Pages

Most Popular

بدھ، 5 مئی، 2021

کیا مسیحیوں کا علمی ورثہ درست منتقل ہوا؟

 

کیا مسیحیوں کا علمی ورثہ درست منتقل ہوا؟

مترجم :ظفراقبال

مسئلہ ابھی تک حل ہونے سے انکاری ہے۔ تثلیثی تعلیمات نے مغرب میں جڑ پکڑی، کیونکہ کاسینٹ باسل اور انطاکیہ کےسینٹ تھیوفیلس ہی وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے لفظ تثلیث یا ثالوث برتا۔ نقائیہ کی کونسل کے وقت بھی اِس نظریے کی وہ شکل نہیں تھی جو اب ہمارے سامنے ہے کیونکہ  اِس مرحلے پر روح القدس الگ اقنوم نہیں سمجھا جاتا تھا۔ وہ لوگ جو اِس نظریے کے حمایتی تھے کہ یسوعؑ خدا کے برابر نہیں ہے، وہ کچھ عرصہ تک اس کے مؤید رہے لیکن شہنشاہ تھیوس ڈپئس نے بعد میں ان کے خلاف اپنا فیصلہ صادر کر دیا۔ اُس نے اپنے زیر حکومت تمام علاقوں میں عقیدہ ِنقایہ جبراً مسلط کیا اور اس وضع شدہ نظریے کی توثیق کےلئے ۳۸۱ء میں قسطنطنیہ کی کونسل کا انعقاد کروایا، اور اِس کونسل نے خدا کے اقانیم ثلاثہ میں روح القدس نامی اقنوم کی شمولیت کا فیصلہ صادر کردیا۔ بجائے اس کے کہ اسے خدا کا فعل تسلیم کیا جاتا اسے خدا اور مسیح کا مسادی درجہ عطا کردیا گیا۔ یوں۳۸۱ء میں پہلی بار تثلیث کو شرعی حیثیت میسر آئی۔

۳۸۱ء میں مسئلہ تثلیث پر لچک دار مؤقف رکھنے والے جیروم نے بیت لحم کے غاروں میں سکونت اختیار کرلی اور اپنی مرضی سے چند مخصوص صحائف کو لاطینی زبان میں ڈھالنا شروع کرد یا۔ بعدازاں یہ ترجمہ" ولگیٹ" کے نام سے اس  قدر مشہور ہوا کہ مقدس نوشتے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ایک بار جب جیروم کے مجموعے کو مقبولیت عامہ حاصل ہوئی تو وہ کتب جو اُس انتخاب میں شامل نہیں تھیں، درجہ کمتر قرار پائیں۔ اِس کے باوجود تثلیث کو قبولیت عام میسر نہیں آسکی صورتِ حال یہاں تک گھمیر ہوگئی کہ تثلیث کی مخالفت کا مطلب تعذیر کو دعوت دینا تھا۔

بہت سا مواد، جس کے بارے میں باور کیا گیا کہ یہ صحیح العقیدہ نہیں تھے، قصدًا تلف کردیا گیا یا پھر عیسائیوں کے احتسابی  نظام کا شکار ہوکر جعلی یا غیرمستند قرار پایا۔ احتسابی عمل قسطنطین اول کے زمانے میں مسلط کیا گیا اور تھیوڈوسیٹس دوم اور ویلیطپئس سوم کے عہد میں پوری شدت سے کام دکھاتا رہا۔ ہمارے پاس موجودہ صورت میں عہد جدید 397ء ،میں سامنے آیا جب کارتعج کی کونسل نے بےحد بحث و تکرار اور عدم اتفاق کے بعد چھبیس کتب کی فہرست کا حتمی حکم نامہ صادر کیا۔ ]مکاشفہ کی کتاب اِس کونسل میں زیرِ بحث نہیں آئی تھی۔ از مترجم[

قدیم مصری عیسائی جماعت کی لائبریری 1945ء میں مصر میں ناگ حمادی کی ریت میں دبی ہوئی ملی۔ یہ تیرہ جلدوں میں انچاس کتابوں پر مشتمل کاوش تھے۔ اور قدیم قاہرہ کے قبطی میوزیم کا سب سے بڑا خزانہ بن گئی۔ متون واضع طور پر یہ آشکار کرتے ہیں کہ اِس گروہ کے ہاں کیا کیا قابلِ قبول تھا۔ یوحنا کے تین نسخے(اسفار محرفہ)، یعقوب کے مکاشفے کے تین نسخے، پولوس کے مکاشفہ کا ایک نسخہ، پطرس کے مکاشفہ کا ایک نسخہ اور تین اناجیل جو موجودہ عہد جدید میں شامل نہیں ہیں۔ویلنٹہنئس کی انجیل صداقت، انجیل قلب اور انجیلِ توما حواری۔

ایک وقت وہ بھی تھا جب عہد جدید میں برنباس کا خط، مکیمنٹ کا خط، ہرمس کا چرواہا، پطرس کی منادی، ددخے (تعلیم دوازدہ رسول)، رسولوں کی سیرت، حتٰی کہ کشف سبلین جیسی  کتب بھی شامل تھیں جنہیں بعدازاں ترک کردیا گیا۔

پہلی چھ صدیوں تک شامی کلیسیا موجودہ خطوط میں سے چار خطوط اور کتاب مکاشفہ کو اپنے مجموعہ کتب سے باہر رکھتی رہی۔ چوتھی صدی عیسوی میں شامی اور ارمینی کلیسیائیں قرنتیوں کے نام پولس کے تیسرے خط کو قبول کرتی تھی۔ اب بھی حبشی کلیسیا یا ابتھوپیائی کلیسیا موجودہ عہد جدید کی نسبت آٹھ مزید کتب اپنے مجموعہ کتب میں شامل کرتی تھی۔ یہ بات بہت واضح تھی کہ کتابوں کے انتخاب کا عمل ایک عیسائی گروہ کے دوسرے عیسائی گروہ پر فتح یابی کا مرہونِ منت تھا۔ اگر مخالف گروہ غالب آجاتا تو پھر کتب عہدجدید کی فہرست بھی مختلف ہوجاتی۔

انطاکیہ میں وہ اِس نظریے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب رہے کہ مسیح ایک منفرد انسانی ذات ہے جسے حکم الٰہی ودیعت کیا گیا۔ وہ ایسا انسانی جسم تھا جس کا مخزن الٰہی تھا۔ مسیح انسان میں سے ہوکر خدا تھا اور کنواری مریم اس کی ماں تھی جوکہ انسانی بدن کے توسط سے تھی اور مسیح کی بحثیت خدا ماں نہیں تھی۔ سکندریہ میں مسیح میں مافوق الفطرت ہستی کے مجسم ہونے پر سوچ و بچار کی گئی۔ انطاکیہ میں اُن کی رہنمائی میسوپتامیہ کے تھپوڈور نے کی۔

انہوں نے مسیح کی دو ذاتوں/ذوہستی ہونے پر زور دیا جو باہم مختلف تھیں، اور چونکہ انسانی والٰہی ذاتیں لاذماً جدا جدا تھیں اِس لئے وہ اِن کے ادنمام کے بارے کوئی تسلی بخش بیان جاری کرنے سے قاصر رہے۔ سکندریہ میں الٰہی اور انسانی ذوات کے مابین تمیز کرنے کے معاملے میں اُن میں مفاہمت ہوگئی، اور یسوع کی الوہیت پر اُس کی بشری نوعیت کے لحاظ سے زور دیا گیا۔ اپاتھوس اہاتھین نامی ضابطہ زیرِ بحث لایا گیا جس کی رد سے " وہ مصائب اٹھائے بغیر مصائب میں متبعدہوا۔" (یعنی کہ اُس کے جسم نے دکھ اٹھایا، اور کلام/کلمہ نے محض اِس ہمدردی میں مصیبت برداشت کی کہ وہ اُس کا جِسم تھا)

بڑے مفکرین میں سے ایک اپالی نیریس تھا( جو 80-360 کے عرصے میں سرگرم عمل رہا تھا) جِس نے یہ سبق پڑھایا کہ یسوع کے جسم کی طبیعات بانوعیت الٰہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسیح جوکہ خدا تھا انسانی شکل میں نمودار  ہوا۔ اس لئے عیسائی ہر لحاظ سے اس کے مستحق ہیں کہ کنواری مریم کو تھیوٹوکوس باخدا کی ماں کہیں۔ اور شفاعت طلب دعائیں اُس سے کریں، یہ نظریہ مونوفائی سائٹ کہلایا، جوکہ یک ذاتی نوعیت پر دلالت کرتا تھا۔

حقیقت میں دونوں نظریات (یک ذاتی و ذوذاتی) تثلیثی تعلیم پر مفاہمت رکھتے ہیں، کیونکہ اگر کوئی یہ تسلیم کرے کہ مسیح بشری لبادے میں خدا تھا تو اُسے لاذماً  یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ حقیقی بشر کے طور پر ہمارے لئے دکھ اٹھانے اور مرنے کے لئے قطعی طور پر بے بس لاچار تھا اور یہی عقیدہ نجات کا جوہر تھے۔ جبکہ اِس کے برعکس اگر کوئی شخص اِس کی دو ذاتی حیثیت کو تسلیم کرے تو یہ اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ صلیب پر مرنے والی ہستی مسیح کی انسانی ذات تھی نہ کی خدا کی ہستی جس سے دوبارہ نجات کے نظریہ سے مفاہمت ہوجاتی ہے۔

انطاکی الٰہی مکتبہ فکر کا  روح رواں نسطوریس تھا کہ میسوپتامیہ کا ارامی عرب تھا۔ جس نے کھلے بندوں دونوں ہستیوں کے مسیح میں ادغام سے انکار کردیا تھا، نسطوریس کا نظریہ راسخ العقیدہ اور مونوفائی سائٹس دونوں کے لئے یکساں لعنت ملامت تھا۔ نہ صرف یہ کہ مسیح کی دو  ذاتیں تھیں بشری اور الٰہی بلکہ دو اقانیم مسیح میں باہم یکجا ہوگئے تھے۔ اس لئے مریم کی تھیوٹوکوس یا خدا کی ماں نہیں پکارنا چاہیے۔ وہ ہرگز اس قسم کی کوئی ہستی نہیں تھی۔ وہ صرف انسانی یسوعؑ کی والدہ تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لئے اُسے کرائسٹوٹوکوس یا مسیح کی ماں ہی کہنا چاہئے۔

نسطوریس کی شدت پسند مونوفائی سائٹ سرل آف سکندریہ (412-444) نے مغلوب الغضب ہوکر مخالفت کی۔ نسطوری بدعت کا معاملہ نمٹانے کے لئے 431ء میں اُفسس کی کونسل منعقد ہوئی جس میں شامل بشپ حضرات نے کثرتِ رائے سے کنواری مریم کے تھپوٹوکوس یعنی مادر خدا ہونے پر ہر تصدیق ثبت کی۔ دو ذاتی ہستی کو متعین کردیا۔ باالفاظ دیگر نسطوری نظریہ کو بدعت قرار دے دیا اور نسطوریس کو جلاوطنی کی حالت میں مرنے کے لئے مصر کے مشرقی صحرا میں بھیج دیا۔ تاہم آج بھی اُس کا نظریہ بڑی پختگی سے شاہی کلیسیا میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ البتہ سرل کی کامیابی نے روم میں خطرے کی گھنٹی بجادی اور پوپ لیو اول (440-461) نے مونوفائی سائٹس کے اِس مقام و مرتبہ ہر 449ء میں ایک اور کونسل طلب کرکے پرزور دھاوا بول دیا۔ سرل کا جانشین ڈائیوسکورس (444-454) اپنے محافظ کے ہمراہ آن پہنچا، اور  مخالفین کو مونوفائی سائٹس کے حق میں فیصلہ دینے کے لئے بہت زیادہ دھمکایا یہی وجہ ہے کہ یہ مجلس قزاقوں کی مجلس کہلائی۔

451ء میں خلقیدون کی مجلس عام دوبارہ مونوفائی سائٹس کے یسوع کی یکجہتی ذات کے بارے مجتمع ہوئی۔ اِس مجلس عام اِن تعلیمات پر بحث کی کہ یسوع کی بشریت اُس کی الوہیت میں کلیتا جذب ہوگئی تھی (یہ ایرلیس کی تعلیمات کے ضدف تھا)۔ تاہم یہ نقطہ نظر ابھی تک مصری، ایتھوپیائی قبطی اور آرمینٹسن اور لعقبولی کلیسیاؤں میں ابھی تک قابلِ لحاظ گردانا جاتا ہے۔ شہنشاہ مرقیون کی وجہ خلقیدون کی اس کونسل نے جس فارمولے پر پسپائی اختیار کی دوحقیقت ایک مفاہمت سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ اِس نے نہ تو کوئی حل پیش کیا اور نہ ہی اِس کا حاصل کئی ایک رقہیانہ آرا پر لعنت مروت سے سوا  کچھ اور تھا۔

اِس  بات پر زور دیا گیا کہ الوہیت میں یسوع خدا باپ کا ہم مادہ و ہم ذات ہے اور بشریت میں ہمارا ہم جنس و ہم مادہ۔ وہ ہر لحاظ سے ہمارے مماثل ہے سوائے گناہ کے۔ ازل سے خدا باپ سا صادر ہوا اور آخری ایام میں ہمارے لئے پیدا ہوا کنواری مریم سے تاکہ ہمیں نجات بخشے۔ مریم مادر خدا ہے یسوع بشریت میں دونوں انواع کا حاصل ہے اور بغیر کسی اخلاط کے بغیر کسی تبدیلی کے، بغیر جوہر کی تفہیم کے، بغیر ایک جوہر دوسرے سے الگ  ہونے کے، اور ہر ذات یا جنس امتیازی وصف محفوظ ہے اور ہراگندہ یا خلط ملط نہیں ہوا۔"اخلاط" سے مراد اُن کی یہ تھی کہ دونوں انواع باہم یکجا ہوکر کام کررہی ہیں بالکل ایسے جیسےکہ پانی میں نمک گھل جاتا ہے یہ علما کی ذہنی ایچ کا نتیجہ نہیں ہے؟۔ ہر نوح اپنے آپ میں کامل ہے اور دونوں ایک دوسرے سے قطعا ممیز نہیں لیکن اِس کے باوجود نہایت کاملیت سے ایک ہی شخصیت میں یکجا ہیں جو بیک وقت خدا بھی ہے اور انسان بھی۔

494ء میں پوپ گلاسپئس اول نے پچھلی دونوں صدیوں ہونے والی کاوشوں کی جانچ پڑتال کو حتمی شکل دے دی۔ پوپ کا فرمان ممنوعہ کتب کی فہرست پر مبنی تھا۔ اس  میں اکسٹھ کتب اور چھتیس سے کم مصنفین کے نام نہیں تھے جن کا حمایتی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہ ٹوٹنے والا لعنت  ملامت کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے۔

ممنوعہ کتب کا پاس رکھنا ایک سنگین جرم قرار پایا اور کئی ہزار عیسائی  اپنے ہی ہم مذہبیوں کے ہاتھوں ممنوعہ کتب پاس رکھنے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی دشمن تحریریں یا وہ تاریخی مواد جو یسوع کو ایک انسانی رہنما کے روپ میں پیش کرتا تھا اس کی باریک بینی سے چھان بین کی گئی اور نہایت منظم طریق سے تلف کردیا گیا۔ (لازم تھا کہ یہ مواد یسوع کو ایک شورش لیڈر یا سیاسی رہنما بتلائے)۔یہی وجہ ہے کہ جوزلفیس کی کتاب میں اب کوئی مواد موجود نہیں ہے ٹیسیٹس کے متعلقہ مواد غائب ہے اور سیلسس اور اس جیسا دوسرا نام روئے زمین سے مٹا کر دم لیا گیا۔

لیکن آثار سے واضح ہے کہ ان کے پاس  بتانے کے لئے بہت کچھ باقی ہے۔ وہ خدا کے بیٹے نجات دہندہ یسوع کی کہانی کو جانتے ہیں اور اسے رد کردیتے ہیں۔ ان آثار کا  استرداد اس بنا پر نہیں ہے کہ یسوع کبھی رہا ہی نہیں تھا بلکہ اس لحاظ سے کہ یسوع کی الوہیت کے عیسائی دعاوی  کھٹ پٹ یا فریب خوردگی پر مبنی ہیں۔ اور یسوع کی تعلیم اور حیات بارے عیسائی بیانات قطعاً جھوٹ ہیں۔

نسطوری فرقہ 498ء سے انطاکیہ قطع تعلق کر چکا ہے اور عراق کے شہر کے طیسفون میں اپنے بڑے بشپ  کے ساتھ الگ کلیسیا بنا چکا ہے۔

506ء میں ارفی کونسل نے خلقیدونی کو نسل کے فیصلوں کو مسترد کردیا، اور خود کو کھلے بندوں مونو فائی ساٹئس کہلوایا۔ 512ء میں انطاکیہ کا مونوفائی ساٹئس بطریق سورس (Severus) کو نکال باہر پھینکا گیا اور جلا وطن کردیا گیا۔ مونوفائی سائٹس نے اپنے اوپر مسلط شدہ بشپ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور خود ہی اپنا نیا بطریق چن لیا جو ٹیلر کا رہنے والا سرجئیس تھا۔ سورس کو شہزادی تھیو ڈورا نے تحفظ اور حمایت فراہم کی وہ جیٹنین کی بیوی تھی اور ملکہ تھی۔ یوں شامی مونوفائی ساٹئس ایک اور خودمختار کلیسیا بن گئے۔ 553ء میں قسطنطنیہ میں دوسری مجلسِ عام نے ایک مرتبہ پھر نظریہ تثلیث کی تائید و توثیق کردی اور کنواری مریم کی مادرِ خدا ہونے کی بھی۔ اور 680ء میں قسطنطنیہ میں منعقد ہونے والی تیسری مجلسِ عام نے اس بات کی توثیق کی کہ مسیح کی ذات میں دو ارادے ہیں اور دو طریق سے ہی پورے ہوتے ہیں۔

تھیوڈورا سے عنسانی قبیلے کے بادشاہ شیخ الحارث حیلہ نے ملاقات کی جو اپنے عرب عیسائیوں کی حالتِ زار اسے بتانے آیا تھا۔ انہوں نے ان شاہی کارندوں کے ہاتھ ہولناک مظالم سہے تھے جنہیں مشرقی صوبوں میں بدعتوں کی بیخ کی کے لئے متعین کیا گیا تھا۔ شیخ نے ملکہ کو بتایا کہ انہیں ایک نئے بشپ کی ضرورت ہے جو ان پادریوں کی جگہ پر افراد متعین کرے جو کہ "صحیح العقیدہ" ظالم و جابر کارندوں کے ہاتھوں یا تو گرفتار ہیں یا پھر موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ہیں۔ وہ ایسی بھیڑیں تھیں جن کا کوئی چوپان نہ ہو۔ وہ (بشپ) غیر معمولی شخص ہونا چاہیئے۔ جفاکش صندی اور چاک و چوبند جسے شامی اور یونانی  زبانوں پر عبور حاصل ہو بھلے عربی نہ بول سکتا ہو۔ اور اس بات کو قبول کرنے پر رجامند ہو کہ وہ  ہمہ وقت ایک جنگی درندے کی مانند شکار کرنے پر کمربستہ رہے گا۔ ملکہ کا "روح القدس کا تائید یافتہ" انتخاب باردیس تھا۔ ایک تارک  الوہنار اسیب جسے ایڈیسہ کا بشپ مقرر کیا گیا تھا اس کے نام میں شامل باردیس اصل میں اس کا عرف تھا جس کا مطلب تھا خستہ حال اور ریزہ ریزہ۔ بہ عرف اس وجہ سے پڑ گیا تھا کہ  اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک گداگر کے روپ میں بسر کیا تھا۔

باردیس  ایک حیرت انگیز صناد تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس نے ہزاروں میل طویل سفر  طے کر رہا تھا جس میں زیادہ تر سفر اس نے پیدل ہی کیا تھا۔

اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ہزاروں پادریوں کو متعین کیا اور نواسی بشپ تعینات کئے اور دو بطریق مقرر کئے اس نے اپنی کلیسیا کی خشت اس قدر مضبوطی سے رکھی تھی کہ وہ آج تک شام میں موجود ہے یعنی یعقوبی کلیسیا۔

عیسائی تثلیثی تعلیم اصلاً مغرب میں پھلی پھولی جس کے ڈانڈے ہزاروں برس قدیم مشرک اقوام کے افکار و نظریات سے ملتے ہیں اور حقیقت میں یہ مشرک اقوام کا ہی ورثہ ہے جوقرونِ  وسطیٰ میں مسیحی عقائد کا حصہ بنا۔ یہ اثنا سیی عقیدہ  کہ "ہم تالوث میں ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ باپ خدا ہے بیٹا خدا ہے اور روح القدس خدا ہے اور یہ مل کر تین خدا نہیں بلکہ ایک ہی خدا بنے"۔ بارہویں صدی عیسوی تک مشرقی کلیسیا اس سے لاعلم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی کلیسیا ئیں  اب تک نقایہ عقیدے کے مطابق بدعتی سمجھی جاتی ہیں۔ جس کے مطابق روح القدس ، باپ اور بیٹے دونوں سے صادر ہوتا ہے۔

موجودہ صدی کی بابت کیا خیال ہے؟ لورڈز کے مقام پر 1958ء میں منعقدہ میریولوجیکل کانگریس نے تجویز کیا کہ مریم کے  بارے میں یہ منادی کی جائے کہ وہ "کاسا افیشنس " ہیں مطلب یہ کہ "وہ اس بات کی مظہر یا سبب ہیں جس سے نجات نے جنم لیا جس کی سفارش اور وسیلے کے بغیر ایمان پرفضل نہیں ہوتا"۔ یہ تجویز ناکام رہی لیکن محظ عارضی طور پر کیونکہ 1964ء میں پوپ پال ششم نے مریم کو "مٹیرایلکلیسیا"یعنی "مادرِ کلیسیا" کا مرتبہ عطا کردیا اور یوں وہ خود بخود ہی "کاسا افیشنس" کے مقام پر ممکن ہوگئیں۔ یوں وہ مقامِ الوبیت سے سرفراز ہوگئیں جیسا کہ بہت سے پروٹیسٹینٹ حضرات اس بات کی نشاندہی کرچکے ہیں۔ یہ نقطہ ذہن نشین رہنا چاہیئے کہ پوپ پال ششم کا یہ فیصلہ ذاتی اور کسی حد تک تنہا ہے کیونکہ ویٹیکن کی دوسری کونسل کی کلیسیا مخالفت پر مبنی ہے جس نے امید کی ہلکی سی کرن آئندہ آنے والے وقتوں میں پروٹیسٹینٹ چرچ کے ساتھ اتحاد کی کسی تحریک میں اس شرط کے ساتھ دیکھی کہ اگر مریم کو مزید مرتبہ بخشا تو پھر دونوں فریق مل کر اس مسئلے کا حل نکال لیں گے۔

یہ بات تو واضح ہے کہ عیسائی دنیا میں تثلیث نے قبولیتِ عام پانے کے لئے سیکڑوں برس لئے ۔ سوال یہ ہے کہ ان فیصلوں کے پس پردہ کسی رہنمائی کار فرما ہے؟ خدا کا کلام یا پھر پودارانہ  اور سیاسی تفہیم  و اغراض و مقالبہ؟

یہ بات ہر لحاظ سے درست ہے کہ یہ معاملہ چرچ کی اندرونی سیاست کا ہی ہے۔ تمام پودارانہ الہٰیات معاصر سیاسی حالات اور فلسفے کے اندر رہ کر بروئے کار لائی گئیں اور ثقافتی لحاظ سے ان (پودارانہ الہٰیات) کی راہ متعین کردی گئی۔ نظریاتی تضادات صرف دلائل کے ذریعے دور نہیں کئے گئے بلکہ اس میں شخصیات اور سیاسیات کا عمل دخل بھی حاوی رہا۔ سرل، نسطوریس، ایریس، یوطی کس اور اتضاسیس کی شخصیات اس ضمن میں کافی مثالی شخصیات ہیں۔

گہرے جذبات اور عمیق تعصب نے مجالسِ عام، کلیسیاؤں اور راہبوں کی افواج کو ایک دوسرے پر تابڑ توڑ خطرناک حملے یا پھر کلیسیا کے راست باز اور محض قائدین کو کلیسیا کے اخراج یا انہیں جلا وطن کردینے کے لئے مسلسل ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھا۔ یہ سارا معاملہ انسانی سرگرمیوں کی المناک کہانی ہے اور اس میں روح القدس سے رہنمائی کے ذریعے طلوعِ صداقت کا کچھ حصہ نہیں۔ شہنشاہ  ہرقل (610ء -641ء) میں کلیسیاؤں کے اتحاد کی ایک اور نہم دلانہ کوشش تو کی مگر اسے فارسی حملہ آوروں سے نمٹنا پڑا۔ فارسیو ں کو مونوفائی ساٹئس کی تائید حاصل تھی۔ بازنطینی سلطنت فارسیوں کو 628ء میں شکست دینے میں کامیاب تو رہی مگر اس کے جنوب میں عرب قبائل اسلام کے پرچم تلے متحد ہوچکے تھے۔ مونوفائی ساٹئس  سے ایک نئے طریقہ سے مصالحت کی کوشش کی جس کے مطابق انسانی اور الہیٰ جسم کے اتحاد سے ایک ہی ارادہ اور قوت صادر ہوتی ہے۔ اس نئے خیال کو حونی تھی لائٹ (یک ارادی) عیسائیت کہا گیا۔

ہرقل بیس برس تک تو اپنی تجویز کے بارے میں پُر اعتماد رہا اور بالآخر ایک فرمان جاری کرکے لاگو کردیا۔ یہ فرمان ہر لحاظ سے بے معنی رہا کیونکہ ہر دو فریق نے ایسے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ بالآخر  اسے چھٹی کونسل نے 680ء میں یکتاً رد کردیا اور بدعت ٹھرایا۔ اس وقت تک مونوفائل ساٹئس، قطبی، یعقوبی، آرمینی، میردنائٹ اور لنتوری چرچ قسطنطنیہ کے شہنشاہ کے لئے کسی بھی قسم کا خطرہ پیدا کرنے کے ماورہ ہوچکے۔

یوں ہم یقینی نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ تثلیثی الہٰیات کی تعلیم  قطعی طور پر الہٰی تعلیم نہیں تھی بلکہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ تعلیم بھی دیگر پاپائی توصیحات و توجیحات  کے عین مماثل ہے اور  ایسا کوئی  استحقاق نہیں رکھتی کہ ایسے انسانی "خوش قسمتی " کے لئے رہنمائی شدہ یا پھر مذہبی پیشوائیت کے مسلط کردہ دوسرے عام احکامات سے ماوراء قسم کی کوئی شے تصور کیا جائے جو اپنے اندر دائمی صداقت کے لئے ہو۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ 

بہت افسوس اور المیے کی بات یہ ہے کہ یہ ہماری سرگرمی تاریخ کے صفحات میں ایک فونچکاں داستان کے طور پر محفوظ و موجود ہے۔ مثال کے طور پر شارلیمان نے کافر عوام کو عیسائیت کی معقولیت و سچائی کے لئے یوں قائل کیا کہ ایک ہی دن میں چار ہزار افراد کے لئے سر تن سے جدا کردیا۔ باقی ماندہ افراد اس مسیحی معقولیت  اور ازلی صداقت پر فی الفور بلاتامل ایمان لے آئے۔ اس کے اس فعل کو 1164ء میں کلیسیا نے جائز قرار دے دیا۔ 1215ء میں  پوپ انوسنٹ سوم نے غیر تثلیثی بدعت کی بیخ کنی کے لئے منظوری عطا کردی۔ 1252ء میں پوپ انوسنٹ چہارم نے بدعتی معاملات کی تفتیش کے دوران کئے گئے تشدد کو قانونی جواز مہیا کردیا۔ یوں باقاعدہ تفتیش کے لئے محکمہ احتساب کے نام سے ادارہ وجود میں آگیا۔ تاہم گمراہی کی تفتیش کی جائے اور اسے عیسائیت سے الگ کردیا جائے۔

1563ء میں ٹرینٹ کی کونسل نے یہ اعلامیہ جاری کیا کہ مقدس نوشتوں کی مختار کل تنہا چرچ ہی ہے اور بائبل کی تشریخ و توضیح صرف "صحیح العقیدہ" چرچ فادرز کی رائے کے مطابق ہی کی جا سکے گی۔ بدعتوں پر مکمل طور پر پھٹکار ڈال دی گئی اور تمام ایسی کتابیں جو مقدس نظر آئی تھیں لیکن ان کی منظوری مقدس دفتر نے نہیں دی ممنوع قرار پائیں۔ 1572ء میں سینٹ برتلمائی کی یاد میں منائے جانے والے دن صرف ایک بلوے میں فرانس میں دس ہزار افراد (جو پروٹیسٹنٹ عقیدہ رکھتے تھے) بے رحمی سے ذبح کردیئے گئے تاکہ فرانس میں کیتھولک ازم کو گریز پہنچنے سے بچایا جاسکے۔ اس خوفناک واقعہ کے بعد پوپ گریگوری (xiii) نے حمد باری کے ترانے گائے اور خاص قسم کا گولڈ میڈل  (تحفہ) ڈھلوایا۔

پروٹیسٹنٹ بھی کچھ کم ظالم نہیں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ چرچ کی تمام شاخوں نے بلا امتیاز قابلِ تفریق تشدد ظلم و بربریت اور عدم برداشت کی وہ مثالیں قائم کیں کہ یہ بتانا مشکل ہے کون بازی لے گیا۔ گزشتہ صدیوں میں وحدانیت پر یقین رکھنے والے دس لاکھ سے زیادہ عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اور یہ نتیجہ تھا مذہبی پیشوائیت کے اس یقین کا کہ وہی تنہا الوہی اختیار و سند کی مالک ہے۔ یہ خیال بہت دلچسپ ہے کہ اگر اس کتاب کی مصنفہ صرف دو صدیاں قبل اسپین میں رہائش پذیر ہوتی تو یہ کتاب اپنی جان کی قیمت پر ہی لکھوا پاتی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ سزا کے طور پر کسی لکڑی کے کھمبے پر لٹکا دی جاتی۔

اگرچہ تشکیک اُن علاقوں میں سر اٹھارہی تھی جہاں محکمہ احتساب کا شکنجہ ذرا ڈھیلا ہوا تھا پھر بھی وہ لوگ انجیل کی صحت پر انگلی اٹھاتے تھے اب بھی محتاط رہنے کی ازحد ضرورت تھی۔

اسپین میں خدا کے عظیم المرتبت بندے اب بھی نہایت سخت عقوبت خانہ (ٹارچر سیل) 1816ء تک رواں دواں رکھے ہوئے تھے جبکہ پوپ نے بدعتوں سے اقبالِ جرم کروانے کے لئے تشدد کا راستہ ممنوع قرار دیا تھا۔ اٹھارہ سال بعد تقدس مآب پوپ نے محکمہ احتساب برخاست کردیا۔ چھ سو سال کے طویل عرصے بعد یورپ عقوبت زدہ لاشوں کے جلائے جانے کی آلودہ متعفن اور سڑاند سے پاک ہوا میں سانس لے پایا۔ پھر بھی بیشمار جگہوں پر وہ منحوس چپچپے داغ اب بھی لوگوں کے دلوں پر خوف طاری کر رہے ہیں جہاں بدعتی لوگ سزا کے کھمبوں پر خداوند یسوع مسیح کے جلال کے لئے تڑپ تڑپ کر جان دیتے رہتے تھے۔ اور پورے یورپ میں سوچنے سمجھنے والے لوگ حیرت زدہ ہو کر رہ جاتے ہیں کہ کیا انجیل کی بیان شدہ سچائی واقعی ایک تاریخی سچائی ہے۔

ایک مخصوص کلیسیا میں شامل ہونے والے افراد کے لئے لازم ہے کہ وہ اس عقیدت کو تسلیم کرے کہ چرچ کا گماشتہ کوئی فرد یا گروہ اس کے لئے کسی خاص نقطہ نظر کا چناؤ کر چکا ہے یا اس بارے کوئی نہ کوئی فیصلہ صادر کر چکا ہے اور ایک ایسا راسخ العقیدگی کا راستہ اس کے لئے متعین کردیا گیا ہے جو اس گماشتہ یا گروہ کے اپنے نظریات کے حسبِ حال ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

باوجود عہدِ جدید  کے ماہر ترین علماء کے بار بار نظرِ ثانی کرنے کے، بہت سے چرچ جانے والے عام لوگ اب بھی یہ تسلیم کرتے ہیں اور اپنی دعاؤں میں بار بار دہراتے ہیں کہ دعائیہ کتب میں عقائد کے پیش کیا جانے کا عمل شفاف ترین اور قابلِ بھروسہ ہے مسلمان جو ان عقائد سے آشنہ نہیں اور نہ ہی وہ ان کے وضع کرنے کی تاریخ سے آگاہ ہوتے ہیں، باآسانی صاف صاف اس وقت دھوکہ کھا جاتے ہیں جب وہ پہلی بار مسیحی عقائد کے کلیسیائی بیان کو سنتے ہیں۔

ایک سادہ مسلمان، اگرچہ وہ اتفاق نہ بھی کرے تب بھی وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ پیروکاروں کی عقیدت اسی طرح انہیں گمراہی کے راستے پر ڈال کر خدا کے خدام اور پیغمبروں کو الوہیت کے منصب پر بٹھانے کے لئے سیڑھی کا کام دیتی ہے۔ بہت سے مسلمان نہایت ہی سادہ لوحی سے یہ تصور کر بیٹھتے ہیں کہ اگر وہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر بیٹھیں گے اور سکون و اطمینان سے معقولیت کے ساتھ معاملات زیرِ بحث لائیں گے تو عیسائی جلد ہی اپنی غلطی پر متنبع ہوجائیں گے۔ اور خدا کے قادر و مطلق ہونے کے منطقی عقیدے کی طرف پلٹ آئیں گے۔

جب کوئی مسلم عیسائی تھیالوجین کے روبرو ہوتا ہے تواسے زبان و گرامر کی موشگافیوں کی دلیل میں پھنسایا جاتا ہے جس میں غیر منطقی بے دلیل دعاوی اور پادریوں کے وقتاً فوقتاً وضع کردہ عقائد کا جواز پیش کرنے پر خاصی محنت اور کوشش صرف کی جاتی ہے۔

پولوس فتح یاب  ہوا اور تثلیثی عیسائیت روئے زمین پر پھیل گئی۔ لیکن کیا یہ درست ہے؟ کیا یہ سب کچھ دیتی ہے جو یسوع کا مطمع نظر تھا؟ کیا تثلیثی عیسائی حقیقتا پر تقین ہے؟ یا پھر عیسائیوں نے یہ سب کچھ غلط حاصل کیا؟

آئیں ہم اپنا ذہن سادہ سوالات پوچھ کر تازہ کریں۔ کیوں ہزاروں سالوں پر محیط خدائی تعلیمات کے دور میں کسی بھی خدا کے نبی نے تثلیث کا سبق نہیں دیا؟ کیوں یسوع نے اسے بذاتِ خود واضح نہیں کیا؟ اگر تثلیث پر ایمان انسانی نجات کے لئے اتنا ہی ضروری ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا نے سیکڑوں صفحات پر مشتمل وحی بھیجی لیکن تثلیث کی تعلیم کے لئے ایک جملہ بھی ارشاد نہیں فرمایا؟ کیا وجہ ہے کہ عہدِ قدیم کے انبیاء اپنی بعثت کے دوران بعلیم اور عشتاروت پر ایمان رکھنے کے خلاف انتھک جدوجہد میں مصروف رہے؟ اور یہ کیسے ہوگیا کہ بائبل کے الحام کے لکھے جانے اور یسوع کے صدیوں بعد خدا نے ایسی تعلیم تشکیل دے دی جس سے خدا کے اپنے خادم ہزاروں سال تک بے خبر و نا آشنا رہے اور انسانی ہاتھوں کے لائے جانے کے سبب ناقابلِ فہم چیتان بنا دیئے جس کا سارے کا سارا پسِ منظر یکسر مشرکانہ عقائد کا حاصل ہواور جس کی فتح شہنشاہیت اور کلیسیائی سیاسی مفادات کی مرہونِ منت ہو؟

یقیناً اب وقت آگیا ہے کہ اس امکان کو تسلیم کرلیا جائے کہ حقیقت میں یہ سچائی نہیں ہے بلکہ ارتداد ہے خدا ابتری یا زد لیدہ خیال کا خدا نہیں ہے۔ 1۔ قرنتیوں 33:14 اب وقت آن پہنچا ہے کہ اس پیچیدہ اور غیر ضروری تعلیم کو  اس کے اصل مقام تک پہنچا دیا جائے جسے زمانہ حال یا ماضی کا کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی کسی معقول  و موزوں تشریح کے ذریعے آج تک ثابت نہیں کر پایا یا پھر کم از کم اس عام آدمی کے لئے قابلِ فہم نہیں بنا سکا۔ جب چرچ توحید پرست یونی ٹیرپن کو بدعتی کا ٹھپہ لگا کر اسے کاٹ پھینکنے میں بری طرح مصروف تھا۔ اسلام بہت تیزی سے ان مخرفین کو اپنے اندر سمو رہا تھا۔ ان توحید پرست یونی ٹیرپن سے نفرت رکھنے اور زہریلی خار کھانے والے عیسائی مسلم دشمنی کی طرف پلٹ گئے۔ اس  تناظر میں صلیبی جنگیں آرپنوسی قتلِ عام کا وسیعت پذیر معاملہ ہیں۔

یہ حقیقت کہ موجودہ دور میں ہزاروں عیسائی اپنے عقیدے کو خیر باد کہہ رہے ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ تثلیثی مذہب اتنا مؤثر اور تشقی بخش نہیں ہے جتنا کہ اس بارے دعویٰ کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی نظریہ یا عقیدہ جس کی بنیاد کمزور اندھے اعتقاد پر کھڑی ہو کبھی بھی دیرپا نہیں ہو سکتا اور جلد یا بدیر اس سے چمٹے ہوئے لوگ حیرت کا اظہار کرنا شروع کردیں گے اور اسے کسی زیادہ ٹھوس اور عقلی ترغیب ملنے پر ترک کردیں گے۔ اعتقاد/عقیدہ وہم و گمان کی چکاچوند میں تخلیق کیا جاسکتا ہے اور مایوسی کے عالم میں لمحہ بھر میں تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔

ایمان کا تقاضہ ہوسکتا ہے کہ بائبل کی کلیتاً اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اس کے تمام تر نقائص اور خرافات اور بسا اوقات غیر اخلاقی چال چلن اور اس کی غیر یقینی بنیاوں کے باوجود۔ اس کے برعکس دوسری طرف معقولیت معاملات کو قبول کرنے سے گریزاں ہے کہ انسانی فہم و ذکاوت کے غلط استعمال کے نتیجے میں تشکیل پائے ہیں۔ دماغ سوچتا ہے اور دل ایمان لاتا ہے۔ اگر ایمان جلد سوچے سمجھے لایا جائے تو یہ حقیقتا اندھا اعتقاد ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم خدا کے وریعت کردہ سوچنے سمجھنے اور معقولیت کے عمل سے گزر کر ایمان لائیں تو پھر اسے نہ تو کوئی ہٹا سکتا ہے اور نہ ہی تباہ کر سکتا ہے۔

ایمان و اعتقاد ایک لازم فعل ہے اور اس زمین پر انسانی زندگی کا جز ولاینفک اور قدرتی حصہ ہے۔ لیکن ہمارے لئے یہ جاننا اور سمجھنا ہر لحاظ سے ہے کہ یہ کہاں سے ہمیں موصول ہوا۔ اگر ہمارے ایمان کے متعلق علمی تحقیقات سے یہ ثابت ہوجائے کہ یہ محض ایک دھوکہ اور القباس ہے ، انسانی ساختہ ہے، نری جعل سازی  اور گھوٹ ہے اور تجربہ سے ہمارا اعتقاد محض ایک عکس ہی ثابت ہو تو پھر ہمیں لازماً اس پر نظرِ ثانی اور اپنے دل کی دور اندیشی سے تشخیصِ نو  کرنی پڑے گی اور روحانی طور پر کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے کی بنیاد پر اپنی سمت کا ازسر نو یقین کرنا ہوگا۔

ہم ایک نئے عہد میں داخل ہورہے ہیں جو ان لوگوں کیلئے بہت ہی تکلیف دہ ہوسکتا ہے جنہوں نے اپنا ایمان و اعتاد نئے عہدنامہ کی عیسائیت ماہیت کی صداقت کے نفی کردہ ہے۔ انہیں بہت کچھ دوبارہ از سر نو تشکیل دینا ہوگا اور اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوگا اس کی پیشن گوئی کسی یقین سے نہیں کی جاسکتی۔ پھر بھی لازماً بہتر ہوگا کہ تصورات کو جاری رکھنے کی بجائے اصلاح و ترمیم سے ہم آہنگ کرلیا جائے اگر یہ بات نہایت تکلیف دہ ہوگی تاہم یہ بات بیش قیمت ہے کہ وہ سب کچھ ترک کردیا جائے جس کا سچائی تقاضا کرتی ہے۔

آیئے ہم دوبارہ گلیلی کی پہاڑیوں پر دوبارہ چلیں یا صحرا کی اس ریت پر جہاں دن کو سورج جھلستا ہے اور رات کو تازہ صحرائی ہوا میں تاروں کی روشنی مسافروں کی رہنمائی کرتی ہے۔ آئیں ہم ایک کوشش کریں، اگر کر سکے تو کہ چند ساعتوں کے لئے خانہ بدوش گلہ بانِ ابراہیم، چرواہے  داؤد ، ٹری ٹینڈر عاموس، بڑھئی یسوع اور دیانت دار تاجر محمد کے ساتھ رہیں۔ اور ان کے شاگردوں کے ساتھ قرابت محسوس کریں۔ مشترکہ اہم قبیلہ لوگ جو سادگی، سچائی، منطق و دلیل، راست بازی، جس کی تعلیم پیغمبروں نے دی اور جسے باآسانی دلیروں میں بانٹا جاسکتا ہے۔


مکمل تحریر >>

ہفتہ، 6 جون، 2020

یسوع کے جڑواں بھائی توماتوام کی بابت چند پوادرانہ اعتراضات ودعاوی کا جواب



پوادرانہ تلبیس کا تفصیلی جواب
اس سلسلے کی پہلی تحریر کا لنک یہاں پیش خدمت ہے جہاں  ہم نے کلیسیائی تاریخ کی روشنی میں یسوع مسیح کے جڑواں بھائی یہوداہ توما توام کی شخصیت کا تاریخی جائزہ لیا ہے۔ یہ تحریر ہمارے بلاگ کے اِس لنک پر ملاحظہ فرمائیں
          یہاں ہم ایک مقامی پادری صاحب کی طرف سے کئےگئے چند اعتراضات و شبہات اور دعاوی  کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ سوالاً جواباً ہم یہاں ان کے اعتراضات و دعاوی کاجائزہ لیتے ہیں۔
پہلا اعتراض:      کتاب مقدس میں کہیں بھی توما کو یسوع کاجڑواں بھائی نہیں کہا گیا اور مسیحیوں کے لیے  صرف کتاب مقدس ہی حجت ہے۔
الجواب:           یسوع کے متعلق تاریخی حقائق اور الہام صرف انجیل میں موجود نہیں ہے بلکہ انجیل سے باہر بھی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت انجیل نویسوں کا یسوع کے معاصر اسینی  فرقے کو نظر انداز کرنا ہے ۔حالانکہ یوسیفس کی تحاریر اور وادی قمران کےصحائف مین ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد  موجود ہیں کہ یہ فرقہ پہلی صدی عیسوی میں موجود تھا اور ان کے یسوع سے باہمی تعلقات بھی تھے۔ (یہ ایک الگ تفصیل طلب موضوع ہے) ان اسینیوں کا تاریخ کے صفحات پر موجود  ہونا  اور انجیل میں ان کا عنقا ہونا اس حقیقت کا غماز ہے کہ حقائق صرف اناجیل اربعہ میں موجود نہیں ہیں۔لہذا اگر یہوداہ توما کو صراحتاً یسوع کا جڑواں بھائی نہیں کہا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بات درست نہیں۔اگر آپ بضد ہیں کہ حقیقت صرف انجیل میں ہے تو آپ انجیل یوحنا اور مرقس سے یسوع کی پیدائش کے واقعات دکھا دیں۔ ان واقعات کی عدم موجودگی اس حقیقت  کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یا تو انجیل نویس ان سے واقف نہیں تھے یا پھر انہوں نے اسے شامل کرنا غیر ضروری سمجھا۔(یاد رہے کہ ان اناجیل کے لکھے جانے وقت انہیں یکجا نہیں کیا گیا بلکہ یہ کام تین سو سال کے بعد نقائیہ کونسل میں ہوا ہے)
دوسرا اعتراض:    انجیل میں صراحت سے دکھایا جائے کہ توما یسوع کا جڑواں بھائی ہے؟؟
الجواب:           پادری صاحب کا یہ اعتراض کٹ حجتی پر مشتمل ہے حالانکہ انجیل میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو صراحتاً مذکور نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر اناجیل متوافقہ میں یسوع نے کہیں بھی صراحتاً خود کو المسیح نہیں کہا۔اسی طرح انجیل یوحنا میں صرف سامری عورت پر وہ مبہم طور پر یہ بات ظاہر کرتے ہیں۔ لہذا پادری صاحب چونکہ یسوع کو المسیح مانتے ہیں لہذا ہم پادری صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انجیل نویسوں کے لغو دعوؤں کو چھوڑ کر صراحتا لکھا دکھائیں کہ یسوع نے کدھر خود کو المسیح کہا؟دوسری بات یہ کہ اگر اناجیل میں سب کچھ صراحتاً لکھا ہوتا تو آ پ کو کونسلز  در  کونسلز بٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ حیرت ہے کہ آپ کا ایمان تو خود انجیل کے بجائے کونسلز کی انسانی تعلیمات پر قائم ہے اور آپ نہایت ڈھٹائی سے ہم سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ہم انجیل میں صراحت سے دکھائیں کہ کہاں لکھا ہے کہ توما یسوع کا جڑواں بھائی ہے۔ اگرچہ انجیل میں توما کااصل  نام نہیں لکھا بلکہ اسکا عرفی نام تھامس یا توما  مذکور ہے. لیکن ہم انجیل مرقس باب ۶کے فقرہ۳ میں پڑھتے ہیں کہ یسوع کے ایک بھائی کا نام یہوداہ تھا جسکی گواہی اسکے اہل محلہ دے رہے تھے  یہ تو ممکن نہیں کہ یہوداہ نام کے یسوع کے دو بھائی بیک وقت  زندہ موجود ہوں اور ان میں امتیاز کے لیے کوئی قرینہ نہ پایا جائے۔  پس انجیل مرقس کا یہ یہوداہ ہی یہوداہ توما یا توام ہے.ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ہمیں دکھا دیں کہ انجیل نویس او ر پولس نے کدھر لکھا ہے کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے وہ الہامی سمجھ کر اور مقدس نوشتے کے طور پر لکھ رہا ہے؟ اور اگر آپ نہیں دکھا سکتے تو اس کا مطلب اس کے ماسوا کچھ اور نہیں کہ اناجیل کے روح القدس کی مدد سے لکھے جانے کا مسیحی دعویٰ ڈھونگ ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
تیسرا اعتراض:     غناسطیوں کی وہ حیثیت ہے جو قادیانیوں کی ہے۔
الجواب:           اس سے بڑ الطیفہ شاید ہی کوئی ہو کہ پہلی اور دوسری صدی سے تعلق رکھنے والے  فرقے کو سولہویں صدی کی پیداوار کلیسیائی بھگوڑے مارٹن لوتھر کے پیروکار بیسویں صدی میں آکر بدعتی اور قادیانی قرار دیں۔حالانکہ یہ لوگ تو آپ کی نقائیہ کونسل سے بھی پہلے موجود تھےجبکہ آپ کے عقائد کی بنیاد بھی نہیں پڑی تھی۔غناسطی تو قادیانیوں کی مانند نہیں ہو سکتے البتہ آپ ضرور قادیانیوں کی مانند ہیں جو یسوع مسیح کے سولہ سو سال بعد نمودار ہوئے اور کاتھولک کینن کی چھ الہامی و مسلمہ کتب کا انکار کردیا۔ بار بار کلیسیا کی مالا جپنے والوں کو اپنا یہ گھناؤنا اور شرم ناک فعل نظر نہیں آتا اور ہمیں کلیسیا کے نام کے بھاشن کرائے جاتے ہیں کہ مسلمہ وہی ہے جو کلیسیا نے مستند قرار دیا تو پھر آپ کس منہ سے کاتھولک کی منتخب کردہ چھ الہامی کتب کا انکار کرتے ہیں؟یاد رہے کہ ان چھ کتب کوبارہ سوسال تک کلیسیا میں مقدس نوشتوں کے طور پر پڑھا جاتارہا ہے ۔
چوتھا اعتراض:     مسیحیت پر بات کرتے ہوئے غیر انجیلی حوالہ دینا جہالت کا ثبوت ہے بالکل اسی طرح جس طرح اسلام پر بات کرتے ہوئے غیر قرآنی حوالہ دینا جہالت ہے۔
الجواب:           پادری صاحب اگر اپنے اس دعوے میں درست ہیں تو پھر اپنے اس دعوے کو بلاتاویل و توجیح انجیل سے دکھا دیں کہ"یسوع نے اپنی بشریت کو صلیب پر قربان کیا تھا؟"۔دوسرے بات یہ کہ آپ کے پاس جب عہدنامہ جدید موجود ہے تو پھر بار بار کونسلز بٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی تھی؟ یعنی آپ کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق یہ ساری کونسلز جہالت و ضلالت کا عالیشان نمونہ ہیں اور آپ ان کونسلز کے عقائد کو ماننے والے جاہل اور گمراہ افراد ہوئے نیز درحقیقت آپ نے ہی جہالت کی ایک طویل تاریخ رقم کر رکھی ہے۔ اور پھر یہ بات بھی تو ہے کہ پادری شفیق کنول صاحب نے بھی متعدد مناظروں میں احادیث اور تاریخ اسلامی کے حوالے پیش کیے ہیں تو پھرکیا آپ پادری شفیق کنول صاحب پر بھی جاہل کا فتوی لگانا پسند کریں گے کیونکہ انہوں نے بھی "غیرقرآنی" حوالہ جات بطور استدلال پیش کیے ہیں۔
پانچواں  اعتراض:   اگر یہوداہ توما یسوع کا جڑواں بھائی تھا تو قرآن کریم کو اس کی تصدیق کرنی چاہیے تھی۔
الجواب:           قرآن کریم تو سورۃ فاتحہ میں ہی مسیحیوں کو "ضالین" کہہ کر گمراہ قرار دیتا ہے۔یہی تو آپ کی گمراہیت ہے کہ یسوع مسیح کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ کے بڑوں نے ان کے متعلق طرح طرح کے عقائد گھڑ لیے اور ان کی تعلیمات کا بڑا حصہ فراموش  کردیا۔ نیز اگر قرآن کا بیانیہ آپ کے نزدیک درست ہے  تو پھراناجیل کا بیانیہ یقیناً غلط ہے کیونکہ ولادت یسوع سے متعلق قرآنی بیانیہ اور انجیلی بیان میں بڑی حد تک تفاوت موجود ہے۔

پہلا دعوی:         توما عبرانی کا نام ہے جبکہ توام یونانی کا نام ہے کیونکہ یہودیوں میں ایک ہی شخص کے دو نام رکھنے کا رواج تھا۔
الجواب:           بفرض محال اگر یہوداہ توما کے دو نام تھے تو پھر بائبل سوسائٹیز نے اسم معرفہ کا ترجمہ کرکے دجل اور فریب سے کام کیوں لیا ہے؟ گڈ نیوز بائبل میں صاف طور پر Thomas The Twin لکھا ہے جبکہ دیگر تراجم میں توما ڈیڈیمس لکھا ہے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کرنے کے لیے بائبل سوسائٹیز نے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا ہے۔اور پھرآپ کو ہر حوالہ انجیل سے مانگنے کی عادت ہے تو آپ انجیل سے دکھا دیں کہ یہودیوں میں یہ رواج موجود تھا کہ وہ دودو نام رکھا کرتے تھے۔باقی شاگردوں کو چھوڑ کر صرف یسوع  کے ہی دو نام پیش کردیں ۔( عمانویل کا حوالہ د ے کر مزید دجل و فریب سے کام لینے کی کوشش بےسود ہوگی)پتہ نہیں کب ان دیسی عیسائی پادریوں کو یہ بات سمجھ آئے گی کہ ہر بات کلام میں نہیں لکھی ہوتی بلکہ متن کے حقائق کو جاننے کے لیے دیگر ماخذات کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہےجیساکہ توما رسول کے اعمال اور اس کے بعد لکھی جانے والی دیگر کتب جن سے یہوداہ توما کے ہندوستان جانے کا ثبوت ملتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ توما کا اصل نام یہوداہ تو خود آپ کو توما کی انجیل سے پتہ چلتا ہے جسے  انجیل ہندی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی اناجیل میں تو توما کا اصل نام ہی موجود نہیں ہے اور آپ ہمیں اونچے اونچے بھاشن دے رہے ہیں۔ اناجیل  میں توما کا نام مفقود ہونے کے باوجود آپ بار بار ڈھٹائی سے انہی اناجیل کا حوالہ دے رہے ہیں جن کی وقائع نگاری دیگر تاریخی کتب کی نسبت مشکوک ہے۔ ہم واضح کرچکے ہیں کہ انجیل میں مکمل تاریخی حقائق موجود نہیں ہیں بلکہ انجیل نویسوں نے متعدد جگہ کتمان حق سے کام لیا ہے   لہذا ہمارے دعوے کو کسی درجے میں غیر انجیلی تو کہا جا سکتا ہے مگر غیر تاریخی نہیں کیونکہ اس تاریخ کے مصنف خود ابتدائی مسیحی تھے جن کے توما کے متعلق عقیدے کو آبائے کلیسیا نے تو رد نہیں کیا مگر دو ہزار سال بعد چند دیسی پوادران نے اٹھ کر تاریخی حقیقت کو جھٹلا کر ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کی نئی تاریخ رقم کردی۔
دوسرا دعوی:       اعمال ِتوما کتاب کو کلیسیا نے رد کردیا تھا کیونکہ اس کی باتیں تاریخی معیار پر پورا نہیں اتر رہی تھی۔
الجواب:           ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ کون سا تاریخی معیار تھا جس کی بنیاد پر اعمال توماکو مسترد کر دیا گیا؟ اس حوالے سے پادری صاحب نے کوئی لب کشائی نہیں کی حالانکہ بات اگر تاریخی معیار کی ہے تو اناجیل اربعہ کا زمانہ تصنیف بھی حتمی طور پر آج تک کسی کو نہیں معلوم۔اسی طرح ان اناجیل میں متعدد تاریخی اغلاط موجود ہیں جن کی کوئی توجیح نہیں کی جاسکتی۔مثال کے  طور پر متی یسوع کی پیدائش ہیرودیس اعظم کے دور میں ۶ قبل مسیح میں ذکر کرتا ہے  جبکہ لوقا کے مطابق یسوع کی پیدائش قیصر اگستس کی اسم نویسی کے دوران ہوئی جس کا زمانہ ۶ عیسوی ہے۔ اس گھناؤنی تاریخی غلطی کے باوجود اگر اناجیل مستند ہیں تو پھر اعمال توما کیسے غیر مستند ہوگئی۔کیا اس کتاب کا جرم صرف اتنا تھا کہ یہ پولوسی نظریات کی تائید نہیں کرتی؟ نہایت دوغلا معیار ہے کہ  عہدنامہ جدید کی تمام انسانی کتب کو(جوکہ نامعلوم افراد کی تصانیف ہیں) صرف کلیسیا کے کہنے پر "خدا کا کلام" مان لیا جاتا ہے اور باقی کتب کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ تمام عالم پولوسیت کو ہمارا چیلنج ہے کہ وہ اُس کلیسیائی معیار کو بیان کریں جس کے مطابق کلیسیا نے صحف مقدسہ کو قبول و رد کیا۔
تیسرا دعوی:       مسیحیوں کے لیے صرف انجیل مستند ہے۔
الجواب:           ا گر مسیحیوں کے لیے صرف عہدنامہ جدید  ہی مستند ہے تو پھر وہ نسخہ سینائی (codex sinaiticus)میں سے کلیمنٹ کے خط ، برنباس کے خط، اور ہرمس کا چرواہا نامی کتب کو نکال کر آگ لگا دیں کیونکہ یہ انسانی کلام کے جسے عہدنامہ جدید کے قدیم نسخے میں شامل کر رکھا ہے۔ حالانکہ کرنتھیوں کے بشپ ڈایونی سیئس کے مطابق قدیم زمانے سے اس خط کو کلیسیا میں پڑھنے کا دستور چلا آرہا ہے۔(بحوالہ صحت کتب مقدسہ،مطبوعہ ۱۹۵۲ء، ص۲۱۶-۲۱۵)  ہم پادری صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قدیم کلیسیا پر بھی فتوی جاری کریں کہ وہ گمراہ ہو کر انسانی احکامات کی تعلیم پر عمل پیرا تھے تبھی انہوں نے نہ صرف اس خط کو کلیسیا میں مقدس نوشتے کے طور پر پڑھا بلکہ عہدنامہ جدید کے کینن اور کوڈیکس میں بھی شامل کردیا۔ اسی طرح پادری صاحب کو چاہیے کہ چونکہ ساری سچائی اناجیل میں موجود ہے لہذا وہ کونسلز کی تعلیمات کو انسانی تعلیم کہہ کر فی الفور خیر آباد کہنے کی اخلاقی جرات پیدا کریں اور اس ساری تعلیم کو مسیحی ایمان کے لیے خطرہ قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔
چوتھا دعوی:       یسوع اس لیے دنیا میں تشریف لائے تاکہ اپنی بشریت کو صلیب پر قربان کر دیں۔
الجواب:           پادری صاحب کے دعوے کے مطابق وہ صرف انجیل کو مانتے ہیں تو وہ  فریسیانہ طرز سے اجتناب کرتے ہوئے جناب یسوع کی زبان مبارک سے ایسی کوئی تعلیم دکھا دیں جہاں انہوں نے صراحتاً یہ فرمایا ہو کہ وہ اپنی بشریت کو صلیب پر قربان کرنے آئے ہیں۔
پانچواں  دعوی:     توما کے ہندوستان جانے کی گواہی نظریات رسل نامی کتاب  اور دیگر آبائے کلیسیا کی تحاریر سے بھی ملتی ہے ۔
الجواب:           موصوف پادری صاحب کے اس اعتراض کا ہم نے اپنے مضمون میں کافی شافی جواب دے دیا ہے تاہم یہاں چند امور پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ پادری صاحب نے جس کتاب کا حوالہ دیا ہے وہ تیسری صدی عیسوی میں لکھی گئی جبکہ  اعمالِ توما کا زمانہ تصنیف دوسری صدی عیسوی ہے  اور جہاں تک آبائے کلیسیا کی مختلف تحاریر کی بات ہے تو آپ کے ہیرو ولیم جی ینگ کے مطابق ان کا زمانہ تصنیف چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی ہے۔ الحمدللہ ہم کتابوں کو اچھی طرح پڑھتے ہیں کیونکہ نہ ہی ہمارے ہاتھ میں بطالت پیدا کرنے والا باطل قلم ہے اور نہ ہی ہم اپنی آنکھ میں آپ کی طرح شہتیر رکھتے ہیں لیکن جب قدیم ترین شہادت موجود دہو تو چوتھی صدی اور پانچویں صدی کی تھرڈ کلاس تحاریر   کا حوالہ دینا  علمی  نہیں بلکہ احمقانہ رویہ کہلاتا ہے۔ پادری صاحب کو چاہیے کہ دوسری صدی عیسوی کی کسی قدیم کتاب سے یہوداہ توما کے ہندوستان جانے کے متعلق کوئی گواہی پیش کریں۔ وگرنہ اعمال ِتوما کے مدتوں بعد لکھی جانے والی نظریات رسل جیسی دیگر "جعلی کتب" ممکنہ طور پر قدیم ماخذ مثلاً اعمال توما سے مستعار لے کر ہی لکھی گئی ہو گی۔مزید براں ہم سے انجیلی ماخذ سے حوالہ جات طلب کرنے والے پادری صاحب جن کتب کا حوالہ خود دے رہے ہیں۔وہ بھی تو غیر انجیلی ہی ہیں۔یہ کیسی منافقانہ روش ہے جس کا ہمیں پوادر کی طرف سے سامنا ہے۔
چھٹا دعوی:         یسوع کے شاگرد پوری دنیا میں پھیل گئے۔
الجواب:           بقول پادری صاحب ،وہ صرف انجیل کی مانتے ہیں تو ہمیں انجیل سے دکھا دیں کہ یسوع کے شاگرد پور ی دنیا میں پھیل گئے صرف اعمال کی کتاب میں یسوع کے منہ میں الفاظ ڈال کر عالمگیریت ثابت نہیں کی جا سکتی۔(یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ہمارا یہ دعوی ہرگز نہیں کہ سچائی صرف اور صرف قرآن اور انجیل میں موجود ہے بلکہ ان کے علاوہ دیگر ماخذات بھی حقائق پر مبنی ہوتے ہیں تاہم اتمام حجت اور پادری صاحب کے  دجل پر مبنی دعوے کی حقیقت ظاہر کرنے کےلیے ہم پادری صاحب سے یہ مطالبہ کررہے ہیں)
ساتواں دعوی:     یسوع ساری دنیا  کے لیے آئے تھے۔
الجواب:           پادری صاحب کا یہ دعوی  بھی لغو اور سراسر کذب بیانی پر مشتمل ہے کیونکہ یسوع اپنی حین حیات کبھی بھی غیر اقوام کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔کنعانی عورت کی مثال دیتے ہوئے پادری صاحب نے فرمایا کہ "پہلے لڑکوں کوسیر ہونے دے"سے مراد ہے کہ یسوع اس کے ایمان کو چیک کررہے تھے حالانکہ (پادری صاحب کے معیار کے مطابق ) انجیل میں کہیں بھی نہیں لکھا ہو اکہ یسوع اسے چیک کررہے تھے بلکہ یسوع نے آخر میں اسے کتا سمجھ کر ہی روٹی ڈالی  (یعنی اس کی بیٹی کو شفا دی)  اور اس عورت نے خود کو کتیا سمجھ کر ہی روٹی کو کھا لیا ۔اس بات کا پتہ اس کے جواب سے چلتا ہے کہ "کتے بھی لڑکوں کی روٹی کے ٹکڑوں سے کھاتے ہیں"(مرقس۷ :۲۸)دوسری طرف خود مرقس کی انجیل میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ یسوع کی دعوت غیر اقوام کے لیے بھی تھی۔یسوع کی تعلیمات کو آفاقی ثابت کرنے کے لیے مرقس کے آخر میں بارہ فقرات کا اضافہ کیا گیا(یعنی کھلم کھلا بدمعاشی سےتحریف کی گئی) کیونکہ قدیم نسخوں میں مرقس کے آخری بارہ فقرات شامل نہیں ہیں۔ اس بات کا اقرار پادری برکت اللہ نے صحت کتب مقدسہ میں بھی کیا ہے اور متعدد انگریزی بائبل کے ورژن میں اس مقام پر اس کی وضاحت کردی گئی ہے حتی کہ آکسفورڈ بائبل کی ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں تو سرے سے مرقس کے آخری بارہ فقرات ہیں ہی نہیں۔ جب سب سے قدیم انجیل نویس مرقس کو یہ بات نہیں معلوم تو مرقس سے مواد لے کر انجیل لکھنے والے متی کو یہ بات کس نے بتا دی؟ (کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت کے مطابق متی نے مرقس کو انجیل کو سامنے رکھ کر اپنی کتاب مدون کی) سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو کام خود یسوع نے ساری زندگی نہیں کیا اس کے کرنے کا شاگردوں کو حکم کیسے دے دیا؟وہ تو واضح فرماتے ہیں کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ رہی بات اعمال کی کتاب کی تو اعمال کی کتاب میں بھی شاگرد غیر اقوام کے بجائے صرف یہودیوں کو کلام سناتے تھے۔اگر شاگردوں کے پاس غیراقوام کے کچھ افراد آئے بھی تو وہ God fearer تھے۔ اب اگر آپ اس وقت کے یہودی حالات سے واقف ہونگے تو آپ کو بخوبی پتہ ہوگا کہ یہ گاڈ فیرئیر کون تھے لیکن اگر نہیں پتہ تو یشوع بن سیراخ کی کتاب کے مطابق آپ کو اپنی جہالت پر شرمندہ ہونا چاہیے کہ آپ ناواقفیت کے باوجود خشکی و تری کا دورہ کرکے لوگوں کو دگنا ہلاکت کا فرزند بنانے کا سبب بن رہے ہیں۔(معروف مغربی اسکالر ہائم مکابی نے اپنی کتاب Paul the mythmaker and the invention of Christianity میں اس حوالے  سے تفصیل سے لکھا ہے جس کا ہم نے ترجمہ کیا ہے اور وہ ترجمہ چھپ چکا ہے ۔لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی مارکیٹ میں آجائے گا)  غیر اقوام کی طرف جانے والا پہلا فرد پولس تھا جس نے شاگردان یسوع سے کھلم کھلا بغاوت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ غیر قوموں کا رسول ہے اور پھر وہ غیر قوموں کو مسیحی (درحقیقت پولوسی) بنانے کے لیے جت گیا اور یہودیوں کے لیے یہودی بنا،رومیوں کے لیے رومی بنا اور یونانیوں کے لیے یونانی بن گیا۔یہ موضوع  کافی طویل اور خوف طوالت مانع ہے اسی لیے چند سطور پر ہی اکتفا کیا ہے۔
آٹھواں دعوی:     یسوع کے جی اٹھنے کے بعد غیر اقوام میں اس کے جی اٹھنے کی  خوشخبری کی منادی کی گئی۔
الجواب:           یسوع کے مردوں میں سے جی اٹھنے کا عقیدہ خالص پولس کی ایجاد ہے اور اس عقیدے کامعمار پولس ہے جس نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اگر یسوع مردوں میں سے نہیں جی اُٹھا تو ہمارا ایمان بھی بےفائدہ ہے اور تمہارا ایمان بھی بلکہ ہم خدا کے حضور جھوٹے گواہ ٹھہرے۔(۱-کرنتھیوں۱۵ :۱۴)یسوع نے اپنی پوری زندگی ایسی کوئی تعلیم نہیں دی کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھ کر لوگوں کو نجات دیں گے بلکہ انہوں نے شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جو کوئی ان میں سے چھوٹے سے چھوٹا حکم پورا کرے گا اور اس کی تعلیم دےگا وہ خدا کی بادشاہت میں سب سے بڑا کہلا ئے گا۔(متی ۵ :۱۹) یہ بھی ایک طویل موضوع ہے جسے اختصار کے ساتھ لکھنا مشکل ہے۔
نواں دعوی:       شاگرد یسوع کے زندہ خط تھے؟
الجواب:           پادری صاحب کا یہ قول سراسر انسانی تعلیم اور کذب بیانی پر مشتمل ہے کیونکہ ان کے معیار کے مطابق انجیل میں کہیں نہیں لکھا کہ شاگرد یسوع  کے زندہ خط تھے یا یسوع نے کسی موقع پر انہیں خط کہہ کر پکارا ہو یا خط لکھنے کا حکم دیا ہو۔ تاہم اگر پادری صاحب کے دعوے کو مان لیا جائے تو پھر ان زندہ خطو ط کے ہوتے ہوئے کاغذی خطوط بےمعنی اور فضول ہو جاتے ہیں لہذا ہماری پادری صاحب سے استدعا ہے کہ وہ عہدنامہ جدید سے پطرس و یہوداہ کے خطوط کو فی الفور باہر نکال دیں کیونکہ زندہ خطوط کے ہوتے ہوئے کاغذی خطوط پر انحصار کرنا حماقت اور بےوقوفی ہے۔نیز پادری صاحب کا دعوے ماننے پر ایک اور سنگین مسئلہ اٹھ کھڑا ہوجاتا ہے کہ مقدس پولس تو یسوع کے شاگرد ہی نہیں تو پھر انہیں کیسے زندہ خطو ط کی تعریف میں شامل کیا جائے گا؟ ج س م ف
دسواں دعوی:     غناسطیوں کو کلیسیا نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا۔
الجواب:           آپ کی کلیسیا کی کیا اوقات کہ آپ ان کو مانیں؟آپ کی کلیسیا تو خود نقائیہ کونسل (۳۲۵ء )کی پیداوار ہے  جبکہ غناسطیوں کا زمانہ پہلی اور دوسری صدی عیسوی ہے۔ ہاں البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ غناسطیوں نے پولوسی کلیسیا کو کبھی تسلیم نہیں کیا حتی کہ پولوسیوں نے رومی اقتدار میں آکر ان لوگوں کو تہہ تیغ کیا اور ان کی کتب کو نذر آتش کردیا۔اگرآپ کو غناسطیوں سے اتنی ہی چڑ ہے تو غناسطی فکر کی حامل انجیل یوحنا کو عہدنامہ جدید سے الگ کردیں کیونکہ انجیل یوحنا کی تمہید مکمل طورپر غناسطی فکرِ ثنویت سے بھری ہوئی ہے۔اسی طرح نور کے فرزند اور تاریکی کے فرزند کا عقیدہ بھی غناسطیوں میں موجود تھا جو کہ انجیل یوحنا میں بھی پایا جاتا ہے۔اس حوالے سے ہم نے اپنے مضمون میں بھی کچھ اعتراضا ت کاجواب دیا ہے۔ غناسطیوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے  مارون میئر کی کتاب"The Gnostic Bible"پڑھ لیں ان شاء اللہ چودہ طبق روشن ہوجائیں گے اور پھر آئندہ کے لیے آپ کسی کو قاموس الکتاب جیسی گھٹیا کتاب کا طعنہ دینا بھول جائیں گے کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ کچھ نہیں پڑھتے تو سامنے والا بھی کچھ نہیں پڑھتا۔اگر مارون میئر کی کتاب نہ ملےتو مجھ سے اس کا پی ڈی ایف لے سکتے ہیں۔
گیارواں دعوی:    کلیسیا متفق ہے کہ غناسطی کتب جعلی ہیں۔
الجواب:           جس کلیسیا کے اتفاق کا آپ نرسنگھا بجا رہے ہیں وہ کلیسیا تو خود متعدد انسانی کونسلز کی پیداوار ہے۔سوال یہ ہے کہ دو سو سال تک  ہر مسیحی فرقہ ایک دوسرے پر مشرک اور بدعتی ہونے  کے فتوے لگا رہا تھا تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ صرف آپ کی کلیسیا ہی دودھ کی دھلی ہے؟  ایک طرف آپ فرما رہے ہیں کہ ہم صرف انجیل کی مانتے ہیں اور دوسری طرف کلیسیا کے اتفاق کو بطور استدلال پیش کر رہے ہیں؟ آپ انجیل سے وہ معیار دکھائیں جس کے مطابق غناسطی کتب جعلی ہیں۔

مکمل تحریر >>

پیر، 18 مئی، 2020

یسوع کے جڑواں بھائی یہوداہ توما کی شخصیت کا تاریخی جائزہ

یسوع کے جڑواں بھائی یہوداہ توما کی شخصیت کا تاریخی جائزہ
ازقلم :عبداللہ غازیؔ
          اسلام کی آمد سے سینکڑوں سال قبل مسیحیت میں یسوع مسیح اور ان کے متعلقین کے حوالے سے مختلف فیہ آراء معاشرے میں موجود تھیں۔بدقسمتی سے تثلیثی مشرک پولوسی عیسائیوں کے رومی حکومت کی چھتری تلے آنے کے بعد صرف تثلیثی عیسائیوں کے نظریات کو باقی رکھا گیا باقی تمام عقائد و نظریات کو جبرا دبا دیا گیا۔انہی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ ہندوستان میں یسوع مسیح کی منادی کرنے والے یسوع کے شاگرد یہوداہ توما دراصل یسوع کے جڑواں بھائی تھے۔ اس عقیدے کی انجیلی شہادت یوحنا کی انجیل میں موجود  لفظ توما  اور توام  اور تاریخی شہادت  توما رسول کے اعمال نامی کتاب ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ آبائے کلیسیا میں شامل جن افراد نے  یہوداہ توم کے ہندوستان جانے کا ذکر کیا ہے ان میں سے کسی نے اس عقیدے کی تردید نہیں کی  جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی روایت معاشرے میں بڑے پیمانے پر پھیلی ہو ئی تھی جس کا وجود چوتھی صدی عیسوی تک رہا اور پھر طاقت کے زور پر ایسے نظریات کو مٹا کر انسانی کونسلز کے عقائد کو مسیحیوں پر مسلط کیا گیا ۔
          یہوداہ توما یسوع کے جڑواں بھائی تھے یا نہیں؟ اس معاملے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ایسی تمام روایات اسلام سے قبل قدیم مسیحی عقائد اور ادب کا باقاعدہ حصہ تھیں۔  اس سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع کے صعود آسمانی کے کچھ وقت بعد ہی مسیحیت پر گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھا گئے تھے اور خود  یسوع مسیح کی شخصیت بھی اس قدر متنازع ہو گئی تھی کہ عیسائیوں کو بعد میں کونسلز بٹھا کر فیصلے کرنے پڑے۔ مسیحیوں میں ان گمراہ کن عقائد کے بارے میں اس قدر شدت تھی کہ کئی کونسلز میں باقاعدہ سر پٹھول ہوئی اور پادریوں اور بشپوں نے ایک دوسرے کو خوب مارا پیٹا۔ یہی شدت پسند عناصر آج ہمارے مقامی عیسائی پوادران دوستوں میں بھی بدرجہ اتم موجود  ہیں۔لہذا مضمون ہذا میں توما کی شخصیت کا انجیلی اور تاریخی جائزہ لینگے کہ ابتدائی مسیحی ان کے حوالے سے کیا عقیدہ رکھتے تھے۔
یسوع کے حقیقی بہن بھائی
عہدنامہ جدید ہمیں نہ صرف یسوع بلکہ ان کے خاندان کے بارے میں  بھی کسی حد تک تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ اناجیل متوافقہ میں   ان کے چار بھائی یعقوب، یہوداہ،شمعون اور یوسف  اور کچھ بہنوں کا بھی ذکر ہے جن کی تعداد غیر معین ہے تاہم بہنوں کے لیے جمع کا صیغہ استعمال ہونے کی وجہ سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تعداد کم از کم دو ضرور ہوگی۔ عہدجدیدکے متن میں یسوع کے بھائیوں کےلیے یونانی لفظ"adelphos"استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنیٰ سگے اور حقیقی بھائی کے ہی ہیں۔مقدس پولس اور جوزیفس کی تحاریر میں جابجا بھائی کے لیے یہی لفظ استعمال ہوا ہے۔ لہذا اس انجیلی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یسوع کے بہن بھائی نہیں تھے۔آتشیں کلام مقدس مطالعاتی اشاعت کے مطابق یسوع کی پیدائش کے بعد یوسف نجار اور مقدسہ مریم شادی کے حوالے سے جسمانی تعلق میں داخل ہوئے اور ان کے اولاد ہوئی۔[1]یسوع کے بھائیوں میں موجود یہی یہوداہ یسوع کا جڑواں بھائی تھا جس کی شہادت انجیل مرقس کے مطابق اہل علاقہ نے دی تھی۔[2]اسی یہوداہ کا اصل نام حذف کرکے انجیل یوحنا کے مصنف نے اس کا لقب توما اور توام بیان کیا ہے لیکن توما کی انجیل کی تمہید سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ توما کا اصل نام یہوداہ تھا۔پس ایسا ہرگز ممکن نہیں کہ بیک وقت یہوداہ نا م کے یسوع کے دو بھائی موجود ہوں لہذا انجیلی حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہوداہ توما ہی یسوع کا جڑواں بھائی تھا۔
توما،توام اور یہوداہ توما
          اناجیل متوافقہ میں اگر یسوع کے بہن بھائیوں کا ذکر ہے تو دوسری طرف انجیل یوحنا میں یسوع کے جڑواں بھائی کا ذکر موجود ہے۔غالباً اسی لیے یوحنا نے یسوع کی ولادت کی وقائع نگاری کو ضبط قلم کرنا مناسب اور اہم نہیں سمجھا۔ یوحنا کے اس اسلوب سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ قدیم کلیسیا کی طرح وہ یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ یسوع کا جڑواں بھائی بھی موجود ہے۔ان قدیم مسیحی روایات میں توما رسول کے اعمال نامی کتاب شامل ہے  جس میں واضح طور پر مقدس توما کو یسوع کا جڑواں بھائی قرار دیا گیا ہے ۔ انجیل ِتوما سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا اصلی نام یہوداہ اور عرفی نام توما تھا جبکہ توام لقب تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ توما اور توام دونوں کے لغوی معنی جڑواں کے ہی ہیں۔[3] بائبل مقدس کے اردو پروٹسٹنٹ ترجمہ میں لکھا ہے" تیری دونوں چھاتیاں دو توام آہو بچے ہیں "(غزل الغزلات 4:5) تیری دونوں چھاتیاں دوآہوبچے ہیں جو توام پیدا ہوئے ہوں ۔ (غزل الغزلات 7:3) جبکہ جیولنک ریسورس کنسلٹنٹ سے امریکہ سے شائع ہونے والے ترجمہ اردو میں توام کے بجائے جڑواں لفظ استعمال کیا گیا ہے. تیری چھاتیاں سوسنوں میں چرنے والے غزال کے جڑواں بچوں کی مانند ہیں. (محولہ بالا) تیری چھاتیاں غزال کے جڑواں بچوں کی مانند ہیں. (محولہ بالا) یہی نہیں بلکہ یوحنا کی انجیل میں( یوحنا۱۱ :۱۶، ۲۰ :۲۴، ۲۱ :۲) وام یا دیدیمس کا ترجمہ بھی اِس ترجمہ میں جڑواں کے طور پر کیا گیا ہے جس سے صاف بات بتا چل جاتی ہے کہ توما رسول یسوع کا جڑواں بھائی تھا جس کی اصل حقیقت کو چھپانے کے لئے ان مقامات پر ترجمہ "مواضع سے پھیر کر" کیا گیا ہے تاکہ قاری سے خوش کن پوادرانہ دعاوی پر آنکھ بند کرکے آمین آمین کہلوایا جا سکے اور سچائی پر پردہ ڈال کر انسانی کلام پر مبنی روایات سے کلام الہی کو باطل کیا جا سکے۔ فقط بائبل میں ہی نہیں بلکہ مسیحی علماء بھی اس حقیقت کے معترف ہیں مگر عوام الناس کو بتانے سے ڈرتے ہیں کہ خوش عقیدتگی کہیں سچائی کے سامنے دم نہ توڑ دے۔
مقدس توما اور یسوع
توما کے یسوع کے جڑواں بھائی ہونے کی شہادت دونوں کے ہم پیشہ ہونے سے بھی ملتی ہے کیونکہ اناجیل کے مطابق یسوع مسیح اور یوسف نجار بڑھئی تھے۔[4]اسی طرح توما توام بھی بڑھئی تھا۔[5]اسی طرح قدیم شامی کلیسیا کی روایات کے مطابق یسوع کا قد چھوٹا تھا جبکہ توما کی انجیل میں خود توما بھی خود کو پستہ قد کہتا ہے جس کی بنیاد پر علما نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دونوں کا قد چھوٹا ہونا درحقیقت ان کے جڑواں بھائی ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔[6]
مقدس یعقوب اور توما
          ہم دیکھ چکے ہیں کہ عہد نامہ جدید میں ہی یسوع کے دیگر بھائی بھی موجود ہیں اور یسوع کے ایک بھائی یعقو ب کوتو اعمال کی کتاب یسوع کے بعد کلیسیا کا سربراہ بھی قرار دیتی ہے حالانکہ یہی یعقوب یسوع کی حین حیات ان سے دور بھاگتا رہا لیکن اعمال کی کتاب میں یکایک یسوع کی کلیسیا کا سربراہ بن کر بیٹھ گیا۔نیز اس کے علاوہ عہدنامہ جدید میں شامل ایک خط کا انتساب بھی یعقوب برادر یسوع کی طرف کیا جاتا ہے۔یہاں یہ نکتہ وضاحت طلب ہے کہ اگر توما یسوع کاجڑواں بھائی نہیں تھا تو پھر یعقوب کیسے یسوع کا بھائی ہوگیا؟یہاں عیسائی یہ تاویل نکالتے ہیں کہ یسوع کے یہ سارے بہن بھائی یوسف نجار کی پہلی بیوی سے تھے لیکن یہ عیسائی تاویل بھی تار عنکبوت جتنی مضبوطی رکھتی ہے کیونکہ انجیل میں ایسا کہیں بھی مذکور نہیں ہے اور ہمارے دیسی عیسائی دوست ہم سے یہوداہ توما توام کے جڑواں بھائی ہونے کے متعلق صرف انجیلی دلیل طلب کرتے ہیں تو ہم بھی حق بجانب ہیں کہ ان سے حوالہ طلب کریں کہ کدھر لکھا ہے کہ یعقوب یوسف کی پہلی بیوی کی اولاد تھا؟ اگر یعقوب انجیل کے مطابق یسوع کابھائی،اعمال کے مطابق کلیسیا کا سربراہ اور عہدنامہ جدید میں شامل خط کا مصنف ہو سکتا ہے تو پھر توما توام کیوں یسوع کا جڑواں بھائی نہیں ہو سکتا؟ حالانکہ انجیل یوحنا نے تین بار اسے توام لکھا ہے اور پھر خود توما کے معنی بھی جڑواں کے ہی ہیں۔ اگر مسیحی برادری کے دعوے کے مطابق توما یسوع کا  بھائی نہیں تھا  تو پھر یعقوب بھی ہرگز یسوع مسیح کا بھائی نہیں لہذا ہمارا مسیحی برادری سے مطالبہ ہے کہ یعقوب کے خط کو فی الفور عہدنامہ جدید سے باہر کیا جائےاور اعمال کی کتاب سے اس کا ذکر حذف کیا جائے۔
عہدنامہ جدید اور "توما رسول کے اعمال"
توما کےاعمال کی نامی قدیم کتاب میں واضح شہادت ملتی ہے کہ توما یسوع کا جڑواں بھائی اور بڑھئی تھا۔[7] تاہم مصنف نے اس تحریر کو غناسطی ہونے کی وجہ سے رد کیا ہے اور ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے کہ یہ کتاب اس لیے لکھی گئی کہ مسیحیوں کو شادی کرنے اور ہر قسم کے مال و دولت سے پرہیز کرنے سے روکنے کی تعلیم دی جائے۔[8] تاہم مصنف کے یہی اعتراضات بدرجہ اتم اناجیل اربعہ پر وارد ہوجاتے ہیں۔یونانی لفظ Gnosis کے معنی"عرفان ،معرفت یا واقفیت" کے ہیں۔ غناسطیوں کا عقیدہ تھا کہ انسان کو نجات اس کے سچائی کی معرفت سے ملتی ہے جبکہ یہی چیز ہم انجیل یوحنا میں بھی پاتے ہیں کہ یسوع نے فرمایا کہ تم سچائی سے واقف ہو تو سچائی تمہیں آزاد کرے گی۔دوسرے لفظوں میں سچائی کی معرفت ہی نجات کی ضامن ہے ۔اسی طرح مصنف کو اعتراض ہے کہ یہ کتاب مسیحیوں کو شادی سے روکنے کےلیے لکھی گئی ہے حالانکہ تجرد تو شروع سے ہی مسیحیت کا خاصہ رہا ہے اور پطرس کے علاوہ یسوع اور ان کے تمام شاگرد حتی کہ  مقدس پولس تک شادی سے مجتنب ہی رہے۔ اسی طرح مصنف کو یہ بھی اشکال ہے کہ اس کتاب میں مال ودولت سے پرہیز کرنے کی تعلیم دی گئی ہے حالانکہ یہی تعلیم  عہدنامہ جدید میں بھی موجود ہے جہاں ایک شخص یسوع کے پاس آتا ہے اور نجات کے متعلق سوال کرتا ہے تو یسوع اسے ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اپنا تمام مال غریبوں میں بیچ کر ان کی اتباع کرے۔اس پر وہ شخص غمگین  ہو کر چلا جاتا ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انجیل یوحنا اور اعمالِ توما میں اتنی فکری مماثلت کس لیے ہے۔اگر غناسطی ہونے کی بنا پر توما کے اعمال کتاب قابل رد ہے تو اسی اصول کے مطابق یوحنا کی انجیل بھی مردود ہونی چاہیے کیونکہ اس میں بھی غالب حد تک غناسطی افکار موجود ہیں۔ اب اگر ہمارے دیسی عیسائی دوست انجیل توما کو رد کرتے ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ فی الفور انجیل یوحنا کو بھی مسترد کردیں کیونکہ اس میں بھی غناسطی افکار رچے بسے ہوئے ہیں۔
توما رسول کے اعمال  اور دیسی عیسائی دوستوں کارویہ
توما کے اعمال کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس کتاب کے مطابق یہوداہ توما نے ہندوستان کی طرف تبلیغی سفر بھی کیا تھا جسے تمام دیسی عیسائی بڑے طمطراق سے بیان کرتے ہیں۔ بہت سے آبائے کلیسیا نے اپنی تحاریر میں بھی توما کے اعمال کتاب سے نقل کرتے ہوئے یہ بات ذکر کی ہے۔یہاں یہ سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر توما کے اعمال نامی کتاب سے توما کا ہندوستان جانا ثابت ہو سکتا ہے تو پھر توما کا یسوع کا جڑواں بھائی ہونا ثابت کیوں نہیں ہو سکتا ؟؟ہمارے دیسی عیسائی دوستوں کے ناپنے کے دو پیمانے کیوں ہیں حالانکہ کتاب مقدس میں لکھا ہے کہ جھوٹا ترازو خداوند کی نظر میں مکروہ ہے۔(امثال۱۱ :۱)
ولیم جے ینگ کے مطابق ان لوگو ں میں مقدس ایرونیمس(۴۰۰ء)، مقدس افرائیم(۳۷۰ء) اور یوسبیس(۳۲۵ء)شامل ہیں جنہوں نے توما کے ہندوستان جانے کے بارے میں اپنی تحاریر میں لکھا ہے۔ ان تمام تحاریر کا زمانہ چوتھی یاپانچویں صدی عیسوی ہے لیکن توما رسول کے اعمال کتاب کا زمانہ تصنیف دوسری صدی عیسوی کا ہے ۔یسوع سے دو ہزار سال کا بُعد زمانی رکھنے والے مسیحی حضرات ان چوتھی صدی عیسوی کے اقتباسات کی بنیاد پر توما کے ہندوستان جانےکی روایت کو درست سمجھ لیتے ہیں لیکن دوسری صدی عیسوی میں لکھی جانے والی اعمالِ توما کتاب کی صداقت صرف بغض کی وجہ سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ نیز ان  تمام لوگوں نے توما کے ہندوستان جانے کا تو ذکر کیا ہے مگر اس بات کی کوئی تردید نہیں کی کہ وہ اسے یسوع کا جڑواں بھائی نہیں سمجھتے تھے حالانکہ افرائیم سریانی کے مطابق چوتھی صدی عیسوی تک توما کی انجیل موجود  تھی۔ آبائے کلیسیا کا توما کے اس منصب کی نفی نہ کرنا  اور اس کی کتاب میں موجود حقائق کا پرچار کرنا اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ نہ صرف یہوداہ توما کی ذات کے اس پہلو(جڑواں بھائ) سے اچھی طرح واقف تھے بلکہ توما کے اعمال کتاب کو بھی مستند سمجھتے تھے اسی لیے تو وہ اس سے استدلال کر رہے تھے۔ اب دو ہزار سال کے بعد انجیل میں جڑواں لکھا ہونے کے باوجود کچھ دیسی عیسائی اٹھ کر یہوداہ توما  کے یسوع کے جڑواں بھائی ہونے کا انکار کر دیں تو اس کا مطلب اس کےسوا کچھ نہیں کہ وہ نہ صرف انجیلی متن کو جھٹلا رہے ہیں بلکہ انہوں نے آبائے کلیسیا کو بھی جاہل مطلق سمجھ لیا ہے جنہوں نے اتنی بڑی اور اہم بات کے متعلق کوئی قلم کشائی نہیں کی۔ حالانکہ توما کے جڑواں بھائی ہونے کے عقیدے کی نفی کرنے والے علمی طور پر وہ مفلوک الحال مسیحی ہیں جنہوں نے اپنے عقائد بھی کونسلز بٹھا بٹھا کر حل کیے ہیں۔ صدیوں تک مقدسہ مریم کو تثلیث کا جز مان کر ان کی پرستش کی جاتی رہی لیکن جب کونسل بیٹھی تو تثلیث سے مقدسہ مریم کو نکال باہر کرکے روح القدس کو شامل کرکے تثلیث کو مکمل کردیا۔(حالانکہ آج بھی کیتھولک کلیسیا کے کیٹی کیزم میں مقدسہ مریم کو پاک تثلیث کا جز مانا جاتا ہے) اس قسم کے اعتقادی محروم لوگ اٹھ کر مقدس یہوداہ توما کے یسوع کے جڑواں بھائی ہونے کی نفی کررہے ہیں تو اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ آئندہ ہونے والی کونسل میں  یسوع کے جڑواں بھائی یہوداہ توما کو تثلیث میں شامل کرلیا جائے او  ر روح القدس کو باہر نکال کر پھینک دیا جائے۔(یاد رہے کہ ۱۹۶۵-۱۹۶۶ میں ہونے والی کیٹی کن کونسل دوم میں مسیحیوں نے انجیلی حقائق کے برخلاف پیلاطوس گورنر کو قاتل یسوع قرار دیا ہے حالانکہ دو ہزارسال سے یہ یہودیوں کو قاتلین یسوع مانتے چلے آرہے تھے کیونکہ انجیل میں لکھا ہے کہ یسوع کا خون یہودیوں اور ان کی اولاد کی گردن پر)
قدیم مسیحی فرقے اور نظریات
قدیم مسیحی روایات کے مطابق ابتدائی مسیحی مقدس توما کو یسوع کا جڑواں بھائی سمجھتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ یسوع کو کنواری سے پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹا  اور الوہیت کی حامل ہستی نہیں مانتے تھے۔ بعد میں جب رومی بادشاہ قسطنطائن نے مسیحیت کو قبول کیا تو پولوسی چرچ غالب آگیا ۔ پولوسی عیسائیوں نے اقتدار میں آنے  کے بعد اپنے مخالفین پر بدعتی اور مشرک ہونے کے فتوے لگائے اور اپنے مخالف تمام نظریات کو نہ صرف طاقت کے زور پر دبایا بلکہ مخالفانہ  عقائد پر مشتمل کتب کو بھی نذر آتش کردیا ۔ اس حوالے سے  اسکندریہ کا کتب خانہ بہت مشہور ہے جسے دہشت گرد اور شدت پسند تثلیثی مسیحیوں نے جلا کر راکھ کر ڈالا تھا۔
 اس کتب خانے کی برباد ی کے بعد پولوسی نظریات سے مماثلت نہ رکھنے والی اکثر کتب ضائع ہوگئیں تاہم ستر سال قبل مصر میں ناگ حمادی کے مقام سے قدیم مسیحیوں کی کچھ کتب کے نسخے دریافت ہوئے جن میں توما رسول کے اعمال نامی کتاب بھی شامل تھی۔ پولوسی کلیسیا نے فی الفور اسے بدعتی اور جعلی قرا ردے دیا کیونکہ اس میں مندرج تعلیمات پولوسی نظریات سے متضاد تھی حالانکہ اگر ہم دوسری یا تیسری صدی عیسوی میں کھڑے ہو کر منصفانہ جائزہ لیں تو غناسطیوں کی نظر میں بھی پولس کے پیروکار مسیحی مشرک اور بدعتی کے سوا کچھ نہ تھے لیکن جب انہی پولوسیوں کو چرچ کی چھتری میسر آگئی تو یہی لوگ کلیسیا کے علم بردار اور انہی کے عقائد مسیحیت کے مسلمہ عقائد ٹھہرے اور انکے  ماسوا ہر کوئی بدعتی اور مشرک ہوگیا حالانکہ یسوع مسیح نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ میں اس دنیا پر فتوی لگانے نہیں آیا لیکن ہمارے پولوسی مسیحی دوست سچائی سے اعراض کرتے ہوئے  اور یسوع کی تعلیم کو پس پشت ڈالتے ہوئے دھڑلے سے ان لوگوں کو بدعتی کہہ رہے ہیں۔


[1] آتشیں کلام مقدس مطالعاتی اشاعت،ص۱۶۲۵
[2] مرقس۶ :۳
[3] The NIV Study Bible (London: Hodder & Stoughton, 2000), n. John 11:16.
[4] متی۱۳ :۵۵
[5] ولیم جی ینگ، رسولوں کے نقش قدم پر، مسیحی اشاعت خانہ،۲۰۱۳ء،ص۵۷
[6] Lynn Picknett and Clive Prince, The Masks of Christ: Behind the Lies and Cover-Ups about the Life of Jesus (New York: Simon & Schuster, 2008), 151.
[7] رسولوں کے نقش قدم پر ،ص۵۷
[8] محولہ بالا

مکمل تحریر >>