Pages

Most Popular

جمعہ، 30 اکتوبر، 2026

پولوسی کلیساءکے خدام (قسط چہارم)

 

پولسی کلیسا کے خادم

مترجم: ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ
ابتدائی یہودی-مسیحی کلیسا چونکہ جغرافیائی لحاظ سے محدود اور تعداد کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹا تھا اس لیے اس کی قیادت بنیادی طور پر پطرس اور باقی گیارہ رسولوں، حضرت عیسیٰؑ کے بھائی یعقوب اور غالباً حضرت عیسیٰؑ کے خاندان کے دیگر افراد پر مشتمل تھی ۔[1] ان کے علاوہ چند ایسے افراد بھی تھے جنہیں کلیسا کی قیادت نے مختلف ذمہ داریوں کے لیے منتخب کیا تھا مثلاً سات خادم (ڈیکن)، یہوداہ برسباس، سیلاس اور برنباس۔ برنباس اور سیلاس پولس کے رفقائے کار تھے جبکہ برنباس کا بھانجا یوحنا مرقس بھی پولس اور بعد ازاں پطرس دونوں کا ساتھی رہا ۔[2] روایتی طور پر قدیم ترین انجیل کی تصنیف بھی اسی یوحنا مرقس سے منسوب کی جاتی ہے۔

فلسطین میں رسولوں کے لیے مقامی کلیسیاؤں کی نگرانی نسبتاً آسان تھی کیونکہ وہ سب یروشلم کے قریب واقع تھیں لیکن شام، ایشیائے کوچک، یونان اور اٹلی تک پھیلی ہوئی پولس کی کلیسیائیں اتنی وسیع اور منتشر تھیں کہ پولس کے لیے ان سب کی براہِ راست نگرانی کرنا ممکن نہ رہا۔اگرچہ وہ وقتاً فوقتاً اپنی قائم کردہ کلیسیاؤں کا دورہ کرتا یا اپنے قابلِ اعتماد نمائندوں تیمتھیس، ططس اور سیلاس وغیرہ کو وہاں بھیجتا تھا تاکہ وہ جماعتوں کی نگرانی کریں لیکن جلد ہی اسے احساس ہوگیا کہ اگر ان نئی کلیسیاؤں کے لیے مضبوط انتظامی ڈھانچہ قائم نہ کیا گیا تو وہ منتشر ہو جائیں گی۔پولس کے بیشتر نووارد پیروکار عام یونانی عوام سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں زیادہ تر نچلے طبقے کے سادہ لوح افراد تھے، اگرچہ چند خوش حال تاجر اور ہنرمند بھی شامل تھے۔ پولس کی نظر میں یہ لوگ ابھی اس قابل نہیں ہوئے تھے کہ اپنی مذہبی جماعتوں کا نظم و نسق خود سنبھال سکیں۔اسی لیے اس نے ان کلیسیاؤں کے لیے ایک نیا انتظامی نظام وضع کیا۔ یہ نظام یہودی عبادت گاہوں (سیناگوگ) کی طرح بزرگوں کی اجتماعی مجلس پر مبنی نہیں تھا بلکہ ہر جماعت کی سربراہی ایک واحد نگران (بشپ) کے سپرد کی جاتی تھی جس کی معاونت پریسبیٹرز (بزرگ)، مرد و خواتین خادم (ڈیکن اور ڈیکنیس) اور خیراتی خدمات انجام دینے والی بیوائیں کرتی تھیں۔ اس انتظامی ماڈل کی سب سے نمایاں مثال صحائفِ بحرِ مردار میں ملتی ہے جہاں ہر جماعت کی قیادت ایک مذہبی نگران کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ غالب امکان یہی ہے کہ پولس نے اپنی غیر یہودی کلیسیاؤں کی تنظیم کے لیے اسی نمونے سے رہنمائی حاصل کی۔کلیسائی روایت کے مطابق پولس کے دو قریبی ساتھی تیمتھیس، جس کی ماں یہودی اور باپ غیر یہودی تھا اور ططس، جو خود غیر یہودی تھا،بالترتیب افسس اور کریت کے پہلے بشپ مقرر کیے گئے۔

بشپ کے فرائض اور اس منصب کے لیے امیدوار میں مطلوب اوصاف کا ذکر پاسبانی خطوط یعنی تیمتھیس کےنام دونوں اور ططس کے نام خط   میں ملتا ہے۔ عام طور پر محققین کی رائے ہے کہ یہ خطوط خود پولس نے نہیں لکھے بلکہ اس کے شاگردوں نے اس کی تعلیمات کی روشنی میں تحریر کیے اور انہیں پولس ہی کے نام سے منسوب کیا۔ اسی بنا پر انہیں ڈیوٹرو-پولسی (Deutero-Pauline) تحریریں کہا جاتا ہے۔ان خطوط میں بشپ کے لیے جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اس معاشرتی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں جس سے پولسی کلیسا کے زیادہ تر افراد تعلق رکھتے تھے۔ ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے تک وہ شدید جوش و جذبہ، جسے حضرت عیسیٰؑ  نے فروغ دیا تھا اور جسے پولس نے اپنی ابتدائی تبلیغ میں نمایاں رکھا، بتدریج ماند پڑنے لگا تھا۔

پاسبانی  خطوط اور تعلیمِ بارہ رسول (Didache)کے مطابق بشپ کو علمی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے نمایاں شخصیت ہونا چاہیے ۔[3]اسے ایک اچھا معلم اور مضبوط مناظر ہونا چاہیے جو صحیح تعلیم پر کامل عبور رکھتا ہو اور گمراہ کن نظریات کی مؤثر تردید کر سکے۔ خاص طور پر اسے ان لوگوں کا مقابلہ کرنا آنا چاہیے جو ”یہودی افسانوں“کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سے غالباً مراد وہ افراد ہیں جو غیر یہودی نوواردوں پر ختنہ اور شریعتِ موسوی کے دیگر احکام نافذ کرنے کے حامی تھے۔بشپ کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ نیا نیا مسیحی نہ ہو کیونکہ جلد منصب ملنے سے تکبر پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا تھا۔تعلیم دینا اور عقیدے کا دفاع کرنا ہی اس کی واحد ذمہ داری نہیں تھی۔ چونکہ اسے ”خدا کا منتظم“سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس پر جماعت کی روحانی نگہداشت بھی لازم تھی۔ اس سلسلے میں بحرِ مردار کے مخطوطات میں شامل دمشق دستاویز ایک دلچسپ مماثلت پیش کرتی ہے جہاں جماعت کے نگران کو ایسے باپ اور چرواہے سے تشبیہ دی گئی ہے جو محبت کے ساتھ اپنے افراد کی حفاظت اور رہنمائی کرتا ہے۔[4]اس کے علاوہ کلیسا کے مالی وسائل کی نگرانی بھی بنیادی طور پر بشپ کی ذمہ داری تھی۔ اسی لیے اس کے لیے لازم تھا کہ وہ لالچی یا دولت کا حریص نہ ہو۔

سب سے بڑھ کر بشپ کو اپنی زندگی کے ذریعے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بننا چاہیے تھا۔ اس کا کردار بے داغ ہو، وہ سمجھ دار، اعتدال پسند، شراب نوشی سے دور، نرم خو، ضبطِ نفس کا مالک اور غیر مسیحیوں کے درمیان بھی اچھی شہرت رکھنے والا ہو۔یہ بات رومن کیتھولک روایت سے واقف قارئین کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے، جہاں پادریوں کی مجرد زندگی(Celibacy)کو لازمی سمجھا جاتا ہے لیکن پولسی کلیسا میں صورتِ حال اس کے برعکس تھی۔ وہاں بشپ کے لیے شادی شدہ ہونا ایک مطلوبہ شرط تھی۔ اس سے مراد یہ تھا کہ وہ اپنی زندگی میں صرف ایک ہی شادی کر چکا ہو، اگر اس کی بیوی وفات پا جاتی تو اسے دوبارہ شادی کی اجازت نہیں تھی۔اس اصول کے پیچھے یہ تصور کارفرما تھا کہ جو شخص اپنے گھرانے کی اچھی نگرانی کر سکتا ہے اور اپنی اولاد کی درست تربیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ کلیسا کی جماعت کی بھی بہتر رہنمائی کر سکے گا۔تاہم اگر انہی شرائط کو معیار بنایا جائے تو خود پولس، جو اپنی غیر شادی شدہ زندگی کا اعتراف کرتا ہے بلکہ حضرت عیسیٰؑ بھی، بشپ کے اس معزز اور دشوار منصب کے لیے اہل قرار نہ پاتے۔

پریسبیٹر (Presbyters) یا کاہن بشپ کے اہم معاون ہوتے تھے۔ وہ تبلیغ، تعلیم اور جماعت کی روحانی نگہداشت میں بشپ کے شریکِ کار تھے۔ ان کے لیے بھی وہی بنیادی شرائط مقرر تھیں جو بشپ کے لیے تھیں یعنی وہ ایک ہی شادی کر چکے ہوں، دیندار خاندان کے سربراہ ہوں اور اپنی خدمات کے عوض اپنی جماعت کی طرف سے مالی معاونت حاصل کرنے کے حق دار ہوں ۔[5]

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ نہ پاسبانی  خطوط اور نہ ہی بارہ رسولوں کی تعلیم(Didache)میں بشپ یا پریسبیٹر کے لیے عشائے ربانی(Lord's Supper)کی رسم ادا کرانے کا کوئی مخصوص منصب یا اختیار بیان کیا گیا ہے۔ ان کی ذمہ داریاں بنیادی طور پر تعلیم، تبلیغ اور روحانی رہنمائی تک محدود تھیں۔ عشائے ربانی ایک اجتماعی عبادت تھی جبکہ دوسرا اہم مذہبی عمل یعنی بپتسمہ بھی کسی مخصوص منصب کے ساتھ وابستہ نہیں تھا اور اسے کوئی بھی شخص انجام دے سکتا تھا۔

جہاں تک ڈیکن (Deacons) کا تعلق ہے تو تیمتھیس  کے نام پہلے خط میں ان کے فرائض کی واضح تفصیل نہیں ملتی البتہ اعمال کی کتاب وں انہیں معاشرتی اور فلاحی خدمات انجام دینے والے کارکنوں کے طور پر پیش کرتی ہے ۔[6] ان کے ایمان کی پختگی کو جانچا جاتا تھا اور ان کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ شادی شدہ ہوں، اپنے گھرانے کےکفیل ہوں اور اخلاقی اعتبار سے انہی اعلیٰ اوصاف کے حامل ہوں جو بشپ کے لیے مطلوب تھے۔

عورتوں کو بھی ڈیکنیس(Deaconess)کی حیثیت سے خدمت انجام دینے کی اجازت تھی۔ اس کی ایک نمایاں مثال کنخریہ کی فتیبے ہے ۔[7] ان کا بنیادی فریضہ کلیسا کے ایسے افراد کی خدمت اور نگہداشت تھا جو مدد کے محتاج ہوتے تھے۔یہ منصب صرف ایسی دیندار بیوہ عورتوں کے لیے مخصوص تھا جن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہو جنہوں نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی شادی کی ہو اور جو نہ صرف اچھی مائیں اور دادی نانیاں ثابت ہوئی ہوں بلکہ پوری زندگی مہمان نوازی، مقدسین کی خدمت (مقدسین کے پاؤں دھونا)، مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت اور دیگر نیک کاموں میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہوں۔اس کے برعکس ساٹھ برس سے کم عمر بیواؤں کو اس منصب کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ اندیشہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ وہ بعد میں دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ کر سکتی ہیں  یا فضول گفتگو اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت کی عادت میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔[8]

پاسبانی  خطوط میں بیان کردہ یہ کلیسائی انتظامی ڈھانچہ واضح طور پر اس دور کی نمائندگی کرتا ہے جو رسولوں کے زمانے کے بعد وجود میں آیا۔ بشپ، پریسبیٹر، ڈیکن اور ڈیکنیس پر مشتمل یہ تنظیم ایسے فکری ماحول کی عکاس ہے جس میں توجہ اب خدا کی بادشاہی یا مسیح کی فوری آمد کے انتظار پر نہیں رہی تھی  بلکہ ایک ایسے طویل المدت مستقبل پر مرکوز ہو چکی تھی جس میں مسیحی جماعت کی تنظیم، نگہداشت اور بقا بنیادی اہمیت اختیار کر گئی تھی۔دوسرے لفظوں میں وہ دور جس پر قیامت اور مسیح کی عنقریب واپسی کی توقع غالب تھی، بتدریج ختم ہو رہا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسی منظم کلیسا لے رہی تھی جو وقت، معاشرے اور تاریخ کے اندر مستقل ادارے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔




[1] 1 -کرنتھیوں 9 :5

[2] 1- پطرس 5 :13

[3] 1- تیمتھیس 3 :2-7؛ ططس 1 :7-13؛ دیداخے 15 :1

[4] Cairo Damascus Document13:7-10

[5] 1 -تیمتھیس 5 :17-18؛ ططس 1 :6

[6] اعمال 6 :2

[7] رومیوں 16 :1

[8] 1- تیمتھیس 5 :3-13




مکمل تحریر >>

منگل، 27 اکتوبر، 2026

پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات (ظاہری رسومات و طرززندگی)

 











پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

(قسط سوم)

روحانی  مظاہر

حضرت عیسیٰؑ کی دعوت اور ابتدائی فلسطینی رسولی کلیسیا کی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت روحانی یا کرشماتی مظاہر (Charismatic Manifestations) تھے۔ اعمال کی کتاب  کے مطابق ان میں مختلف زبانیں بولنا،بیماروں کوشفادینااور فرشتوں کےظہور جیسےغیر معمولی واقعات شامل تھے۔ یہی روحانی کیفیت پولس کی قائم کردہ کلیسیاؤں میں بھی موجود تھی۔اگر کرنتھس کی کلیسیا کو بطور نمونہ دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر یہودی مسیحی جماعتوں میں بھی یہ روحانی مظاہر عام تھے۔پولس کے نزدیک یہ روحانی نعمتیں محض ذاتی فضیلت یا انفرادی عظمت کا اظہار نہیں تھیں، بلکہ ان کا مقصد پوری کلیسیا کی بھلائی اور تعمیر تھا۔ اسی لیے وہ روح القدس کی عطا کردہ مختلف قسم کی نو روحانی نعمتوں (Spiritual Gifts) کا ذکر کرتا ہے جنہیں خدا نے جماعت کے مشترکہ فائدے کے لیے عطا کیا تھا۔ اس طرح پولس کے نزدیک کرشماتی مظاہر ابتدائی مسیحی زندگی کا ایک لازمی حصہ تھے تاہم ان کا صحیح استعمال ذاتی شہرت یا برتری کے اظہار کے بجائے پوری جماعت کی خدمت، اتحاد اور روحانی ترقی کے لیے ہونا چاہیے تھا۔

”کیونکہ ایک کو روح کے وسیلہ سے حکمت کا کلام عنایت ہوتا ہے اور دوسرے کو اسی روح کی موافق علمیت کا کلام۔کسی کو اسی روح سے ایمان اور کسی کو اسی ایک روح سے شفا دینے کی تووفیق۔ کسی کو معجزوں کی قدرت۔ کسی کو نبوت کی۔ کسی کو روحوں کاامتیاز۔کسی کو طرح طرح کی زبانیں۔کسی کو زبانوں کو ترجمہ کرنا۔“[1]

اعمال کی کتاب کی ابتداء میں جن روحانی نعمتوں کا ذکر ملتا ہے مثلاً شفا دینا، معجزات دکھانا، نبوت کرنا اور مختلف زبانوں میں بولنا، وہی نعمتیں پولس کے قائم کردہ کلیسیائی حلقوں میں بھی پائی جاتی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی فلسطینی اور پولسی دونوں کلیسیاؤں میں کرشماتی یا روحانی تجربات روزمرہ کی مذہبی زندگی کا حصہ تھے۔ تاہم مصنف کے مطابق ان روحانی مظاہر کے بارے میں پولس کا نقطۂ نظر فلسطینی یہودی-مسیحی حلقوں سے کسی حد تک مختلف تھا۔ فلسطین میں ان غیر معمولی واقعات کو خدا کی رضا اور تائید کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن پولس نے بعض روحانی مظاہر، خاص طور پر مختلف زبانوں میں بولنے (Glossolalia)، کو اپنی غیر یہودی کلیسیاؤں کی عبادت کے دوران بعض اوقات نقصان دہ بھی قرار دیا۔

اعمال کی کتاب  کے مطابق عیدِ پینتیکوست کے دن رسولوں نے جب مختلف زبانوں میں کلام کیا تو وہاں موجود لوگ ان کی بات سمجھ رہے تھے[2]لیکن کرنتھس کی کلیسیا میں جو ”زبانوں میں بولنا“ رائج تھا، وہ ایک ایسی وجدانی اور غیر واضح گفتگو تھی جسے دوسروں کے لیے ناقابل تفہیم تھی۔ پولس اسے روح القدس کی تحریک کا نتیجہ تو تسلیم کرتاتھا لیکن اس کے نزدیک اس کا فائدہ ہ پوری جماعت کے بجائے فقط صرف بولنے والے شخص کو پہنچتا تھا۔یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ  پولس نے عورتوں کو کلیسیا ئی مجمعے میں بولنے کی اجازت نہیں دی تھی [3]اس لیے اس بحث کا اطلاق عملی طور پر مردوں پر ہوتا تھا۔پولس کے خیال میں اگر کسی نامعلوم زبان کی گفتگو کا کوئی مترجم موجود نہ ہو تو یہ عبادت گزاروں کے لیے سودمند ہونے کے بجائے پیچیدگی و انتشار کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے وہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر کوئی ترجمان موجود نہ ہو تو زبانوں میں کلام کرنے والا شخص خاموشی سے دل ہی دل میں خدا سے مخاطب ہو کیونکہ اس کے الفاظ جماعت میں کسی کی سمجھ میں نہیں آئیں گے ۔[4]پولس خود کہتا ہے کہ وہ کرنتھس کے تمام لوگوں سے زیادہ زبانوں میں بول سکتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایسی غیر واضح گفتگو کے بجائے قابلِ فہم تعلیم کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے کہ ”میں تم سب سے زیادہ زبانیں بولتا ہوں لیکن کلیسیا میں بیگانہ زبان میں دس ہزار باتیں کہنے سے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ اوروں کی تعلیم کے لیے پانچ ہی باتیں عقل سے کہوں“۔[5]پولس کے نزدیک سب سے افضل روحانی نعمت نبوت تھی  کیونکہ اس سے پوری جماعت کی اصلاح اور تربیت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ کہتا ہےکہ جو نبوت کرتا ہے وہ اس شخص سے بڑا ہے جو زبانوں میں بولتا ہےماسوائے یہ کہ کوئی اس کی بات کا ترجمہ کرے تاکہ کلیسیا کو فائدہ پہنچے۔[6]عبادت میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پولس نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایک مجلس میں زیادہ سے زیادہ دو یا تین افراد ہی زبانوں میں بولیں یا نبوت کریں [7]تاکہ روحانی جوش و خروش عبادت کے نظم میں خلل نہ ڈالے۔

 

مسیحی طرزِ زندگی

ظاہری طرزِ زندگی اور عملی احکام کے اعتبار سے پولس کے غیر یہودی مسیحی پیروکاروں کو شریعتِ موسوی کی بیشتر مذہبی اور غذائی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ ان پابندیوں میں سب سے نمایاں ختنہ تھاجو ہر مرد یہودی پر لازمی تھا۔ پولس کا خیال تھا کہ اگر غیر یہودی مردوں پر بھی ختنہ لازم کر دیا جائے تو اس سے مسیحیت ان کے لیے کم پرکشش ہو جائے گی۔ اس لیے رسولوں کی کونسل کے فیصلے کے مطابق اس نے اپنے غیر یہودی پیروکاروں کو تورات کے بیشتر مذہبی احکام سے آزاد رکھاالبتہ چند ایسی پابندیاں برقرار رہیں جنہیں یہودی اور یہودی-مسیحی انتہائی اہم سمجھتے تھے۔ ان میں بتوں کے لیے قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت کھانا، گلا گھونٹ کر مارے گئے جانوروں کا گوشت کھانا، خون پینا اور بعض ممنوعہ جنسی تعلقات سے اجتناب شامل تھا ۔[8] ان چند احکام کے علاوہ پولس نے غیر یہودی مسیحیوں پر تورات کے رسمی قوانین نافذ نہیں کیے۔بتوں کے نام پر قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت ایک خاص مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ رومی معاشرے میں ایسا گوشت عام قصابوں کی دکانوں پر بھی فروخت ہوتا تھا۔ بعض مسیحیوں کا خیال تھا کہ چونکہ دوسرے مذاہب کے دیوتا حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتے، اس لیے ایسا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی بنیاد پر پولس نے انہیں ہدایت دی کہ”جوکچھ قصابوں کی دکانوں میں بکتا ہے وہ کھاؤ اور دینی امتیاز کے سبب سے کچھ نہ پوچھو “[9]لیکن بعض دوسرے مسیحی اتنے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے نزدیک بتوں کے لیے قربان کیا گیا گوشت کھانا ایسا تھا گویاشیطان کے دسترخوان میں شریک ہونا۔ وہ اس عمل سے سخت پریشان اور دل آزردہ ہوتے تھے۔ اس لیے پولس نے ان لوگوں کو جو اپنے ایمان میں زیادہ مضبوط تھے، نصیحت کی کہ اپنی آزادی کو اس طرح استعمال نہ کریں کہ کمزور ایمان رکھنے والے بھائیوں کے لیے ٹھوکر کا باعث بن جائے۔ اس نے لکھاکہ خبردار! تمہاری یہ آزادی کسی کمزور شخص کے لیے گمراہی کا سبب نہ بن جائے۔[10]

پولس کے خطوط میں اس کے پیروکاروں کے لیے کوئی جامع ضابطۂ اخلاق موجود نہیں لیکن وہ اپنے متعدد خطوط کے آخری حصوں میں اخلاقی ہدایات ضرور دیتا ہے۔ یہ ہدایات زیادہ تر اس زمانے کی یہودی اخلاقی تعلیمات سے ماخوذ ہیں۔ ان میں سب سے مفصل فہرست رومیوں کے نام خط کے ابواب 12 تا 15 میں ملتی ہے جہاں وہ مختلف اخلاقی اصول بیان کرتا ہے مثلاًاپنے بارے میں حد سے زیادہ بلند رائے نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کے ساتھ پیش آؤ۔ مصیبت میں صبر کرو۔ اجنبیوں کی مہمان نوازی کرو۔ آپس میں اتفاق اور ہم آہنگی سے زندگی گزارو۔ اگر تمہارا دشمن بھوکا ہو تو اسے کھانا کھلاؤ۔ حکومتی حکام کی اطاعت کرو اور اپنے ٹیکس ادا کرواور سب سے بڑھ کر اپنے پڑوسی سے اپنے جیسی محبت کرو۔

علاوہ ازیں پولس نے کرنتھس کی کلیسیا کے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ ہر ہفتے کے پہلے دن، یعنی اس دن جب مسیحی روٹی توڑنے (عشائے ربانی) کے لیے جمع ہوتے تھے، اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں کی مدد کے لیے کچھ رقم الگ رکھیں۔[11] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی مسیحی عبادت صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ سماجی ذمہ داری اور محتاجوں کی امداد کو بھی بنیادی اہمیت حاصل تھی۔گلتیوں کے نام اپنے خط میں پولس ”جسم کے اعمال“اور ”روح کے پھل“کے درمیان واضح فرق بیان کرتا ہے۔ [12]جسم کے اعمال میں وہ بدکاری، ناپاکی، بے راہ روی، بت پرستی، جادوگری، شراب نوشی اور اسی نوع کی دوسری برائیوں کا ذکر کرتا ہے جبکہ روح کے پھل محبت، خوشی، اطمینان، صبر، مہربانی، فیاضی اور ضبطِ نفس جیسی اخلاقی صفات ہیں۔ اس کے نزدیک ایک حقیقی مسیحی کی زندگی انہی روحانی اوصاف سے مزین ہونی چاہیے۔پولس اپنے پیروکاروں کو بار بار گھریلو اور معاشرتی زندگی میں امن، محبت اور ہم آہنگی اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس کے مطابق شوہروں کو چاہیے کہ اپنی بیویوں سے محبت کریں، بیویوں کو اپنے شوہروں کا احترام اور اطاعت کرنی چاہیے، بچوں کو والدین کی عزت کرنی چاہیے، والدین خصوصاً باپوں کو اپنی اولاد کے ساتھ سختی یا اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے، اور غلاموں کو اپنے مالکوں کے ساتھ وفاداری اور احترام کا برتاؤ کرنا چاہیے۔

ان عمومی اخلاقی نصیحتوں کے علاوہ پولس بعض ایسے احکام کا بھی ذکر کرتا ہے جنہیں وہ براہِ راست حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے منسوب کرتا ہے۔ عشائے ربانی سے متعلق حکم [13]کے علاوہ وہ دو اور احکام بیان کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا غالباً یہ خیال ہے کہ وہ رسولی روایت کے ذریعے حضرت عیسیٰؑ سے منتقل ہوئے ہیں۔ پہلا حکم طلاق کی مکمل ممانعت ہے [14] جہاں وہ متی کی انجیل میں مذکور بدکاری کی استثنائی صورت [15]کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ انجیل کی منادی کرنے والوں کا خرچ کلیسیا کے ذمہ ہے یعنی جو لوگ تبلیغ اور دینی خدمت انجام دیتے ہیں، انہیں جماعت کی طرف سے مالی تعاون ملنا چاہیے۔[16]ان احکامات کے علاوہ پولس نے بعض ہدایات اپنی ذاتی رسولی حیثیت اور اختیار کی بنیاد پر بھی دیں۔ ان میں ایک اہم ہدایت یہ تھی کہ چونکہ وہ آخری زمانے اور خدا کی بادشاہی کے جلد آنے کا منتظر تھا، اس لیے وہ ایمانداروں کو مشورہ دیتا ہے کہ اپنی ازدواجی حالت میں غیر ضروری تبدیلیاں نہ کریں بلکہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی توجہ خدا کی بادشاہی کے حصول اور روحانی زندگی پر مرکوز رکھیں۔

”پس موجودہ مصیبت کے خیال سے میری رائے میں آدمی کے لیے یہی بہتر ہے کہ جیسا ہے ویسا ہی رہے۔ اگر تیری بیوی ہے تو اس سے جدا ہونے کی کوشش نہ کر اور اگر تیری بیوی نہیں تو بیوی کی تلاش نہ کر لیکن تو بیاہ کرے بھی تو گناہ نہیں اور اگر کنواری بیاہی جائے تو گناہ نہیں مگر ایسے لوگ جسمانی تکلیف پائیں گے اور میں تمہیں بچانا چاہتا ہوں۔ مگراے بھائیو! میں یہ کہتا ہوں کہ وقت تنگ ہے۔ پس آگے کو چاہیے کہ بیوی والے ایسے ہوں کہ گویا ان کی بیویاں نہیں اور رونے والے ایسے ہوں گویا نہیں روتے اور خوشی کرنے والے ایسے ہوں گویا خوشی نہیں کرتے اور خریدنے والے ایسے ہوں گویا مال نہیں رکھتے اور دنیوی کاروبار کرنے والے ایسے ہوں کہ دنیا ہی کے نہ ہو جائیں کیونکہ دنیا کی شکل بدلتی جاتی ہے۔“[17]

پولس خود غیر شادی شدہ تھا، اس لیے وہ اپنے پیروکاروں کو بھی ترغیب دیتا تھا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اسی طرزِ زندگی کو اختیار کریں۔ تاہم، اس معاملے میں وہ اسینی زاہدوں کی طرح سخت گیر نہیں تھا۔ اس نے تجرد  کو کبھی بھی لازمی یا مذہبی فریضہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک اختیاری اور پسندیدہ طرزِ زندگی کے طور پر پیش کیا۔جو لوگ غیر شادی شدہ زندگی کو اپنے لیے ناقابلِ برداشت سمجھتے تھے، پولس نے انہیں شادی کرنے کی اجازت دی [18]تاہم اس نے خبردار کیا کہ چونکہ آخری زمانے کے ہولناک حالات قریب ہیں، اس لیے شادی شدہ افراد کو غیر شادی شدہ لوگوں کی نسبت زیادہ مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔[19]پولس نے ایک خاص ازدواجی مسئلے کا بھی عملی حل پیش کیا۔ اگر کسی مشرک یا غیر مسیحی میاں بیوی میں سے ایک شخص مسیحیت قبول کر لیتا اور دوسرا فریق اس کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھنے پر آمادہ ہوتاتو ان دونوں کو ایک ساتھ رہنے کی ہدایت دی گئی  لیکن اگر غیر مسیحی شریکِ حیات علیحدگی اختیار کرنا چاہتا یا ازدواجی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا تو پولس نے مسیحی فریق کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دی ۔[20] کلیسائی قانون میں یہ اصول ”پولسی استحقاق“(Pauline Privilege) کے نام سے معروف ہے اور آج بھی رومن کیتھولک کلیسا کے قانون Codex Iuris Canonici دفعات 1143–1144 کا حصہ ہے۔

اسی طرح ایک اور مسئلہ بھی زیرِ بحث آتا ہے، جسے ”کنوارے میاں بیوی“کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ ازدواجی جوڑے ہیں جو باہمی رضامندی سے طویل عرصے یا مستقل طور پر ازدواجی تعلق قائم نہ کرنے کا عہد کرتے تھے۔ اگر بعد میں شوہر کو محسوس ہوتا کہ وہ اپنے اس عہد پر قائم نہیں رہ سکتا تو پولس نے اگرچہ پوری دلجمعی کے ساتھ نہیں لیکن اسے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہاکہاگر اس کے جذبات پر قابو نہ رہے اور ایسا کرنا ضروری معلوم ہو، تو وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کر لے اور  اس میں کوئی گناہ نہیں۔[21]آخر میں، پولس نے بیوہ عورت کو بھی کسی مسیحی مرد سے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دی لیکن اس کی رائے میں اگر وہ غیر شادی شدہ رہتی تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر اور قابلِ تحسین ہوتا۔[22]

 



[1] ۱-کرنتھیوں۱۲: ۸-۱۰

[2] اعمال 2 :6

[3] 1- کرنتھیوں 14 :34؛ 1- تیمتھیس 2 :11–12

[4] 1- کرنتھیوں 14 :2، 9–11

[5] ۱-کرنتھیوں 14 :18–19

[6] ۱-کرنتھیوں 14 :5

[7] 1- کرنتھیوں 14 :27–29

[8] اعمال 15: 19–21

[9] 1- کرنتھیوں 10 :25

[10] ۱-کرنتھیوں 8 :1–10؛ 10 :19–21، 26–29؛ رومیوں 14 :13–21

[11] 1- کرنتھیوں 16 :2؛ اعمال 20 :7؛ دیداخے 14 :1

[12] گلتیوں 5: 19–23

[13] 1- کرنتھیوں 11 :23

[14] 1- کرنتھیوں 7 :10–11

[15] متی 5 :32؛  19 :9

[16] 1- کرنتھیوں 9: 14

[17] ۱-کرنتھیوں ۷: ۲۶- ۳۱

[18] 1- کرنتھیوں 7 :8-9

[19] 1- کرنتھیوں 7 :28

[20] 1- کرنتھیوں 7 :12-15

[21] 1- کرنتھیوں 7 :36-38

[22] 1- کرنتھیوں 7 :40


مکمل تحریر >>

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

 












پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

مترجم:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ

بپتسمہ

پولس کے غیر یہودی سامعین کو مسیحی بنانے کے لیے سب سے پہلے ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ پولس کی منادی پر ایمان لائیں یعنی یہ تسلیم کریں کہ حضرت عیسیٰؑ مصلوب ہوئے، پھر زندہ کیے گئے اور وہی نجات دہندہ ہیں۔ اس ایمان کے بعد انہیں حضرت عیسیٰؑ کے نام پر بپتسمہ دیا جاتا تھا۔ جب کرنتھس کی کلیسیا مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئی اور ہر گروہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی رہنما مثلاً پولس، اپلوس یا کیفا (پطرس) سے منسوب کرنے لگا تو پولس نے ان سے سوال کیاکہ کیا تم پولس کے نام پر بپتسمہ لیے تھے؟[1] اس سوال کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ بپتسمہ کسی انسانی رہنما کے نام پر نہیں بلکہ صرف حضرت عیسیٰؑ مسیح کے نام پر دیا جاتا ہے۔ تاہم پولس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کی بنیادی ذمہ داری بپتسمہ دینا نہیں بلکہ انجیل کی تبلیغ کرنا تھی [2]اس لیے وہ بپتسمہ دینے کا کام عموماً اپنے ساتھیوں کے سپرد کر دیتا تھا، صرف چند افراد کو اس نے خود بپتسمہ دیا۔

اگرچہ پولس نے روح القدس کی عطا کردہ روحانی نعمتوں(Charismatic Gifts)پر بہت زور دیا لیکن اعمال کی کتاب  کے مصنف کے برعکس اس نے کبھی روح القدس کی ان نعمتوں کو بپتسمہ کے ساتھ براہِ راست وابستہ نہیں کیا۔ اس کی اصل توجہ بپتسمہ کے ظاہری عمل پر نہیں بلکہ اس کے روحانی مفہوم پر تھی۔ اپنے نظریہِ نجات کے مطابق پولس بپتسمہ کو حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور دوبارہ زندہ ہونے کی ایک علامتی اور روحانی بازآفرینی قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک جب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے تو گویا وہ علامتی طور پر مسیح کے ساتھ مر جاتا ہے، دفن ہوتا ہے اور پھر ایک نئی روحانی زندگی کے لیے زندہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح پولس نے ایک عام یہودی طہارت کے رسمی عمل کو ایک بالکل نیا مذہبی اور علامتی مفہوم عطا کیا۔

یہودی مذہب میں پانی میں غوطہ لگانے کا مقصد بنیادی طور پر رسمی طہارت حاصل کرنا تھا۔ یہ عمل جسمانی ناپاکی مثلاًجنسی تعلق، حیض، ولادت، بعض جِلدی یا جسمانی بیماریوں یا مردہ جسم کو چھونے سے پیدا ہونے والی نجاست کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ بعد میں حضرت یحییٰؑ اصطباغی  کے بپتسمہ نے اس عمل کو ایک اخلاقی اور روحانی معنی بھی دیا جہاں بپتسمہ گناہوں سے توبہ اور ان کی آلودگی سے پاک ہونے کی علامت بن گیا۔ یہی تطہیری تصور ان رسومات میں بھی برقرار رہا جو صرف ایک مرتبہ ادا کی جاتی تھیں مثلاً یہودیت قبول کرنے والے نو وارد (Proselytes) کے بپتسمہ میں، جو ان کے یہودی برادری میں داخلے کی علامت تھا۔اسی طرح بحرِ مردار یاقمرانی جماعت میں بھی نئے رکن کی عہد میں شمولیت کے وقت پانی میں غوطہ لگانے کی رسم بنیادی طور پر تزکیہ اور پاکیزگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ قمران کی جماعت کے ضابطۂ حیات میں مذکور ہے کہ ” جب اس کا جسم پاک کرنے والے پانی سے دھویا جائے گا اور اس کی روح خدا کے تمام احکام کے سامنے عاجزی سے جھک جائے گی، تب وہ حقیقت میں پاک شمار ہوگا۔“[3]

پولس کے نزدیک بپتسمہ کا حوض محض پانی میں غوطہ لگانے کی جگہ نہیں بلکہ اس کا ایک نہایت گہرا علامتی مفہوم تھا۔ اس کے مطابق یہ حوض اس قبر کی نمائندگی کرتا تھا جس میں مصلوب حضرت عیسیٰؑ کی لاش دفن کی گئی اور جہاں وہ تیسرے دن دوبارہ زندہ ہونے تک رہی۔ اس لیے پولس بپتسمہ کو ایک علامتی مذہبی ڈراما(Myth-Drama)قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک جب کوئی شخص بپتسمہ کے لیے پانی میں اترتا اور پھر باہر نکلتا ہے تو وہ علامتی طور پر حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور قیامت میں شریک ہو جاتا ہے۔ اس رسم کے ذریعے مسیح کے ان واقعات کے روحانی اثرات نئے مسیحی کی زندگی میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایمان کی نظر سے دیکھا جائے تو بپتسمہ ایک روحانی ولادتِ نو (Sacramental Rebirth) ہےجس میں انسان اپنی پرانی زندگی کو چھوڑ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔اسی تصور کو پولس رومیوں کے نام اپنے خط میں یوں بیان کرتا ہے

”کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح حضرت عیسیٰؑ  میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اس کی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا؟ پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اس کے ساتھ دفن ہوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مردوں میں سے جلایا گیا اسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں۔“[4]

بپتسمہ  کی یہ تعبیر روایتی یہودی یا ابتدائی یہودی-مسیحی تصورِ طہارت سے کافی مختلف ہے۔ اس کے نزدیک پولس کا نظریۂ بپتسمہ رومی سلطنت میں حضرت عیسیٰؑ کے زمانے میں رائج یونانی، مصری، شامی اور فارسی اسراری مذاہب (Mystery Cults) کے افکار سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے جہاں مذہبی رسومات کے ذریعے دیوتا کی موت اور دوبارہ زندگی میں علامتی شرکت کو روحانی نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا جبکہ یہودی روایت میں بپتسمہ یا غسل بنیادی طور پر طہارت، توبہ اور پاکیزگی کی علامت تھا۔

عشائے ربانی

مسیحیت کی پہلی اور زندگی میں ایک ہی بار ادا کی جانے والی مذہبی رسم ”بپتسمہ“تھی تاہم اس کے علاوہ پولس نے اپنے پیش روؤں سے ایک دوسری اہم عبادتی روایت بھی حاصل کی یعنی اجتماعی مذہبی کھانا۔ ابتدائی مسیحی اس رسم کو ”روٹی توڑنا“کہتے تھے جبکہ یونانی زبان میں اسے ”شکرگزاری“(Eucharist) کہا جاتا تھا۔ جس طرح پولس نے بپتسمہ کو ایک نیا روحانی مفہوم دیا اسی طرح اس نے اس اجتماعی کھانے کی بھی نئی تعبیر پیش کی اور اسے حضرت عیسیٰؑ کے آخری فسح کے کھانے (Lord’s Supper) کی یاد اور اس کی تجدید قرار دیا جو آپؑ نے اپنی مصلوبیت سے ایک رات پہلے اپنے رسولوں کے ساتھ تناول کیا تھا۔

پولس کا دعویٰ ہے کہ اس رسم کا باطنی اور روحانی مفہوم اسے براہِ راست حضرت مسیح سے حاصل ہوا تھا۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے”یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچا دی “۔[5]یہاں وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ تعلیم اسے دوسرے رسولوں کی روایت سے ملی جیسا کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور قیامت کے متعلق کہتا ہے”میں نے سب سے پہلے تم کو وہی بات پہنچا دی جو مجھ تک پہنچی تھی ۔“[6]اگر یہ تجزیہ درست ہو تو عشائے ربانی کے اس گہرے روحانی اور علامتی مفہوم کا اصل سرچشمہ اناجیل کے مصنفین نہیں بلکہ خود پولس ہے جس نے 50ء کی دہائی کے آغاز میں اپنے خطوط میں اسے بیان کیا۔ بعد میں یہی تصور غالباً لوقا کے ذریعے اناجیل کی روایت میں داخل ہوا کیونکہ لوقا کو پولس کا شاگرد سمجھا جاتا ہے اور اس کی انجیل میں عشائے ربانی کا بیان پولس کی تعلیم سے نمایاں مشابہت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ حضرت عیسیٰؑ کی یہ ہدایت کہ ”اسے میری یادگاری میں کرتے رہو“صرف پولس اور لوقا ہی نقل کرتے ہیں۔

پولس کے نزدیک عشائے ربانی کی رسم دو بنیادی روحانی معانی رکھتی ہے۔ پہلا یہ کہ اس میں شریک ہونے والے ایماندار علامتی اور روحانی طور پر حضرت مسیح کی موت اور قیامت کے نجات بخش عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ اس رسم کے ذریعے حضرت مسیح اور کلیسیا کے روحانی جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے مطابق جب ایماندار روٹی کھاتے اور پیالے میں سے پیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے ایک روحانی اور مقدس تعلق کے ذریعے حضرت مسیح کی فدیہ بخش موت میں شریک ہو جاتے ہیں اور اسی شرکت کے ذریعے ان کا رشتہ نہ صرف مسیح سے بلکہ پوری مسیحی جماعت سے بھی قائم اور مضبوط ہوتا ہے۔

”یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچادی کہ خداوند حضرت عیسیٰؑ  نے جس رات وہ پکڑوایا گیا روٹی لی او رشکر کرکے توڑی اور کہا یہ میرا بدن ہے جو تمہارے لیے ہے۔میری یادگاری کے واسطے یہی کیا کرو۔اسی طرح اس نے کھانے کے بعد پیالہ بھی لیا اور کہا یہ پیالہ میرےخون میں نیا عہد ہے۔جب کبھی پیو میری یادگاری کے لیے یہی کیا کرو۔ کیونکہ جب کبھی تم یہ روٹی کھاتے اور اس پیالے میں سے پیتے ہو تو خداوند کی موت کا اظہار کرتے ہو،جب تک وہ نہ آئے۔“[7]

مزید برآں چونکہ پولس کے نزدیک روٹی حضرت عیسیٰؑ کے جسم کی علامت تھی، اس لیے اس روٹی میں شریک ہونے والے تمام افراد بھی روحانی طور پر ایک ہی جسم یعنی کلیسیا میں متحد ہو جاتے تھے۔ اسی تصور کو وہ یوں بیان کرتا ہے کہ جو روٹی ہم توڑتے ہیں، کیا وہ مسیح کے جسم میں شریک ہونے کی علامت نہیں؟ چونکہ روٹی ایک ہے، اس لیے ہم  اگرچہ بہت سے ہیں، ایک ہی جسم ہیں  کیونکہ ہم سب اسی ایک روٹی میں شریک ہوتے ہیں۔[8]اس طرح عشائے ربانی پولس کے نزدیک صرف ایک یادگاری رسم نہیں بلکہ ایسی عبادت تھی جو ایمانداروں کو روحانی طور پر حضرت مسیح اور ایک دوسرے کے ساتھ متحد کر دیتی تھی۔

جب پولس نے اس اجتماعی کھانے کو اس قدر بلند روحانی اور مقدس مقام دیا تو اسے یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ کرنتھس کی کلیسیا کے عام لوگ اس کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہے تھے۔ اس نے شکایت کی کہ کلیسیا کے افراد اتحاد کے بجائے مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کی تقسیم معاشرتی حیثیت کی بنیاد پر بھی نمایاں ہے ۔[9]مزید یہ کہ عشائے ربانی کی تقریب کے دوران بھی ان کا طرزِ عمل بے ترتیبی اور خود غرضی کا مظہر تھا۔ مشترکہ کھانے کے بجائے ہر خاندان اپنا الگ کھانا لے آتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ غریب اور کم حیثیت لوگ بھوکے رہ جاتے اور احساسِ محرومی کا شکار ہوتے جبکہ دولت مند افراد عمدہ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے یہاں تک کہ بعض نشے کی حالت تک پہنچ جاتے تھے ۔[10]پولس کرنتھس کی کلیسیا کی جو تصویر پیش کرتا ہے، وہ اس جماعت کی اخلاقی کمزوریوں کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کو ہدایت دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ دسترخوان پر نہ بیٹھیں جو شراب نوشی، بت پرستی، گالی گلوچ، ڈاکہ زنی، جنسی بے راہ روی یا لالچ جیسی برائیوں میں مبتلا ہوں ۔[11]

بہرحال پولس نے روٹی توڑنے یا عشائے ربانی کو جس روحانی اور اعتقادی مفہوم کے ساتھ پیش کیا وہی غیر یہودی مسیحیت کی عبادتی زندگی کا بنیادی ستون بن گیا۔ یہی رسم بعد کی مسیحی روایت میں بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گئی اور آج تک مسیحی عبادت کا ایک اہم اور بنیادی جزو سمجھی جاتی ہے۔



[1] 1- کرنتھیوں 1 :12–13

[2] 1- کرنتھیوں 1 :17

[3] 1QS 3:9

[4] رومیوں 6 :3–4

[5] 1 -کرنتھیوں 11 :23

[6] 1- کرنتھیوں 15 :3

[7] ۱-کرنتھیوں ۱۱: ۲۳-۲۶

[8] 1- کرنتھیوں 10 :16–17؛ رومیوں 12 :4–5

[9] 1- کرنتھیوں 11 :18؛ 1: 12

[10] 1- کرنتھیوں 11 :21–22، 33–34

[11] 1- کرنتھیوں 5 :11


مکمل تحریر >>