بنی اسرائیل کے چار قبائل کے جدامجد (دان،نفتالی،جد،آشر)

لونڈیوں (زلفہ،بلہا) کی نسل سے تھے جبکہ لیاہ اور راخل تو خود اپنے لونڈی ہونے کا اقرار کرتی ہیں کیونکہ وہ خریدی گئیں تھیں۔(پیدائش 31:15)اور خریدے ہوئے عہد عتیق کے مطابق غلام کہلائے جاتے ہیں۔(احبار 25:44)تو ثابت ہوا بنی اسرائیل کے تمام قبائل لونڈیوں کی نسل سے تھے اور غلاموں کی اولاد بھی غلام ہی رہتی ہے(خروج 21:4)تبھی تو بنی اسرائیل نسل در نسل غلامی میں رہے جبکہ اس کے برعکس سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے متعلق خدا نے پہلے ہی سے مہر ثبت کر دی تھی کہ وہ گورخر آزاد مرد کی طرح ہو گا۔(پیدائش 16:12)

یہاں ایک اور مسئلہ حل ہو جاتا ہے کہ اگر سیدہ حاجرہ سلام اللہ علیہا حقیقتا لونڈی ہوتیں تو ان کے بیٹے سیدنا اسمعیل علیہ السلام (خروج21:4) کے مطابق غلام ہی پیدا ہوتے جبکہ وہ تو آزاد مرد پیدا ہوئے تو ثابت ہوا سیدہ حاجرہ علیہ السلام بھی آزاد خاتون تھی اور پولس اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا جبھی تو گلتیوں باب 14 میں جھوٹ پر جھوٹ کے پیوند لگانے کے باوجود پولس کو تسلی نہ ہوئی اور آخر کار اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہی پڑاکہ موجودہ یروشلم اپنے لڑکوں سمیت غلامی میں ہے۔(گلتیوں 4:25)اور اپنے اسی احساس کمتری کو مٹانے کے لیے پولس کو مزید اضافہ کر کے لکھنا پڑا کہ عالم بالا کی یروشلم آزاد ہے۔(گلتیوں 4:26)

لیجئیے جناب نہ رہے گا بانس نہ بجے کی بانسری 😀

اب کون عالم بالا پر جا کر دیکھے کہ عالم بالا کی یروشلم کیسی ہے؟

 

مکمل تحریر >>