مسیح
کی آمد ثانی
مترجم :ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ
پولس کی پیش کردہ مسیحیت حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات کی طرح آخری زمانے(Eschatology) کے
شدید انتظار سے سرشار تھی۔حضرت عیسیٰؑ بار بار یہ اعلان کرتے رہے کہ خدا کی
بادشاہی انہی کی نسل کے لوگوں کے زمانے میں ظاہر ہوگی تاہم پولس اس معاملے میں
شاید حضرت عیسیٰؑ سے بھی زیادہ پُرجوش تھا۔ وہ اس بات پر زور دیتا تھا کہ مسیح کی
دوبارہ آمد اور خدا کی بادشاہی کا آغاز بہت قریب ہے۔
پولس کے آخری زمانے سے متعلق عقائدکی مکمل
تصویر اس کے ابتدائی خطوط ہی میں مل جاتی ہے خصوصاًتھسلنیکیوں کے نام پہلا خط (جو
غالباً 51ء میں لکھا گیا) اور کرنتھیوں کے نام پہلا خط (جو اس کے دو تین سال بعد
لکھا گیا)۔ پولس نے تھسلنیکیوں کے مسیحیوں کو نصیحت کی کہ وہ پوری بے قراری سے
یسوع کی دوبارہ آمد کا انتظار کریں کیونکہ وہ اچانک آسمان سے اس طرح ظاہر ہوں گے
جیسے رات کے وقت کوئی چور اچانک آ جائے۔[1]پولس
نے کسی قسم کی احتیاط یا ہچکچاہٹ کے بغیر اور اسے مسیح کے وعدے پر مبنی یقینی
حقیقت قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ خود اور اس کے ماننے والے اس عظیم واقعے کے
چشم دید گواہ اور شریک ہوں گے۔اس کے بعد وہ نہایت مؤثر اور دلکش انداز میں اس عظیم
ملاقات اور مسیح کی دوبارہ آمد کا نقشہ کھینچتا ہے۔
”کیوں کہ جب ہمیں یہ یقین ہے کہ یسوع مر گیا
اور جی اُٹھا تو اُسی طرح خُدا اُن کو بھی جو سو گئے ہیں یسوع کے وسیلہ سے اسی کے ساتھ لے آئے گا چُنانچہ ہم تم سے خُداوند کے
کلام کے مطابق کہتے ہیں کہ ہم جو زندہ ہیں اور خُداوند کے آنے تک باقی رہیں گے
سوئے ہوؤں سے سے ہرگز آگے نہ بڑھیں گے کیونکہ خداوند خود آسمان سے للکار اور مقرب
فرشتہ کی آواز خدا کے نرسنگے کے ساتھ اُتر آئے گا اور پہلے تو وہ جو مسیح میں موئے
جی اٹھیں گے۔پھرہم جو زندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھائے جائیں گے
تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں اور اس طرح ہمیشہ خُداوند کے ساتھ رہیں گے۔ “[2]
مسیح کی آمد ثانی کے اتنے پُرزور اعلان(جس
کا ابتدائی مسیحی پہلی صدی عیسوی کے اختتام تک شدت سے انتظار کرتے رہے)کے کچھ منفی
نتائج بھی سامنے آئے۔ایک طرف تو بعض لوگوں میں یہ افواہیں پھیلنے لگیں کہ مسیح کی آمد
ثانی صرف قریب ہی نہیں بلکہ ہو بھی چکی ہے۔تھسلنیکے کی کلیسیا کے بعض افراد یہ
دعویٰ کرنے لگے کہ یا تو پولس نے زبانی یہ خبر دی ہے یا اس کی طرف سے ایک خط آیا
ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مسیح کسی نامعلوم مقام پر واپس آ چکے ہیں اور اب کسی
بھی لمحے تھسلنیکے بھی پہنچ سکتے ہیں ۔[3]اس
عقیدے کا براہِ راست اثر لوگوں کی روزمرہ زندگی پر پڑا۔کچھ مسیحیوں نے یہ سمجھ لیا
کہ چونکہ آخری زمانہ شروع ہو چکا ہے، اس لیے اب دنیاوی ذمہ داریوں کی ضرورت نہیں
رہی۔ چنانچہ انہوں نے کام کاج چھوڑ دیا اور عملی زندگی سے کنارہ کش ہو گئے ۔[4]اس
بے قابو جوش و خروش کو قابو میں لانے کی ضرورت تھی۔اگرچہ پولس اب بھی اس بات پر
یقین رکھتا تھا کہ ”خداوند کا دن“قریب ہے لیکن اس کا خیال تھا کہ وہ ابھی فوراً
نہیں آنے والا،اسی لیے اس نے تھسلنیکے کے مسیحیوں کو سمجھایا کہ مسیح کی دوسری آمد
سے پہلے کچھ مخصوص واقعات رونما ہوں گے۔ اس نے گویا ان کے سامنے ایک واضح ترتیب
اور مرحلہ وار زمانی خاکہ(Timetable)
پیش
کیا تاکہ لوگ غلط فہمی اور بے جا جلدبازی کا شکار نہ ہوں۔
”کسی طرح سے کسی کے فریب میں نہ آنا کیونکہ
وہ دن نہیں آئے اگ جب تک کہ پہلے برگشتگی نہ ہو اور وہ گناہ کا شَخص یعنی ہلاکت کا
فرزند ظاہر نہ ہوجو مخالفت کرتا ہے اور ہر ایک سے جو خدا یا معبود کہلاتا ہے اپنے
آپ کو بڑا ٹھہراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے مقدس میں بیٹھ کر کر اپنے آپ کو خدا
ظاہر کرتا ہے۔کیا تمہیں یاد نہیں کہ جب میں تمہارے پاس تھا تو تم سے یہ باتیں کہا
کرتا تھا؟اب جو چیز اُسے روک رہی ہے تاکہ وہ اپنے خاص وقت پر ظاہر ہو اس کو تم
جانتے ہو کیونکہ بے دینی کا بھید تو اَب
بھی تاثر کرتا جاتا ہے مگر اب ایک روکنے والا ہے اور جب تک وہ دور نہ کیا جائے
روکے رہے گا۔اس وقت وہ بے دین ظاہر ہوگا جسے خداوند یسوع اپنے منہ کی پھونک سے
ہلاک اور اپنی آمد کی تجلی سے نیست کرے گااور جس کی آمد شیطان کی تاثر کے موافق ہر
طرح کی جھوٹی قدرت اور نشانوں اور عجیب کاموں کے ساتھ اور ہلاک ہونے والوں کے لیے
ناراستی کے ہر طرح کے دھوکے کے ساتھ ہوگی اس واسطے کہ انہوں نے حق کی محبّت کو اختیار
نہ کیا جس سے ان کی نجات ہوتی ۔“[5]
جب پولس نے رومیوں کے نام خط (غالباً 55ء
تا 58ء کے درمیان) لکھا تو وہ اب بھی مسیح کی آمد ثانی کا
منتظر تھا لیکن اس کے انداز میں پہلے جیسا جوش کم ہو چکا تھا اور وہ زیادہ محتاط
زبان استعمال کرنے لگا۔ وہ لکھتا ہے کہ ”جس وقت ہم ایمان لائے تھے اس وقت کی نسبت
اب ہماری نجات نزدیک ہے۔رات بہت گزر گئی اور دن نکلنے والاہے۔“[6]
اس کے باوجودمسیح کی آمد ثانی کے مسلسل
انتظار نے پولس کی کلیسیاؤں، خصوصاً تھسلنیکے اور کرنتھس میں، کئی نئے سوالات اور
پریشانیاں پیدا کر دیں۔مسیحیوں کے لیے یہ بات تو باعثِ اطمینان تھی کہ جب یسوع
دوبارہ آئیں گے تو اس وقت زندہ ایمان والے معجزانہ طور پر بادلوں کی طرف اٹھا لیے
جائیں گے تاکہ اپنے خداوند کا استقبال کریں لیکن ایک اہم سوال باقی تھا کہ جو
مسیحی اس عظیم دن سے پہلے وفات پا چکے ہوں گے، ان کا کیا ہوگا؟کیا وہ بپتسمہ لینے
اور مسیح سے وابستہ ہونے کے باوجود اس عظیم ملاقات سے محروم رہ جائیں گے؟پولس نے
ان پریشان لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ جب مسیح دوبارہ آئیں گے تو خدا کے
نرسنگے کی آواز پر پہلے وہ تمام مسیحی زندہ کیے جائیں گے جو وفات پا چکے ہیں۔ اس
کے بعد وہ زندہ ایمان والوں کے ساتھ مل کر واپس آنے والے خداوند کا استقبال کریں
گے۔ [7]کرنتھس
کے بعض مسیحی اس سے بھی آگے بڑھ گئے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے وہ عزیز بھی نجات
پائیں جو انجیل سننے سے پہلے ہی مر گئے تھے۔ اسی لیے انہوں نے مردوں کی طرف سے
بپتسمہ لینے کی ایک رسم ایجاد کر لی۔ پولس نے اگرچہ اس رسم کی واضح تائید نہیں کی
لیکن اس پر اعتراض بھی نہیں کیا۔ [8]
اگر پولس کے مختلف خطوط خصوصاً تھسلنیکیوں، کرنتھیوں اور رومیوں کی تعلیمات
یکجا کی جائے تو اس
کے تصورِ آخرت کی یہ تصویر سامنے آتی ہے کہ سب سے پہلے انجیل کی منادی پوری غیر
یہودی دنیا میں پھیل جائے گی یہاں تک کہ دنیا کے انتہائی مغربی حصے یعنی اسپین تک
پہنچ جائے گی۔ [9]اس کے
بعد جب غیر یہودیوں کی مقررہ تعداد کلیسیا میں داخل ہو جائے گی تو یہ منظر یہودیوں
میں بھی جوش پیدا کرے گا اور وہ بھی بڑی تعداد میں ایمان لے آئیں گے یہاں تک کہ
تمام اسرائیل نجات پائے گا۔[10]پھر
آخری دن زندہ یہودی اور غیر یہودی مسیحی اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ وہ تمام
مسیحی جو وفات پا چکے تھے دوبارہ زندہ کیے جا رہے ہیں۔اس کے بعد سب کے سب، زندہ
اور دوبارہ زندہ ہونے والے زمین اور آسمان کے درمیان کسی مقام پر اپنے واپس آنے
والے خداوند سے ملاقات کریں گے اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گے۔ [11]اسی
وقت مسیح خدا کے تمام دشمنوں پر فتح حاصل کرے گا۔ ہر حکومت، ہر اختیار اور ہر طاقت
اس کے سامنے مغلوب ہو جائے گی اور آخرکار موت جو آخری دشمن ہے،بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائے گی۔ [12]پھر
جب ہر چیز مسیح کے تابع ہو جائے گی تو وہ خود بھی بادشاہی خدا باپ کے سپرد کر دے
گا اور خود بھی اس کے تابع ہو جائے گا۔
[1]
۱-تھسلنیکیوں 5 :2
[2]
۱-تھسلنکیوں۴: ۱۴-۱۷
[3]
2- تھسلنیکیوں 2 :1–2
[4]
2- تھسلنیکیوں 3 :6–13
[5]
۲-تھسلنکیوں۲: ۳-۱۰
[6]
رومیوں
13 :11–12
[7]
1- تھسلنیکیوں 4 :15–16
[8]
1- کرنتھیوں 15 :29
[9]
رومیوں
15 :24
[10]
رومیوں
11:11–12، 25–26
[11]
1- تھسلنیکیوں 4 :15–17
[12]
1 -کرنتھیوں ۱۵: ۲۴ -۲۸

