Pages

Most Popular

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

 












پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

مترجم:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ

بپتسمہ

پولس کے غیر یہودی سامعین کو مسیحی بنانے کے لیے سب سے پہلے ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ پولس کی منادی پر ایمان لائیں یعنی یہ تسلیم کریں کہ حضرت عیسیٰؑ مصلوب ہوئے، پھر زندہ کیے گئے اور وہی نجات دہندہ ہیں۔ اس ایمان کے بعد انہیں حضرت عیسیٰؑ کے نام پر بپتسمہ دیا جاتا تھا۔ جب کرنتھس کی کلیسیا مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئی اور ہر گروہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی رہنما مثلاً پولس، اپلوس یا کیفا (پطرس) سے منسوب کرنے لگا تو پولس نے ان سے سوال کیاکہ کیا تم پولس کے نام پر بپتسمہ لیے تھے؟[1] اس سوال کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ بپتسمہ کسی انسانی رہنما کے نام پر نہیں بلکہ صرف حضرت عیسیٰؑ مسیح کے نام پر دیا جاتا ہے۔ تاہم پولس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کی بنیادی ذمہ داری بپتسمہ دینا نہیں بلکہ انجیل کی تبلیغ کرنا تھی [2]اس لیے وہ بپتسمہ دینے کا کام عموماً اپنے ساتھیوں کے سپرد کر دیتا تھا، صرف چند افراد کو اس نے خود بپتسمہ دیا۔

اگرچہ پولس نے روح القدس کی عطا کردہ روحانی نعمتوں(Charismatic Gifts)پر بہت زور دیا لیکن اعمال کی کتاب  کے مصنف کے برعکس اس نے کبھی روح القدس کی ان نعمتوں کو بپتسمہ کے ساتھ براہِ راست وابستہ نہیں کیا۔ اس کی اصل توجہ بپتسمہ کے ظاہری عمل پر نہیں بلکہ اس کے روحانی مفہوم پر تھی۔ اپنے نظریہِ نجات کے مطابق پولس بپتسمہ کو حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور دوبارہ زندہ ہونے کی ایک علامتی اور روحانی بازآفرینی قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک جب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے تو گویا وہ علامتی طور پر مسیح کے ساتھ مر جاتا ہے، دفن ہوتا ہے اور پھر ایک نئی روحانی زندگی کے لیے زندہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح پولس نے ایک عام یہودی طہارت کے رسمی عمل کو ایک بالکل نیا مذہبی اور علامتی مفہوم عطا کیا۔

یہودی مذہب میں پانی میں غوطہ لگانے کا مقصد بنیادی طور پر رسمی طہارت حاصل کرنا تھا۔ یہ عمل جسمانی ناپاکی مثلاًجنسی تعلق، حیض، ولادت، بعض جِلدی یا جسمانی بیماریوں یا مردہ جسم کو چھونے سے پیدا ہونے والی نجاست کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ بعد میں حضرت یحییٰؑ اصطباغی  کے بپتسمہ نے اس عمل کو ایک اخلاقی اور روحانی معنی بھی دیا جہاں بپتسمہ گناہوں سے توبہ اور ان کی آلودگی سے پاک ہونے کی علامت بن گیا۔ یہی تطہیری تصور ان رسومات میں بھی برقرار رہا جو صرف ایک مرتبہ ادا کی جاتی تھیں مثلاً یہودیت قبول کرنے والے نو وارد (Proselytes) کے بپتسمہ میں، جو ان کے یہودی برادری میں داخلے کی علامت تھا۔اسی طرح بحرِ مردار یاقمرانی جماعت میں بھی نئے رکن کی عہد میں شمولیت کے وقت پانی میں غوطہ لگانے کی رسم بنیادی طور پر تزکیہ اور پاکیزگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ قمران کی جماعت کے ضابطۂ حیات میں مذکور ہے کہ ” جب اس کا جسم پاک کرنے والے پانی سے دھویا جائے گا اور اس کی روح خدا کے تمام احکام کے سامنے عاجزی سے جھک جائے گی، تب وہ حقیقت میں پاک شمار ہوگا۔“[3]

پولس کے نزدیک بپتسمہ کا حوض محض پانی میں غوطہ لگانے کی جگہ نہیں بلکہ اس کا ایک نہایت گہرا علامتی مفہوم تھا۔ اس کے مطابق یہ حوض اس قبر کی نمائندگی کرتا تھا جس میں مصلوب حضرت عیسیٰؑ کی لاش دفن کی گئی اور جہاں وہ تیسرے دن دوبارہ زندہ ہونے تک رہی۔ اس لیے پولس بپتسمہ کو ایک علامتی مذہبی ڈراما(Myth-Drama)قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک جب کوئی شخص بپتسمہ کے لیے پانی میں اترتا اور پھر باہر نکلتا ہے تو وہ علامتی طور پر حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور قیامت میں شریک ہو جاتا ہے۔ اس رسم کے ذریعے مسیح کے ان واقعات کے روحانی اثرات نئے مسیحی کی زندگی میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایمان کی نظر سے دیکھا جائے تو بپتسمہ ایک روحانی ولادتِ نو (Sacramental Rebirth) ہےجس میں انسان اپنی پرانی زندگی کو چھوڑ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔اسی تصور کو پولس رومیوں کے نام اپنے خط میں یوں بیان کرتا ہے

”کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح حضرت عیسیٰؑ  میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اس کی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا؟ پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اس کے ساتھ دفن ہوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مردوں میں سے جلایا گیا اسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں۔“[4]

بپتسمہ  کی یہ تعبیر روایتی یہودی یا ابتدائی یہودی-مسیحی تصورِ طہارت سے کافی مختلف ہے۔ اس کے نزدیک پولس کا نظریۂ بپتسمہ رومی سلطنت میں حضرت عیسیٰؑ کے زمانے میں رائج یونانی، مصری، شامی اور فارسی اسراری مذاہب (Mystery Cults) کے افکار سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے جہاں مذہبی رسومات کے ذریعے دیوتا کی موت اور دوبارہ زندگی میں علامتی شرکت کو روحانی نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا جبکہ یہودی روایت میں بپتسمہ یا غسل بنیادی طور پر طہارت، توبہ اور پاکیزگی کی علامت تھا۔

عشائے ربانی

مسیحیت کی پہلی اور زندگی میں ایک ہی بار ادا کی جانے والی مذہبی رسم ”بپتسمہ“تھی تاہم اس کے علاوہ پولس نے اپنے پیش روؤں سے ایک دوسری اہم عبادتی روایت بھی حاصل کی یعنی اجتماعی مذہبی کھانا۔ ابتدائی مسیحی اس رسم کو ”روٹی توڑنا“کہتے تھے جبکہ یونانی زبان میں اسے ”شکرگزاری“(Eucharist) کہا جاتا تھا۔ جس طرح پولس نے بپتسمہ کو ایک نیا روحانی مفہوم دیا اسی طرح اس نے اس اجتماعی کھانے کی بھی نئی تعبیر پیش کی اور اسے حضرت عیسیٰؑ کے آخری فسح کے کھانے (Lord’s Supper) کی یاد اور اس کی تجدید قرار دیا جو آپؑ نے اپنی مصلوبیت سے ایک رات پہلے اپنے رسولوں کے ساتھ تناول کیا تھا۔

پولس کا دعویٰ ہے کہ اس رسم کا باطنی اور روحانی مفہوم اسے براہِ راست حضرت مسیح سے حاصل ہوا تھا۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے”یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچا دی “۔[5]یہاں وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ تعلیم اسے دوسرے رسولوں کی روایت سے ملی جیسا کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور قیامت کے متعلق کہتا ہے”میں نے سب سے پہلے تم کو وہی بات پہنچا دی جو مجھ تک پہنچی تھی ۔“[6]اگر یہ تجزیہ درست ہو تو عشائے ربانی کے اس گہرے روحانی اور علامتی مفہوم کا اصل سرچشمہ اناجیل کے مصنفین نہیں بلکہ خود پولس ہے جس نے 50ء کی دہائی کے آغاز میں اپنے خطوط میں اسے بیان کیا۔ بعد میں یہی تصور غالباً لوقا کے ذریعے اناجیل کی روایت میں داخل ہوا کیونکہ لوقا کو پولس کا شاگرد سمجھا جاتا ہے اور اس کی انجیل میں عشائے ربانی کا بیان پولس کی تعلیم سے نمایاں مشابہت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ حضرت عیسیٰؑ کی یہ ہدایت کہ ”اسے میری یادگاری میں کرتے رہو“صرف پولس اور لوقا ہی نقل کرتے ہیں۔

پولس کے نزدیک عشائے ربانی کی رسم دو بنیادی روحانی معانی رکھتی ہے۔ پہلا یہ کہ اس میں شریک ہونے والے ایماندار علامتی اور روحانی طور پر حضرت مسیح کی موت اور قیامت کے نجات بخش عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ اس رسم کے ذریعے حضرت مسیح اور کلیسیا کے روحانی جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے مطابق جب ایماندار روٹی کھاتے اور پیالے میں سے پیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے ایک روحانی اور مقدس تعلق کے ذریعے حضرت مسیح کی فدیہ بخش موت میں شریک ہو جاتے ہیں اور اسی شرکت کے ذریعے ان کا رشتہ نہ صرف مسیح سے بلکہ پوری مسیحی جماعت سے بھی قائم اور مضبوط ہوتا ہے۔

”یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچادی کہ خداوند حضرت عیسیٰؑ  نے جس رات وہ پکڑوایا گیا روٹی لی او رشکر کرکے توڑی اور کہا یہ میرا بدن ہے جو تمہارے لیے ہے۔میری یادگاری کے واسطے یہی کیا کرو۔اسی طرح اس نے کھانے کے بعد پیالہ بھی لیا اور کہا یہ پیالہ میرےخون میں نیا عہد ہے۔جب کبھی پیو میری یادگاری کے لیے یہی کیا کرو۔ کیونکہ جب کبھی تم یہ روٹی کھاتے اور اس پیالے میں سے پیتے ہو تو خداوند کی موت کا اظہار کرتے ہو،جب تک وہ نہ آئے۔“[7]

مزید برآں چونکہ پولس کے نزدیک روٹی حضرت عیسیٰؑ کے جسم کی علامت تھی، اس لیے اس روٹی میں شریک ہونے والے تمام افراد بھی روحانی طور پر ایک ہی جسم یعنی کلیسیا میں متحد ہو جاتے تھے۔ اسی تصور کو وہ یوں بیان کرتا ہے کہ جو روٹی ہم توڑتے ہیں، کیا وہ مسیح کے جسم میں شریک ہونے کی علامت نہیں؟ چونکہ روٹی ایک ہے، اس لیے ہم  اگرچہ بہت سے ہیں، ایک ہی جسم ہیں  کیونکہ ہم سب اسی ایک روٹی میں شریک ہوتے ہیں۔[8]اس طرح عشائے ربانی پولس کے نزدیک صرف ایک یادگاری رسم نہیں بلکہ ایسی عبادت تھی جو ایمانداروں کو روحانی طور پر حضرت مسیح اور ایک دوسرے کے ساتھ متحد کر دیتی تھی۔

جب پولس نے اس اجتماعی کھانے کو اس قدر بلند روحانی اور مقدس مقام دیا تو اسے یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ کرنتھس کی کلیسیا کے عام لوگ اس کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہے تھے۔ اس نے شکایت کی کہ کلیسیا کے افراد اتحاد کے بجائے مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کی تقسیم معاشرتی حیثیت کی بنیاد پر بھی نمایاں ہے ۔[9]مزید یہ کہ عشائے ربانی کی تقریب کے دوران بھی ان کا طرزِ عمل بے ترتیبی اور خود غرضی کا مظہر تھا۔ مشترکہ کھانے کے بجائے ہر خاندان اپنا الگ کھانا لے آتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ غریب اور کم حیثیت لوگ بھوکے رہ جاتے اور احساسِ محرومی کا شکار ہوتے جبکہ دولت مند افراد عمدہ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے یہاں تک کہ بعض نشے کی حالت تک پہنچ جاتے تھے ۔[10]پولس کرنتھس کی کلیسیا کی جو تصویر پیش کرتا ہے، وہ اس جماعت کی اخلاقی کمزوریوں کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کو ہدایت دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ دسترخوان پر نہ بیٹھیں جو شراب نوشی، بت پرستی، گالی گلوچ، ڈاکہ زنی، جنسی بے راہ روی یا لالچ جیسی برائیوں میں مبتلا ہوں ۔[11]

بہرحال پولس نے روٹی توڑنے یا عشائے ربانی کو جس روحانی اور اعتقادی مفہوم کے ساتھ پیش کیا وہی غیر یہودی مسیحیت کی عبادتی زندگی کا بنیادی ستون بن گیا۔ یہی رسم بعد کی مسیحی روایت میں بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گئی اور آج تک مسیحی عبادت کا ایک اہم اور بنیادی جزو سمجھی جاتی ہے۔



[1] 1- کرنتھیوں 1 :12–13

[2] 1- کرنتھیوں 1 :17

[3] 1QS 3:9

[4] رومیوں 6 :3–4

[5] 1 -کرنتھیوں 11 :23

[6] 1- کرنتھیوں 15 :3

[7] ۱-کرنتھیوں ۱۱: ۲۳-۲۶

[8] 1- کرنتھیوں 10 :16–17؛ رومیوں 12 :4–5

[9] 1- کرنتھیوں 11 :18؛ 1: 12

[10] 1- کرنتھیوں 11 :21–22، 33–34

[11] 1- کرنتھیوں 5 :11


مکمل تحریر >>

جمعہ، 23 اکتوبر، 2026

مقدس پولس کا پیش کردہ تصورِمسیحیت( قسط اول)

 











مقدس پولس کا پیش کردہ تصورِ مسیحیت(قسط اول)

مترجم:عبداللہ غازیؔ

یہودیوں اور غیر قوموں میں پولس کی تبلیغی خدمت

پولس کی مسیحیت(Pauline Christianity)کی حقیقت سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی ابتدا کیسے ہوئی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ طرسوس کے رہنے والے یہودی پولس نے خود کو حضرت عیسیٰؑ کا منتخب نمائندہ اور رسول کس بنیاد پر سمجھا؟اس سوال کا جواب ہمیں بنیادی طور پر دو ذرائع سے ملتا ہےجن میں اعمال  کی کتاب  کےباب 9 تا 28 اور خود پولس کے خطوط خصوصاً گلتیوں اور دوسرا کرنتھیوں شامل ہیں ۔ تاہم ان دونوں ذرائع میں بعض مقامات پر معلومات ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد بھی معلوم ہوتی ہیں۔اعمال کی کتاب  کے مطابق پولس کا تعلق ایشیائے کوچک (موجودہ جنوبی ترکی) کے شہر طرسوس سے تھا جہاں وہ پیدا ہوا اور مختلف اوقات میں قیام بھی کرتارہا۔ وہ نسلاً یہودی تھالیکن کسی نامعلوم وجہ سے پیدائشی طور پر رومی شہریت بھی رکھتاتھا۔ مزید یہ کہ اس کی تعلیم مبینہ طورپر یروشلم میں اس زمانے کے مشہور فقیہ اور ربی گملی ایل(Gamaliel)کی شاگردی میں ہوئی تھی۔ ان باتوں میں سے کوئی بھی ناممکن نہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پولس اپنے خطوط میں ان میں سے کسی بات کا ذکر نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اپنی اعلیٰ یہودی علمی حیثیت یا رومی شہریت کا حوالہ دیتاتو یہ یہودی اور رومی حکام سے معاملات میں اس کے لیے سودمندثابت ہو سکتا تھا۔

اعمال کی کتاب  کے مطابق پولس نے اپنی تبلیغ صرف غیر قوموں تک محدود نہیں رکھی بلکہ یہودیوں اور غیر قوموں دونوں کو اپنا مخاطب بنایا۔دمشق میں جب اس نے یہودیوں کو حضرت عیسیٰؑ کا پیغام سنایا تو اس  کی جان خطرے میں پڑ گئی ۔[1]بعد ازاں اس نے پسدیہ کے انطاکیہ، اِکونیم، بیریہ، کرنتھ اور روم جیسے شہروں میں بھی سب سے پہلے یہودیوں کو تبلیغ کی لیکن اسے وہاں بہت محدود کامیابی حاصل ہوئی۔ عموماً یہودی عبادت گاہوں کے ذمہ دار افراد اسے فسادی شخص سمجھتے تھے جو ان کی جماعت کے امن و اتحاد کے لیے خطرہ بن گیا تھا، اس لیے انہوں نے پولس کی شدیدمخالفت کی۔اس کے برعکس پولس کی دعوت کو زیادہ پذیرائی دو طبقوں میں ملی۔اولاًوہ غیر یہودی جو پہلے ہی یہودی مذہب سے متاثر ہو کر عبادت خانوں میں آتے تھے اور دوم وہ بت پرست غیر اقوام جن کا پہلے یہودیت سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن وہ پولس کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں۔ یوں پولس کی تبلیغی سرگرمیوں کا اصل اور دیرپا اثر غیر قوموں میں زیادہ نمایاں ہوا جبکہ یہودی معاشرے میں اسے نسبتاً کم کامیابی ملی۔

پولس خود کو کو خدا کی طرف سے غیر اقوام تک خوشخبری پہنچانے کے لیے چنیدہ شخص سمجھتا تھا۔ وہ خود کو”مسیح حضرت عیسیٰؑ  کا خادم، جو غیر قوموں کے درمیان خدا کی خوشخبری کی خدمت انجام دیتا ہے“قرار دیتا ہے ۔[2] وہ اپنے آپ کو غیر قوموں کا استاد، رسول، اور ان لوگوں کے لیے خوشخبری کا امین بھی کہتا ہے جو مختون نہیں ہیں۔[3]اس کے برعکس پولس کے مطابق یہودیوں میں تبلیغ کی ذمہ داری پطرسؔ کے سپرد تھی، کیونکہ وہ "مختون افرادکے لیے خوشخبری“کے رسول تھے۔[4]اگرچہ پولس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہودیوں میں تبلیغ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہےلیکن وہ یہ ضرور یقین رکھتا تھا کہ آخرکار یہودی بھی نجات پائیں گے۔ اس کے نزدیک جب غیر اقوام کی بڑی تعداد مسیح پر ایمان لے آئے گی تو خدا بنی اسرائیل پر بھی اپنا فضل فرمائے گا۔ اسی خیال کو وہ یوں بیان کرتا ہے کہ ”میں نہیں چاہتا کہ تم اس بھید سے ناواقف رہو کہ اسرائیل کا ایک حصہ سخت ہو گیا ہے اور جب تک غیر قومیں پوری طرح داخل نہ ہوں ایسا ہی رہے گا اور اس صورت میں تمام اسرائیل نجات پائے گا۔“[5]

اعمال کی کتاب  کے مطابق، جب بھی پولس فلسطین سے باہر کسی شہر میں پہنچتا تو اپنی تبلیغ کا آغاز عموماً یہودی عبادت گاہ  سے کرتا تھا۔ وہاں مقامی یہودیوں کے ساتھ ساتھ وہ غیر یہودی بھی موجود ہوتے تھے جو یہودیت سے متاثر تھے اور خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ پولس ان سب کے سامنے اپنا پیغام پیش کرتا تھا۔پولس نے ایک موقع پر اپنی تبلیغی حکمتِ عملی کو ان الفاظ میں بیان کیا

”میں یہودیوں کے لیے یہودی بنا تاکہ یہودیوں کو کھینچ لاؤں۔ جو لوگ شریعت کے ماتحت ہیں ان کے لیے میں شریعت کے ماتحت ہوا تاکہ شریعت کے ماتحتوں کو کھینچ لاؤں۔۔۔۔۔میں سب آدمیوں کے لیے سب کچھ بنا ہوا ہوں تاکہ کسی طرح سے بعض کو بچاؤں۔“[6]

اگرچہ پولس اپنی تبلیغ میں یہودیوں تک بھی پہنچنے کی کوشش کرتا تھا لیکن فلسطین سے باہر اس کی سرگرمیاں یہودیوں کے ساتھ شدید تنازعات کا باعث بنتیں۔ بہت سی عبادت گاہوں کے ذمہ دار اس کے مخالف ہو گئے اور اسے سخت سزائیں بھی دیں۔پولس خود بیان کرتا ہے کہ ”میں نے یہودیوں سے پانچ بار ایک کم چالیس چالیس کوڑے کھائے۔تین بار بید لگے۔ ایک بار سنگسار کیاگیا۔ تین بار جہاز ٹوٹنے کی بلا میں پڑا۔ ایک رات دن سمندر میں کاٹا۔“[7](اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس کی تبلیغی زندگی آسان نہیں تھی۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر غیر قوموں کا رسول سمجھا جاتا تھا پھر بھی وہ اکثر یہودیوں سے بھی رابطہ کرتا رہا لیکن اس کوشش کی قیمت اسے شدید مخالفت، جسمانی اذیت اور بار بار سزاؤں کی صورت میں چکانی پڑی۔مترجم)

اگر اعمال کی کتاب  میں موجود معلومات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو غالباً واقعات کی اصل صورتِ حال کچھ یوں تھی۔جب پولس اور اس کے ساتھی مختلف شہروں کا سفر کرتے تو وہ سب سے پہلے وہاں کی یہودی برادری سے رابطہ کرتے اور عموماً انہیں انہی کے ہاں قیام و مہمان نوازی مل جاتی۔ پھر پولس اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سبت(Sabbath) کے دن عبادت گاہ میں حاضر لوگوں سے خطاب کرتا۔ بعض اوقات اسے دوسری مرتبہ بھی وعظ کرنے کی دعوت مل جاتی۔اس کی تقریر کے بعد چند یہودی اور عموماً ان سے زیادہ تعداد میں وہ غیر یہودی جو پہلے ہی یہودیت سے متاثر تھے (جنہیں ”خدا ترس“ یا God-fearers کہا جاتا تھا)، پولس کے ساتھ ہو لیتے اور اس سے مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے۔تاہم اکثر یہودی اس کی باتوں سے متاثر نہ ہوتے۔ اس کے برعکس عبادت گاہ کے رہنما پولس کو اپنی جماعت کے اتحاد اور امن کے لیے خطرہ سمجھتے تھے، اس لیے وہ اس کے نئے پیروکاروں کو دوبارہ اپنی جماعت میں واپس لانے کی کوشش کرتے تھے ۔[8]ایسے حالات میں پولس اور اس کے ساتھی یہودی برادری سے اپنا تعلق ختم کر دیتے اور اپنی تمام تر توجہ ان غیر یہودیوں کی تعلیم و تربیت پر مرکوز کر دیتے جو یہودیت سے متاثر تھے نیز دوسرے دلچسپی رکھنے والے بت پرست لوگوں پر۔اس موقع پر وہ مخالف یہودیوں سے کہتے”ضرور تھا کہ خڈا کا کلام پہلے تمہیں سنایاجائے لیکن چونکہ تم اس کو رد کرتے ہو اور اپنے آپ کو ہمیشہ کی زندگی کے ناقابل ٹھہراتے ہوتودیکھو ہم غیر قوموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ “[9]یہی غیر یہودی ایمان  دار بعد میں پولس کی قائم کردہ کلیسیاؤں کی بنیاد بنے۔ان نئی جماعتوں کے افراد عبادت یا مذہبی اجتماعات کے لیے کسی باقاعدہ عبادت گاہ میں نہیں بلکہ اپنے ہی کسی خوش حال رکن کے کشادہ گھر میں جمع ہوتے تھے۔ ایسے اجتماعات کو بعد میں ”ہاؤس چرچ“(House Church) کہا جانے لگا۔یونانی دنیا میں غیر قوموں پر مشتمل مسیحیت کی باقاعدہ توسیع کا آغاز اسی طریقے سے ہوا۔


[1] اعمال 9 :20 –25

[2] رومیوں 15 :16

[3] گلتیوں 1 :16؛ 2 :7؛ 1- تیمتھیس 2 :7

[4] گلتیوں 2 :7

[5] رومیو۱۱: ۲۵-۲۶

[6] ۱-کرنتھیوں 9 :20–22؛ 10 :33

[7] ۲۔کرنتھیوں 11 :24–25

[8] اعمال 13 :45؛ 17 :13

[9] اعمال 13 :46


مکمل تحریر >>

ہفتہ، 22 اپریل، 2023

مسیحا کی پیدائش !


 







قسط ایک ۔

مسیحا کی پیدائش !

متی اور لوقا یوسف بڑھئی کے دو مُختلف نسب نامے پیش کرتے ہیں ، اور وہ اس بات پر بھی متفق نہیں کہ یوسف کا باپ کون تھا ۔ ( متی 1;2-17 ، لوقا 3; 23-38 )

مسیحی اپالوجسٹ یہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ لوقا نے مقدسہ مریم کا نسب نامہ لکھا ہے ، لیکن لوقا صاف صاف لکھتے ہیں کہ نسب نامہ یوسف کا ہے ( لوقا 3;23 )

لیکن یوسف کا نسب نامہ کیوں ؟

متی اور لوقا یہ دکھانے کی کوشش میں ہیں کہ یوسف کا نسب داؤد بادشاہ سے ملتا ہے اور یسوع کو داؤد کی نسل سے دکھا کر مسیحا ہونے کی پیشگوئیوں کے مصداق ثابت کرنا تھا لیکن نسب نامے تب بے مقصد ہو جاتے ہیں جب یہ پتہ چلتا ہے کہ یوسف یسوع کا باپ ہی نہیں تھا ۔اور یہ بعد کی ایڈیٹنگ کا نتیجہ ہے ، اور اس سے

چرچ نے دو مسائل کھڑے کر لیئے ایک تو انہوں نے یسوع کا یوسف سے تعلق توڑ کر نسب ناموں کا انجیل میں ہونے کا مقصد ہی ختم کر دیا

دوسرا یہ کہ یسوع کا کسی مسیانک پیشگوئی پر پورا اُترنا ناممکن بنا دیا کہ مسیحا کو داؤد کی نسل ہونا لازم تھا ۔

پولُس بھی فرماتے ہیں کہ یسوع جسمانی طور پہ داؤد کی نسل ہیں ( رومیوں 1;3 )

کچھ اپالوجسٹ یہ کہنے کہ کوشش کرتے ہیں کہ یوسف نے یسوع کو قانونی طور پہ گود لے لیا تھا ۔

لیکن مسئلہ پھر بھی وہیں ہے کہ مسیحا کو داؤد کی نسل سے ہونا تھا ، اسکے تُخم سے ہونا تھا اور کنواری سے پیدائش اسے نا اہل کرتی ہے ۔

اور عجیب بات یہ ہے کہ نیا عہد نامہ لکھنے والے سب لکھا ریوں میں سے یسوع کی معجزاتی پیدائش کا صرف متی اور لوقا ہی ذکر کرتے ہیں حالانکہ پولُس کے لیئے تو یہ پیدائش سونے پہ سہاگہ والی بات ہوتی ۔لیکن وہ بھی ایک عام عورت سے پیدائش کا ذکر کرتے ہیں ۔( گلتیوں 4;4 )

وہ یوسف کو داؤد کی نسل سے اس لیئے ثابت کرتے رہے کہ مانتے تھے یسوع یوسف کا صُلبی بیٹا ہے کیونکہ اُنہیں ( گاسپل لکھنے والوں کو ) کنواری سے پیدائش کا علم ہی نہیں تھا ۔اور کنواری کے سب ریفرنس بعد میں ایڈٹنگ کا نتیجہ ہیں ، جسے ان باتوں سے تقویت ملتی ہے ۔

مقدسہ مریم پہ یہودیوں کے الزامات کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں اور بزرگ متی اپنا گاسپل لکھتے ہوئے ایک عجیب و غریب بات کرتے ہیں کہ مسیح کے نسب نامے میں خصوصاً چار عورتوں کا ذکر کرتے ہیں ۔

تمر ؛ جو یہودا کی بہو تھی اور ایک طوائف کے روپ میں یہودا سے زنا کرکے فارص کو جنم دیتی ہے ۔ ( پیدائش 38 ; 12-19 )

راحب ؛ یریحو کی رہنے والی ایک طوائف ( یشوع 2;1 )

روت ؛ جو اپنی ساس کے کہنے پر شادی سے پہلے بوعز کے ساتھ رات گزارتی ہے ۔ ( روت 3; 1-14 )

بُت سبع ؛ حتی اوریا کی بیوی جس سے داؤد بادشاہ نے زنا کیا ( 2 سیموئیل 11 ; 2-5 )

بزرگ متی کا نسب نامے میں عورتوں کا ذکر ہی نامعقول ہے اور پھر یہی چار عورتیں جو کہیں نہ کہیں جنسی غلط کاری یا غلط کاری کے شکوک میں ملوث رہیں کیا ثابت کرتا ہے ؟

ثابت تو کچھ نہیں ہوتا ، ہاں اُن لوگوں کے مُنہ پہ تمانچہ مارنا مقصود ضرور رہا ہوگا جو مقدسہ مریم پہ بد چلنی کا الزام لگاتے تھے کہ تمہاری نسل بھی ایسی عورتوں میں سے ہو گزری ہے ۔

اور یہ پکا ثبوت ہے کہ گاسپل کے لکھاری کنواری سے پیدائش کے متعلق لکھتے وقت نہیں جانتے تھے ۔ورنہ الزامات کو جواب الزام لگا کر نہ دیا جاتا ۔

دوسری بات

متی ہی کے گاسپل میں فرشتہ یوسف پہ ظاہر ہو کر کہتا ہے کہ مریم کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہی تمہارے لوگوں کو گناہوں سے نجات دلوائے گا ۔

لوقا کے گاسپل میں فرشتہ مریم سے کہتا ہے کہ تیرا بیٹا بزرگ ہوگا اور خدا تعالی کا بیٹا کہلائے گا اور ہمیشہ کے لیئے داؤد کے تخت پر حکومت کرے گا ۔

اگر یہ سب سچ ہوتا تو مقدسہ مریم اور یوسف بلکہ یسوع کے بھائی اور بہنیں اس کے پہلے رسول ہوتے اور شروع دن سے اسکی عزت و تکریم کی منادی کرتے

لیکن ہوا کیا ؟

یسوع کے اپنے کہنے کے مطابق ، وہ اپنے گھر اور اپنے رشتہ داروں میں بے عزت ہوتے تھے ۔

اسکی ماں اور اسکے بھائی اس پر ایمان نہ لائے تھے

یہی نہیں ، یسوع کے رشتہ دار یہ کہتے ہوئے اسے پکڑنے آئے کہ وہ پاگل ہو گیا ہے ۔ ( مرقس 3 ؛20-21 )

یہ رہی گاسپل میں فرشتے کے ظاہر ہونے کی سچائی ۔

آگے چلیں !

متی کے مطابق گاسپل میں یسوع ہیرودیس دی گریٹ کے دور میں پیدا ہوئے ۔ ( متی ؛2;1 )

لوقا کے مطابق گاسپل میں یسوع کی پیدائش اسرائیل کی پہلی مردم شماری میں ہوئی جبکہ کورینیئس سوریہ کا گورنر تھا ۔ ( لوقا 2;2 )

یہ سب تو ممکن نہیں کیونکہ ہیرودیس BCE 4 میں فوت ہوگیا تھا جبکہ مردم شماری CE 7 میں ہوئی تھی ۔

مسیحی اپالوجسٹ یہاں متن کو اپنے معنی پہنانے کی بہت کوشش کرتے ہیں کہ یوں ہوا تھا یا ووں ہوا تھا

لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ کورینیئس گورنر بنا ہی ہیرودیس کی موت کے بعد تھا ۔

متی اور لوقا دونوں کہتے ہیں کہ یسوع بیت لحم میں پیدا ہوئے ، متی کے مطابق ایک پیش گوئی پوری ہوئی ( میکاہ 5;2 )

لیکن اگر آپ اس پیشگوئی کا متی 2;6 سے موازنہ کریں تو متی نے میکاہ کی پیشگوئی کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے ۔

لوقا کے مطابق مقدسہ مریم اور یوسف ناصرہ میں رہتے تھے اور وہاں سے بیت لحم گئے ۔ لوقا 2;4

متی ایک متضاد بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مقدسہ مریم اور یوسف ناصرہ میں یسوع کی پیدائش کے بعد منتقل ہوئے کیونکہ وہ یہودا جانے سے ڈرتے تھے ۔ ( متی 2;21-23 ) متی مذید لکھتے ہیں کہ اس سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ وہ ناصری کہلائے گا ، لیکن ایسی کوئی پیش گوئی بائبل میں ہے ہی نہیں ۔

اب آتے ہیں متی کے مطابق گاسپل کی پیش گوئیوں کی طرف ۔

# کنواری سے پیدائش ۔ ( ایسعیاء 7;14 )

اس پیش گوئی پر بہت بحث ہو چکی ہے اور ثابت کیا جا چکا ہے کہ اسکا یسوع کی پیدائش سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ آخز بادشاہ کے لیئے نشان تھا کہ اُن دو بادشاہوں کے ساتھ کیا ہوگا جو یہودا پہ حملہ کرنا چاہتے تھے ۔

اور اگر یہ پیشگوئی یسوع کے لیئے ہوتی تو اُن کا نام یسوع نہیں بلکہ عمانیول رکھا گیا ہوتا جو پیشگوئی میں بہت واضع ہے ۔

# بچوں کا قتل عام

متی کہتے ہیں کہ ہیرودیس نے مسیحا کے ڈر سے بیت لحم اور ارد گرد کے دو سال سے کم عمر تمام بچوں کو قتل کروا دیا ، اور کہتے ہیں اس سے وہ بات پوری ہوئی جو یرمیاہ نبی کی معرفت کہی گئی تھی یعنی یرمیاہ 31;15

آپ اگر یرمیاہ 31 کی 15-16 پڑھیں تو لکھا ملتا ہے تو اپنی آنکھوں کو آنسؤں سے باز رکھ کیونکہ وہ دشمن ملک سے واپس آئیں گے ۔

ہیرودیس کے بہت جرائم ہیں جن میں اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو قتل کرنا شامل ہے اور مشہور یہودی تاریخ دان ہیرودیس کے جرائم بڑھ چڑھ کر پیش کرتا رہا لیکن بچوں کا قتل ، جو اسکا سب سے بڑا اور سنسنی خیز جرم ہوتا ، پر یوسیفس ایک لفظ بھی نہیں لکھتا ۔

# مصر سے واپس بلایا

متی فرشتے کی ہدایت پر یوسف اور مریم کو یسوع کے ساتھ مصر بھیج دیتے ہیں اور انکی واپس پر ہوسیع 11;1 کی پیش گوئی پوری کرتے ہیں ۔

لیکن متی اس آیت کا صرف دوسرا حصہ استعمال کرتے ہیں لیکن آپ پوری آیت پڑھیں تو واضع ہو جاتا ہے کہ بات بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کی ہو رہی ہے ۔

بچوں کا قتل اور مصر سے واپسی کی سچائی لوقا کی گاسپل پڑھنے سے ہی ایاں ہو جاتی ہے کیونکہ لوقا لکھتے ہیں کہ چالیس دن پاکیزگی کے پورے کرکے یسوع کو ہیکل میں لایا جاتا ہے اور قربانی دی جاتی ہے ۔

لیکن متی جی ان چالیس دنوں میں مجوسیوں کا آنا ، مصر کو بھاگ جانا ، ہیرودیس کا مرنا ، مصر سے واپسی اور ارخلاؤس کے ڈر سے نئے شہر میں جا بسنا اور پھر ارخلاؤس کا ڈر ختم کرکے یروشلم جانا بھی شامل کر لیتے ہیں تاکہ پیشگوئیاں پوری کی جائیں ۔

# خلاصہ

یسوع کی پیدائش کے بیانیے سے ہی ثابت ہو جاتا ہے کہ گاسپل کوئی خدا کا کلام نہیں اور نہ ہی کسی روح کی ہدایت سے لکھے گئے ہیں بلکہ وہ یسوع کے کسی حواری سے حاصل کردہ معلومات بھی نہیں ۔

متی کے مطابق گاسپل میں عہدنامہ عتیق سے جو بھی مواد اس قابل ملا کہ کہانی میں فٹ کیا جا سکے اسے پیشگوئی بنا کر ایسی کہانی بنا لی گئی کہ یہ کہا جا سکے کہ پیشگوئی پوری ہوئی ۔

متی نے ایسی ہی ایک پیشگوئی یسوع کے یروشلم میں فاتحانہ داخلے کے لیئے ڈھونڈھ لی ( ذکریاہ 9;9 )

اور شائد عبرانی زبان کی سمجھ نہیں لگی تو یسوع کو دو گدھوں پر سوار کرا دیا ، جس میں ایک گدھی اور ایک گدھی کا بچہ ۔

گاسپل ایک دوسرے سے تضاد بیانی کرتے ہیں

گاسپل تاریخ کو اپنی مرضی سے مروڑ لیتے ہیں

گاسپلز کو چرچ عقائد کے مطابق ایڈٹ کیا گیا

گاسپل لکھنے والوں نے عہد عتیق کو اپنی مرضی ہے گھما پھرا کر پیشگوئیاں بنائیں اور پھر یسوع کی کہانی میں فٹ کیں تاکہ انہیں پورا کیا جا سکے ۔اور ان پہ مسیحیت کھڑی ہے


مکمل تحریر >>