پولوسی
مسیحیت کی نمایاں خصوصیات
(قسط
سوم)
روحانی مظاہر
حضرت عیسیٰؑ کی دعوت اور ابتدائی فلسطینی
رسولی کلیسیا کی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت روحانی یا کرشماتی مظاہر (Charismatic
Manifestations) تھے۔
اعمال کی کتاب کے مطابق ان میں مختلف
زبانیں بولنا،بیماروں کوشفادینااور فرشتوں کےظہور جیسےغیر معمولی واقعات شامل تھے۔
یہی روحانی کیفیت پولس کی قائم کردہ کلیسیاؤں میں بھی موجود تھی۔اگر کرنتھس کی
کلیسیا کو بطور نمونہ دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر یہودی مسیحی جماعتوں میں
بھی یہ روحانی مظاہر عام تھے۔پولس کے نزدیک یہ روحانی نعمتیں محض ذاتی فضیلت یا
انفرادی عظمت کا اظہار نہیں تھیں، بلکہ ان کا مقصد پوری کلیسیا کی بھلائی اور
تعمیر تھا۔ اسی لیے وہ روح القدس کی عطا کردہ مختلف قسم کی نو روحانی نعمتوں (Spiritual
Gifts) کا ذکر کرتا ہے جنہیں خدا نے جماعت کے
مشترکہ فائدے کے لیے عطا کیا تھا۔ اس طرح پولس کے نزدیک کرشماتی مظاہر ابتدائی
مسیحی زندگی کا ایک لازمی حصہ تھے تاہم ان کا صحیح استعمال ذاتی شہرت یا برتری کے
اظہار کے بجائے پوری جماعت کی خدمت، اتحاد اور روحانی ترقی کے لیے ہونا چاہیے تھا۔
”کیونکہ ایک کو
روح کے وسیلہ سے حکمت کا کلام عنایت ہوتا ہے اور دوسرے کو اسی روح کی موافق علمیت
کا کلام۔کسی کو اسی روح سے ایمان اور کسی کو اسی ایک روح سے شفا دینے کی تووفیق۔
کسی کو معجزوں کی قدرت۔ کسی کو نبوت کی۔ کسی کو روحوں کاامتیاز۔کسی کو طرح طرح کی
زبانیں۔کسی کو زبانوں کو ترجمہ کرنا۔“[1]
اعمال کی کتاب کی ابتداء میں جن روحانی
نعمتوں کا ذکر ملتا ہے مثلاً شفا دینا، معجزات دکھانا، نبوت کرنا اور مختلف زبانوں
میں بولنا، وہی نعمتیں پولس کے قائم کردہ کلیسیائی حلقوں میں بھی پائی جاتی تھیں۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی فلسطینی اور پولسی دونوں کلیسیاؤں میں کرشماتی یا
روحانی تجربات روزمرہ کی مذہبی زندگی کا حصہ تھے۔ تاہم مصنف کے مطابق ان روحانی
مظاہر کے بارے میں پولس کا نقطۂ نظر فلسطینی یہودی-مسیحی حلقوں سے کسی حد تک مختلف
تھا۔ فلسطین میں ان غیر معمولی واقعات کو خدا کی رضا اور تائید کی علامت سمجھا
جاتا تھا لیکن پولس نے بعض روحانی مظاہر، خاص طور پر مختلف زبانوں میں بولنے (Glossolalia)، کو اپنی غیر یہودی کلیسیاؤں کی عبادت کے
دوران بعض اوقات نقصان دہ بھی قرار دیا۔
اعمال کی کتاب کے مطابق عیدِ پینتیکوست کے دن رسولوں نے جب
مختلف زبانوں میں کلام کیا تو وہاں موجود لوگ ان کی بات سمجھ رہے تھے[2]لیکن
کرنتھس کی کلیسیا میں جو ”زبانوں میں بولنا“ رائج تھا، وہ ایک ایسی وجدانی اور غیر
واضح گفتگو تھی جسے دوسروں کے لیے ناقابل تفہیم تھی۔ پولس اسے روح القدس کی تحریک
کا نتیجہ تو تسلیم کرتاتھا لیکن اس کے نزدیک اس کا فائدہ ہ پوری جماعت کے بجائے
فقط صرف بولنے والے شخص کو پہنچتا تھا۔یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ پولس نے عورتوں کو کلیسیا ئی مجمعے میں بولنے کی
اجازت نہیں دی تھی [3]اس
لیے اس بحث کا اطلاق عملی طور پر مردوں پر ہوتا تھا۔پولس کے خیال میں اگر کسی
نامعلوم زبان کی گفتگو کا کوئی مترجم موجود نہ ہو تو یہ عبادت گزاروں کے لیے سودمند
ہونے کے بجائے پیچیدگی و انتشار کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے وہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر
کوئی ترجمان موجود نہ ہو تو زبانوں میں کلام کرنے والا شخص خاموشی سے دل ہی دل میں
خدا سے مخاطب ہو کیونکہ اس کے الفاظ جماعت میں کسی کی سمجھ میں نہیں آئیں گے ۔[4]پولس
خود کہتا ہے کہ وہ کرنتھس کے تمام لوگوں سے زیادہ زبانوں میں بول سکتا ہے لیکن اس
کے باوجود وہ ایسی غیر واضح گفتگو کے بجائے قابلِ فہم تعلیم کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی
لیے وہ لکھتا ہے کہ ”میں تم سب سے زیادہ زبانیں بولتا ہوں لیکن کلیسیا میں بیگانہ
زبان میں دس ہزار باتیں کہنے سے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ اوروں کی تعلیم کے لیے
پانچ ہی باتیں عقل سے کہوں“۔[5]پولس
کے نزدیک سب سے افضل روحانی نعمت نبوت تھی کیونکہ اس سے پوری جماعت کی اصلاح اور تربیت
ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ کہتا ہےکہ جو نبوت کرتا ہے وہ اس شخص سے بڑا ہے جو زبانوں
میں بولتا ہےماسوائے یہ کہ کوئی اس کی بات کا ترجمہ کرے تاکہ کلیسیا کو فائدہ
پہنچے۔[6]عبادت
میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پولس نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایک مجلس میں زیادہ
سے زیادہ دو یا تین افراد ہی زبانوں میں بولیں یا نبوت کریں [7]تاکہ
روحانی جوش و خروش عبادت کے نظم میں خلل نہ ڈالے۔
مسیحی
طرزِ زندگی
ظاہری طرزِ زندگی اور عملی احکام کے اعتبار
سے پولس کے غیر یہودی مسیحی پیروکاروں کو شریعتِ موسوی کی بیشتر مذہبی اور غذائی
پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ ان پابندیوں میں سب سے نمایاں ختنہ تھاجو
ہر مرد یہودی پر لازمی تھا۔ پولس کا خیال تھا کہ اگر غیر یہودی مردوں پر بھی ختنہ
لازم کر دیا جائے تو اس سے مسیحیت ان کے لیے کم پرکشش ہو جائے گی۔ اس لیے رسولوں
کی کونسل کے فیصلے کے مطابق اس نے اپنے غیر یہودی پیروکاروں کو تورات کے بیشتر
مذہبی احکام سے آزاد رکھاالبتہ چند ایسی پابندیاں برقرار رہیں جنہیں یہودی اور یہودی-مسیحی
انتہائی اہم سمجھتے تھے۔ ان میں بتوں کے لیے قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت کھانا،
گلا گھونٹ کر مارے گئے جانوروں کا گوشت کھانا، خون پینا اور بعض ممنوعہ جنسی
تعلقات سے اجتناب شامل تھا ۔[8] ان
چند احکام کے علاوہ پولس نے غیر یہودی مسیحیوں پر تورات کے رسمی قوانین نافذ نہیں
کیے۔بتوں کے نام پر قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت ایک خاص مسئلہ بن گیا تھا
کیونکہ رومی معاشرے میں ایسا گوشت عام قصابوں کی دکانوں پر بھی فروخت ہوتا تھا۔
بعض مسیحیوں کا خیال تھا کہ چونکہ دوسرے مذاہب کے دیوتا حقیقت میں کوئی وجود نہیں
رکھتے، اس لیے ایسا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی بنیاد پر پولس نے انہیں
ہدایت دی کہ”جوکچھ قصابوں کی دکانوں میں بکتا ہے وہ کھاؤ اور دینی امتیاز کے سبب
سے کچھ نہ پوچھو “[9]لیکن
بعض دوسرے مسیحی اتنے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے نزدیک بتوں کے لیے قربان کیا گیا گوشت
کھانا ایسا تھا گویاشیطان کے دسترخوان میں شریک ہونا۔ وہ اس عمل سے سخت پریشان اور
دل آزردہ ہوتے تھے۔ اس لیے پولس نے ان لوگوں کو جو اپنے ایمان میں زیادہ مضبوط
تھے، نصیحت کی کہ اپنی آزادی کو اس طرح استعمال نہ کریں کہ کمزور ایمان رکھنے والے
بھائیوں کے لیے ٹھوکر کا باعث بن جائے۔ اس نے لکھاکہ خبردار! تمہاری یہ آزادی کسی
کمزور شخص کے لیے گمراہی کا سبب نہ بن جائے۔[10]
پولس کے خطوط میں اس کے پیروکاروں کے لیے
کوئی جامع ضابطۂ اخلاق موجود نہیں لیکن وہ اپنے متعدد خطوط کے آخری حصوں میں
اخلاقی ہدایات ضرور دیتا ہے۔ یہ ہدایات زیادہ تر اس زمانے کی یہودی اخلاقی تعلیمات
سے ماخوذ ہیں۔ ان میں سب سے مفصل فہرست رومیوں کے نام خط کے ابواب 12 تا 15 میں
ملتی ہے جہاں وہ مختلف اخلاقی اصول بیان کرتا ہے مثلاًاپنے بارے میں حد سے زیادہ
بلند رائے نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کے ساتھ پیش آؤ۔ مصیبت میں صبر
کرو۔ اجنبیوں کی مہمان نوازی کرو۔ آپس میں اتفاق اور ہم آہنگی سے زندگی گزارو۔ اگر
تمہارا دشمن بھوکا ہو تو اسے کھانا کھلاؤ۔ حکومتی حکام کی اطاعت کرو اور اپنے ٹیکس
ادا کرواور سب سے بڑھ کر اپنے پڑوسی سے اپنے جیسی محبت کرو۔
علاوہ ازیں پولس نے کرنتھس کی کلیسیا کے
ارکان کو ہدایت دی کہ وہ ہر ہفتے کے پہلے دن، یعنی اس دن جب مسیحی روٹی توڑنے
(عشائے ربانی) کے لیے جمع ہوتے تھے، اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں کی مدد کے لیے
کچھ رقم الگ رکھیں۔[11]
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی مسیحی عبادت صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں تھی
بلکہ اس کے ساتھ سماجی ذمہ داری اور محتاجوں کی امداد کو بھی بنیادی اہمیت حاصل
تھی۔گلتیوں کے نام اپنے خط میں پولس ”جسم کے اعمال“اور ”روح کے پھل“کے
درمیان واضح فرق بیان کرتا ہے۔ [12]جسم
کے اعمال میں وہ بدکاری، ناپاکی، بے راہ روی، بت پرستی، جادوگری، شراب نوشی اور
اسی نوع کی دوسری برائیوں کا ذکر کرتا ہے جبکہ روح کے پھل محبت، خوشی، اطمینان،
صبر، مہربانی، فیاضی اور ضبطِ نفس جیسی اخلاقی صفات ہیں۔ اس کے نزدیک ایک حقیقی
مسیحی کی زندگی انہی روحانی اوصاف سے مزین ہونی چاہیے۔پولس اپنے پیروکاروں کو بار
بار گھریلو اور معاشرتی زندگی میں امن، محبت اور ہم آہنگی اختیار کرنے کی تلقین
کرتا ہے۔ اس کے مطابق شوہروں کو چاہیے کہ اپنی بیویوں سے محبت کریں، بیویوں کو
اپنے شوہروں کا احترام اور اطاعت کرنی چاہیے، بچوں کو والدین کی عزت کرنی چاہیے،
والدین خصوصاً باپوں کو اپنی اولاد کے ساتھ سختی یا اشتعال انگیزی سے گریز کرنا
چاہیے، اور غلاموں کو اپنے مالکوں کے ساتھ وفاداری اور احترام کا برتاؤ کرنا
چاہیے۔
ان عمومی اخلاقی نصیحتوں کے علاوہ پولس بعض
ایسے احکام کا بھی ذکر کرتا ہے جنہیں وہ براہِ راست حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے
منسوب کرتا ہے۔ عشائے ربانی سے متعلق حکم [13]کے
علاوہ وہ دو اور احکام بیان کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا غالباً یہ خیال ہے کہ
وہ رسولی روایت کے ذریعے حضرت عیسیٰؑ سے منتقل ہوئے ہیں۔ پہلا حکم طلاق کی مکمل
ممانعت ہے [14]
جہاں وہ متی کی انجیل میں مذکور بدکاری کی استثنائی صورت [15]کا
کوئی ذکر نہیں کرتا۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ انجیل کی منادی کرنے والوں کا خرچ کلیسیا
کے ذمہ ہے یعنی جو لوگ تبلیغ اور دینی خدمت انجام دیتے ہیں، انہیں جماعت کی طرف سے
مالی تعاون ملنا چاہیے۔[16]ان
احکامات کے علاوہ پولس نے بعض ہدایات اپنی ذاتی رسولی حیثیت اور اختیار کی بنیاد
پر بھی دیں۔ ان میں ایک اہم ہدایت یہ تھی کہ چونکہ وہ آخری زمانے اور خدا کی
بادشاہی کے جلد آنے کا منتظر تھا، اس لیے وہ ایمانداروں کو مشورہ دیتا ہے کہ اپنی
ازدواجی حالت میں غیر ضروری تبدیلیاں نہ کریں بلکہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی توجہ
خدا کی بادشاہی کے حصول اور روحانی زندگی پر مرکوز رکھیں۔
”پس موجودہ مصیبت
کے خیال سے میری رائے میں آدمی کے لیے یہی بہتر ہے کہ جیسا ہے ویسا ہی رہے۔ اگر
تیری بیوی ہے تو اس سے جدا ہونے کی کوشش نہ کر اور اگر تیری بیوی نہیں تو بیوی کی
تلاش نہ کر لیکن تو بیاہ کرے بھی تو گناہ نہیں اور اگر کنواری بیاہی جائے تو گناہ
نہیں مگر ایسے لوگ جسمانی تکلیف پائیں گے اور میں تمہیں بچانا چاہتا ہوں۔ مگراے
بھائیو! میں یہ کہتا ہوں کہ وقت تنگ ہے۔ پس آگے کو چاہیے کہ بیوی والے ایسے ہوں کہ
گویا ان کی بیویاں نہیں اور رونے والے ایسے ہوں گویا نہیں روتے اور خوشی کرنے والے
ایسے ہوں گویا خوشی نہیں کرتے اور خریدنے والے ایسے ہوں گویا مال نہیں رکھتے اور
دنیوی کاروبار کرنے والے ایسے ہوں کہ دنیا ہی کے نہ ہو جائیں کیونکہ دنیا کی شکل
بدلتی جاتی ہے۔“[17]
پولس خود غیر شادی شدہ تھا، اس لیے وہ اپنے
پیروکاروں کو بھی ترغیب دیتا تھا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اسی طرزِ زندگی کو اختیار
کریں۔ تاہم، اس معاملے میں وہ اسینی زاہدوں کی طرح سخت گیر نہیں تھا۔ اس نے
تجرد کو کبھی بھی لازمی یا مذہبی فریضہ
قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک اختیاری اور پسندیدہ طرزِ زندگی کے طور پر پیش کیا۔جو
لوگ غیر شادی شدہ زندگی کو اپنے لیے ناقابلِ برداشت سمجھتے تھے، پولس نے انہیں
شادی کرنے کی اجازت دی [18]تاہم
اس نے خبردار کیا کہ چونکہ آخری زمانے کے ہولناک حالات قریب ہیں، اس لیے شادی شدہ
افراد کو غیر شادی شدہ لوگوں کی نسبت زیادہ مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا
پڑے گا ۔[19]پولس
نے ایک خاص ازدواجی مسئلے کا بھی عملی حل پیش کیا۔ اگر کسی مشرک یا غیر مسیحی میاں
بیوی میں سے ایک شخص مسیحیت قبول کر لیتا اور دوسرا فریق اس کے ساتھ ازدواجی زندگی
جاری رکھنے پر آمادہ ہوتاتو ان دونوں کو ایک ساتھ رہنے کی ہدایت دی گئی لیکن اگر غیر مسیحی شریکِ حیات علیحدگی اختیار
کرنا چاہتا یا ازدواجی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا تو پولس نے مسیحی فریق کو
دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دی ۔[20]
کلیسائی قانون میں یہ اصول ”پولسی استحقاق“(Pauline
Privilege) کے نام سے معروف
ہے اور آج بھی رومن کیتھولک کلیسا کے قانون Codex
Iuris Canonici دفعات 1143–1144 کا حصہ ہے۔
اسی طرح ایک اور مسئلہ بھی زیرِ بحث آتا
ہے، جسے ”کنوارے میاں بیوی“کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ ازدواجی جوڑے ہیں
جو باہمی رضامندی سے طویل عرصے یا مستقل طور پر ازدواجی تعلق قائم نہ کرنے کا عہد
کرتے تھے۔ اگر بعد میں شوہر کو محسوس ہوتا کہ وہ اپنے اس عہد پر قائم نہیں رہ سکتا
تو پولس نے اگرچہ پوری دلجمعی کے ساتھ نہیں لیکن اسے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی
اجازت دیتے ہوئے کہاکہاگر اس کے جذبات پر قابو نہ رہے اور ایسا کرنا ضروری معلوم
ہو، تو وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کر لے اور اس میں کوئی گناہ نہیں۔[21]آخر
میں، پولس نے بیوہ عورت کو بھی کسی مسیحی مرد سے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دی
لیکن اس کی رائے میں اگر وہ غیر شادی شدہ رہتی تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر اور
قابلِ تحسین ہوتا۔[22]
[1]
۱-کرنتھیوں۱۲: ۸-۱۰
[2]
اعمال
2 :6
[3]
1- کرنتھیوں 14 :34؛ 1- تیمتھیس 2 :11–12
[4]
1- کرنتھیوں 14 :2، 9–11
[5]
۱-کرنتھیوں 14 :18–19
[6]
۱-کرنتھیوں 14 :5
[7]
1- کرنتھیوں 14 :27–29
[8]
اعمال
15: 19–21
[9]
1- کرنتھیوں 10 :25
[10]
۱-کرنتھیوں 8 :1–10؛ 10 :19–21، 26–29؛ رومیوں 14 :13–21
[11]
1- کرنتھیوں 16 :2؛ اعمال 20 :7؛ دیداخے 14 :1
[12]
گلتیوں
5: 19–23
[13]
1- کرنتھیوں 11 :23
[14]
1- کرنتھیوں 7 :10–11
[15]
متی
5 :32؛ 19 :9
[16]
1- کرنتھیوں 9: 14
[17]
۱-کرنتھیوں ۷: ۲۶- ۳۱
[18]
1- کرنتھیوں 7 :8-9
[19]
1- کرنتھیوں 7 :28
[20]
1- کرنتھیوں 7 :12-15
[21]
1- کرنتھیوں 7 :36-38
[22]
1- کرنتھیوں 7 :40


