Pages

Most Popular

بدھ، 5 مئی، 2021

کیا مسیحیوں کا علمی ورثہ درست منتقل ہوا؟

 

کیا مسیحیوں کا علمی ورثہ درست منتقل ہوا؟

مترجم :ظفراقبال

مسئلہ ابھی تک حل ہونے سے انکاری ہے۔ تثلیثی تعلیمات نے مغرب میں جڑ پکڑی، کیونکہ کاسینٹ باسل اور انطاکیہ کےسینٹ تھیوفیلس ہی وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے لفظ تثلیث یا ثالوث برتا۔ نقائیہ کی کونسل کے وقت بھی اِس نظریے کی وہ شکل نہیں تھی جو اب ہمارے سامنے ہے کیونکہ  اِس مرحلے پر روح القدس الگ اقنوم نہیں سمجھا جاتا تھا۔ وہ لوگ جو اِس نظریے کے حمایتی تھے کہ یسوعؑ خدا کے برابر نہیں ہے، وہ کچھ عرصہ تک اس کے مؤید رہے لیکن شہنشاہ تھیوس ڈپئس نے بعد میں ان کے خلاف اپنا فیصلہ صادر کر دیا۔ اُس نے اپنے زیر حکومت تمام علاقوں میں عقیدہ ِنقایہ جبراً مسلط کیا اور اس وضع شدہ نظریے کی توثیق کےلئے ۳۸۱ء میں قسطنطنیہ کی کونسل کا انعقاد کروایا، اور اِس کونسل نے خدا کے اقانیم ثلاثہ میں روح القدس نامی اقنوم کی شمولیت کا فیصلہ صادر کردیا۔ بجائے اس کے کہ اسے خدا کا فعل تسلیم کیا جاتا اسے خدا اور مسیح کا مسادی درجہ عطا کردیا گیا۔ یوں۳۸۱ء میں پہلی بار تثلیث کو شرعی حیثیت میسر آئی۔

۳۸۱ء میں مسئلہ تثلیث پر لچک دار مؤقف رکھنے والے جیروم نے بیت لحم کے غاروں میں سکونت اختیار کرلی اور اپنی مرضی سے چند مخصوص صحائف کو لاطینی زبان میں ڈھالنا شروع کرد یا۔ بعدازاں یہ ترجمہ" ولگیٹ" کے نام سے اس  قدر مشہور ہوا کہ مقدس نوشتے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ایک بار جب جیروم کے مجموعے کو مقبولیت عامہ حاصل ہوئی تو وہ کتب جو اُس انتخاب میں شامل نہیں تھیں، درجہ کمتر قرار پائیں۔ اِس کے باوجود تثلیث کو قبولیت عام میسر نہیں آسکی صورتِ حال یہاں تک گھمیر ہوگئی کہ تثلیث کی مخالفت کا مطلب تعذیر کو دعوت دینا تھا۔

بہت سا مواد، جس کے بارے میں باور کیا گیا کہ یہ صحیح العقیدہ نہیں تھے، قصدًا تلف کردیا گیا یا پھر عیسائیوں کے احتسابی  نظام کا شکار ہوکر جعلی یا غیرمستند قرار پایا۔ احتسابی عمل قسطنطین اول کے زمانے میں مسلط کیا گیا اور تھیوڈوسیٹس دوم اور ویلیطپئس سوم کے عہد میں پوری شدت سے کام دکھاتا رہا۔ ہمارے پاس موجودہ صورت میں عہد جدید 397ء ،میں سامنے آیا جب کارتعج کی کونسل نے بےحد بحث و تکرار اور عدم اتفاق کے بعد چھبیس کتب کی فہرست کا حتمی حکم نامہ صادر کیا۔ ]مکاشفہ کی کتاب اِس کونسل میں زیرِ بحث نہیں آئی تھی۔ از مترجم[

قدیم مصری عیسائی جماعت کی لائبریری 1945ء میں مصر میں ناگ حمادی کی ریت میں دبی ہوئی ملی۔ یہ تیرہ جلدوں میں انچاس کتابوں پر مشتمل کاوش تھے۔ اور قدیم قاہرہ کے قبطی میوزیم کا سب سے بڑا خزانہ بن گئی۔ متون واضع طور پر یہ آشکار کرتے ہیں کہ اِس گروہ کے ہاں کیا کیا قابلِ قبول تھا۔ یوحنا کے تین نسخے(اسفار محرفہ)، یعقوب کے مکاشفے کے تین نسخے، پولوس کے مکاشفہ کا ایک نسخہ، پطرس کے مکاشفہ کا ایک نسخہ اور تین اناجیل جو موجودہ عہد جدید میں شامل نہیں ہیں۔ویلنٹہنئس کی انجیل صداقت، انجیل قلب اور انجیلِ توما حواری۔

ایک وقت وہ بھی تھا جب عہد جدید میں برنباس کا خط، مکیمنٹ کا خط، ہرمس کا چرواہا، پطرس کی منادی، ددخے (تعلیم دوازدہ رسول)، رسولوں کی سیرت، حتٰی کہ کشف سبلین جیسی  کتب بھی شامل تھیں جنہیں بعدازاں ترک کردیا گیا۔

پہلی چھ صدیوں تک شامی کلیسیا موجودہ خطوط میں سے چار خطوط اور کتاب مکاشفہ کو اپنے مجموعہ کتب سے باہر رکھتی رہی۔ چوتھی صدی عیسوی میں شامی اور ارمینی کلیسیائیں قرنتیوں کے نام پولس کے تیسرے خط کو قبول کرتی تھی۔ اب بھی حبشی کلیسیا یا ابتھوپیائی کلیسیا موجودہ عہد جدید کی نسبت آٹھ مزید کتب اپنے مجموعہ کتب میں شامل کرتی تھی۔ یہ بات بہت واضح تھی کہ کتابوں کے انتخاب کا عمل ایک عیسائی گروہ کے دوسرے عیسائی گروہ پر فتح یابی کا مرہونِ منت تھا۔ اگر مخالف گروہ غالب آجاتا تو پھر کتب عہدجدید کی فہرست بھی مختلف ہوجاتی۔

انطاکیہ میں وہ اِس نظریے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب رہے کہ مسیح ایک منفرد انسانی ذات ہے جسے حکم الٰہی ودیعت کیا گیا۔ وہ ایسا انسانی جسم تھا جس کا مخزن الٰہی تھا۔ مسیح انسان میں سے ہوکر خدا تھا اور کنواری مریم اس کی ماں تھی جوکہ انسانی بدن کے توسط سے تھی اور مسیح کی بحثیت خدا ماں نہیں تھی۔ سکندریہ میں مسیح میں مافوق الفطرت ہستی کے مجسم ہونے پر سوچ و بچار کی گئی۔ انطاکیہ میں اُن کی رہنمائی میسوپتامیہ کے تھپوڈور نے کی۔

انہوں نے مسیح کی دو ذاتوں/ذوہستی ہونے پر زور دیا جو باہم مختلف تھیں، اور چونکہ انسانی والٰہی ذاتیں لاذماً جدا جدا تھیں اِس لئے وہ اِن کے ادنمام کے بارے کوئی تسلی بخش بیان جاری کرنے سے قاصر رہے۔ سکندریہ میں الٰہی اور انسانی ذوات کے مابین تمیز کرنے کے معاملے میں اُن میں مفاہمت ہوگئی، اور یسوع کی الوہیت پر اُس کی بشری نوعیت کے لحاظ سے زور دیا گیا۔ اپاتھوس اہاتھین نامی ضابطہ زیرِ بحث لایا گیا جس کی رد سے " وہ مصائب اٹھائے بغیر مصائب میں متبعدہوا۔" (یعنی کہ اُس کے جسم نے دکھ اٹھایا، اور کلام/کلمہ نے محض اِس ہمدردی میں مصیبت برداشت کی کہ وہ اُس کا جِسم تھا)

بڑے مفکرین میں سے ایک اپالی نیریس تھا( جو 80-360 کے عرصے میں سرگرم عمل رہا تھا) جِس نے یہ سبق پڑھایا کہ یسوع کے جسم کی طبیعات بانوعیت الٰہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسیح جوکہ خدا تھا انسانی شکل میں نمودار  ہوا۔ اس لئے عیسائی ہر لحاظ سے اس کے مستحق ہیں کہ کنواری مریم کو تھیوٹوکوس باخدا کی ماں کہیں۔ اور شفاعت طلب دعائیں اُس سے کریں، یہ نظریہ مونوفائی سائٹ کہلایا، جوکہ یک ذاتی نوعیت پر دلالت کرتا تھا۔

حقیقت میں دونوں نظریات (یک ذاتی و ذوذاتی) تثلیثی تعلیم پر مفاہمت رکھتے ہیں، کیونکہ اگر کوئی یہ تسلیم کرے کہ مسیح بشری لبادے میں خدا تھا تو اُسے لاذماً  یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ حقیقی بشر کے طور پر ہمارے لئے دکھ اٹھانے اور مرنے کے لئے قطعی طور پر بے بس لاچار تھا اور یہی عقیدہ نجات کا جوہر تھے۔ جبکہ اِس کے برعکس اگر کوئی شخص اِس کی دو ذاتی حیثیت کو تسلیم کرے تو یہ اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ صلیب پر مرنے والی ہستی مسیح کی انسانی ذات تھی نہ کی خدا کی ہستی جس سے دوبارہ نجات کے نظریہ سے مفاہمت ہوجاتی ہے۔

انطاکی الٰہی مکتبہ فکر کا  روح رواں نسطوریس تھا کہ میسوپتامیہ کا ارامی عرب تھا۔ جس نے کھلے بندوں دونوں ہستیوں کے مسیح میں ادغام سے انکار کردیا تھا، نسطوریس کا نظریہ راسخ العقیدہ اور مونوفائی سائٹس دونوں کے لئے یکساں لعنت ملامت تھا۔ نہ صرف یہ کہ مسیح کی دو  ذاتیں تھیں بشری اور الٰہی بلکہ دو اقانیم مسیح میں باہم یکجا ہوگئے تھے۔ اس لئے مریم کی تھیوٹوکوس یا خدا کی ماں نہیں پکارنا چاہیے۔ وہ ہرگز اس قسم کی کوئی ہستی نہیں تھی۔ وہ صرف انسانی یسوعؑ کی والدہ تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لئے اُسے کرائسٹوٹوکوس یا مسیح کی ماں ہی کہنا چاہئے۔

نسطوریس کی شدت پسند مونوفائی سائٹ سرل آف سکندریہ (412-444) نے مغلوب الغضب ہوکر مخالفت کی۔ نسطوری بدعت کا معاملہ نمٹانے کے لئے 431ء میں اُفسس کی کونسل منعقد ہوئی جس میں شامل بشپ حضرات نے کثرتِ رائے سے کنواری مریم کے تھپوٹوکوس یعنی مادر خدا ہونے پر ہر تصدیق ثبت کی۔ دو ذاتی ہستی کو متعین کردیا۔ باالفاظ دیگر نسطوری نظریہ کو بدعت قرار دے دیا اور نسطوریس کو جلاوطنی کی حالت میں مرنے کے لئے مصر کے مشرقی صحرا میں بھیج دیا۔ تاہم آج بھی اُس کا نظریہ بڑی پختگی سے شاہی کلیسیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ البتہ سرل کی کامیابی نے روم میں خطرے کی گھنٹی بجادی اور پوپ لیو اول (440-461) نے مونوفائی سائٹس کے اِس مقام و مرتبہ ہر 449ء میں ایک اور کونسل طلب کرکے پرزور دھاوا بول دیا۔ سرل کا جانشین ڈائیوسکورس (444-454) اپنے محافظ کے ہمراہ آن پہنچا، اور  مخالفین کو مونوفائی سائٹس کے حق میں فیصلہ دینے کے لئے بہت زیادہ دھمکایا یہی وجہ ہے کہ یہ مجلس قزاقوں کی مجلس کہلائی۔

451ء میں خلقیدون کی مجلس عام دوبارہ مونوفائی سائٹس کے یسوع کی یکجہتی ذات کے بارے مجتمع ہوئی۔ اِس مجلس عام اِن تعلیمات پر بحث کی کہ یسوع کی بشریت اُس کی الوہیت میں کلیتا جذب ہوگئی تھی (یہ ایرلیس کی تعلیمات کے ضدف تھا)۔ تاہم یہ نقطہ نظر ابھی تک مصری، ایتھوپیائی قبطی اور آرمینٹسن اور لعقبولی کلیسیاؤں میں ابھی تک قابلِ لحاظ گردانا جاتا ہے۔ شہنشاہ مرقیون کی وجہ خلقیدون کی اس کونسل نے جس فارمولے پر پسپائی اختیار کی دوحقیقت ایک مفاہمت سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ اِس نے نہ تو کوئی حل پیش کیا اور نہ ہی اِس کا حاصل کئی ایک رقہیانہ آرا پر لعنت مروت سے سوا  کچھ اور تھا۔

اِس  بات پر زور دیا گیا کہ الوہیت میں یسوع خدا باپ کا ہم مادہ و ہم ذات ہے اور بشریت میں ہمارا ہم جنس و ہم مادہ۔ وہ ہر لحاظ سے ہمارے مماثل ہے سوائے گناہ کے۔ ازل سے خدا باپ سا صادر ہوا اور آخری ایام میں ہمارے لئے پیدا ہوا کنواری مریم سے تاکہ ہمیں نجات بخشے۔ مریم مادر خدا ہے یسوع بشریت میں دونوں انواع کا حاصل ہے اور بغیر کسی اخلاط کے بغیر کسی تبدیلی کے، بغیر جوہر کی تفہیم کے، بغیر ایک جوہر دوسرے سے الگ  ہونے کے، اور ہر ذات یا جنس امتیازی وصف محفوظ ہے اور ہراگندہ یا خلط ملط نہیں ہوا۔"اخلاط" سے مراد اُن کی یہ تھی کہ دونوں انواع باہم یکجا ہوکر کام کررہی ہیں بالکل ایسے جیسےکہ پانی میں نمک گھل جاتا ہے یہ علما کی ذہنی ایچ کا نتیجہ نہیں ہے؟۔ ہر نوح اپنے آپ میں کامل ہے اور دونوں ایک دوسرے سے قطعا ممیز نہیں لیکن اِس کے باوجود نہایت کاملیت سے ایک ہی شخصیت میں یکجا ہیں جو بیک وقت خدا بھی ہے اور انسان بھی۔

494ء میں پوپ گلاسپئس اول نے پچھلی دونوں صدیوں ہونے والی کاوشوں کی جانچ پڑتال کو حتمی شکل دے دی۔ پوپ کا فرمان ممنوعہ کتب کی فہرست پر مبنی تھا۔ اس  میں اکسٹھ کتب اور چھتیس سے کم مصنفین کے نام نہیں تھے جن کا حمایتی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہ ٹوٹنے والا لعنت  ملامت کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے۔

ممنوعہ کتب کا پاس رکھنا ایک سنگین جرم قرار پایا اور کئی ہزار عیسائی  اپنے ہی ہم مذہبیوں کے ہاتھوں ممنوعہ کتب پاس رکھنے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی دشمن تحریریں یا وہ تاریخی مواد جو یسوع کو ایک انسانی رہنما کے روپ میں پیش کرتا تھا اس کی باریک بینی سے چھان بین کی گئی اور نہایت منظم طریق سے تلف کردیا گیا۔ (لازم تھا کہ یہ مواد یسوع کو ایک شورش لیڈر یا سیاسی رہنما بتلائے)۔یہی وجہ ہے کہ جوزلفیس کی کتاب میں اب کوئی مواد موجود نہیں ہے ٹیسیٹس کے متعلقہ مواد غائب ہے اور سیلسس اور اس جیسا دوسرا نام روئے زمین سے مٹا کر دم لیا گیا۔

لیکن آثار سے واضح ہے کہ ان کے پاس  بتانے کے لئے بہت کچھ باقی ہے۔ وہ خدا کے بیٹے نجات دہندہ یسوع کی کہانی کو جانتے ہیں اور اسے رد کردیتے ہیں۔ ان آثار کا  استرداد اس بنا پر نہیں ہے کہ یسوع کبھی رہا ہی نہیں تھا بلکہ اس لحاظ سے کہ یسوع کی الوہیت کے عیسائی دعاوی  کھٹ پٹ یا فریب خوردگی پر مبنی ہیں۔ اور یسوع کی تعلیم اور حیات بارے عیسائی بیانات قطعاً جھوٹ ہیں۔

نسطوری فرقہ 498ء سے انطاکیہ قطع تعلق کر چکا ہے اور عراق کے شہر کے طیسفون میں اپنے بڑے بشپ  کے ساتھ الگ کلیسیا بنا چکا ہے۔

506ء میں ارفی کونسل نے خلقیدونی کو نسل کے فیصلوں کو مسترد کردیا، اور خود کو کھلے بندوں مونو فائی ساٹئس کہلوایا۔ 512ء میں انطاکیہ کا مونوفائی ساٹئس بطریق سورس (Severus) کو نکال باہر پھینکا گیا اور جلا وطن کردیا گیا۔ مونوفائی سائٹس نے اپنے اوپر مسلط شدہ بشپ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور خود ہی اپنا نیا بطریق چن لیا جو ٹیلر کا رہنے والا سرجئیس تھا۔ سورس کو شہزادی تھیو ڈورا نے تحفظ اور حمایت فراہم کی وہ جیٹنین کی بیوی تھی اور ملکہ تھی۔ یوں شامی مونوفائی ساٹئس ایک اور خودمختار کلیسیا بن گئے۔ 553ء میں قسطنطنیہ میں دوسری مجلسِ عام نے ایک مرتبہ پھر نظریہ تثلیث کی تائید و توثیق کردی اور کنواری مریم کی مادرِ خدا ہونے کی بھی۔ اور 680ء میں قسطنطنیہ میں منعقد ہونے والی تیسری مجلسِ عام نے اس بات کی توثیق کی کہ مسیح کی ذات میں دو ارادے ہیں اور دو طریق سے ہی پورے ہوتے ہیں۔

تھیوڈورا سے عنسانی قبیلے کے بادشاہ شیخ الحارث حیلہ نے ملاقات کی جو اپنے عرب عیسائیوں کی حالتِ زار اسے بتانے آیا تھا۔ انہوں نے ان شاہی کارندوں کے ہاتھ ہولناک مظالم سہے تھے جنہیں مشرقی صوبوں میں بدعتوں کی بیخ کی کے لئے متعین کیا گیا تھا۔ شیخ نے ملکہ کو بتایا کہ انہیں ایک نئے بشپ کی ضرورت ہے جو ان پادریوں کی جگہ پر افراد متعین کرے جو کہ "صحیح العقیدہ" ظالم و جابر کارندوں کے ہاتھوں یا تو گرفتار ہیں یا پھر موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ہیں۔ وہ ایسی بھیڑیں تھیں جن کا کوئی چوپان نہ ہو۔ وہ (بشپ) غیر معمولی شخص ہونا چاہیئے۔ جفاکش صندی اور چاک و چوبند جسے شامی اور یونانی  زبانوں پر عبور حاصل ہو بھلے عربی نہ بول سکتا ہو۔ اور اس بات کو قبول کرنے پر رجامند ہو کہ وہ  ہمہ وقت ایک جنگی درندے کی مانند شکار کرنے پر کمربستہ رہے گا۔ ملکہ کا "روح القدس کا تائید یافتہ" انتخاب باردیس تھا۔ ایک تارک  الوہنار اسیب جسے ایڈیسہ کا بشپ مقرر کیا گیا تھا اس کے نام میں شامل باردیس اصل میں اس کا عرف تھا جس کا مطلب تھا خستہ حال اور ریزہ ریزہ۔ بہ عرف اس وجہ سے پڑ گیا تھا کہ  اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک گداگر کے روپ میں بسر کیا تھا۔

باردیس  ایک حیرت انگیز صناد تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس نے ہزاروں میل طویل سفر  طے کر رہا تھا جس میں زیادہ تر سفر اس نے پیدل ہی کیا تھا۔

اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ہزاروں پادریوں کو متعین کیا اور نواسی بشپ تعینات کئے اور دو بطریق مقرر کئے اس نے اپنی کلیسیا کی خشت اس قدر مضبوطی سے رکھی تھی کہ وہ آج تک شام میں موجود ہے یعنی یعقوبی کلیسیا۔

عیسائی تثلیثی تعلیم اصلاً مغرب میں پھلی پھولی جس کے ڈانڈے ہزاروں برس قدیم مشرک اقوام کے افکار و نظریات سے ملتے ہیں اور حقیقت میں یہ مشرک اقوام کا ہی ورثہ ہے جوقرونِ  وسطیٰ میں مسیحی عقائد کا حصہ بنا۔ یہ اثنا سیی عقیدہ  کہ "ہم تالوث میں ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ باپ خدا ہے بیٹا خدا ہے اور روح القدس خدا ہے اور یہ مل کر تین خدا نہیں بلکہ ایک ہی خدا بنے"۔ بارہویں صدی عیسوی تک مشرقی کلیسیا اس سے لاعلم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی کلیسیا ئیں  اب تک نقایہ عقیدے کے مطابق بدعتی سمجھی جاتی ہیں۔ جس کے مطابق روح القدس ، باپ اور بیٹے دونوں سے صادر ہوتا ہے۔

موجودہ صدی کی بابت کیا خیال ہے؟ لورڈز کے مقام پر 1958ء میں منعقدہ میریولوجیکل کانگریس نے تجویز کیا کہ مریم کے  بارے میں یہ منادی کی جائے کہ وہ "کاسا افیشنس " ہیں مطلب یہ کہ "وہ اس بات کی مظہر یا سبب ہیں جس سے نجات نے جنم لیا جس کی سفارش اور وسیلے کے بغیر ایمان پرفضل نہیں ہوتا"۔ یہ تجویز ناکام رہی لیکن محظ عارضی طور پر کیونکہ 1964ء میں پوپ پال ششم نے مریم کو "مٹیرایلکلیسیا"یعنی "مادرِ کلیسیا" کا مرتبہ عطا کردیا اور یوں وہ خود بخود ہی "کاسا افیشنس" کے مقام پر ممکن ہوگئیں۔ یوں وہ مقامِ الوبیت سے سرفراز ہوگئیں جیسا کہ بہت سے پروٹیسٹینٹ حضرات اس بات کی نشاندہی کرچکے ہیں۔ یہ نقطہ ذہن نشین رہنا چاہیئے کہ پوپ پال ششم کا یہ فیصلہ ذاتی اور کسی حد تک تنہا ہے کیونکہ ویٹیکن کی دوسری کونسل کی کلیسیا مخالفت پر مبنی ہے جس نے امید کی ہلکی سی کرن آئندہ آنے والے وقتوں میں پروٹیسٹینٹ چرچ کے ساتھ اتحاد کی کسی تحریک میں اس شرط کے ساتھ دیکھی کہ اگر مریم کو مزید مرتبہ بخشا تو پھر دونوں فریق مل کر اس مسئلے کا حل نکال لیں گے۔

یہ بات تو واضح ہے کہ عیسائی دنیا میں تثلیث نے قبولیتِ عام پانے کے لئے سیکڑوں برس لئے ۔ سوال یہ ہے کہ ان فیصلوں کے پس پردہ کسی رہنمائی کار فرما ہے؟ خدا کا کلام یا پھر پودارانہ  اور سیاسی تفہیم  و اغراض و مقالبہ؟

یہ بات ہر لحاظ سے درست ہے کہ یہ معاملہ چرچ کی اندرونی سیاست کا ہی ہے۔ تمام پودارانہ الہٰیات معاصر سیاسی حالات اور فلسفے کے اندر رہ کر بروئے کار لائی گئیں اور ثقافتی لحاظ سے ان (پودارانہ الہٰیات) کی راہ متعین کردی گئی۔ نظریاتی تضادات صرف دلائل کے ذریعے دور نہیں کئے گئے بلکہ اس میں شخصیات اور سیاسیات کا عمل دخل بھی حاوی رہا۔ سرل، نسطوریس، ایریس، یوطی کس اور اتضاسیس کی شخصیات اس ضمن میں کافی مثالی شخصیات ہیں۔

گہرے جذبات اور عمیق تعصب نے مجالسِ عام، کلیسیاؤں اور راہبوں کی افواج کو ایک دوسرے پر تابڑ توڑ خطرناک حملے یا پھر کلیسیا کے راست باز اور محض قائدین کو کلیسیا کے اخراج یا انہیں جلا وطن کردینے کے لئے مسلسل ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھا۔ یہ سارا معاملہ انسانی سرگرمیوں کی المناک کہانی ہے اور اس میں روح القدس سے رہنمائی کے ذریعے طلوعِ صداقت کا کچھ حصہ نہیں۔ شہنشاہ  ہرقل (610ء -641ء) میں کلیسیاؤں کے اتحاد کی ایک اور نہم دلانہ کوشش تو کی مگر اسے فارسی حملہ آوروں سے نمٹنا پڑا۔ فارسیو ں کو مونوفائی ساٹئس کی تائید حاصل تھی۔ بازنطینی سلطنت فارسیوں کو 628ء میں شکست دینے میں کامیاب تو رہی مگر اس کے جنوب میں عرب قبائل اسلام کے پرچم تلے متحد ہوچکے تھے۔ مونوفائی ساٹئس  سے ایک نئے طریقہ سے مصالحت کی کوشش کی جس کے مطابق انسانی اور الہیٰ جسم کے اتحاد سے ایک ہی ارادہ اور قوت صادر ہوتی ہے۔ اس نئے خیال کو حونی تھی لائٹ (یک ارادی) عیسائیت کہا گیا۔

ہرقل بیس برس تک تو اپنی تجویز کے بارے میں پُر اعتماد رہا اور بالآخر ایک فرمان جاری کرکے لاگو کردیا۔ یہ فرمان ہر لحاظ سے بے معنی رہا کیونکہ ہر دو فریق نے ایسے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ بالآخر  اسے چھٹی کونسل نے 680ء میں یکتاً رد کردیا اور بدعت ٹھرایا۔ اس وقت تک مونوفائل ساٹئس، قطبی، یعقوبی، آرمینی، میردنائٹ اور لنتوری چرچ قسطنطنیہ کے شہنشاہ کے لئے کسی بھی قسم کا خطرہ پیدا کرنے کے ماورہ ہوچکے۔

یوں ہم یقینی نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ تثلیثی الہٰیات کی تعلیم  قطعی طور پر الہٰی تعلیم نہیں تھی بلکہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ تعلیم بھی دیگر پاپائی توصیحات و توجیحات  کے عین مماثل ہے اور  ایسا کوئی  استحقاق نہیں رکھتی کہ ایسے انسانی "خوش قسمتی " کے لئے رہنمائی شدہ یا پھر مذہبی پیشوائیت کے مسلط کردہ دوسرے عام احکامات سے ماوراء قسم کی کوئی شے تصور کیا جائے جو اپنے اندر دائمی صداقت کے لئے ہو۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ 

بہت افسوس اور المیے کی بات یہ ہے کہ یہ ہماری سرگرمی تاریخ کے صفحات میں ایک فونچکاں داستان کے طور پر محفوظ و موجود ہے۔ مثال کے طور پر شارلیمان نے کافر عوام کو عیسائیت کی معقولیت و سچائی کے لئے یوں قائل کیا کہ ایک ہی دن میں چار ہزار افراد کے لئے سر تن سے جدا کردیا۔ باقی ماندہ افراد اس مسیحی معقولیت  اور ازلی صداقت پر فی الفور بلاتامل ایمان لے آئے۔ اس کے اس فعل کو 1164ء میں کلیسیا نے جائز قرار دے دیا۔ 1215ء میں  پوپ انوسنٹ سوم نے غیر تثلیثی بدعت کی بیخ کنی کے لئے منظوری عطا کردی۔ 1252ء میں پوپ انوسنٹ چہارم نے بدعتی معاملات کی تفتیش کے دوران کئے گئے تشدد کو قانونی جواز مہیا کردیا۔ یوں باقاعدہ تفتیش کے لئے محکمہ احتساب کے نام سے ادارہ وجود میں آگیا۔ تاہم گمراہی کی تفتیش کی جائے اور اسے عیسائیت سے الگ کردیا جائے۔

1563ء میں ٹرینٹ کی کونسل نے یہ اعلامیہ جاری کیا کہ مقدس نوشتوں کی مختار کل تنہا چرچ ہی ہے اور بائبل کی تشریخ و توضیح صرف "صحیح العقیدہ" چرچ فادرز کی رائے کے مطابق ہی کی جا سکے گی۔ بدعتوں پر مکمل طور پر پھٹکار ڈال دی گئی اور تمام ایسی کتابیں جو مقدس نظر آئی تھیں لیکن ان کی منظوری مقدس دفتر نے نہیں دی ممنوع قرار پائیں۔ 1572ء میں سینٹ برتلمائی کی یاد میں منائے جانے والے دن صرف ایک بلوے میں فرانس میں دس ہزار افراد (جو پروٹیسٹنٹ عقیدہ رکھتے تھے) بے رحمی سے ذبح کردیئے گئے تاکہ فرانس میں کیتھولک ازم کو گریز پہنچنے سے بچایا جاسکے۔ اس خوفناک واقعہ کے بعد پوپ گریگوری (xiii) نے حمد باری کے ترانے گائے اور خاص قسم کا گولڈ میڈل  (تحفہ) ڈھلوایا۔

پروٹیسٹنٹ بھی کچھ کم ظالم نہیں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ چرچ کی تمام شاخوں نے بلا امتیاز قابلِ تفریق تشدد ظلم و بربریت اور عدم برداشت کی وہ مثالیں قائم کیں کہ یہ بتانا مشکل ہے کون بازی لے گیا۔ گزشتہ صدیوں میں وحدانیت پر یقین رکھنے والے دس لاکھ سے زیادہ عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اور یہ نتیجہ تھا مذہبی پیشوائیت کے اس یقین کا کہ وہی تنہا الوہی اختیار و سند کی مالک ہے۔ یہ خیال بہت دلچسپ ہے کہ اگر اس کتاب کی مصنفہ صرف دو صدیاں قبل اسپین میں رہائش پذیر ہوتی تو یہ کتاب اپنی جان کی قیمت پر ہی لکھوا پاتی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ سزا کے طور پر کسی لکڑی کے کھمبے پر لٹکا دی جاتی۔

اگرچہ تشکیک اُن علاقوں میں سر اٹھارہی تھی جہاں محکمہ احتساب کا شکنجہ ذرا ڈھیلا ہوا تھا پھر بھی وہ لوگ انجیل کی صحت پر انگلی اٹھاتے تھے اب بھی محتاط رہنے کی ازحد ضرورت تھی۔

اسپین میں خدا کے عظیم المرتبت بندے اب بھی نہایت سخت عقوبت خانہ (ٹارچر سیل) 1816ء تک رواں دواں رکھے ہوئے تھے جبکہ پوپ نے بدعتوں سے اقبالِ جرم کروانے کے لئے تشدد کا راستہ ممنوع قرار دیا تھا۔ اٹھارہ سال بعد تقدس مآب پوپ نے محکمہ احتساب برخاست کردیا۔ چھ سو سال کے طویل عرصے بعد یورپ عقوبت زدہ لاشوں کے جلائے جانے کی آلودہ متعفن اور سڑاند سے پاک ہوا میں سانس لے پایا۔ پھر بھی بیشمار جگہوں پر وہ منحوس چپچپے داغ اب بھی لوگوں کے دلوں پر خوف طاری کر رہے ہیں جہاں بدعتی لوگ سزا کے کھمبوں پر خداوند یسوع مسیح کے جلال کے لئے تڑپ تڑپ کر جان دیتے رہتے تھے۔ اور پورے یورپ میں سوچنے سمجھنے والے لوگ حیرت زدہ ہو کر رہ جاتے ہیں کہ کیا انجیل کی بیان شدہ سچائی واقعی ایک تاریخی سچائی ہے۔

ایک مخصوص کلیسیا میں شامل ہونے والے افراد کے لئے لازم ہے کہ وہ اس عقیدت کو تسلیم کرے کہ چرچ کا گماشتہ کوئی فرد یا گروہ اس کے لئے کسی خاص نقطہ نظر کا چناؤ کر چکا ہے یا اس بارے کوئی نہ کوئی فیصلہ صادر کر چکا ہے اور ایک ایسا راسخ العقیدگی کا راستہ اس کے لئے متعین کردیا گیا ہے جو اس گماشتہ یا گروہ کے اپنے نظریات کے حسبِ حال ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

باوجود عہدِ جدید  کے ماہر ترین علماء کے بار بار نظرِ ثانی کرنے کے، بہت سے چرچ جانے والے عام لوگ اب بھی یہ تسلیم کرتے ہیں اور اپنی دعاؤں میں بار بار دہراتے ہیں کہ دعائیہ کتب میں عقائد کے پیش کیا جانے کا عمل شفاف ترین اور قابلِ بھروسہ ہے مسلمان جو ان عقائد سے آشنہ نہیں اور نہ ہی وہ ان کے وضع کرنے کی تاریخ سے آگاہ ہوتے ہیں، باآسانی صاف صاف اس وقت دھوکہ کھا جاتے ہیں جب وہ پہلی بار مسیحی عقائد کے کلیسیائی بیان کو سنتے ہیں۔

ایک سادہ مسلمان، اگرچہ وہ اتفاق نہ بھی کرے تب بھی وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ پیروکاروں کی عقیدت اسی طرح انہیں گمراہی کے راستے پر ڈال کر خدا کے خدام اور پیغمبروں کو الوہیت کے منصب پر بٹھانے کے لئے سیڑھی کا کام دیتی ہے۔ بہت سے مسلمان نہایت ہی سادہ لوحی سے یہ تصور کر بیٹھتے ہیں کہ اگر وہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر بیٹھیں گے اور سکون و اطمینان سے معقولیت کے ساتھ معاملات زیرِ بحث لائیں گے تو عیسائی جلد ہی اپنی غلطی پر متنبع ہوجائیں گے۔ اور خدا کے قادر و مطلق ہونے کے منطقی عقیدے کی طرف پلٹ آئیں گے۔

جب کوئی مسلم عیسائی تھیالوجین کے روبرو ہوتا ہے تواسے زبان و گرامر کی موشگافیوں کی دلیل میں پھنسایا جاتا ہے جس میں غیر منطقی بے دلیل دعاوی اور پادریوں کے وقتاً فوقتاً وضع کردہ عقائد کا جواز پیش کرنے پر خاصی محنت اور کوشش صرف کی جاتی ہے۔

پولوس فتح یاب  ہوا اور تثلیثی عیسائیت روئے زمین پر پھیل گئی۔ لیکن کیا یہ درست ہے؟ کیا یہ سب کچھ دیتی ہے جو یسوع کا مطمع نظر تھا؟ کیا تثلیثی عیسائی حقیقتا پر تقین ہے؟ یا پھر عیسائیوں نے یہ سب کچھ غلط حاصل کیا؟

آئیں ہم اپنا ذہن سادہ سوالات پوچھ کر تازہ کریں۔ کیوں ہزاروں سالوں پر محیط خدائی تعلیمات کے دور میں کسی بھی خدا کے نبی نے تثلیث کا سبق نہیں دیا؟ کیوں یسوع نے اسے بذاتِ خود واضح نہیں کیا؟ اگر تثلیث پر ایمان انسانی نجات کے لئے اتنا ہی ضروری ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا نے سیکڑوں صفحات پر مشتمل وحی بھیجی لیکن تثلیث کی تعلیم کے لئے ایک جملہ بھی ارشاد نہیں فرمایا؟ کیا وجہ ہے کہ عہدِ قدیم کے انبیاء اپنی بعثت کے دوران بعلیم اور عشتاروت پر ایمان رکھنے کے خلاف انتھک جدوجہد میں مصروف رہے؟ اور یہ کیسے ہوگیا کہ بائبل کے الحام کے لکھے جانے اور یسوع کے صدیوں بعد خدا نے ایسی تعلیم تشکیل دے دی جس سے خدا کے اپنے خادم ہزاروں سال تک بے خبر و نا آشنا رہے اور انسانی ہاتھوں کے لائے جانے کے سبب ناقابلِ فہم چیتان بنا دیئے جس کا سارے کا سارا پسِ منظر یکسر مشرکانہ عقائد کا حاصل ہواور جس کی فتح شہنشاہیت اور کلیسیائی سیاسی مفادات کی مرہونِ منت ہو؟

یقیناً اب وقت آگیا ہے کہ اس امکان کو تسلیم کرلیا جائے کہ حقیقت میں یہ سچائی نہیں ہے بلکہ ارتداد ہے خدا ابتری یا زد لیدہ خیال کا خدا نہیں ہے۔ 1۔ قرنتیوں 33:14 اب وقت آن پہنچا ہے کہ اس پیچیدہ اور غیر ضروری تعلیم کو  اس کے اصل مقام تک پہنچا دیا جائے جسے زمانہ حال یا ماضی کا کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی کسی معقول  و موزوں تشریح کے ذریعے آج تک ثابت نہیں کر پایا یا پھر کم از کم اس عام آدمی کے لئے قابلِ فہم نہیں بنا سکا۔ جب چرچ توحید پرست یونی ٹیرپن کو بدعتی کا ٹھپہ لگا کر اسے کاٹ پھینکنے میں بری طرح مصروف تھا۔ اسلام بہت تیزی سے ان مخرفین کو اپنے اندر سمو رہا تھا۔ ان توحید پرست یونی ٹیرپن سے نفرت رکھنے اور زہریلی خار کھانے والے عیسائی مسلم دشمنی کی طرف پلٹ گئے۔ اس  تناظر میں صلیبی جنگیں آرپنوسی قتلِ عام کا وسیعت پذیر معاملہ ہیں۔

یہ حقیقت کہ موجودہ دور میں ہزاروں عیسائی اپنے عقیدے کو خیر باد کہہ رہے ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ تثلیثی مذہب اتنا مؤثر اور تشقی بخش نہیں ہے جتنا کہ اس بارے دعویٰ کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی نظریہ یا عقیدہ جس کی بنیاد کمزور اندھے اعتقاد پر کھڑی ہو کبھی بھی دیرپا نہیں ہو سکتا اور جلد یا بدیر اس سے چمٹے ہوئے لوگ حیرت کا اظہار کرنا شروع کردیں گے اور اسے کسی زیادہ ٹھوس اور عقلی ترغیب ملنے پر ترک کردیں گے۔ اعتقاد/عقیدہ وہم و گمان کی چکاچوند میں تخلیق کیا جاسکتا ہے اور مایوسی کے عالم میں لمحہ بھر میں تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔

ایمان کا تقاضہ ہوسکتا ہے کہ بائبل کی کلیتاً اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اس کے تمام تر نقائص اور خرافات اور بسا اوقات غیر اخلاقی چال چلن اور اس کی غیر یقینی بنیاوں کے باوجود۔ اس کے برعکس دوسری طرف معقولیت معاملات کو قبول کرنے سے گریزاں ہے کہ انسانی فہم و ذکاوت کے غلط استعمال کے نتیجے میں تشکیل پائے ہیں۔ دماغ سوچتا ہے اور دل ایمان لاتا ہے۔ اگر ایمان جلد سوچے سمجھے لایا جائے تو یہ حقیقتا اندھا اعتقاد ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم خدا کے وریعت کردہ سوچنے سمجھنے اور معقولیت کے عمل سے گزر کر ایمان لائیں تو پھر اسے نہ تو کوئی ہٹا سکتا ہے اور نہ ہی تباہ کر سکتا ہے۔

ایمان و اعتقاد ایک لازم فعل ہے اور اس زمین پر انسانی زندگی کا جز ولاینفک اور قدرتی حصہ ہے۔ لیکن ہمارے لئے یہ جاننا اور سمجھنا ہر لحاظ سے ہے کہ یہ کہاں سے ہمیں موصول ہوا۔ اگر ہمارے ایمان کے متعلق علمی تحقیقات سے یہ ثابت ہوجائے کہ یہ محض ایک دھوکہ اور القباس ہے ، انسانی ساختہ ہے، نری جعل سازی  اور گھوٹ ہے اور تجربہ سے ہمارا اعتقاد محض ایک عکس ہی ثابت ہو تو پھر ہمیں لازماً اس پر نظرِ ثانی اور اپنے دل کی دور اندیشی سے تشخیصِ نو  کرنی پڑے گی اور روحانی طور پر کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے کی بنیاد پر اپنی سمت کا ازسر نو یقین کرنا ہوگا۔

ہم ایک نئے عہد میں داخل ہورہے ہیں جو ان لوگوں کیلئے بہت ہی تکلیف دہ ہوسکتا ہے جنہوں نے اپنا ایمان و اعتاد نئے عہدنامہ کی عیسائیت ماہیت کی صداقت کے نفی کردہ ہے۔ انہیں بہت کچھ دوبارہ از سر نو تشکیل دینا ہوگا اور اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوگا اس کی پیشن گوئی کسی یقین سے نہیں کی جاسکتی۔ پھر بھی لازماً بہتر ہوگا کہ تصورات کو جاری رکھنے کی بجائے اصلاح و ترمیم سے ہم آہنگ کرلیا جائے اگر یہ بات نہایت تکلیف دہ ہوگی تاہم یہ بات بیش قیمت ہے کہ وہ سب کچھ ترک کردیا جائے جس کا سچائی تقاضا کرتی ہے۔

آیئے ہم دوبارہ گلیلی کی پہاڑیوں پر دوبارہ چلیں یا صحرا کی اس ریت پر جہاں دن کو سورج جھلستا ہے اور رات کو تازہ صحرائی ہوا میں تاروں کی روشنی مسافروں کی رہنمائی کرتی ہے۔ آئیں ہم ایک کوشش کریں، اگر کر سکے تو کہ چند ساعتوں کے لئے خانہ بدوش گلہ بانِ ابراہیم، چرواہے  داؤد ، ٹری ٹینڈر عاموس، بڑھئی یسوع اور دیانت دار تاجر محمد کے ساتھ رہیں۔ اور ان کے شاگردوں کے ساتھ قرابت محسوس کریں۔ مشترکہ اہم قبیلہ لوگ جو سادگی، سچائی، منطق و دلیل، راست بازی، جس کی تعلیم پیغمبروں نے دی اور جسے باآسانی دلیروں میں بانٹا جاسکتا ہے۔


مکمل تحریر >>

ہفتہ، 1 مئی، 2021

اسرار و رموزِ یسوع: انصاف کا قتل

 

زیرنظر تحریر سابقہ امریکی نن روزلین کینڈرک اور موجودہ نومسلم رقیہ وارث مقصود کی کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ ہے جسے ڈاکٹر قاضی سعید احمد نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

انصاف کا قتل

سیزر ری پبلکن ایسے ٹن بروٹس نے بادشاہ ٹارکیون کو روم کے تخت سے اتار دینے کے وقت سے لیکر یسوع ناصری کے دور تک رومیوں نے شاہی خاندان کے نظریہ حکومت کے ساتھ کوئی بھی تبدیلی نہ کی تھی۔ روم میں ایک جمہوری حکومت قائم تھی جس میں عام لوگوں کے پاس حکومت  بنانے کےلئے چناؤ کا حق ہوتا تھا اور جوکوئی  بھی یہ سازش کرتا کہ وہ طاقت، اقتدار اور جملہ اختیارات پر یا ان اختیارات کے اصول و ضوابط پر قبضہ کرلے تو اسے کڑی سزا دی جاتی تھی۔اس ممکنہ ظلم کی روک تھام کیلئے اور تمام اداروں کو اپنی حدود میں رکھنے کیلئے ایوان بالا (سینٹ) کے حکامِ اعلٰی نے ایک طریقہ کار وضع کر رکھا تھا جس میں وہ  دو افراد کو بطور قانونی و سیاسی مشیر مقرر کرتے تھے(ان کے عہدےکی مدت صرف ایک سال ہوتی تھی) یہ دو افراد مساوی اختیارات کے حامل ہوا کرتے تھےنیز وہ ایک دوسرے کی رائے کو مسترد کرنے کا بھی مکمل اختیار رکھتے تھے۔

یسوع کی پیدائش سے تقریباََ ۴۰ سال قبل جولیس سیزر کو قتل کردیا گیا تھا۔ یقینی طور پر اس کے دشمنوں کو یہ خدشات لاحق تھے کہ وہ تاحیات تخت شاہی پر قابض رہنا چاہتا ہے۔ غیرمعمولی طور پر جب آکٹاوین، سیزر کی بہن جولیا کے پوتے نے ایک سازش کے ذریعے خود کو حکمران بنانے کی کوشش کی اور خود کو آگسٹس (Augustus) "رومن سلطنت کی بنیاد رکھنے والا" ہونے کا اعلان کردیا۔   ایسا کہنا کلی طور پر درست نہ ہو گا کہ اس کے ذہن میں ایسا کوئی فریبی منصوبہ نہ تھا کہ کرنسی کے طور پر مروج سکوں پر اس کا نام بحیثیت دیوتا "ابن خدا" لکھا جائے۔ اس کےنزدیک دیوتا مر چکا تھا مگر نیا "دیوتا" سیزر کی موت سے لے کر اب تک ( سینٹ) ایوان بالا کی جانب سے سرکاری طور پر ملک کے طول و عرض میں دیوتا کا درجہ پاچکا تھا اور  تمام عبادت گاہوں اور سرکاری عمارتوں سمیت اس کا نام دیوتا کی حیثیت سے مانا جا چکا تھا۔

اس کے بعد آنے والا بادشاہ بھی 'خدا کا بیٹا' یا' دیوتا' ہی تھا۔ وہ آگسٹس (Augustus) کو ذاتی طور پر پسند کرتا تھا۔ اس مقدس دیوتا کا متنبہ ' لے پالک' بیٹا ہونے کا دعویدار تھا وہ انسانی تصور جو اسے 'خدا کا بیٹا' قرار دیتا تھا، اس کا پس منظر یہودی روایات بھی تھیں اور داؤد David کے پیشروحکمران بھی خدا کے "لےپالک بیٹے" کہلاتے تھے جب وہ مقدس غسل لے کرتخت حکمرانی پر بیٹھ جایا کرتے اور رسم تاج پوشی میں شریک ہوتے تھے۔ زبور 7:2 کے یہ الفاظ: (تو میرا بیٹا ہے آج تو  مجھ سے پیدا ہوا)اور 2سموئیل 14:7 کے مطابق خدا کا کہنا بادشاہ سے " میں اسکا باپ ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا"۔ تاہم رومن کے معمول کے قانون اور روایت کے مطابق یہ "مقدس دیوتا" جیسا ہرگز نہیں ہوتا تھا  یا اصلی ابدنیت پر مبنی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن یہ اعلٰی اور باوقار الفاظ صرف ملائکہ کے لیے ہی مستعمل تھے۔

مختصراََ یہ کہ یسوع کے دور تک یہ نظریہ یا تصور نہ کوئی نیا تھا اور نہ ہی قابلِ قبول تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک بغاوت ہی تھی، کہ بحراوقیانوس کے اردگرد بہت سے دیوتا تھے اور ان کی خوبیاں اور خواص بھی مختلف تھے۔ وہ کوئی انتہائی دانش مند یا انتہائی بیوقوف آدمی تھا جس نے دو ٹوک بات کرنے کی جرات کی کہ دیوتاؤں کا کوئی وجود ہی دنہیں ہے۔ یا یہ کہ: دیوتاؤں کی کوئی اولاد ہی نہیں ہوتی اور وہ کب اور کہاں کسی پر مہربان ہوتے ہیں۔ سو، مذہبی متکبر اور جوشلیے یہ دعوٰی کرتے تھے کہ ایک پرہیزگار نوجوان بڑھئی/ترکھان مبلغ پادری، وہ ان کے دیوتا کا بیٹا تھا"۔ یہ بات نفرت آمیز لوگوں کوخوش کرسکتی تھی لیکن وہ اس کو ایک بڑا جرم بمشکل ہی سمجھتے تھے۔ لیکن! یہ دعوٰی کرنا کہ رومن بادشاہ کی اجازت کے بغیر بادشاہ بننا ایک غیر اخلاقی عمل تھا۔ یہ ایک خودپسندی تھی اور خطرناک بھی، کہ شاہی روایتی رعایت کا ازخود فائدہ اٹھایا جائے۔ مختصراََ یہ کہ: یہ ایک کھلی بغاوت تھی۔

یسوع کو گرفتار کیوں کیا گیا اور اسکی سزائے موت کی مذمت کیوں کی گئی؟ تمام اناجیل متفقہ طور پر یہ تاثیر دیتی ہیں کہ اسکا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ لیکن یہ سب ان کے حسد اور تلخی کی بنیاد پر ہوا جوکہ یہودی فرقہ فریسی کہلاتے تھے۔ یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ ان کی دشمنی نےیروشلم کے ہیکل کے کاہنوں کی حوصلہ افزائی کی، اس کے خلاف کام کیا اور اسکی تباہی و زوال کا سبب بنے۔

تاہم علماٰء کی ایک بڑی اور بڑھتی ہوئی تعداد نے اس نکتہ نظر کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا۔ شاید کہ یسوع ایک مضبوط کردار کا رہنما/لیڈر تھا اور بادشاہ ڈیوڈ جیسا افسانوی کردار رکھتا تھا، اس نے دعوٰی کیا کہ "وہ یہودیوں کا بادشاہ بنے گا" اسکی صلیب کے وقت بھی ایک پلے کارڈ پر لکھا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ رومن ہی ہو جو درحقیقت اسکی موت کے ذمہ دار ہو۔ اور ان یہودیوں جیسے بےاختیار نہ ہو۔ جو بغض و عناد سے بھرے پوئے تھے۔

بلاشبہ یہودیوں کے بعض بہت ہی طاقتور اتحادی بھی تھے۔کاہنوں کے تنظیمی ڈھانچے میں، یا موروثی، جوکہ اسکندریہ کے شہروں اناس (Annas) اور بوتھس (Brethus) کے عالیشان محلات میں رہایش پذیر تھے۔ فیابی (Phiabi) اور کام ہیٹ (Qamhit)، جنہوں نے گورنمنٹ سے اپنا عہدہ چھوڑ رکھا تھا، سالانہ کی بنیاد پر۔ تاہم باوجود ان کی طاقت اور اثرو رسوخ کے بڑے بڑے کاہن بھی اچھی پوزیشن میں نہ تھے وہ عام طور پر عوام میں غیر مقبول تھے ان مذہبی انتہاپسند  جوشیلے لوگوں کی ایک بڑی ایسی تھی جو یہ سمجھتے تھے کہ بات صحیح اور معقول ہونے کا جواز ان کے پاس موجود ہے۔ جنکی اخلاقی حالت بددیانت گھریلو ملازموں کی سی تھی جو سامراجیت کے اشاروں پر بھاگنے والے کتے تھے ان کی ان حرکات کے پیچھے محض لالچ ہوتا تھا۔

بوتھسیانز (Boethusians) اوپر سے لیکر نیچے تک اقرباء پروری کے پروردہ تھے۔ بوتھسیانز (یروشلم کی تباہی سے قبل کا یہودی فرقہ) اوپر نیچے تک مکمل طور پر جارحیت پسند سالانہ وظیفہ خوار، سانپ جیسی پھنکار والے، اسماعیل نم فیابی کی نسل سے تعلق رکھنے والے، مکے باز جھگڑالو، وہ سب کے سب بڑے بڑے مذہبی پادری تھے۔ یا تو ان  کے بیٹے خزانچی تھے یا پادری، ان کے پوتے نواسے بھانجے بھتیجے داماد عبادت گاہوں کے کیپٹن تھے۔ اور ان کے نوکروں کی حالت یہ ہوتی تھی کہ وہ عام لوگوں کو چوبی ڈنڈوں سے مارا کرتے تھے۔ غرض یہ کہ یہ لوگ اپنے شاہانہ کردار کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی حفاظت کا مکمل انتظام رکھتے تھے چاہے روم کے دور دراز کے علاقے ہو یا اپنے قانونی اور مہذب دوست ہو۔ اور بےبس ملکی شہری یا اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے سامنے اپنی طاقت  کا اظہار کیا کرتے تھے۔ تاہم وہ لوگوں میں میل ملاپ بھی رکھتے تھے اور شکرگزار بھی رہتے تھے تاکہ لوگ انہیں اچھے وفادار یہودی سمجھیں۔ اور انہیں رومیوں کے کٹھ پتلی خیال نہ کریں۔

بہتری کے عمل کو مشکل سے دیکھا جاسکتا تھا اگر رومی آقا ان بادشاہوں کو مجبور کردیتے کہ کسی آدمی کو ان کے حوالے کردیں یا اسے مصلوب کردیں چاہے وہ معاشرے کا پرہیز گار آدمی ہو یا کوئی مقبول عام ٹیچر ہو یا ہیرو ہو، انجیل مرقس اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کاہن اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر یسوع کو سرعام گرفتار کیا گیا تو لازمی بلوہ ہو جائے گا۔ (مرقس 14:2) حقائق کی طرف نظر کریں تو لوقا بھی یہی خیال کرتا نظر آتا ہے۔ فقیہوں  اور دیگر سردار  کاہن اسے مارنے کےلئے اس پر ہاتھ ڈال دیتے لیکن وہ لوگوں سے ڈرتے تھے۔(لوقا 19:20)

وہ لوگ جنہوں نے اس  شورش کرنے والے ہجوم کا عینی مشاہدہ کیا تھا کہتے ہیں: ایسا ہجوم اپنے ملک میں مقید اپنے ہیرو کو چھڑوانے کے لئے سب کچھ کرسکتا تھا اور کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔ اور چاہے وہ قیدی ہیرو ایران، یورپ، روس، جنوبی افریقہ یا کیوبا سے ہی تعلق رکھتا ہو۔ اس میں تھوڑے شک کی گنجائش ہے کہ ملک میں سب سے بڑی جو تحریک چلی تھی اسکو عیسٰیؑ کیلئے برابر بنایا جاسکتا تھا۔

کسی بھی بغاوت میں یسوع کو اس ہجوم سے بچا لینا یا رہا کردینا یا بری کردینا ممکن تھا۔ اور نہ ہی یہ بات قابلِ اعتبار تھی کہ یہودی، یسوع کے شہری کردار کے خلاف تھے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ روم کے خلاف اٹھنے والی ہر قسم کی بغاوت میں یہودی اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ۔ لہذا اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر یہودی آخری حد تک جاسکتے تھے۔ اس وجہ سے بھی نہیں کہ انہوں نے یسوع کی مخالفت کی کہ وہ یسوع کے مشن کے سخت مخالف تھے۔ کیا ہوتا اگر یسوع کو گرفتار کر لیا جاتا؟ لیکن اسمبلی کونسل نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے؟ کیا وہ اسے چھوڑ سکتے تھے؟ بات صحیح ہے کہ ایسا ہوسکتا تھا۔ لیکن کیا انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا؟ وہ اسے رومی قانون کے مطابق بچاسکتے تھے اگر یسوع اپنے مقدمے میں اس الزامات سے بری الذمہ ٹھہرتے جو ان کے خلاف لگائے تھے اور ثبوت اور گواہیاں ان کے خلاف نہ ہوتیں جو ان کے قصور کو ثابت کرسکتے تب انہیں آزاد کردیا جاتا کیونکہ  رومنوں کے عام قانونِ معافی کے مطابق ایسے ملزموں کو  صاف طور پر بری کردیا جاتا تھا۔

دوسرا  اختیار: موت کے فیصلے کو معطل  کرنا رومیوں میں کبھی کبھار ہی ہوتا تھا۔ لیکن اگر یسوع ریاستی قانون کو توڑنے کے مرتکب پائے جاتے تو انہیں معاف کیا جاسکتا تھا۔ اگر وہ اقرار کرلیتے کہ انہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا تھا اور بیان حلفی داخل کرتے کہ وہ بغاوت کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور ملوث ہونے کا اقرار نامہ عدالت میں داخل کردیتے تو انہیں معاف کیا جاسکتا تھا۔ تاہم اناجیل اس امر پر متفق نظر آتی ہیں کہ یہودی حکومت ان کو آزاد کرنے کے لئے ایسا طریقِ کار عمل میں لاسکتی تھی، مثال کے طور پر، یسوع سردار کاہن  کے گھر لایا گیا تھا جہاں یہودی کونسل ایک رات کے لئے جمع  ہوئی تھی ، تو اپنی جگہ پر یہ اجتماع بھی غیرقانونی تھا۔ اسی جگہ ان پر مبینہ توہیں رسالت/خدا کا الزام لگایا گیا تھا۔ اور ان کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ایک قیدی کو متعصبانہ فیصلے سے بچانے کے لئے، عدالت کے دروازے بند کرکے کوئی بھی ایسا خفیہ فیصلہ کرنا ممنوع تھا۔

کسی بھی چیمبر میں یہودی  کونسل  کا اجلاس منعقد کرنے کی قطعا اجازت نہ تھی  کہ مجرمانہ سرگرمیوں کو سنا جائے وہ جگہ عبادت گاہ کے احاطہ سے باہر ہو یا کوئی پرائیویٹ مکان ہو۔ ایسا اس لئے تھا کہ کوئی شخص ذاتی طور پر ججوں پر اپنے بغض و عناد کا اثر یا غیر معمولی دباؤ  یا ذاتی طور پر اپنے سے سوچی سمجھی رائے مسلط نہ کرسکیں۔

دوسری بات: مجرم سے متعلق فیصلے کو شفاف رکھنے کی غرض سے کہ جن کے فیصلوں پر مجرم کی زندگی وابستہ ہوتی تھی ، یہودی کونسل مجرمانہ نوعیت کے مقدمات صرف دن کی روشنی میں ہی سن سکتی تھی نہ کہ رات کی تاریکی میں، جبکہ کونسل کے ممبران تھکے ہوئے ہوتے یا جلد باز اور بےصبرے ہوتے تو مقدمات ایسی صورت میں اگلے دن تک مؤخر کردیا جاتا تھا۔ ایسے مقدمات دن کی روشنی میں ہی نمٹائے جاتے تھے اور فیصلہ اگلے دن سنایا جاتا تھا۔ ایک رات کا انتظار کے بعد تہواروں کے دنوں میں یا تہوار  کے روز کسی بھی مجرم کا مقدمہ نہیں سنا جاتا تھا۔ کہ ان دنوں میں ججوں کا ذہن تہوار کی جانب ہوتا تھا۔ اور نہ ہی وہ لوگ جو اپنے اعترافی بیان کی وجہ سے اپنے ہی دباؤ میں رہے ہوں یا وہ بےقصور لوگ شاید ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہر اس جرم کو قبول کرلیں جو انہوں نے کیا   ہی نہ ہو اسی کو مدنظر رکھناضروری ہوا کرتا تھا۔ مجرم کے جرم کو ثابت کرنے کےلئے دو معتبر گواہیوں کی گواہی ضروری ہوتی تھی۔ اور اسے مزید جرم دہرانے کے لئے صاف صاف تنبیہ کردی جاتی تھی۔ اس کے اعترافی بیان اور تنبیہ کے ساتھ اسے اس الزام سے بری کردیا جاتا تھا۔مزید برآں اگر مجرم کو گواہوں کی موجودگی میں جرم دھوکہ دہی/فراڈ میں ملوث پایا جاتا تو اس پر جرمانہ عاید کر دیا جاتا۔

مگر  یسوع کے مقدمہ کے سلسلے میں ایسا قطعا نہ ہوا تھا  اور نہ ہی اناجیل کے حوالوں کے مطابق اور نہ ہی ملکی قانون کے مطابق یسوع کو اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے کو نہ تو کہا گیا اور نہ ہی اپنی صفائی میں دلائل دینے کا موقع دیا گیا۔حلاناکہ تین مضبوط نڈر راہنماؤں کو گواہی کےلئے طلب کیا جاسکتا تھا۔

نمبر1: "یوسف ارمتیائی "جو یسوع کا ایک قریبی رشتے دار تھا۔باخبر ذریعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شہزادے کا خطاب پاچکا تھا۔

نمبر2: "نیکدویمس" ایک فریسی جو خفیہ طور پر مذہب تبدیل کرنے والا تھا۔

نمبر3: "اسٹیفن" جو پہلا شہید عیسائی کہلایا۔

تو یہاں پر حالات حقائق سے مختلف پاگئے ہیں کہ یسوع ایک انتہائی متعصب عدالت کے سامنے تھے۔ کہ جس عدالت نے جان بوجھ کر عمداََ یسوع استفاثہ کے خلاف معاندانہ اور مخالفانہ سیکٹر سے ثبوت حاصل کئے۔ کاہنِ اعظم جو چیف جج تھا، فیصلے پر اپنی مرضی مسلط نہ کرسکتا تھا۔ مزید برآں ایک متفقہ عدالتی فیصلہ جو متنازع ہو یا مشکوک ہو اسے کالعدم قرار دے دیا جاتا تھا۔ اگر دوسری نشست برائے سماعت ضروری ہوتی تو اسے ایک دن کے لئے مؤخر کردیا جاتا تھا۔ اور کسی بھی مقدمے کے ضمن میں یہ عمل غیر قانونی ہوتا تھا۔ کہ چیمبر آف ہیون سٹون (Chamber of Hewn Stone) کے علاوہ کسی اور جگہ سزائے موت کا حکم سنایا جاتا۔ تاہم یہودی  کونسل کا کورم جوعام طور پر 23 ممبران پر مشتمل ہوتا تھا، فریسی دیار عدالت کے مطابق وہ اس امر کا مجاز نہیں ہوتا تھا کہ وہ غیر قانونی سزائے موت کا فیصلہ دےسکے۔ اگر یسوع کے خلاف جھوٹی گواہیاں پیش ہوتیں تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس سے متفق نہ ہوتے؟  جھوٹی گواہیاں عموماََ ان کے بااختیار لوگوں کی گھڑی ہوئی کہانیاں ہوتیں؟ یہ بات کس قدر ناقابل اعتبار اور عدل سے ہٹ کر تھی کہ انہی میں سے نااہل لوگ، کاہنِ اعظم جج سب کے سب یسوع کے درمیان رابطہ رکھنے میں ناکام رہے یہ بات واضح طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اس کیس کے گواہ پہلے سے بنائے جائے چکے تھے۔ اور انہوں نے اسی طرح گواہی دی جس طرح سے انہوں نے یسوع کو سمجھا اور حقائق اور عدل کو مدنظر نہ رکھا۔ اور یہ گواہی قطعا  غیرقانونی تھی۔ کہ یسوع کو موردالزام ٹھہرایا جاتا۔ تاہم اگر ہم اس بات کو فرض کرلیں کہ اناجیل کے حوالوں سے اس کیس کو مکمل کیا جارہا  تھا  پھر بھی وہ کلی طور پر یسوع کی لئے غیرقانونی ہی تھے۔ کیا علماء اس عمل کو یہودی زعماء کی مکاری اور ٹیڑھ پن نہیں کہیں گے۔ یا انہیں الزام سے بری کرنے کو نہ کہیں گے اگر ایسا ہوتا تو ایک کے بجائے دو باتیں سامنے آجاتیں ، ایک: یہودیوں کا تعصب، اور دوسری: بات بے بنیاد الزام، پہلی بات پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ قوانین اس وقت رائج ہی نہیں تھے۔ یہ تو فرعونی نظریات کی نمائندگی کرتے تھے۔ اور یہودی کونسل کی اکثریت صدوقیوں پر مشتمل تھی جوکہ  یسوع کی مذمت میں پیش پیش تھے۔ یہی وہ حکومتی/ درباری کاہن تھے جو اسمبلی کونسل کے تنظیمی ڈھانچے کا حصہ تھے۔

فریسی کاہن نہیں تھے یہ تو عام مزدور طبقہ لوگ تھے اور سخت مذہبی قسم کے لوگ تھے جو اپنی زندگی گزارنے کے لئے ایک تفصیل اللہ کے احکامات سےلیتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ ممتاز علماء بھی تھے۔ اور یہی مذہبی کاہن صدقات و خیرات عقل و شعور اور انسانیت پسند تھے۔ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی احتیاط برتنے والے تھے۔ تاہم پھر بھی فریسیوں سے اس معاملے میں دلچسپی کے حامل کم ہی لوگ تھے۔ اور بیوقوفانہ باتوں کو نظرانداز کرنے والے لوگ تھے۔

یسوع کے دور میں فریسیوں کے بنائے ہوئے قوانین حکومتی قوانین اثرانداز تھے۔ اور اسمبلی کونسل بھی انہی کے زیر اثر تھی۔ عام لوگ اس وقت تک اسمبلی کونسل کے کسی بھی فیصلے کو قبول نہ کرتے تھے  جب تک کہ ان میں درج ذیل فریسی راہنما موجود نہ ہوتے تھے۔

نمبر 1: ربائی ہللیل اور ربائی شمائی (Rabbis hillel shammai)

نمبر2: ربائی گملی ایل (Gammaliel)

کسی بھی طرح یہ فرض کرلینا کہ صدوقی،بےایمان،ظالم،لالچی، انتہائی تنگ نظر اور غلط تھے مزید برآں صدوقیوں پر جدید تحقیق یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات پر کس طرح عمل کرتے تھے جیسے کہ ہم دیکھتے ہیں: ان حالات سے نکلنے کا دوسرا راستہ یہ بیان کرنا بھی ہے کہ وہ تمام قوانین جن کا ذکر اوپر بیان کیا جاچکا ہے وہ غیرتحریری یہودی قانون کی ایک قسم ہے۔ جوکہ غیرمتعلقہ ہیں۔ غیر تحریری یہودی قانون اس وقت سے لیکر یسوع کی موت تک کسی ضابطے کی شکل میں تحریر نہ تھا۔ تاہم اس قانون کے ضابطے پہلے وقتوں ،میں نافذالعمل تھے لیکن یہ دلیل مشکل سے ہی قابل قبول ہے کہ اس دور کے ضابطے اور قوانین جو غیرتحریری یہودی قانون سمجھے جاتے تھے کہ یہ سب کے سب قوانین جو غیر متوقع طور پر فوراََ ہی سامنے آجائیں گے۔ ان پرانے قوانین کو موجودہ قوانین سے (جو یسوع کے دور میں رائج اور نافذالعمل تھے) ڈھونڈھ نکالا جائے گا۔

اس کا ایک تیسرا متبادل بھی ہے: ایک وہ کہ جو عیسائیوں میں سے سب سے زیادہ گھناؤنے اور مکروہ کردار کو حامل ہے اسےبھی زیر غور رکھنا چاہئے تھا۔

یہ ہے وہ بات! اناجیل کو بیان کرنے والے صحیح طور پر تاریخی ریکارٖڈ کا حصہ بلکل نہیں تھیں۔بلکہ یہ تو مختلف النوع سنی سنائی غلط باتوں کے مرکب کی کھچڑی ہے جسے باہم ملا جُلا کے/اکھٹا کرکے سالوں اور پیش کیا گیا ہے۔ یا عمداََ قدیم ذرائع مواد سے جعلسازی ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی کے ذریعے سے اس مواد کو حاصل کیا گیا ہے۔ اس کا ایک مقصد اور بھی تھا کہ جس سے دشمنی کو بڑھانا تھا برخلاف ان عیسائیوں کے جو یہودیت کے ساتھ مخلص رہے اور نظریہ تثلیث کو قبول نہ کیا۔

یہ تجویز یا مشورہ معیار حق کے برابر کیوں نہیں ہے؟ دلیل بلکل سیدھی اور عین حق ہے۔ یسوع کے اصل پیروکار،دوست اور رشتےدار اور جو بہت قریب سے یسوع کو جانتے تھے، اور جو صرف ایک وحدۃ لاشریک سچے خُدا کی عبادت کےلئے مخلص رہے تھے۔ اور اصرار کرتےتھے کہ تمام عیسائی شریعت پر کاربند رہیں۔ جسے اللہ نے بذریعہ وحی اپنے رسولوں کی طرف بھیجی تھی انہوں نے یسوع کا بحثیت "اللہ" ہونے کا ہرگز احترام نہ کیا بلکہ اللہ کا منتخب رسول ہونے کا ہرگز احترام نہ کیا بلکہ اللہ کا منتخب رسول ہونے کا احترام کیا جو قابل حداحترام پیغمبروں کی لڑی سے تعلق رکھتے تھے۔

تاہم یہ دوسری قسم کے عیسائی تھے جو یسوع کو انسان ہونے کے علاوہ کچھ اور بھی سمجھنے کا اعتقاد رکھتے تھے۔ اور اس عقیدے والے عیسائی فلسطین اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں رہتے تھے۔ ان جگہوں پر مذہبی ذہن رکھنے والے "خواص کی حکمرانی کے نظریے" کے حامی لوگوں  کے ساتھ تھے۔ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ پُراسرار روایات پر منبی سزاؤں کا تصور درست ہے۔ اور یسوع خدا اور انسان کے ادغام کی زندہ مثال ہے۔ اور کفارہ ادا کرنے والے نجات دیندہ بھی ہیں۔

اناجیل اربعہ اس دور سے لیکر موجودہ دور تک، کے عہد عقیق کے لکھے جانے میں ایک انتہائی مضبوط خواہش کار فرما یہ رہی تھی کہ تصور خدا کے بارے میں یہودی عقائد ناکافی تھے، کا اظہار واضح طور پر کیا جائے۔ اس خواہش کے زیر انہیں پُر زور اور پُراثر بنایا جائے ایسا کہ یہودیوں کے مروجہ شر یعنی قوانین میں پوری طاقت کے ساتھ شگاف ڈٖال دیا جائے۔

خصوصی طور پر ختنہ، قوانین رسومِ طہارت اور کھانے پینے کےضوابط یعنی حرام و حلال کے قوانین و ضوابط، عیسائیوں اور یہودیوں کی مزاحمت اور کشمکش کے وقت سے لیکر بگاڑ اور خرابی پیدا ہوجانے کے وقت تک ایک نئے عقیدے کی مخالفت شدت کے ساتھ شُروع ہوچکی تھی جس کی مزاحمت پہلے کے تمام پیغمبر بھی کرچکے تھے جن میں مذہبی رسوم اور ہالی کلٹ کی عبادت سرفہرست تھی۔ یہاں پر اگر نئی عیسائیت اپنے عزائیم میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ یہودیت کیلئے ایک دشمن کے طور پر ظاہر ہوجائے گی۔

اگر کوئی قاری ان نظریات سے اختلاف رکھتے ہوئے ناراض ہوجاتا ہے کہ پرانے وقتوں کے مصنفین جان بھوج کر ہیرا پھیری اور ردُ بدل کے شکار ہیں اور ان کی باتیں بے ثبوت ہیں تو یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ انہوں نے بدعتی پر مبنی منصوبہ بندی کرکے زبردستی حق کو چھپایا ہے۔ بعد میں آنے والے یہودی اور مسلمان ان الزامات سے بُری طرح متاثر ہوئے جو صدیوں سے چلتے آرہے تھے۔ یہاں تک کہ نیک لوگوں کی ایک بڑی تعداد قبروں میں اتر گئی، ہمیں چاہیے کہ اس مواد کو کڑے امتحان سے گزارا جائے اور دیکھیں کہ کیا نتائج ہم تک پہنچ سکتے ہیں؟


مکمل تحریر >>

جمعرات، 12 اپریل، 2018

یہوداہ اسکریوطی کون تھا؟


یہوداہ اسکریوطی کون تھا؟
زیرنظر مترجمہ تحقیق یہودی النسل  ڈاکٹر ہائم مکابی کی کتاب "Judah Iscariot & the Myth of Jewish Eveil" کے باب نمبر8"Who was Judah" کا ترجمہ ہے ۔اس باب میں ڈاکٹرہائم مکابی  نے یہوداہ اسکریوطی کی اصلیت کے بارے میں تاریخی حقائق کی روشنی میں بحث کی ہے۔جوکہ یہوداہ کی شخصیت کے نت نئے پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹرہائم مکابی کاخاندان یہودی ربائیوں  کاخاندان ہے۔ان کے دادا مشہور ربائی رہ چکے ہیں۔ہائم مکابی تالمودی روایات اوریہودی ومسیحی مذاہب کی تواریخ پر ہائی پروفائل اسکالر سمجھے جاتے ہیں اور یہودی تاریخ اور عہدجدیدکے تاریخی پس منظر پر کئی کتب بھی تحریر کرچکے ہیں۔ میں اپنی اس چھوٹی سی کاوش کو اپنے والدین کی طرف انتساب کرتی ہوں جن کی شفقت ومحبت اور دعاؤں کے باعث میں نے علم حاصل کیا اور یہ ترجمہ کرنے کے قابل ہوسکی ۔اس کے ساتھ ساتھ میں  اپنے سوشل میڈیاپیج وگروپ مسلم مسیحی مکالمہ آفیشل کی  پوری ٹیم کی بھی شکرگزار اورممنون ہوں جن سے مجھےبہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
والسلام
یہودا کی رزمیہ کہانی میں غداری کے سرسری خاکے نے فقط آغاز میں ہی ہمیں اس بات پر مائل کیا ہے کہ ہم یہودا ہ کی پیدائش سے لے کر موت تک اس کی زندگی کے ہر پہلو کے متعلق چھپی ہوئی روایات کو تفصیل سے بیان کریں۔ہم جان چکے ہیں کہ یورپی زبانوں میں 'یہودا' کا نام 'غدار' کی علامت کے طور پر ضرب المثل بن کر زبان زد عام ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ 'یہوداہ' کا یہودیوں کے ساتھ اچھا مصنوعی تعلق کبھی زائل نہ ہوا۔ جب بھی کوئی معاملہ جس میں کوئی یہودی ملوث نہ ہو، میں کسی شخص کو 'یہوداہ' کے طور پر بدنام کیا جاتا ہے تو اس کا مفہوم اور نتیجہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ شخص ایک یہودی کی طرح برا انسان ہے جس نے اپنے اعتماد کے ساتھ اسی طرح غداری کی جس طرح یہودیوں نے یسوع کے ساتھ غداری کی تھی۔لہذا اگر کوئی غیر یہودی بھی یہ نام رکھ لے تب بھی 'غدار ' کے معنوں میں 'یہوداہ' کا لفظ سامی مخالف الزام و اتہام سے پرُ ہوتا ہے۔تاہم یقیناً اس لفظ کی سامی مخالفت کی طاقت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب کسی شخص یا لوگوں کو یہودیوں کی طرح غداری کا مرتکب ٹھہرایا جاتا ہے۔چونکہ مسیحیوں اور حتی کہ بعد کے مسیحیوں کی پرفریب زندگی میں یہودی اصلی غداروں کے طور پر نمایاں ہوتے ہیں جہاں یہودی نازک صورتحال اور شکست کے وقت اس کردار (غداری) کے لیے منتخب کیا گئے ہیں۔
 مسیحیت میں عقائد کی زوال پذیری نے بھی اس صورتحال پر کوئی اثر نہ ڈالا۔ جب کوئی مذہب زوال پذیر ہوتا ہے تو اس کے عقائد تیزی سے بوسیدہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں،لیکن اس کے فریب کو ختم ہونے میں وقت لگتا ہے۔'یہوداہ' کے نام کے ساتھ یہودی مخالف اتہام تب تک چسپاں رہتا جب تک مابعد مسیحی تحاریک میں نیکی اور بدی کے مسیحی کائناتی افسانے کی گونج سنائی دیتی ہے ۔درحقیقت مابعد مسیحی تحریکوں کی یہودی مخالفت زیادہ سخت اور بے رحم ہے کیونکہ ان تحاریک میں اس نظریے کا فقدان ہے کہ یہودا ہ اپنی تمام تر برائیوں کے ساتھ مسیحی حیات کے تسلسل کے لیے کسی نہ کسی طرح لازمی ہے۔نازازم اور کمیونزم کی مابعد مسیحی تحریکوں نے یسوع کی ہزار سالہ بادشاہت کے عقیدے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کے ساتھ منسلک بدی کے عقیدے کو بھی وراثت میں حاصل کیا کہ نجات کے لیے اب یہودیوں کی ضرورت نہ رہی لہذا انہیں نیست و نابود کر دینا چاہیے۔کیونکہ مسیحیوں کے نزدیک ہزار سالہ بادشاہت مستقبل بعیدتھی لیکن مابعد مسیحی تحاریک کے مطابق یہ بادشاہت پہنچ چکی تھی جو یہودیوں کے لیے موت کا وقت تھا ۔
لیکن یہودا کے افسانے کے پیچھے تاریخی حقیقت کیا ہے؟ اصل یہودا ہ اسکریوتی کون تھا اور ناصرت کے یسوع کی کہانی میں اس نے کیا کردار ادا کیا؟ اس سوال کے جواب کی تلاش ہمیں واپس اناجیل تک لے جاتی ہے جس میں واضح فریب کے باوجود ابتدائی حقیقی معلومات کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔
جب ہم تاریخی یہودا ہ کی شخصیت کی دوبارہ تصویر کشی کرنے لگتے ہیں (جیسا کہ یسوع کے معاملے میں کرتے ہیں) تو ہمیں دستیاب دستاویزات کی سطور کے درمیان ان اشارات پر غور کرنا چاہیے جو ابتدائی قصوں میں سے محفوظ رہ گئے ہیں۔یہ تفتیش و تحقیق محض غیر عملی اور مذہبی نہیں ہے۔تفتیش کے اس عمل سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ افسانے کس طرح تخلیق کیے جاتے ہیں اور تفتیش سے ہمیں ان تعصبات کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے جو افسانہ  گھڑ کر قائم کیے گئے ہیں۔اگر آخر پر سوالات جنم لیں یا ایک ایسا نظریہ قائم ہو جائے جو صرف ظن پر مشتمل ہو تو بھی اس کے باوجود ہم ان استدلات کو تقویت نہیں دیتے جس کا مقصد گمان پیدا کرنا ، اور افسانوں اور فریب میں رنگے اذہان کی متعصب تحقیق سے گریز کرنا ہوتاہے۔
تاریخی یہودا کے بارے میں قائم مختلف نظریات کا ابتدائی نقطہ اس کا نام 'اسکریوتی' (iscariot) ہے، اس نام کا مصدر کیا ہے؟ کیا یہ عبرانی لفظ ہے یا یہ لفظ کسی اور زبان سے آیا ہے؟ کیا یہ کوئی عرفی نام ہے یا کوئی لقب ہے یا کسی جگہ کا نام ہے؟ کیا یہ نام صرف یہودا کو دیا گیا ہے یا اس نے یہ نام اپنے خاندان سے وراثت میں پایا ہے؟
 اسکریوتی (iscariot) کی عام وضاحت کے مطابق یہ لفظ دو عبرانی الفاظ کا یونانی زبان میں نقل کیا ہوا ترجمہ ہے: اش ish جس کا معنی 'آدمی' ہے اور قیرت (qeriyoth) جو کہ ایک جگہ کا نام ہے جس کا عبرانی بائبل میں قریوت (kerioth) کے نام سے تین بار تذکرہ کیا گیا ہے۔اس طرح اسکریوٹ (Iscariot) کا معنی 'قریوت کا آدمی' ہے۔یرمیا اور آموس کے صحیفے میں یہ شہر موآب کے شہروں کی فہرست میں آیا ہے لیکن یشوع کی کتاب میں یہ شہر یہودیہ کے شہروں کی فہرست میں شامل ہے. جب یشوع کی کتاب کا یونانی زبان میں ترجمہ کیا گیا تو عبرانی لفظ قریوت (qeriyoth) کا ترجمہ جگہ کے نام کے طور پر نہیں کیا گیا بلکہ اس کا ترجمہ حصرون سے منسلک 'شہروں' کے طور پر کر دیا گیا۔ جدید ماہر قدیمہ جات کی کھدائیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حصرون ایک وسیع علاقہ تھا۔ بائبل کی سطور میں یہ ایک مشکوک بات ہے کیونکہ قریوت کو یہودیہ میں شامل دکھایا گیا ہے۔جبکہ درحقیقت یہ ایک شہر کا نام ہے اور کسی نے بھی یہودا ہ کے موآب سے تعلق کی بابت کوئی نظریہ پیش نہیں کیا۔
اس کے باوجود کسی دوسرے نظریے کی غیر موجودگی میں اس نظریے کو وسیع پیمانے پر قبول کر لیا گیا کہ یہودا ہ ،یہودیہ میں شامل ایک علاقے قریوت سے آیا تھا۔ دو قابل غور نظریات اس نقطے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔پہلا ثبوت انجیل یوحنا میں ملتا ہے جس میں یہوداہ کے باپ سائمن (ممکن ہے کہ وہ بھائی ہو) کو اسکریوتی کہا گیا ہے (انجیل یوحنا 6:71 اور 13:26)۔ان حوالوں سے عرفی نام ہونے کا امکان ختم ہو جاتا ہے کیونکہ دو اشخاص کا ایک ہی عرفی نام نہیں ہو سکتا۔لیکن ایک ہی خاندان کے دو اشخاص کا ایک ہی شہر سے آنا معقول بات لگتی ہے۔انجیل یوحنا کے کچھ خاص نسخوں میں بھی ہمیں 'اسکریوتی' (iscariot) کے متعلق ایک اور ثبوت ملتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک متنی روایت کے مطابق 'اسکریوٹ' سے مراد یہودا ہ کو ایک خاص شہر سے آیا ہوا شخص سمجھا گیا، اگرچہ یہ بات مشکوک رہی جبکہ یہ ایک حقیقی جغرافیائی روایت ہے، یا ایک ایسے نام کا لسانی مطلب کھوجنے کی کوشش ہے جس کا مطلب پہلے ہی پراسرار ہو چکا ہو۔
قریوت کے شہر کا ٹھیک ٹھیک مقام تلاش کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں۔جرمن سکالر فرانٹس بہل اپنی کتاب فلسطین کا جغرافیہ (Geography des Atten Palestina) میں قریوت شہر کی شناخت جدید عرب شہر قریاتین کے نام سے کرتے ہیں اور اپنے دعوے کی بنیاد اس حقیقت پر رکھتے ہیں کہ کسی شہر کے نام غیر معمولی طور پر لمبے عرصے تک برقرار رہتے ہیں، لہذا یہ فرض کرنا بعد الفہم نہیں کہ یہ نام دو ہزار سال تک تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ محفوظ رہا۔بدقسمتی سے قریاتین اس علاقے میں واقع نہیں ہے اور حصرون کے قدیم شہر سے کافی دور واقع ہے جو بائبل میں مرقوم قریوت سے منسلک دکھایا گیا ہے۔واضح طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے بائبلی علوم میں قریوت نامی کسی بھی شہر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔اس نقطے سے یہ نظریہ قائم کر لیا گیا کہ اس نام کا کوئی شہر موجود نہیں تھا لیکن یسوع کے زمانے میں اس شہر کی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایک سوال مزید پیدا ہوتا ہے کہ کہ کیا اسکریوٹ (iscariot) دو الفاظ اش ish (آدمی) اور قریوت (qeriyoth) کا مرکب ہے؟ اگر اسکریوٹ کا مطلب 'قریوت کا آدمی' ہے تو عہد نامہ جدید میں پہلے لفظ ish کا ترجمہ کیوں نہیں کیا گیا؟ یونانی زبان میں اس لفظ کا ترجمہ 'آدمی' aner کیوں نہیں کیا گیا؟ یقیناً '.... کا آدمی' کی اصلاح اس زمانے کی عبرانی زبان کی لسانی اصلاح ہے. لیکن '..... کا آدمی' کی اصلاح کو کبھی بھی نام کا حصہ نہیں سمجھا گیا اور جب بھی کسی نام کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا گیا تو اس اصطلاح کا بھی صراحتاً ترجمہ کر دیا گیا۔
مجموعی طور پر 'قریوت کا آدمی' والا نظریہ وسیع پیمانے پر قبولیت کے باوجود ناپائیدار ہا ہے،پھر بھی ان روایات سے پر اثر نتائج اخذ کر لیے گئے اور وہ نتائج اس حد تک سرائیت کر چکے ہیں کہ بلاحجت حقائق میں تبدیل کیے جا چکے ہیں۔دوسرے شاگردوں کے بر عکس یہوداہ اسکریوتی کا گلیل کے بجائے یہودیہ کا باشندہ ہونے کی بابت قول متواتر نزاع کا باعث بنا رہا ہے۔اس قول نے یہوداہ کو شاگردوں میں ایک ایسی بے جوڑ شخصیت میں تبدیل کر دیا ہے جو اس کے ان ساتھیوں سے موافقت نہ رکھتا ہو ، جنہوں  نے خود یسوع کے ساتھ گلیل کا مشاہدہ کیا۔دوسروں (شاگردوں) کی نسبت یہودا کے متعلق دلائل اعلیٰ درجے کی معاشرتی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ مشرق سے اس کی یروشلم میں آمد ہی اس کو دارالسلطنت یروشلم کی ریت رواجوں سے روشناس کرواتا ہے۔یہ بات ہی یہودا ہ کو گنوار شاگردوں اور یسوع سے جداگانہ پہلو عطا کرتی ہے۔ اس کے اعلیٰ خاندانی پس منظر نے اس کو 'خدا کی بادشاہت' میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے پر عزم بنا دیا تھا،لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ یسوع کو سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں تو وہ فریب سے باہر نکل گیا اور یسوع کو دغا دے گیا۔
ان تمام مفروضات کی بنیاد یہودا ہ کا یہودیہ کے قصبے قریوت میں پیدا ہونے کے مفروضے، اور اوپر بیان کیے گئے مکمل طور پر مشکوک علم لسانیات پر رکھی گئی ہے۔ان کے علاوہ یہودا ہ کا یہودیہ کے ساتھ تعلق ظاہر کرنے کے لیے ثبوت کا کوئی ایک ٹکڑابھی موجود نہیں ہے۔ یہودا کے نام سے ایسا کچھ ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ یہ نام گلیل میں ایک عام نام تھا۔شدت پسند تحریک کا بانی یہودا ہ گلیلی، گلیل کا رہنے والا اس کی ایک واضح مثال ہے اور دوسری مثال یسوع کا جڑواں بھائی یہودا ہ توام ہے (متی 13:55)۔لہٰذا زیادہ احتمال اسی بات کا ہے کہ دوسرے شاگردوں کی طرح یہودا اسکریوتی بھی گلیلی تھا۔
بہت سے علماء 'قریوت کے آدمی' کے نظریے سے غیر مطمئن ہیں اور انہوں نے اس نام کی دوسرے طریقوں سے وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔کچھ علماء نے رائے دی ہے کہ اسکریوٹ (iscariot) اشکاروی (issacharite) کی ایک شکل ہے جس کا مطلب 'اشکار' (issacharite) کے قبیلے کا فرد ہے۔لسانی طور پر یہ ایک پرکشش تصور ہے لیکن اس نظریے کا درست ہونا ناممکن ہے،کیونکہ اشکار کا قبیلہ بہت پہلے ہی ختم ہو چکا تھا اور اس وقت کوئی وجود نہ رکھتا تھا۔شمالی سلطنت کی ایشیائی سلطنتوں کے فتح ہونے کے بعد شکست اور جلاوطنی کے باعث جو دس قبائل گم ہو گئے تھے، ان میں اشکار کا قبیلہ بھی شامل تھا۔
جبکہ کچھ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اسکریوٹ کا لفظ (iscariot) شہر کے نام سے اخذ نہیں کیا گیا بلکہ یہ اس کا عرفی نام تھا جو شاگرد کے طور پر 'خزانچی' کی ذمہ داری سونپنے کے بعد یہودا کو دیا گیا تھا۔اس نظریے کی بنیاد اس دعوے پر رکھی جاتی ہے کہ اسکریوٹ کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ سکورٹیا (scortea) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب 'چمڑے کا تھیلا' ہے (یوحنا 12:6 اور 13:29)۔یہاں پر استعمال کیا گیا لفظ glossokoman ہے جو کسی بھی طرح اسکریوٹ کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتا۔لیکن یہ نظریہ قائل کرنے والا نہیں ہے کیونکہ ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جماعت میں خزانچی کے طور پر یہودا کا تقرر مستند نہیں ہے کیونکہ ابتدائی مسیحیت میں ایسا کوئی نظریہ نہیں ملتا،بلکہ یہودا کو لالچی ثابت کرنے کے لیے ارتقائی طور پر یہ نظریہ گھڑا گیا ہے۔
ایک قابل قدر معقول نظریے کے مطابق اسکریوٹ (iscariot) کا لفظ سوخار (sychar) شہر سے ماخوذ ہے جو کہ سماریہ کا شہر تھا جیسا کہ یوحنا (4:5) میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ اسکریوٹ کا مطلب 'سوخار کا آدمی' ہے، کیونکہ نام کا پہلا حصہ ish ہے جیسا کہ 'قریوت کا آدمی' ہے، لیکن دوسرا عبرانی نام خواہ کچھ بھی تھا اس کا یونانی ترجمہ سوخار (sychar) کر دیا گیا۔یہ نظریہ کہ یہودا ہ یہودیہ کا شہری ہونے کے باعث بے جوڑ آدمی تھا لیکن دوسرے نظریے کے مطابق سماریہ کا شہری بن جاتا ہے جن کو یہودیوں کی ایک بڑی جماعت بدعتی خیال کرتی تھی،یہ بات ناممکن نظر آتی ہے لیکن ایسا ہو بھی سکتا ہے۔لیکن اناجیل میں دکھایا گیا ہے کہ سماریہ کے رہنے والوں کا سلوک ریاکاری پر مبنی تھا 'اس نے اپنے شاگردوں کو ان (سماریہ) کے شہروں میں داخل ہونے سے منع کیا (متی 10:5)۔جب یسوع نے یروشلم کی طرف سفر کیا تو سماریہ کے باشندوں نے اپنی سلطنت سے گزرنے کے دوران ان کے لیے مزاحمت پیدا کی جو زائرین کے ساتھ ان کی عام مخالفت کو ظاہر کرتا ہے۔دست اندازی کرنے والوں کو آسمان کی آگ سے تباہ کرنے کی خواہش کرنے پر اگرچہ یسوع نے شاگردوں کو ملامت کی تھی۔یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کے گروہ اور سماریہ کے باشندوں کے درمیان تعلقات اچھے نہیں تھے۔یہودیوں کے برعکس 'جن کی ہم جان کر عبادت کرتے ہیں وہ نہیں ہے' (یوحنا 4:22)۔رابائیوں کی طرح اس (یسوع) نے  سامریوں کو اچھے کام کرنے کے احکامات دیئے (لوقا باب 10 فقرہ 30 تا 36) اور ایسے واقعات کو بطور مثال پیش کیا لیکن اس (یسوع)نے اسی بات پر اصرار کیا کہ نجات یہودیوں میں سے ہے۔ ایسے حالات ایک سامری کو شاگرد کے طور پر قبول کرنے کے لیے ناموافق اور ناممکن نظر آتے ہیں۔
مزید برآں سوخار (sychar) کا لفظ مشکلات کو جنم دیتا ہے۔انجیل یوحنا کے علاوہ کسی بھی یہودی اور غیر یہودی دستاویزات میں اس نام کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔بہت سے علماء کا ماننا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ سوخار (sychar) کا لفظ سماریہ (shechemn) کی تحریف شدہ شکل ہے۔پہلے اس کی شناخت جیروم کے طور پر ہوئی۔یوحنا کے بیان کے مطابق اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ شہر زمین کے اس قطعے کے نزدیک تھا جو یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دیا تھا۔اس کے باوجود کچھ علماء نے سوخار شہر کو جدید 'عسکر askar ' کے نام سے شناخت کیا ہے جو کہ بنوس (shechem) کے شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے،لیکن اس نظریے کو نظر انداز کر دیا گیا۔اگر اس کا مطلب بنوس (shechem) ہے تو اس کے مصدر کا نظریہ لسانیاتی طور پر مضبوط نظریہ ہے۔
تاہم جو مشکلات 'سوخار کا آدمی' کی بابت نظریے میں ہے وہی مشکلات 'قریوت کا آدمی' کی بابت نظریے میں بھی ہیں۔یہ سمجھنا مشکل ہے کہ 'آدمی' کی اصلاح کا یونانی زبان میں ترجمہ کیوں نہیں کیا گیا؟ اور شہر کے نام کے ساتھ ضم کر کے مرکب بنا دیا گیا جس سے یہودی تقدیم ظاہر نہیں ہوتی۔
اسکریوٹ (iscariot) کے معنی اور مصدر کی بابت ایک اور نظریہ پیش کیا گیا جو ان مشکلات سے آزاد اور خالی ہے ، جس کو محض نظریاتی اختلاف کی بنیادوں پر رد کر دیا گیا۔اس نظریے کے مطابق اسکریوٹ کا لفظ لاطینی لفظ سیکیریس (sicarius) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب 'کھینچنے والا آدمی' ہے۔یہ لفظ ان شدت پسند تحریک کے بہت سے اراکین کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو یہودیہ پر رومی قبضے کے شدید مخالف اور مسلح مزاحمت کرتے ہوئے رومیوں کے خلاف برسر پیکار تھے۔اس نظریے کی خاص بات کیا ہے؟ یہ نظریہ صرف لسانیاتی طور پر ہی مضبوط نہیں بلکہ یہ ایک قابل غور حقیقت بھی ہے کیونکہ یسوع کا ایک اور شاگرد بھی 'شمعون زیلوتیس' کہلاتا تھا۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع نے ایک اور ایسے شخص کو بھرتی کیا ہوا تھا جس کا عرفی نام تحریک میں اس کی سابقہ رکنیت کو ظاہر کرتا تھا۔لفظ سکیریس (sicarius) کے آرامی زبان میں ترجمہ کے شواہد رابائی علوم میں بھی ملتے ہیں۔ان رابائی علوم کے مطابق رومیوں کے خلاف یہودی جنگ (66 تا 70 عیسوی) میں کچھ خاص باغی 'ابا سکرا' یا 'ابا زیلوتیس' کے نام سے مشہور تھے۔اسم اور عرفیت کا یہ مجموعہ بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح کا مجموعہ یہودا اسکریوتی کے نام میں دیکھنے کو ملتا ہے۔حقائق کے مطابق رابائی محفوظ دستاویزات میں اسکریوٹ (iscariot) کے لفظ کا حرف آئی ( i ) شامل نہیں ہے، لیکن ایک ترجمہ کیے ہوئے نام کا مختلف حالتوں میں پایا جانا غیر معمولی بات نہیں ہے کیونکہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ کسی بھی غیر ملکی زبان کے لفظ کا تلفظ ادا (pronunciation) کرنے کی بابت مسائل کو حل کرنا جانتے تھے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عہد نامہ جدید کے کچھ نسخوں میں اسکریوٹ کا لفظ آئی ( i ) کے بغیر سکیریوٹ (skariotes) سکیریوتھ (skarioth) یا سکیریوٹا (scariota) کی تین حالتوں میں لکھا نظر آتا ہے۔
خاص تحقیق اور سوچ و بچار کی مدد سے یسوع کے شاگردوں کی جماعت میں داخل ہونے سے پہلے یہودا اسکریوتی کا زیلوتیس تحریک میں جنگجو کا کردار ثابت کیا جا سکتا ہے، جو بہت سے علماء کے لیے مشکل کام ثابت تھا۔یہ بات تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ یسوع کے شاگردوں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا پس منظر رکھتا ہوگا جبکہ اس کے علاوہ یسوع کے مزید دو اور شاگرد بھی ایسا ہی پس منظر رکھتے تھے۔اس لیے بذات خود یسوع کے متعلق اور اس کے مسیحا ہونے کے دعوے کے مقاصد معلوم کرنے کی بابت خاص تحقیق اور سوچ و بچار کی ضرورت ہے۔ایک ایسی تحریک جس نے زیلوتیس قائدین کی ایک بڑی تعداد کو بھرتی کیا تھا، آرتھوڈوکس نظریات کے برعکس ضرور اسی (زیلوتیس) تحریک کی مانند نظر آتی ہے۔
لسانیاتی طور پر تحقیق اور غور و فکر کے علاوہ بھی بائبل کے مسوداتی نسخوں سے یہودا ہ اسکریوتی کے 'یہوداہ  زیلوتیس' ہونے کی بابت دلچسپ ثبوت ملتے ہیں۔یسوع کا زیادہ سرگرم سیاسی مقام حاصل کرنے کی ترغیب کو ثابت کرنے کی غرض سے ہم نے پہلے ہی صفحہ نمبر 31 پر انجیل یوحنا 14:22 میں مرقوم سطور میں سازشی طور پر کی ہوئی خرد برد پر پہلے ہی غور و فکر کیا ہے، جس میں ایک شاگرد یہودا ہ کو بڑی احتیاط سے 'اسکریوتی نہ تھا' کہہ کر امتیاز برتنے اور الگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ثابت کریں گے کہ یہ سطور اصل میں یہودا اسکریوتی کے متعلق ہیں اور ان سطور میں اس کو غدار کے بجائے غیر تفہیمی فعال ارادیت پسند کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔انجیل یوحنا کے تیسری اور چوتھی صدی کے قبطی نسخوں سے بھی 'اسکریوٹ کے زیلوتیس ہونے' کے بابت تصورات اور نظریات کی تصدیق ہوتی ہے، جن میں 'اسکریوتی نہ تھا' والی سطر میں 'نہ' کا لفظ شامل نہیں ہے، لیکن اسکریوٹ کے لفظ کے بجائے وہاں 'کینانائٹس' (kananites) کا لفظ لکھا ہوا ہے۔قبطی نسخوں میں اس مقام پر یسوع سے سوال و جواب کرنے والا شخص' یہودا کینانائٹس' (یہودا قینائی) بنتا ہے جس کا عبرانی ترجمہ 'قینائی' (qan, ai) ہے جس کا مطلب 'زیلوتیس' ہے۔اناجیل نویسوں نے دیگر مقامات (متی 3:18 او 10:4) پر بھی اس لفظ 'قینائی' میں خرد برد (اور تتربتر) کرنے کی کوشش کی ہے اور شمعون زیلوتیس کو شمعون قینائی کہا ہے۔لہذا قبطی نسخے (coptic version) ہی ہیں جن میں یہ بات محفوظ رہ گئی ہے کہ انجیل یوحنا باب 14 میں یسوع سے گفتگو کرنے والا شخص درحقیقت یہودا اسکریوتی ہی تھا (یہاں 'نہ' کا لفظ ترک ہو جاتا ہے) اور اس کا متبادل نام 'یہودا قینائی' یعنی 'یہودا زیلوتیس' تھا۔کسی لکھنے والے نے انجیل یوحنا کے بعد میں لکھے جانے والے نسخوں میں 'نہ' کے لفظ کا اضافہ کر دیا تھا، کیونکہ وہ لکھنے والا جانتا تھا کہ ان سطور میں مرقوم یہودا اسکریوتی کا کردار یسوع مخالف تصورات و کردار سے مطابقت نہیں رکھتا اور اسی لیے ان دونوں کے درمیان گفتگو کو کسی نیک یہودا کے ساتھ منسوب کر دیا گیا۔
اناجیل کی حتمی ترمیم نو سے بہت پہلے کے عرصے میں چرچ کی تاریخی دستاویزات میں بھی 'یہودا زیلوتیس' نامی شخصیت کی موجودگی کے ثبوت ملتے ہیں۔متی کی انجیل (باب 10 فقرہ 2 تا 4) میں بھی رسولوں کی ایک فہرست بیان کی گئی ہے، اس فہرست میں ہم یہودا نامی صرف ایک شاگرد کو دیکھتے ہیں جس کا نام یہودا اسکریوتی تھا۔لیکن ہم ' لبیاس' (Lebbaeus) نام کا ایک اور شاگرد دیکھتے ہیں جس کا عرفی نام 'تدی' تھا (دوسری کتابوں میں)۔ہم مرقس 6:19 میں بیان کی گئی شاگردوں کی فہرست میں بھی 'تدی' کا نام دیکھ سکتے ہیں۔لوقا اپنی فہرست میں 'تدی' نامی کسی بھی شاگرد کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے بجائے اس جگہ' یعقوب کا بھائی یہودا' کا نام دیکھتے ہیں (لوقا 6:19) پھر یہ تصور پیش کیا گیا کہ 'تدی' یہودا کا دوسرا نام ہے اور کچھ علماء نے یہ خیال پیش کیا ہے کہ یہ فعل کی تبدیل شدہ شکل ہے، جبکہ یہ ایک غیر موافق نظریہ ہے۔سب سے اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ متی کی انجیل کے کچھ ابتدائی لاطینی نسخوں میں 'تدی' کی جگہ 'یہودا زیلوتیس' کا نام لکھا ہوا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ 'تدی' (یہ جس کو بھی ظاہر کرتا ہے) واضح طور پر یہوداہ کو بدل کر لکھا گیا تھا۔
ہم انجیل یوحنا کے قبطی نسخے سے بھی یہوداہ زیلوتیس (یہودا قینائی کی شکل میں) کی تصدیق کر سکتے ہیں۔اس طرح اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ یہودا اسکریوتی ہی یہوداہ  زیلوتیس تھا۔تاہم یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہودا ہ اسکریوتی یہوداہ  زیلوتیس نہیں تھا بلکہ یہ یعقوب کا بھائی یہودا تھا، جس کا ذکر لوقا کی اناجیل میں بھی ملتا ہے. یہ نتیجہ ان علماء نے اخذ کیا ہے جو یوحنا 14:22 والے 'اسکریوتی نہ تھا' کو یہودا کے بجائے دوسرا یہودا خیال کرتے ہیں. یہ ایک ممکنہ حل پیش کیا گیا لیکن میری رائے کے مطابق یہ خیال درست نہیں ہے، کیونکہ یہوداہ  نام کے دو شاگرد تھے جن میں سے ایک کا عرفی نام زیلوتیس تھا اور دوسرے کا عرفی نام اسکریوتی تھا یہ وہ نام تھا جس کے متعلق سریع الاعتقادی سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا معنی زیلوتیس ہے۔شاگردوں کے ناموں کی تمام فہرستیں یہوداؤں کی تعداد کی بابت اس قدر مشکوک ہیں کہ کوئی سمجھ نہیں سکتا کہ وہ ایک تھا یا دو تھے، یا یہودا زیلوتیس کی طرح کوئی ایسا شخص بھی تھا جس کو چھپا دیا گیا ہو۔یہ فہرستیں کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں؟ میں سب سے بہترین نظریہ پیش کرونگا کہ اس وقت یہودا ہ نامی صرف ایک شاگرد تھا جس کا نام یہودا اسکریوتی تھا۔ اور جب اس کو غدار کے افسانوی کردار کے لیے منتخب کیا گیا تو تاریخی یہودا ہ کے بارے میں اچھی روایات کسی دوسرے یہوداہ کی طرف منتقل کر دی گئیں جو پہلے پہل کسی عرفی نام کے ساتھ منسوب کی گئیں، لیکن مختلف القابات سے نواز نواز کر آہستہ آہستہ اسے یہودا اسکریوتی سے الگ شخصیت بنا دیا گیا (غالباً اسی وجہ سے حواریوں کی تعداد پندرہ سے تجاوز کر گئی، از مترجم)۔
اس نظریے کی تائید میں لسانی اور مسواداتی شواہد موجود ہیں کہ اسکریوٹ کا مطلب زیلوتیس ہے جو کہ سائیکیریس (sicarius) سے اخذ کیا گیا ہے۔تاہم یہاں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا معقول ترین متبادل 'قریوت کا آدمی' ہے مسائل کے باوجود اس نظریے کو عام طور پر سب سے بہترین نظریہ سمجھا گیا ہے۔لہذا گلیلیوں کی جماعت میں ایک علیحدہ یہودیہ کا باشندہ ہونے کی بابت عام طور پر قبول کیے گئے نظریے تک خود کو محدود کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے برخلاف دوسرے شاگردوں کی طرح یہوداہ کا بھی گلیلی ہونے کے واضح نظریے (جس کا اناجیل میں صاف انکار کیا گیا ہے) کو قبول کرنے کی تمام تر وجوہات موجود ہیں۔
 اس نقطے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہودا اسکریوتی ہی یہودا زیلوتیس تھا، تو یوحنا کا اسے شمعون اسکریوتی کا بیٹا (یا بھائی) قرار دینے کی حقیقت کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔یہ 'قریوت کے آدمی' کے نظریے کی مضبوطی ہی ہے جو اس مسئلے کی حسب اطمینان وضاحت کرتا ہے کہ ایک ہی خاندان کے دو افراد اپنے شہر کے نام کو عرفی نام کے طور پر استعمال کرتے تھے (لیکن اگر ایسا ہی ہے تو 'جداگانہ شخص' کے نظریے کو کیسے بیان کیا جائے گا؟ دو شخصیات یہودا کے نرالے پن کی واضح وضاحت فراہم نہیں کر سکتیں)۔لیکن زیلوتیس کا نظریہ دونوں شخصیات کے عرفی ناموں کی حسب اطمینان وضاحت فراہم کرتا ہے؛ ایک ہی تحریک کے دو ارکان ایک ہی عرفی نام کو یکساں طور پر استعمال کر سکتے ہیں، خاص طور پر یہ بات اس وقت اور بھی ممکن ہو جاتی ہے کہ (شمعون) 'کے بیٹا' کا درست ترجمہ (شمعون) 'کا بھائی' کے طور پر کیا جائے۔درحقیقت اگر ہم ایک بار اسکریوتی کا مطلب زیلوتیس بیان کرتے ہیں تو ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ شمعون اسکریوتی اور شمعون زیلوتیس ایک ہی شخص کے نام ہیں، جس طرح یہودا اسکریوتی اور یہودا قینائی (زیلوتیس) ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔اس معاملے میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کہ یسوع کا حواری شمعون زیلوتیس یہودا اسکریوتی کا بھائی تھا۔کیونکہ ایک ہی وقت میں ایک شخصیت سے منسوب دو ناموں کا ایک ہی وقت میں بھائی ہونا اور بھائی نہ ہونا ناممکن بات ہے۔
اس موضوع کو ختم کرنے سے پہلے ان نظریات کو بیان کرنا ضروری ہے جن میں اسکریوٹ کے لفظ کو عبرانی اور آرامی روٹ shqr سے ماخوذ بتایا گیا ہے، جس کا مطلب 'دھوکہ دینا' ہے۔یہ مطلب ایک مغالطہ پیدا کرتا ہے۔یہ مفروضہ بھی پیش کیا گیا کہ اس کی روٹ sgr ہے جو کہ عبرانی میں ہفل فارم یا ایکٹو وائس ظاہر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کا معنی 'دشمن کے حوالے کرنا' ہے۔اس معاملے میں لسانیاتی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کس طرح ان دو روٹس سے 'اسکریوٹ' کا لفظ اخذ کیا گیا؟ لیکن اصل اعتراض یہ بنتا ہے کہ اس وضاحت سے اس بات کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس نام کو یہودا نے یسوع کا شاگرد ہونے کے زمانے میں خود اختیار نہیں کیا تھا بلکہ بغاوت کے بعد اس کو یہ نام دیا گیا۔پھر بھی تمام شواہد اسی بات کی تائید کرتے ہیں کہ اس کا شروع سے یہ ہی نام تھا،اس لیے یہ وضاحت غیر موثر ہے۔اس کے باوجود اس بات کا یقینی امکان ہے کہ اس کی بغاوت کے بعد اس کے نام اسکریوتی کا غداری کے ساتھ اس طرح کا کوئی تعلق نہیں بنتا کہ جس طرح اس لفظ کی وضاحت کی جاتی رہی ہے۔رابائی علوم میں بھی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور لاطینی میں بھی جہاں بدی کا کردار ادا کرنے والے اشخاص کے ناموں کی ہتک آمیز توضیح کی گئی۔
بہت سے علماء نے نظریاتی میدانوں میں اختلاف کی بنیاد پر یہودا کو شاگردی سے برخاست کرنے کا تصور پیش کیا۔دوسرے شاگردوں کی بابت معنی خیز معلومات حاصل کر کے اس نتیجے کو پرزور انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ یسوع کی تحریک زیلوتیس تحریک سے مماثلت رکھتی تھی اور آرتھوڈوکس مسیحیت کے برعکس دنیا اور جنگ کی مخالف نہیں تھی۔کچھ علماء نے یہودا اسکریوتی کی زیلوتیسزم کے ساتھ رفاقت کو شاگردی سے برخاستگی کی ظاہری وجہ کے طور پر بیان کیا ہے۔اگر یہودا زیلوتیس تھا اور رومیوں کے خلاف گوریلا جنگ میں شامل تھا تو اس نے اپنا دنیاوی عسکری انداز برقرار رکھا ہوگا جو یسوع کے لیے اجنبی ہوگا۔یسوع کی انوکھی بات سے متاثر ہو کر (اس نظریے کی بنیاد پر) اس نے زیلوتیس تحریک چھوڑ دی کہ یسوع اصل میں مسیحا ہے جو اپنے معجزاتی طریقوں سے رومیوں کو مغلوب کر دے گا، لیکن آہستہ آہستہ اس پر یہ بات عیاں ہو گئی کہ یسوع رومیوں کو مغلوب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ اس نے اپنی مسیحائی کو ہر لحاظ سے روحانی انداز میں پیش کیا۔غلط راہ پر لگانے کے باعث یہودا نے مایوسی اور پریشانی میں یسوع سے انتقام لیا اور اس سے بغاوت کر کے اس کے دشمنوں تک پہنچا دیا۔
ایک اور متبادل نظریے کے مطابق یسوع کو مسیحا سمجھنے کی بابت یہودا کا ایمان کبھی بھی کم نہ ہوا تھا بلکہ وہ یسوع کی تاخیر کے باعث بےقرار ہو گیا تھا اور یہوداہ  نے یسوع سے غداری کر کے شدید مجبور حالات کو ایک نتیجے پر پہنچانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ رومیوں کو شکست دینے کے لیے اپنی معجزانہ طاقت استعمال کر سکے، اس نظریے کے مطابق یہودا کوئی ولن نہ تھا بلکہ اچھے مقاصد رکھنے والا شاگرد تھا جو سیاسی اقدامات اٹھانے کی بابت یسوع کی نارضا مندی کو نہ سمجھ سکا بلکہ وہ (یسوع) نجات کے روحانی تصور سے مرغوب تھا اور یہی بات رومیوں کی شکست سے غیر متعلق تھی۔واقعات و حالات کی ایسی صورتحال نہ صرف علماء میں بہت مقبول ہے بلکہ یسوع کے بارے میں ناول اور فلمی نوشتے لکھنے والے مصنفین اور ابتدائی مسیحیت میں بھی بہت مقبول رہی ہے اور اس صورتحال کے ساتھ ساتھ 'قریوت کے آدمی' کا نظریہ بھی بہت مقبول رہا جس کے مطابق یہودا کو یہودیہ کا باشندہ ہونے کے باعث دوسرے شاگردوں سے الگ تھلگ رنگ دے دیا گیا۔یہ منظر نامہ یہودا کو ایک ایسا قابل فہم مقصد تحریک عطا کرتا ہے جو کہ قصے کو بیان کرنے کے لیے مناسب ہے اور جو شیطانیت سے مغلوب اناجیل کے ناگوار قصوں سے یہودا کو بچاتا ہے اور اس کو وہ رمزی اہمیت عطا کرتا ہے جو یسوع کے زمانے میں اسے حاصل تھی جو روحانی مسیحا کے بجائے سیاسی مسیحا کو تلاش کر رہے تھے۔ لہٰذا خاص نقطہ نظر اور حب الوطنی کا جذبہ رکھنے کے باعث یہودا کے ساتھ ہمدردی کا جواز موجود ہے لیکن اس کے باوجود یسوع اور صلیب پر اس کے کفارے کے مشن کی روحانی طور پر قدر دانی کرنے میں ناکامی پر یہودا اور یہودیوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ بہت ہی حیرانی کی بات ہے کہ یہ الگ الگ سمت رکھنے والی متضاد باتیں ناول نگاروں اور فلمی داستانیں لکھنے والے مصنفین کے لیے کشش کا باعث بنیں جو اپنے نظریے کے سامی مخالف مفہوم کا پردہ فاش ہونے سے بچانے کے لیے مسیحی مذہبیت کے جنون کو بچانا چاہتے تھے۔
اس کہانی کے اشارے روایات میں بھی ملتے ہیں اور یہودا کا زیلوتیس تحریک کے ساتھ الحاق کی طرف اشارہ کرنے والی متضاد انجیلی سطور کی بنیاد پر جلد ہی یہودا کی بغاوت کو تاریخی حیثیت دے دی گئی۔اس سے خودکشی کرنے کا یسوع کا اپنا ارادہ اور اس وقت کی یہودیت سے روگردانی کا دعوٰی بھی ظاہر ہوتا ہے۔یہ نظریہ شیطانی انداز میں بیان کیے گئے قصے جس کے مطابق یسوع سے بغاوت کرنے والا یہوداہ یہودیوں اور ان کے مذہب کو عیب والا ثابت کرتا ہے، کے بجائے اس قصے کو قابل قبول انداز میں پیش کرتا ہے۔
ایک نظریے کے مطابق یہودا نامی شخصیت کا کوئی وجود نہ تھا بلکہ یہ ابتدائی چرچ کا تخلیق کیا ہوا مکمل افسانوی کردار ہے۔جے-ایم-رابرٹسن واضح طور پر اقرار کرتے ہیں کہ یہودا اسکریوتی کے کردار کو ایک پروپیگنڈہ کے طور پر تخلیق کیا گیا جس کا مقصد یہودیت اور یروشلم کے خلاف ایک ہتھیار تیار کرنا تھا۔ولیم بنجامین سمتھ (William Benjamin Smith) اے ڈریوز (A. Drews) جی شلاگر (G. Schlager) ایل جی لیوے (L. G. Levy) اور ایس لوبنزکے (S. Lobinski) نے بھی اس نظریے کو پرزور انداز میں بیان کیا ہے۔کچھ دوسرے علماء  نےاس کا مقصد پروپیگنڈہ کے بجائے کہانی کے مشکل خلا کو پر کرنے کے لیے افسانوی انداز میں کیا گیا ارتقاء بیان کیا ہے جس کا مقصد 'یسوع کیسے گرفتار ہوا؟' جیسے سوالات کا جواب تخلیق کرنا تھا۔فرینک کرموڈے (Frank kermode) نے یہ تصور پیش کیا ہے کہ یہودا کی کہانی تاریخی خلا کو پر کرنے کے بجائے ضرورت کی بنیاد پر مخالفین کو روائیتی مواد فراہم کرنے کے لیے بلوئی اور گھڑی گئی ہیں، کیونکہ مخالفت کا عنصر پیدا کیے بغیر اس کہانی کو مکمل کرنا ناممکن تھا (وہ اپنے کام کی بنیاد ولادیمیر پروپ viladimir propp کی تحقیق پر رکھتا ہے جس نے مخالفین کے لیے ضروری افسانوی کہانیوں کی ایک بڑی تعداد کا تجزیہ کیا)۔
 یہ تمام علماء خاص بصیرت رکھتے تھے اور انہوں نے معقول نظریات پیش کیے تھے۔وہ علماء یوحنا کی انجیل میں تفصیلاً بیان کیے گئے خاکے کے مرکزی خیال اور مقاصد سے حاصل کیا گیا نظریہ اور قرون وسطی میں تخلیق کی گئی افسانوی داستانوں کی بہتات اور ارتقاء کے پہلوؤں کا خاص ادراک رکھتے تھے۔لیکن اب بھی یہ سوال پوچھنا باقی ہے کہ تاریخی یہودا کون تھا؟ جے ایم رابرٹسن (J. M. Robertson) کی طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سوال کا جواب ملنا ناممکن ہے،کیونکہ اگر افسانے کو لیپنے کے لیے یہودا نامی شخص اگر حقیقی طور پر موجود ہوتا تو بہت غیر ممکن الوصول بات ہوتی۔اسی طرح تاریخی یسوع کے بارے میں اس کے وجود کا انکار کرنے والے (جی اے ویلG. A. Well) علماء بھی ہیں اور کچھ علماء ایسے بھی ہیں جنہوں نے یسوع کے وجود کو تو تسلیم کیا ہے لیکن اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی تاریخی معلومات دستیاب نہ ہونے کا اقرار کیا ہے جن میں روڈولف بلٹمین (Rudolf bultmann) جیسے علماء شامل ہیں۔میرا اپنا نظریہ یہ ہے کہ مخلوط معلومات رکھنے والی دستاویزات میں ان کی ظاہری حالت کے پیچھے تاریخی اہمیت کا حامل ایسا کافی مواد موجود ہے جس کو بعد کے مصنفین اپنے قلم سے گم کرنے میں ناکام رہے۔رجحان و رغبت کے طریقے کو استعمال کر کے اس تاریخی مواد کی شناخت کی جا سکتی ہے جو انیسویں صدی میں تخلیق کرنا شروع کیا گیا اور جس کے ایسے نتائج برآمد ہوئے جو مسیحی عقائد کے لیے اس قدر بھیانک ثابت ہوئے (یہودی یسوع اور یہودی یروشلم چرچ کی وضاحت کرتے ہوئے) کہ ان کو بیسویں صدی میں دوسرے پسندیدہ طریقوں جیسا کہ تنقید وغیرہ کے بعد تبدیل کر دیے گئے۔
رغبت اور رجحان کے طریقوں کی مدد سے تاریخی یسوع اور تاریخی یہودا دونوں کی درست تصویر کافی حد تک دریافت کی جا سکتی ہے۔یہوداہ کی کہانی کے مسائل حل کرنے کے دوسرے طریقوں کو نفسیاتی اور تحلیل نفسی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق تحقیق اور جانچ پڑتال سڈنی کے ٹیراکوو (Tarachov) نے تھیوڈر ریک (Theoder Reik) کے طریقے کو استعمال کیا جو فرائیڈ کے تحلیل نفسی کے نظریے کا ماہر تجزیہ کار اور ثقافتی افسانہ نگاری کو سمجھنے کا ماہر تھا۔اپنے مضمون 'یہودا ایک محبوب قاتل' (Judas the beloved executioner) میں وہ اپنے نظریے کی بنیاد کچھ خاص انجیلی دلائل پر رکھتا ہے (جس کی نشاندہی سابقہ علماء نے بھی کی ہے) جس کے مطابق غداری سے پہلے صرف ایک شاگرد ہی نہیں تھا بلکہ یسوع کا ایک خاص منظور نظر شاگرد تھا۔اس نظریے کی دلیل اور شواہد ہمیں عشائے ربانی کے آخری کھانے کی میز پر بھی نظر آتی ہے جب یہودا یسوع سے اگلی نشست پر ٹیک لگائے بیٹھا نظر آتا ہے۔ٹیراکوو (Tarachov) کے نظریے سے قبل بھی یہ نظریہ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ یہودا درحقیقت سب سے محبوب شاگرد تھا اور اس کا ذکر یوحنا نے بھی کیا ہے۔ایک اور مصنف سی ایس جریفین (C. S. Griffin) نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ چوتھی انجیل کا مصنف یہودا اسکریوتی تھا(Griffin 1892
ابتدائی چرچ کی دستاویزات میں پیش کی گئی شاگردوں کی فہرستوں کا مطالعہ کرنے والے کچھ مصنفین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ شاگردوں کی فہرست میں یہودا اسکریوتی کا نام سر فہرست تھا جس کا ثبوت اناجیل میں بھی ملتا ہے۔ٹیراکووز (Tarachov) اپنے کام کی بنیاد ایسے نظریات پر رکھتا ہے جس کی مدد سے یسوع کی گرفتاری کے وقت یہوداہ کے بوسے کو ایک نئے رنگ میں پیش کیا جا سکتا ہے. ٹیراکوو (Tarachov) کے نظریے کے مطابق یہ بوسہ پیار کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے جس کا باخبر اور اعلانیہ ہونا ضروری نہیں ہے۔لیکن دو آدمیوں کی کہانی میں متوازیت ہونا زیادہ اہم بات ہے۔یہودا اسکریوتی یسوع کا عکس ہے (اس نظریے کے اثبات میں یہودا اسکریوتی کے بچپن کا وہ قصہ بیان کیا جاتا ہے جس کے مطابق وہ یسوع کے بھائی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے اور اسی کی مانند شاہی ترکے کے دعویدار کے طور پر سامنے آتا ہے)۔خدا باپ کے حکم کے سامنے یسوع ظالمانہ قوت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، اس کے برعکس یہودا موت کو اٹھا کر خدا بیٹے کے پاس لے آتا ہے۔یہودا سکے کا دوسرا رخ ہے، جس وقت یسوع اطاعت کا مظاہرہ کرتا ہے یہودا بغاوت کرتا ہے۔یہودا یسوع کا برا رخ ہے جو یسوع کی اس اذیت پسندی کا ثبوت ہے جو یسوع کی جذباتی اذیت سے محظوظ ہونے کی عادت کے پیچھے چھپی ہے۔
یسوع اور یہودا کے درمیان پیار کے تعلق کو اس اذیت پسندی اور جذباتی اذیت سے محظوظ ہونے کی عادت کے تعلق سے بھی سمجھا جاسکتا ہے جس میں عمیق محبت کا عمل قتل اور قتل کے سامنے ہتھیار ڈال دینا ہے۔تاہم مصنف کے نظریے کے مطابق یسوع اور یہودا ہ میں یکسانیت ظاہر ہوتی ہے۔یسوع کا خود کو قربانی کے لیے پیش کرنا باپ کے ساتھ بیک وقت محبت اور نفرت کے جذبے کو الگ الگ کرنے کا راستہ ہے۔وہ (یہودا کے طور پر) باپ کو برباد کرنا چاہتا ہے اور (یسوع کے طور پر) اپنی بربادی کو قبول کر لیتا ہے اور تمام انسانیت کی موت کا کفارہ دے دیتا ہے۔جب یہودا یسوع کو برباد کرتا ہے تو وہ اصل میں خود کو برباد کرتا ہے۔یہ یسوع اور یہودا کے درمیان محبت کے مثبت تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔تمام شاگردوں میں صرف یہودا ہی یسوع کی ضروریات کو سمجھتا تھا۔فریڈرک ہیبل (Friedrich Hebbel) نے بھی اس نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ لکھتا ہے کہ "جب وہ اپنے ڈرامے کا خاکہ تیار کر رہا تھا، اس وقت وہ یسوع کے بارے میں لکھنے کا سوچ رہا تھا (Judas war der allerglaubigste) جس کا مطلب ہے کہ 'یہودا تمام شاگردوں میں سب سے زیادہ وفادار تھا' (جیسا کہ وہ پہلے رائے دے چکا ہے) اس کے باوجود ہیبل (Hebbel) یہودا کی بابت 'یہودا زیلوتیس' ہونے کا نظریہ رکھتا تھا۔
یہودا کا قینائی ہونے کی بابت غناسطی نظریے کا ہم پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں جس کے مطابق یہودا ہ انسانیت کی نجات کا باعث بنا (صفحہ 93)جبکہ جدید مسیحی علماء لیون بلوئے (Leon Bloy) اور چارلس ریگائے (Charles Reguy) بھی یہودا کی بابت یہی نظریہ رکھتے تھے. یہودا کی غداری کے مشن نے یہودی مصنف برنارڈ لعزر (Bernard Lazare) کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا ہے (صفحہ 95)۔تحلیل نفسی کے انداز میں کہانی کا تجزیہ کہانی کو عوامی دائرہ اثر سے باہر نکال کر لے جاتا ہے اور اس کا تعلق ہر شخص سے جوڑ دیتا ہے۔یسوع نے اپنے بدن کے ذریعے نجات نہیں دی جیسا کہ پولوس کا دعوٰی ہے بلکہ ہر شخص یسوع کے ساتھ ذاتی تعلق ہونے کی بنا پر نجات حاصل کر سکتا ہے۔
یہودا کی کہانی کی اس طرح وضاحت اس کی اپنی سطح تک کافی اہمیت کی حامل ہے لیکن یہ وضاحت ان عوامی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی جن مقاصد کی خاطر یسوع کا افسانہ پورے معاشرے کے لیے بطور مثال تخلیق کیا گیا۔اجتماعی سطح پر کہانی تحلیل نفسی کے نظریے کے بجائے اجتماعی تجزیے کا تقاضا کرتی ہے۔ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ مسیحی افسانہ کس قسم کے معاشرتی افسانوں سے تعلق رکھتا ہے؟ اور کس طرح یہ افسانہ مسیحی معاشرے کی چسپیدگی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے؟ اس سوال کا ممکنہ جواب (میری دوسری کتاب sacred executioner میں بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے) یہی ہے کہ مسیح کے افسانے کا تعلق انسانی قربانی کی رسومات سے متعلقہ ان افسانوں کے ساتھ ہے جو قربانیاں سر پر آئی ہوئی آفات سے بچنے کے لیے (یا جب نئے خطرات کو دعوت دی جاتی تھی) یا کسی نئے قبیلے کے قیام کے وقت ادا کی جاتی تھیں۔تحلیل نفسی کی سطح پر ادراک سے معاشرتی تمثیل کو بھی سمجھا جا سکتا ہے. خاص طور پر قربانی سے متعلقہ مظلوم اور قربانی دینے والے کی یکسانیت، مرنے کے لیے مظلومین کی رضامندی کو ظاہر کرتا ہے۔۔اور مظلوم اور اس معاشرے کی قبائلی یکسانیت قربانی کے چڑھاوے کا حکم اور انتظام کرتا ہے. لیکن قربانی پیش کرنے والے معاشرے اور رضامند مظلوم کے درمیان یکسانیت کو خفیہ رکھا جاتا ہے جس کو والٹر برکرٹس (Walter Burckerts) نے 'عدم واقفیت کا سوانگ' (comedy of innecence) قرار دیا ہے۔معاشرہ یہ دعوٰی کرتا ہے کہ اس نے قربانی کا حکم بالکل نہیں دیا اور یہ ان کی مرضی کے خلاف واقعہ ہوئی ہے. 'ہاتھ دھونے' کی رسم اجتماعی اختیارات کی عدم واقفیت کو ظاہر کرتی ہے اور جلاد درحقیقت عوامی خادم ہوتا ہے جس کو الگ اور جلا وطن کر دیا جاتا ہے۔انفرادی نفسیاتی سطح پر رسم کا انکار شعوری طور پر موت کی خواہش کے ذریعے جلا وطنی میں تبدیل ہو جاتا ہے جو کہ جسمانی اذیت سے محظوظ ہونے کی عادت ہے۔لیکن معاشرتی یا عالمی سطح پر انکار کرنے کا عمل معاشرتی دستور کی شکل اختیار کر لیتا ہے،جس کے نتیجے میں نیچ ذات کی بابت ذات پات کا ایسا نظام قائم ہو جاتا ہے جو ہمیشہ قربانی کے احساس جرم کو دل میں چھپا کر رکھتا ہے تا کہ معاشرہ احساس جرم کے بغیر اس سے فائدہ اٹھا سکے۔مسیحی ثقافت میں یہ نیچ ذات یہودیوں کو سمجھا جاتا ہے جس کو یہودا ہ کے ابدی کردار کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا۔ذاتی ذہنی حالت کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے انفرادی نفسیات پر معاشرتی اغراض و مقاصد کو ترک کرنا ہوگا اور مسیحیت میں یہودیوں کی حالت پر غور کرنا ہوگا۔
تحلیل نفسی کا نظریہ یہودا کی کہانی کو تاریخی واقعے کے بجائے علامتی قصہ ثابت کر سکتا ہے۔اس طرح کا تجزیے کا طریقہ کار اس کہانی کے ارتقاء اور ضرورت کو سمجھنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے،لیکن اگر صرف انفرادی نفسیات تک محدود ہو جائیں تو علامتیت بھی محدود ہو جاتی ہے۔افسانے کا تجزیہ، ظلم، نفرت اور بے چینی کے ساتھ ساتھ مسیحی معاشرے کی نمو پزیری اور استواری کی بابت وضاحت فراہم کرتا ہے جو معلومات دستاویزات میں محفوظ رہ گئی ہیں،پھر بھی یہودا کی کہانی مکمل طور پر علامتی نہیں ہے۔اس قصے کو تاریخ میں خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور اگر ہم اس قصے کو تھوڑا مزید سمجھ جائیں تو حقیقت اور خیالی دنیا کے درمیان فرق واضح ہو جائے گا اور خیالات و گمان کو حقیقت میں بدلنے کے طریقے کو سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔

مکمل تحریر >>