Pages

Most Popular

اتوار، 1 نومبر، 2026

پولوسی مسیحیت کی باطنی خصوصیات (مسیح کی موت اور قیامت کی علامتی معنویت)

 












پولسی مسیحیت کی باطنی خصوصیات

مترجم:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ

اناجیل میں پیش کردہ حضرت عیسیٰؑ اور پولس کے بیان کردہ مسیح کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ اناجیل کا عیسیٰؑ ایک ایسے الٰہی معلم کی حیثیت رکھتا ہے جسے خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا جبکہ پولس کا مسیح خود اسی پیغام کا مرکزی موضوع اور محور بن جاتا ہے۔پولس کی دلچسپی حضرت عیسیٰؑ  کی تاریخی زندگی کی تفصیلات میں نہیں تھی۔ وہ نہ ناصرت اور نہ گلیل کا ذکر کرتا ہے، نہ حضرت عیسیٰؑ  کے والدین کا، نہ سردار کاہن حنّاہ اورکائفا کا اور نہ ہی ہیرودیس اینٹی پاس یا پیلاطوس گورنر کا۔ اس کی توجہ تاریخی پس منظر سے ہٹ کر فقط اس مختصر عرصے پر مرکوز رہتی ہے جو حضرت عیسیٰؑ  کی گرفتاری سے ایک رات پہلے شروع ہوتا ہےجسے وہ صرف ”جس رات وہ حوالہ کیا گیا“[1]کے الفاظ میں بیان کرتا ہےاور حضرت عیسیٰؑ  کے جی اٹھنے پر ختم ہو جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران وہ کہیں بھی یہوداہ اسکریوطی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا کہ اس نے حضرت عیسیٰؑ کو گرفتار کروایا تھا۔

اس طرح پولسی مسیحیت کی اصل بنیاد ان تاریخی واقعات کی تفصیل نہیں بلکہ ان کے گرد قائم کیا گیا ایک گہرا عقیدتی اور الٰہیاتی نظام ہے جسے پولس نے اپنی فکری صلاحیت اور مذہبی بصیرت سے تشکیل دیا۔ اس پورے نظام کامرکز حضرت عیسیٰؑ  مسیح کی موت اور اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا عقیدہ ہے۔پولس کی یہ الٰہیات اس قدر منظم اور گہری ہے کہ اس کے بالمقابل اناجیل متوافقہ  اور اعمال کی کتاب کی الٰہیات نسبتاً ابتدائی اور سادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس وسعت ِفکری میں صرف انجیلِ یوحنا ہی اس کی ہم پلہ نظر آتی ہے کیونکہ وہ بھی مسیح کی ایک نہایت گہری، روحانی اور ماورائی تصویر پیش کرتی ہے۔پولس کی اس فکری تعمیر کے پس مردہ دو بڑی بنیادیں کارفرما تھیں۔ ایک طرف یہودیت سے اس کی گہری واقفیت اور دوسری طرف یونانی و رومی تہذیب سے کم از کم بنیادی آشنائی۔ ان دونوں کے ساتھ اس کی غیر معمولی روحانی بصیرت اور تخلیقی فکر نے اسے اس قابل بنایا کہ وہ یہودی مذہب کے تصورات مثلاً مسیح (Messiah)کا عقیدہ اور شہداء کی قربانی کے اجر و ثواب کے نظریے کو نئے انداز میں یکجا کرے۔ انہی عناصر کو بنیاد بنا کر پولس نے ایک جامع اور مؤثر نظام ِالہیات تشکیل دیاجس میں مسیح کو انسانیت کے آخری اور حتمی نجات دہندہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔

مسیح کی موت اور قیامت کی علامتی معنویت

پولس نے اگرچہ حضرت عیسیٰؑ پر بائبل کے مسیح  کے تصور کا اطلاق کیایعنی اس ہستی کا جو آخری زمانے میں یہودیوں کو نجات دلائے گی، انصاف قائم کرے گی اور دنیا میں نیکی بحال کرے گیلیکن وہ اس تعبیر میں قمرانی پیش گوئیوں کی تکمیل (Pesher) اور روایتی ربّانی تفسیر سے بھی آگے بڑھ گیا۔ پولس نے اس تصور کو ایک عظیم مذہبی اور علامتی ڈرامے کی صورت دے دی جس کا مرکزی موضوع خدا کے بیٹے کی موت اور دوبارہ زندگی پانے کا راز تھا۔اس روحانی ڈرامے کے دو مرکزی کردار ہیں جن میں سے پہلا حضرت آدمؑ ہیں جو تمام انسانیت کے جدامجد ہیں اور دوسرا کردار حضرت عیسیٰؑ مسیح کاہے جسے پولس نے دوسرا یاآخری آدمؑ قرار دیا ہے۔اس داستان میں حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسحاق ؑبھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ ایمان اور خود سپردگی (قربانی) کی اعلیٰ ترین مثالیں سمجھے جاتے ہیں۔تصور ِ نجات پر مبنی اس ڈرامے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ آخری آدم یعنی حضرت عیسیٰؑ  مسیح کی موت اور قیامت نے پہلے آدم کے گناہ سے پیدا ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کر دیا جس کے نتیجے میں انسان ابدی زندگی سے محروم ہو گیا تھا۔

ابتدا میں حضرت آدم ؑکو باغِ عدن میں ہمیشہ کی زندگی عطا کی گئی تھی لیکن وہ بی بی حوا کے ذریعے سانپ(شیطان)کے فریب میں آگئے۔ اس طرح ایک ہی نافرمانی(جسے بعد میں سینٹ آگسٹین نے ”ازلی گناہ“ (Original Sin) کا نام دیا)نے انسان کو لافانی زندگی سے محروم کر دیا۔اس نافرمانی کی سزا صرف آدم اور حوا تک محدود نہ رہی بلکہ ان کی پوری نسل اس کے اثرات کی زد میں آ گئی۔ حکمت کی کتاب کے مطابق شیطان کے حسد[2] اور یشوع بن سِیراخ کے مطابق حوا کی لغزش نے پوری انسانیت میں برائی کا رجحان پیدا کر دیا۔[3] ربّانی ادب اسے ”یتصر ہرا“(Yetser Ra)یعنی انسان کے اندر موجود برائی کی فطری خواہش کہتا ہے جبکہ عزرادوم  اسے ”بددل“(Cor Malignum)سے تعبیر کرتی ہے۔[4] اسی سبب موت پوری نسلِ انسانی کا مقدر بن گئی۔

پولس کا عقیدہ تھا کہ آدم کی اس نافرمانی نے ایک پراسرار انداز میں پوری انسانی فطرت کو متاثر کر دیا۔ ازلی گناہ کا یہ نظریہ پولس کی اپنی فکری تشکیل ہے جس کی نہ عبرانی بائبل میں کوئی واضح مثال ملتی ہے اور نہ بعد کی یہودی روایت میں۔پولس کے نزدیک یہ بنیادی خرابی عام انسانی کوششوں سے دور نہیں ہو سکتی تھی  حتیٰ کہ مصر سے بنی اسرائیل کی نجات اور خدا کی براہِ راست مداخلت بھی اس مسئلے کا مستقل حل نہ بن سکی۔اس کے برعکس  کوہِ سینا پر کیے گئے عہد کے ساتھ جو تورات عطا کی گئی، اس نے انسان کو نجات دینے کے بجائے گناہ کو زیادہ نمایاں کر دیا۔ چونکہ شریعت نے واضح کیا کہ کون سے اعمال ممنوع ہیں، اس لیے انسان کو پہلی بار اپنے گناہ کا شعور حاصل ہوا۔پولس کی نفسیاتی تعبیر کے مطابق جب انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی کام ممنوع ہے تو اسی ممنوع چیز کی طرف اس کا میلان بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ شریعت ایک طرف گناہ کو آشکار کرتی ہے اور دوسری طرف انسان کی نافرمانی کو نمایاں کرکے اسے سزا اور محکومی کا مستحق بھی بنا دیتی ہے۔

”پس ہم کیا کہیں؟کیا شریعت گنا ہ ہے؟ہرگز نہیں بلکہ بغیر شریعت کے میں گناہ کو نہ پہچانتا مثلاً اگر شریعت یہ نہ کہتی کہ تو لالچ نہ کر تو میں لالچ کو نہ جانتا مگر گناہ نے موقع پاکر حکم کے ذریعے سے مجھ میں ہر طرح کا لالچ پیدا کردیا کیونکہ شریعت کےبغیر گناہ مردہ ہے۔ایک زمانہ میں شریعت کے بغیر میں زندہ تھا مگر جب حکم آیا تو گناہ زندہ ہو گیا اور میں مر گیا اور جس حکم کا منشا زندگی تھا وہی میرے حق میں موت کا باعث بن گیا۔“[5]

پولس کے نزدیک حضرت عیسیٰؑ  کی موت اور قیامت کے ذریعے نجات کا عظیم واقعہ پیش آنے سے پہلے بھی انسان خدا کے نزدیک راستباز یا روحانی طور پر مقبول شریعت کے احکام پر عمل سے نہیں بلکہ ایمان کے ذریعے ٹھہر سکتا تھا۔ یہ اصول پہلے حضرت نوحؑ کی نسل کو دی گئی ہدایات پر بھی صادق تھا اور بعد میں حضرت موسیٰؑ کے ذریعے بنی اسرائیل کو عطا کی گئی شریعت پر بھی۔پولس کے مطابق حقیقی ایمان کا مطلب خدا پر مکمل بھروسا اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دینا ہے اور اس ایمان کی سب سے اعلیٰ مثال حضرت ابراہیمؑ ہیں۔حضرت ابراہیمؑ کو اس لیے راستباز قرار نہیں دیا گیا کہ انہوں نے شرعی حکم مثلاً ختنہ کی تعمیل کی  تھی  بلکہ اس لیے کہ انہوں نے غیر معمولی ایمان کا مظاہرہ کیا۔ ننانوے برس کی عمر میں انہوں نے یقین کیا کہ خدا ان کی نوّے سالہ بانجھ بیوی سارہ کو بیٹا عطا کرے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر جب خدا نے ان سے اپنے معجزانہ طور پر عطا کیے گئے بیٹے کو قربان کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ اس حکم کی تعمیل کے لیے بھی آمادہ ہوگئے۔متاخریہودی روایات میں ”حضرت اسحاقؑ کی قربانی“کا تصور،جس میں نہ صرف حضرت ابراہیمؑ کی کامل اطاعت بلکہ حضرت اسحاقؑ کی رضامندی کو بھی نمایاں کیا گیا ہے،غالباً پولس کے اس نظریے کی بنیاد بنا کہ حضرت عیسیٰؑ  کی موت اور قیامت انسانوں کی نجات کا ذریعہ ہیں۔میں تقریباً نصف صدی سے یہ مؤقف پیش کرتاآرہاہوں کہ پولس کا کفارے (Atonement)کا نظریہ یعنی یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰؑ  نے اپنی جان قربان کرکے انسانوں کی نجات کا راستہ کھولا دراصل حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسحاقؑ کی قربانی کے واقعے سے متاثر ہے۔اس کی تائید کے لیے وہ دو آیات کا تقابل پیش کرتے ہیں۔رومیوں کے نام اپنے خط میں پولس  لکھتا ہے کہ ”جس نے اپنے بیٹے ہی کو دریغ نہ کیا بلکہ ہم سب کی خاطر اسے حوالہ کردیا وہ اس کے ساتھ اور سب چیزیں بھی ہمیں کس طرح نہ بخشے گا ؟ “[6]جب کہ پیدائش میں خدا حضرت ابراہیمؑ سے فرماتا ہے کہ ”چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔[7]

غالب امکان یہی ہے کہ پیدائش باب 22 (حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسحاقؑ کی قربانی کا واقعہ) وہی غیر مذکورہ بائبلی متن ہے جس کی طرف پولس نے اس وقت اشارہ کیا جب اس نے لکھا”مسیح کتاب مقدس کے مطابق ہمارے گناہوں کے لیے موا۔“[8]شاید یہی وجہ ہے کہ ابتدائی کلیسائی بزرگوں(Church Fathers) نے حضرت اسحاقؑ کو عیسیٰؑ نجات دہندہ کا نمونہ (Prototype) قرار دیا۔مزید یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ دوسری صدی قبل مسیح کے وسط سے یہودی روایت کی ایک شاخ،جس کا قدیم ترین ثبوت جوبلی کی کتاب میں ملتا ہے،حضرت اسحاقؑ کی قربانی کے واقعے کو عیدِ فصح کے دن سے جوڑتی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب مسیحی روایت کے مطابق حضرت عیسیٰؑ  نے دکھ اٹھایا اور مصلوب ہوئے۔

اگر پولس کے پورے استدلال کو دیکھا جائے تو اس کی منطق واضح نظر آتی ہے۔پولس کے مطابق ہر انسان گناہ گار ہے، اس لیے سزا کا مستحق بھی ہے۔ اس سزا کا نام موت ہے، جسے وہ ”آخری دشمن“[9]کہتا ہے اور جسے وہ ”گناہ کی مزدوری“بھی قرار دیتا ہے[10]لیکن پہلے آدم کی نافرمانی سے پیدا ہونے والی یہ صورتِ حال اس وقت یکسر بدل گئی جب مسیح جو بے گناہ خدا کا بیٹا تھا، ”گناہ بنا دیا گیا“[11]تاکہ وہ صلیب پر اپنی موت کے ذریعے پوری انسانیت کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے۔پولس کے مطابق صلیب پر لٹکے ہوئے مسیح کے زخمی جسم میں خدا باپ نے ”جسم میں موجود گناہ کو سزا دی“۔[12]چناں چہ جب ایک شخص ایمان کے ساتھ اس بات کو قبول کرتا ہے کہ مسیح کی موت اور قیامت نجات کا ذریعہ ہیں تو روحانی اور رمزی معنوں میں وہ گناہ کے اعتبار سے مر جاتا ہے اور ایک نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔اسی لیے پولس لکھتا ہے کہ ”ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب ایک سب کے واسطے موا ہو تو سب مر گئے اور وہ اس لیے سب کے واسطے موا کہ جو جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لیے نہ جئیں بلکہ اس کے لیے جو ان کے واسطے موا اور پھر جی اٹھا۔“[13]

پولس کے اس پورے مذہبی نظام میں مسیح کی موت بنیادی مرکز ہے اور کوہِ کلوری پوری انسانی تاریخ کا مرکزی نقطہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے پولس اعلان کرتا ہے کہ  میں نے تمہارے درمیان یسوع مسیح اور خصوصاً اس کے مصلوب ہونے کے سوا کسی اور چیز کی منادی نہیں کی۔[14]پولس کے نزدیک پہلے صلیب آتی ہے اور قیامت اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ حضرت عیسیٰؑ  کی یہ دونوں نجات بخش کارروائیاں ایمان رکھنے والوں کے لیے نجات اور نئی زندگی کا ذریعہ بن سکتی ہیں لیکن صرف یہ واقعات اپنی جگہ کافی نہیں۔ ان کے اثرات اس وقت تک حقیقت نہیں بنتے جب تک انسان ایمان نہ لائے۔آخرکارجب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے(جسے پولس مسیح کی موت اور قیامت کی علامت قرار دیتا ہے)تو ایمان کے ذریعے صلیب اور قیامت کی نجات بخش برکت اس فرد تک منتقل ہو جاتی ہے۔اسی وجہ سے ابتدائی کلیسیا میں بپتسمہ عموماً عیدِ قیامت(Easter)کی رات یا اس کی عبادت کے سلسلے میں ہونے والی بیداری کے موقع پر دیا جاتا تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جو مسیح کی موت اور قیامت کی یاد سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔

یہودی مذہبی فکر سے متاثر ہونے کی وجہ سے پولس نے مسیح کی صلیبی موت کوہیکلِ یروشلم میں ہونےوالی تمام قربانیوں کی آخری اورکامل تکمیل قراردیا۔جس طرح یہودی علماءکاعقیدہ تھاکہ خون بہائےبغیرکفارہ ممکن نہیں، اسی طرح پولس اور اس کے پیروکار بھی یہی سمجھتے تھے ۔[15]اسی لیے پولس لکھتا ہے کہ انسان خدا کے حضور راستباز قرار پاتا ہے”اس کے فضل کے سبب سے اس مخلصی کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے مفت راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں۔اسے خدا نے اس کے خون کے باعث یک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔“[16]یہ تعلیم اپنے عروج پر اس وقت پہنچتی ہے جب پولس یسوع کو ”نیا اسحاق“اور ”عیدِ فصح کا حقیقی برّہ“قرار دیتے ہوئے کہتا ہے”کیوں کہ  ہمارا بھی فصح یعنی مسیح قربان ہوا۔“[17]غالب امکان ہے کہ پولس کے ذہن میں حضرت اسحاقؑ کی قربانی کا وہ یہودی تصور موجود تھا جس کے مطابق یہ واقعہ عیدِ فسح (15 نیسان) کے دن پیش آیا تھا۔ اسی پس منظر نے یسوع کو ”نئی قربانی“ کے طور پر سمجھنے میں اس کی رہنمائی کی۔

پولس کے مذہبی نظریے میں گناہوں سے نجات اور نئی روحانی زندگی کا حصول دراصل ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں اور دونوں کا سرچشمہ یسوع کی موت اور قیامت ہیں۔اس کے نزدیک پہلے صلیب آتی ہے لیکن اس کی سچائی اور عظمت کو قیامت ثابت کرتی ہے۔اگرچہ پولس کی منادی کا مرکزی موضوع یسوع کی صلیبی موت ہے لیکن وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اگر قیامت کا عقیدہ نہ ہو تو پورا مسیحی ایمان بے بنیاد ہو جاتا ہے۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے”جب مسیح کی یہ منادی کی جاتی ہے کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا تو تم میں سے بعض کس طرح کہتے ہیں کہ مردوں کی قیامت ہے ہی نہیں؟ اگر مردوں کی قیامت نہیں تو مسیح بھی نہیں جی اٹھا اور اگر مسیح نہیں جی اٹھا تو ہماری منادی بھی بے فائدہ ہے اور تمہارا ایمان بھی بے فائدہ بل کہ ہم خدا کے حضور جھوٹے گواہ ٹھہرے۔“[18]

بات کو سمیٹے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ پولوس کی پیش کردہ مسیحیت کے باطنی یا اعتقادی ڈھانچے کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان گناہوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے،وہ قیامت اور نئی زندگی کا حق دار بن سکتا ہے،یہ دونوں نعمتیں صرف اس وقت حاصل ہوتی ہیں جب انسان یسوع کی کفارہ بخش موت اور زندگی عطا کرنے والی قیامت پر ایمان لائےتاہم پولس کا خیال تھا کہ موجودہ دنیا کا زمانہ بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔ اسی لیے اس نے اپنے پورے مذہبی نظام میں مسیح کی آمد ثانی کو بھی بنیادی حیثیت دی۔



[1] 1- کرنتھیوں 11 :23

[2] حکمت 2 :24

[3] یشوع بن سیراخ 25 :24

[4] 2 Esdras 3:20-22

[5] رومیوں۷: ۷-۱۰

[6] رومیوں 8 :31–32

[7] پیدائش 22 :16–17

[8] ۱-کرنتھیوں 15 :3

[9] 1- کرنتھیوں 15 :26

[10] رومیوں 6 :23

[11] 2- کرنتھیوں 5 :21

[12] رومیوں 8 :3

[13] ۲-کرنتھیوں 5 :14–15

[14] ۱- کرنتھیوں 2:2

[15] عبرانیوں 9 :22

[16] رومیوں 3 :24–25

[17] ۱-کرنتھیوں 5 :7

[18] ۱-کرنتھیوں 15 :12–۱۵


مکمل تحریر >>

جمعہ، 30 اکتوبر، 2026

پولوسی کلیساءکے خدام (قسط چہارم)

 

پولسی کلیسا کے خادم

مترجم: ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ
ابتدائی یہودی-مسیحی کلیسا چونکہ جغرافیائی لحاظ سے محدود اور تعداد کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹا تھا اس لیے اس کی قیادت بنیادی طور پر پطرس اور باقی گیارہ رسولوں، حضرت عیسیٰؑ کے بھائی یعقوب اور غالباً حضرت عیسیٰؑ کے خاندان کے دیگر افراد پر مشتمل تھی ۔[1] ان کے علاوہ چند ایسے افراد بھی تھے جنہیں کلیسا کی قیادت نے مختلف ذمہ داریوں کے لیے منتخب کیا تھا مثلاً سات خادم (ڈیکن)، یہوداہ برسباس، سیلاس اور برنباس۔ برنباس اور سیلاس پولس کے رفقائے کار تھے جبکہ برنباس کا بھانجا یوحنا مرقس بھی پولس اور بعد ازاں پطرس دونوں کا ساتھی رہا ۔[2] روایتی طور پر قدیم ترین انجیل کی تصنیف بھی اسی یوحنا مرقس سے منسوب کی جاتی ہے۔

فلسطین میں رسولوں کے لیے مقامی کلیسیاؤں کی نگرانی نسبتاً آسان تھی کیونکہ وہ سب یروشلم کے قریب واقع تھیں لیکن شام، ایشیائے کوچک، یونان اور اٹلی تک پھیلی ہوئی پولس کی کلیسیائیں اتنی وسیع اور منتشر تھیں کہ پولس کے لیے ان سب کی براہِ راست نگرانی کرنا ممکن نہ رہا۔اگرچہ وہ وقتاً فوقتاً اپنی قائم کردہ کلیسیاؤں کا دورہ کرتا یا اپنے قابلِ اعتماد نمائندوں تیمتھیس، ططس اور سیلاس وغیرہ کو وہاں بھیجتا تھا تاکہ وہ جماعتوں کی نگرانی کریں لیکن جلد ہی اسے احساس ہوگیا کہ اگر ان نئی کلیسیاؤں کے لیے مضبوط انتظامی ڈھانچہ قائم نہ کیا گیا تو وہ منتشر ہو جائیں گی۔پولس کے بیشتر نووارد پیروکار عام یونانی عوام سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں زیادہ تر نچلے طبقے کے سادہ لوح افراد تھے، اگرچہ چند خوش حال تاجر اور ہنرمند بھی شامل تھے۔ پولس کی نظر میں یہ لوگ ابھی اس قابل نہیں ہوئے تھے کہ اپنی مذہبی جماعتوں کا نظم و نسق خود سنبھال سکیں۔اسی لیے اس نے ان کلیسیاؤں کے لیے ایک نیا انتظامی نظام وضع کیا۔ یہ نظام یہودی عبادت گاہوں (سیناگوگ) کی طرح بزرگوں کی اجتماعی مجلس پر مبنی نہیں تھا بلکہ ہر جماعت کی سربراہی ایک واحد نگران (بشپ) کے سپرد کی جاتی تھی جس کی معاونت پریسبیٹرز (بزرگ)، مرد و خواتین خادم (ڈیکن اور ڈیکنیس) اور خیراتی خدمات انجام دینے والی بیوائیں کرتی تھیں۔ اس انتظامی ماڈل کی سب سے نمایاں مثال صحائفِ بحرِ مردار میں ملتی ہے جہاں ہر جماعت کی قیادت ایک مذہبی نگران کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ غالب امکان یہی ہے کہ پولس نے اپنی غیر یہودی کلیسیاؤں کی تنظیم کے لیے اسی نمونے سے رہنمائی حاصل کی۔کلیسائی روایت کے مطابق پولس کے دو قریبی ساتھی تیمتھیس، جس کی ماں یہودی اور باپ غیر یہودی تھا اور ططس، جو خود غیر یہودی تھا،بالترتیب افسس اور کریت کے پہلے بشپ مقرر کیے گئے۔

بشپ کے فرائض اور اس منصب کے لیے امیدوار میں مطلوب اوصاف کا ذکر پاسبانی خطوط یعنی تیمتھیس کےنام دونوں اور ططس کے نام خط   میں ملتا ہے۔ عام طور پر محققین کی رائے ہے کہ یہ خطوط خود پولس نے نہیں لکھے بلکہ اس کے شاگردوں نے اس کی تعلیمات کی روشنی میں تحریر کیے اور انہیں پولس ہی کے نام سے منسوب کیا۔ اسی بنا پر انہیں ڈیوٹرو-پولسی (Deutero-Pauline) تحریریں کہا جاتا ہے۔ان خطوط میں بشپ کے لیے جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اس معاشرتی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں جس سے پولسی کلیسا کے زیادہ تر افراد تعلق رکھتے تھے۔ ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے تک وہ شدید جوش و جذبہ، جسے حضرت عیسیٰؑ  نے فروغ دیا تھا اور جسے پولس نے اپنی ابتدائی تبلیغ میں نمایاں رکھا، بتدریج ماند پڑنے لگا تھا۔

پاسبانی  خطوط اور تعلیمِ بارہ رسول (Didache)کے مطابق بشپ کو علمی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے نمایاں شخصیت ہونا چاہیے ۔[3]اسے ایک اچھا معلم اور مضبوط مناظر ہونا چاہیے جو صحیح تعلیم پر کامل عبور رکھتا ہو اور گمراہ کن نظریات کی مؤثر تردید کر سکے۔ خاص طور پر اسے ان لوگوں کا مقابلہ کرنا آنا چاہیے جو ”یہودی افسانوں“کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سے غالباً مراد وہ افراد ہیں جو غیر یہودی نوواردوں پر ختنہ اور شریعتِ موسوی کے دیگر احکام نافذ کرنے کے حامی تھے۔بشپ کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ نیا نیا مسیحی نہ ہو کیونکہ جلد منصب ملنے سے تکبر پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا تھا۔تعلیم دینا اور عقیدے کا دفاع کرنا ہی اس کی واحد ذمہ داری نہیں تھی۔ چونکہ اسے ”خدا کا منتظم“سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس پر جماعت کی روحانی نگہداشت بھی لازم تھی۔ اس سلسلے میں بحرِ مردار کے مخطوطات میں شامل دمشق دستاویز ایک دلچسپ مماثلت پیش کرتی ہے جہاں جماعت کے نگران کو ایسے باپ اور چرواہے سے تشبیہ دی گئی ہے جو محبت کے ساتھ اپنے افراد کی حفاظت اور رہنمائی کرتا ہے۔[4]اس کے علاوہ کلیسا کے مالی وسائل کی نگرانی بھی بنیادی طور پر بشپ کی ذمہ داری تھی۔ اسی لیے اس کے لیے لازم تھا کہ وہ لالچی یا دولت کا حریص نہ ہو۔

سب سے بڑھ کر بشپ کو اپنی زندگی کے ذریعے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بننا چاہیے تھا۔ اس کا کردار بے داغ ہو، وہ سمجھ دار، اعتدال پسند، شراب نوشی سے دور، نرم خو، ضبطِ نفس کا مالک اور غیر مسیحیوں کے درمیان بھی اچھی شہرت رکھنے والا ہو۔یہ بات رومن کیتھولک روایت سے واقف قارئین کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے، جہاں پادریوں کی مجرد زندگی(Celibacy)کو لازمی سمجھا جاتا ہے لیکن پولسی کلیسا میں صورتِ حال اس کے برعکس تھی۔ وہاں بشپ کے لیے شادی شدہ ہونا ایک مطلوبہ شرط تھی۔ اس سے مراد یہ تھا کہ وہ اپنی زندگی میں صرف ایک ہی شادی کر چکا ہو، اگر اس کی بیوی وفات پا جاتی تو اسے دوبارہ شادی کی اجازت نہیں تھی۔اس اصول کے پیچھے یہ تصور کارفرما تھا کہ جو شخص اپنے گھرانے کی اچھی نگرانی کر سکتا ہے اور اپنی اولاد کی درست تربیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ کلیسا کی جماعت کی بھی بہتر رہنمائی کر سکے گا۔تاہم اگر انہی شرائط کو معیار بنایا جائے تو خود پولس، جو اپنی غیر شادی شدہ زندگی کا اعتراف کرتا ہے بلکہ حضرت عیسیٰؑ بھی، بشپ کے اس معزز اور دشوار منصب کے لیے اہل قرار نہ پاتے۔

پریسبیٹر (Presbyters) یا کاہن بشپ کے اہم معاون ہوتے تھے۔ وہ تبلیغ، تعلیم اور جماعت کی روحانی نگہداشت میں بشپ کے شریکِ کار تھے۔ ان کے لیے بھی وہی بنیادی شرائط مقرر تھیں جو بشپ کے لیے تھیں یعنی وہ ایک ہی شادی کر چکے ہوں، دیندار خاندان کے سربراہ ہوں اور اپنی خدمات کے عوض اپنی جماعت کی طرف سے مالی معاونت حاصل کرنے کے حق دار ہوں ۔[5]

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ نہ پاسبانی  خطوط اور نہ ہی بارہ رسولوں کی تعلیم(Didache)میں بشپ یا پریسبیٹر کے لیے عشائے ربانی(Lord's Supper)کی رسم ادا کرانے کا کوئی مخصوص منصب یا اختیار بیان کیا گیا ہے۔ ان کی ذمہ داریاں بنیادی طور پر تعلیم، تبلیغ اور روحانی رہنمائی تک محدود تھیں۔ عشائے ربانی ایک اجتماعی عبادت تھی جبکہ دوسرا اہم مذہبی عمل یعنی بپتسمہ بھی کسی مخصوص منصب کے ساتھ وابستہ نہیں تھا اور اسے کوئی بھی شخص انجام دے سکتا تھا۔

جہاں تک ڈیکن (Deacons) کا تعلق ہے تو تیمتھیس  کے نام پہلے خط میں ان کے فرائض کی واضح تفصیل نہیں ملتی البتہ اعمال کی کتاب وں انہیں معاشرتی اور فلاحی خدمات انجام دینے والے کارکنوں کے طور پر پیش کرتی ہے ۔[6] ان کے ایمان کی پختگی کو جانچا جاتا تھا اور ان کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ شادی شدہ ہوں، اپنے گھرانے کےکفیل ہوں اور اخلاقی اعتبار سے انہی اعلیٰ اوصاف کے حامل ہوں جو بشپ کے لیے مطلوب تھے۔

عورتوں کو بھی ڈیکنیس(Deaconess)کی حیثیت سے خدمت انجام دینے کی اجازت تھی۔ اس کی ایک نمایاں مثال کنخریہ کی فتیبے ہے ۔[7] ان کا بنیادی فریضہ کلیسا کے ایسے افراد کی خدمت اور نگہداشت تھا جو مدد کے محتاج ہوتے تھے۔یہ منصب صرف ایسی دیندار بیوہ عورتوں کے لیے مخصوص تھا جن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہو جنہوں نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی شادی کی ہو اور جو نہ صرف اچھی مائیں اور دادی نانیاں ثابت ہوئی ہوں بلکہ پوری زندگی مہمان نوازی، مقدسین کی خدمت (مقدسین کے پاؤں دھونا)، مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت اور دیگر نیک کاموں میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہوں۔اس کے برعکس ساٹھ برس سے کم عمر بیواؤں کو اس منصب کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ اندیشہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ وہ بعد میں دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ کر سکتی ہیں  یا فضول گفتگو اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت کی عادت میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔[8]

پاسبانی  خطوط میں بیان کردہ یہ کلیسائی انتظامی ڈھانچہ واضح طور پر اس دور کی نمائندگی کرتا ہے جو رسولوں کے زمانے کے بعد وجود میں آیا۔ بشپ، پریسبیٹر، ڈیکن اور ڈیکنیس پر مشتمل یہ تنظیم ایسے فکری ماحول کی عکاس ہے جس میں توجہ اب خدا کی بادشاہی یا مسیح کی فوری آمد کے انتظار پر نہیں رہی تھی  بلکہ ایک ایسے طویل المدت مستقبل پر مرکوز ہو چکی تھی جس میں مسیحی جماعت کی تنظیم، نگہداشت اور بقا بنیادی اہمیت اختیار کر گئی تھی۔دوسرے لفظوں میں وہ دور جس پر قیامت اور مسیح کی عنقریب واپسی کی توقع غالب تھی، بتدریج ختم ہو رہا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسی منظم کلیسا لے رہی تھی جو وقت، معاشرے اور تاریخ کے اندر مستقل ادارے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔




[1] 1 -کرنتھیوں 9 :5

[2] 1- پطرس 5 :13

[3] 1- تیمتھیس 3 :2-7؛ ططس 1 :7-13؛ دیداخے 15 :1

[4] Cairo Damascus Document13:7-10

[5] 1 -تیمتھیس 5 :17-18؛ ططس 1 :6

[6] اعمال 6 :2

[7] رومیوں 16 :1

[8] 1- تیمتھیس 5 :3-13




مکمل تحریر >>

منگل، 27 اکتوبر، 2026

پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات (ظاہری رسومات و طرززندگی)

 











پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

(قسط سوم)

روحانی  مظاہر

حضرت عیسیٰؑ کی دعوت اور ابتدائی فلسطینی رسولی کلیسیا کی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت روحانی یا کرشماتی مظاہر (Charismatic Manifestations) تھے۔ اعمال کی کتاب  کے مطابق ان میں مختلف زبانیں بولنا،بیماروں کوشفادینااور فرشتوں کےظہور جیسےغیر معمولی واقعات شامل تھے۔ یہی روحانی کیفیت پولس کی قائم کردہ کلیسیاؤں میں بھی موجود تھی۔اگر کرنتھس کی کلیسیا کو بطور نمونہ دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر یہودی مسیحی جماعتوں میں بھی یہ روحانی مظاہر عام تھے۔پولس کے نزدیک یہ روحانی نعمتیں محض ذاتی فضیلت یا انفرادی عظمت کا اظہار نہیں تھیں، بلکہ ان کا مقصد پوری کلیسیا کی بھلائی اور تعمیر تھا۔ اسی لیے وہ روح القدس کی عطا کردہ مختلف قسم کی نو روحانی نعمتوں (Spiritual Gifts) کا ذکر کرتا ہے جنہیں خدا نے جماعت کے مشترکہ فائدے کے لیے عطا کیا تھا۔ اس طرح پولس کے نزدیک کرشماتی مظاہر ابتدائی مسیحی زندگی کا ایک لازمی حصہ تھے تاہم ان کا صحیح استعمال ذاتی شہرت یا برتری کے اظہار کے بجائے پوری جماعت کی خدمت، اتحاد اور روحانی ترقی کے لیے ہونا چاہیے تھا۔

”کیونکہ ایک کو روح کے وسیلہ سے حکمت کا کلام عنایت ہوتا ہے اور دوسرے کو اسی روح کی موافق علمیت کا کلام۔کسی کو اسی روح سے ایمان اور کسی کو اسی ایک روح سے شفا دینے کی تووفیق۔ کسی کو معجزوں کی قدرت۔ کسی کو نبوت کی۔ کسی کو روحوں کاامتیاز۔کسی کو طرح طرح کی زبانیں۔کسی کو زبانوں کو ترجمہ کرنا۔“[1]

اعمال کی کتاب کی ابتداء میں جن روحانی نعمتوں کا ذکر ملتا ہے مثلاً شفا دینا، معجزات دکھانا، نبوت کرنا اور مختلف زبانوں میں بولنا، وہی نعمتیں پولس کے قائم کردہ کلیسیائی حلقوں میں بھی پائی جاتی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی فلسطینی اور پولسی دونوں کلیسیاؤں میں کرشماتی یا روحانی تجربات روزمرہ کی مذہبی زندگی کا حصہ تھے۔ تاہم مصنف کے مطابق ان روحانی مظاہر کے بارے میں پولس کا نقطۂ نظر فلسطینی یہودی-مسیحی حلقوں سے کسی حد تک مختلف تھا۔ فلسطین میں ان غیر معمولی واقعات کو خدا کی رضا اور تائید کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن پولس نے بعض روحانی مظاہر، خاص طور پر مختلف زبانوں میں بولنے (Glossolalia)، کو اپنی غیر یہودی کلیسیاؤں کی عبادت کے دوران بعض اوقات نقصان دہ بھی قرار دیا۔

اعمال کی کتاب  کے مطابق عیدِ پینتیکوست کے دن رسولوں نے جب مختلف زبانوں میں کلام کیا تو وہاں موجود لوگ ان کی بات سمجھ رہے تھے[2]لیکن کرنتھس کی کلیسیا میں جو ”زبانوں میں بولنا“ رائج تھا، وہ ایک ایسی وجدانی اور غیر واضح گفتگو تھی جسے دوسروں کے لیے ناقابل تفہیم تھی۔ پولس اسے روح القدس کی تحریک کا نتیجہ تو تسلیم کرتاتھا لیکن اس کے نزدیک اس کا فائدہ ہ پوری جماعت کے بجائے فقط صرف بولنے والے شخص کو پہنچتا تھا۔یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ  پولس نے عورتوں کو کلیسیا ئی مجمعے میں بولنے کی اجازت نہیں دی تھی [3]اس لیے اس بحث کا اطلاق عملی طور پر مردوں پر ہوتا تھا۔پولس کے خیال میں اگر کسی نامعلوم زبان کی گفتگو کا کوئی مترجم موجود نہ ہو تو یہ عبادت گزاروں کے لیے سودمند ہونے کے بجائے پیچیدگی و انتشار کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے وہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر کوئی ترجمان موجود نہ ہو تو زبانوں میں کلام کرنے والا شخص خاموشی سے دل ہی دل میں خدا سے مخاطب ہو کیونکہ اس کے الفاظ جماعت میں کسی کی سمجھ میں نہیں آئیں گے ۔[4]پولس خود کہتا ہے کہ وہ کرنتھس کے تمام لوگوں سے زیادہ زبانوں میں بول سکتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایسی غیر واضح گفتگو کے بجائے قابلِ فہم تعلیم کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے کہ ”میں تم سب سے زیادہ زبانیں بولتا ہوں لیکن کلیسیا میں بیگانہ زبان میں دس ہزار باتیں کہنے سے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ اوروں کی تعلیم کے لیے پانچ ہی باتیں عقل سے کہوں“۔[5]پولس کے نزدیک سب سے افضل روحانی نعمت نبوت تھی  کیونکہ اس سے پوری جماعت کی اصلاح اور تربیت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ کہتا ہےکہ جو نبوت کرتا ہے وہ اس شخص سے بڑا ہے جو زبانوں میں بولتا ہےماسوائے یہ کہ کوئی اس کی بات کا ترجمہ کرے تاکہ کلیسیا کو فائدہ پہنچے۔[6]عبادت میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پولس نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایک مجلس میں زیادہ سے زیادہ دو یا تین افراد ہی زبانوں میں بولیں یا نبوت کریں [7]تاکہ روحانی جوش و خروش عبادت کے نظم میں خلل نہ ڈالے۔

 

مسیحی طرزِ زندگی

ظاہری طرزِ زندگی اور عملی احکام کے اعتبار سے پولس کے غیر یہودی مسیحی پیروکاروں کو شریعتِ موسوی کی بیشتر مذہبی اور غذائی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ ان پابندیوں میں سب سے نمایاں ختنہ تھاجو ہر مرد یہودی پر لازمی تھا۔ پولس کا خیال تھا کہ اگر غیر یہودی مردوں پر بھی ختنہ لازم کر دیا جائے تو اس سے مسیحیت ان کے لیے کم پرکشش ہو جائے گی۔ اس لیے رسولوں کی کونسل کے فیصلے کے مطابق اس نے اپنے غیر یہودی پیروکاروں کو تورات کے بیشتر مذہبی احکام سے آزاد رکھاالبتہ چند ایسی پابندیاں برقرار رہیں جنہیں یہودی اور یہودی-مسیحی انتہائی اہم سمجھتے تھے۔ ان میں بتوں کے لیے قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت کھانا، گلا گھونٹ کر مارے گئے جانوروں کا گوشت کھانا، خون پینا اور بعض ممنوعہ جنسی تعلقات سے اجتناب شامل تھا ۔[8] ان چند احکام کے علاوہ پولس نے غیر یہودی مسیحیوں پر تورات کے رسمی قوانین نافذ نہیں کیے۔بتوں کے نام پر قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت ایک خاص مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ رومی معاشرے میں ایسا گوشت عام قصابوں کی دکانوں پر بھی فروخت ہوتا تھا۔ بعض مسیحیوں کا خیال تھا کہ چونکہ دوسرے مذاہب کے دیوتا حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتے، اس لیے ایسا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی بنیاد پر پولس نے انہیں ہدایت دی کہ”جوکچھ قصابوں کی دکانوں میں بکتا ہے وہ کھاؤ اور دینی امتیاز کے سبب سے کچھ نہ پوچھو “[9]لیکن بعض دوسرے مسیحی اتنے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے نزدیک بتوں کے لیے قربان کیا گیا گوشت کھانا ایسا تھا گویاشیطان کے دسترخوان میں شریک ہونا۔ وہ اس عمل سے سخت پریشان اور دل آزردہ ہوتے تھے۔ اس لیے پولس نے ان لوگوں کو جو اپنے ایمان میں زیادہ مضبوط تھے، نصیحت کی کہ اپنی آزادی کو اس طرح استعمال نہ کریں کہ کمزور ایمان رکھنے والے بھائیوں کے لیے ٹھوکر کا باعث بن جائے۔ اس نے لکھاکہ خبردار! تمہاری یہ آزادی کسی کمزور شخص کے لیے گمراہی کا سبب نہ بن جائے۔[10]

پولس کے خطوط میں اس کے پیروکاروں کے لیے کوئی جامع ضابطۂ اخلاق موجود نہیں لیکن وہ اپنے متعدد خطوط کے آخری حصوں میں اخلاقی ہدایات ضرور دیتا ہے۔ یہ ہدایات زیادہ تر اس زمانے کی یہودی اخلاقی تعلیمات سے ماخوذ ہیں۔ ان میں سب سے مفصل فہرست رومیوں کے نام خط کے ابواب 12 تا 15 میں ملتی ہے جہاں وہ مختلف اخلاقی اصول بیان کرتا ہے مثلاًاپنے بارے میں حد سے زیادہ بلند رائے نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کے ساتھ پیش آؤ۔ مصیبت میں صبر کرو۔ اجنبیوں کی مہمان نوازی کرو۔ آپس میں اتفاق اور ہم آہنگی سے زندگی گزارو۔ اگر تمہارا دشمن بھوکا ہو تو اسے کھانا کھلاؤ۔ حکومتی حکام کی اطاعت کرو اور اپنے ٹیکس ادا کرواور سب سے بڑھ کر اپنے پڑوسی سے اپنے جیسی محبت کرو۔

علاوہ ازیں پولس نے کرنتھس کی کلیسیا کے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ ہر ہفتے کے پہلے دن، یعنی اس دن جب مسیحی روٹی توڑنے (عشائے ربانی) کے لیے جمع ہوتے تھے، اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں کی مدد کے لیے کچھ رقم الگ رکھیں۔[11] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی مسیحی عبادت صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ سماجی ذمہ داری اور محتاجوں کی امداد کو بھی بنیادی اہمیت حاصل تھی۔گلتیوں کے نام اپنے خط میں پولس ”جسم کے اعمال“اور ”روح کے پھل“کے درمیان واضح فرق بیان کرتا ہے۔ [12]جسم کے اعمال میں وہ بدکاری، ناپاکی، بے راہ روی، بت پرستی، جادوگری، شراب نوشی اور اسی نوع کی دوسری برائیوں کا ذکر کرتا ہے جبکہ روح کے پھل محبت، خوشی، اطمینان، صبر، مہربانی، فیاضی اور ضبطِ نفس جیسی اخلاقی صفات ہیں۔ اس کے نزدیک ایک حقیقی مسیحی کی زندگی انہی روحانی اوصاف سے مزین ہونی چاہیے۔پولس اپنے پیروکاروں کو بار بار گھریلو اور معاشرتی زندگی میں امن، محبت اور ہم آہنگی اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس کے مطابق شوہروں کو چاہیے کہ اپنی بیویوں سے محبت کریں، بیویوں کو اپنے شوہروں کا احترام اور اطاعت کرنی چاہیے، بچوں کو والدین کی عزت کرنی چاہیے، والدین خصوصاً باپوں کو اپنی اولاد کے ساتھ سختی یا اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے، اور غلاموں کو اپنے مالکوں کے ساتھ وفاداری اور احترام کا برتاؤ کرنا چاہیے۔

ان عمومی اخلاقی نصیحتوں کے علاوہ پولس بعض ایسے احکام کا بھی ذکر کرتا ہے جنہیں وہ براہِ راست حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے منسوب کرتا ہے۔ عشائے ربانی سے متعلق حکم [13]کے علاوہ وہ دو اور احکام بیان کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا غالباً یہ خیال ہے کہ وہ رسولی روایت کے ذریعے حضرت عیسیٰؑ سے منتقل ہوئے ہیں۔ پہلا حکم طلاق کی مکمل ممانعت ہے [14] جہاں وہ متی کی انجیل میں مذکور بدکاری کی استثنائی صورت [15]کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ انجیل کی منادی کرنے والوں کا خرچ کلیسیا کے ذمہ ہے یعنی جو لوگ تبلیغ اور دینی خدمت انجام دیتے ہیں، انہیں جماعت کی طرف سے مالی تعاون ملنا چاہیے۔[16]ان احکامات کے علاوہ پولس نے بعض ہدایات اپنی ذاتی رسولی حیثیت اور اختیار کی بنیاد پر بھی دیں۔ ان میں ایک اہم ہدایت یہ تھی کہ چونکہ وہ آخری زمانے اور خدا کی بادشاہی کے جلد آنے کا منتظر تھا، اس لیے وہ ایمانداروں کو مشورہ دیتا ہے کہ اپنی ازدواجی حالت میں غیر ضروری تبدیلیاں نہ کریں بلکہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی توجہ خدا کی بادشاہی کے حصول اور روحانی زندگی پر مرکوز رکھیں۔

”پس موجودہ مصیبت کے خیال سے میری رائے میں آدمی کے لیے یہی بہتر ہے کہ جیسا ہے ویسا ہی رہے۔ اگر تیری بیوی ہے تو اس سے جدا ہونے کی کوشش نہ کر اور اگر تیری بیوی نہیں تو بیوی کی تلاش نہ کر لیکن تو بیاہ کرے بھی تو گناہ نہیں اور اگر کنواری بیاہی جائے تو گناہ نہیں مگر ایسے لوگ جسمانی تکلیف پائیں گے اور میں تمہیں بچانا چاہتا ہوں۔ مگراے بھائیو! میں یہ کہتا ہوں کہ وقت تنگ ہے۔ پس آگے کو چاہیے کہ بیوی والے ایسے ہوں کہ گویا ان کی بیویاں نہیں اور رونے والے ایسے ہوں گویا نہیں روتے اور خوشی کرنے والے ایسے ہوں گویا خوشی نہیں کرتے اور خریدنے والے ایسے ہوں گویا مال نہیں رکھتے اور دنیوی کاروبار کرنے والے ایسے ہوں کہ دنیا ہی کے نہ ہو جائیں کیونکہ دنیا کی شکل بدلتی جاتی ہے۔“[17]

پولس خود غیر شادی شدہ تھا، اس لیے وہ اپنے پیروکاروں کو بھی ترغیب دیتا تھا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اسی طرزِ زندگی کو اختیار کریں۔ تاہم، اس معاملے میں وہ اسینی زاہدوں کی طرح سخت گیر نہیں تھا۔ اس نے تجرد  کو کبھی بھی لازمی یا مذہبی فریضہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک اختیاری اور پسندیدہ طرزِ زندگی کے طور پر پیش کیا۔جو لوگ غیر شادی شدہ زندگی کو اپنے لیے ناقابلِ برداشت سمجھتے تھے، پولس نے انہیں شادی کرنے کی اجازت دی [18]تاہم اس نے خبردار کیا کہ چونکہ آخری زمانے کے ہولناک حالات قریب ہیں، اس لیے شادی شدہ افراد کو غیر شادی شدہ لوگوں کی نسبت زیادہ مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔[19]پولس نے ایک خاص ازدواجی مسئلے کا بھی عملی حل پیش کیا۔ اگر کسی مشرک یا غیر مسیحی میاں بیوی میں سے ایک شخص مسیحیت قبول کر لیتا اور دوسرا فریق اس کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھنے پر آمادہ ہوتاتو ان دونوں کو ایک ساتھ رہنے کی ہدایت دی گئی  لیکن اگر غیر مسیحی شریکِ حیات علیحدگی اختیار کرنا چاہتا یا ازدواجی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا تو پولس نے مسیحی فریق کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دی ۔[20] کلیسائی قانون میں یہ اصول ”پولسی استحقاق“(Pauline Privilege) کے نام سے معروف ہے اور آج بھی رومن کیتھولک کلیسا کے قانون Codex Iuris Canonici دفعات 1143–1144 کا حصہ ہے۔

اسی طرح ایک اور مسئلہ بھی زیرِ بحث آتا ہے، جسے ”کنوارے میاں بیوی“کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ ازدواجی جوڑے ہیں جو باہمی رضامندی سے طویل عرصے یا مستقل طور پر ازدواجی تعلق قائم نہ کرنے کا عہد کرتے تھے۔ اگر بعد میں شوہر کو محسوس ہوتا کہ وہ اپنے اس عہد پر قائم نہیں رہ سکتا تو پولس نے اگرچہ پوری دلجمعی کے ساتھ نہیں لیکن اسے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہاکہاگر اس کے جذبات پر قابو نہ رہے اور ایسا کرنا ضروری معلوم ہو، تو وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کر لے اور  اس میں کوئی گناہ نہیں۔[21]آخر میں، پولس نے بیوہ عورت کو بھی کسی مسیحی مرد سے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دی لیکن اس کی رائے میں اگر وہ غیر شادی شدہ رہتی تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر اور قابلِ تحسین ہوتا۔[22]

 



[1] ۱-کرنتھیوں۱۲: ۸-۱۰

[2] اعمال 2 :6

[3] 1- کرنتھیوں 14 :34؛ 1- تیمتھیس 2 :11–12

[4] 1- کرنتھیوں 14 :2، 9–11

[5] ۱-کرنتھیوں 14 :18–19

[6] ۱-کرنتھیوں 14 :5

[7] 1- کرنتھیوں 14 :27–29

[8] اعمال 15: 19–21

[9] 1- کرنتھیوں 10 :25

[10] ۱-کرنتھیوں 8 :1–10؛ 10 :19–21، 26–29؛ رومیوں 14 :13–21

[11] 1- کرنتھیوں 16 :2؛ اعمال 20 :7؛ دیداخے 14 :1

[12] گلتیوں 5: 19–23

[13] 1- کرنتھیوں 11 :23

[14] 1- کرنتھیوں 7 :10–11

[15] متی 5 :32؛  19 :9

[16] 1- کرنتھیوں 9: 14

[17] ۱-کرنتھیوں ۷: ۲۶- ۳۱

[18] 1- کرنتھیوں 7 :8-9

[19] 1- کرنتھیوں 7 :28

[20] 1- کرنتھیوں 7 :12-15

[21] 1- کرنتھیوں 7 :36-38

[22] 1- کرنتھیوں 7 :40


مکمل تحریر >>