پولوسی
مسیحیت کی نمایاں خصوصیات
مترجم:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ
بپتسمہ
پولس کے غیر یہودی سامعین کو مسیحی بنانے
کے لیے سب سے پہلے ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ پولس کی منادی پر ایمان
لائیں یعنی یہ تسلیم کریں کہ حضرت عیسیٰؑ مصلوب ہوئے، پھر زندہ کیے گئے اور وہی
نجات دہندہ ہیں۔ اس ایمان کے بعد انہیں حضرت عیسیٰؑ کے نام پر بپتسمہ دیا جاتا
تھا۔ جب کرنتھس کی کلیسیا مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئی اور ہر گروہ اپنے آپ کو
کسی نہ کسی رہنما مثلاً پولس، اپلوس یا کیفا (پطرس) سے منسوب کرنے لگا تو پولس نے
ان سے سوال کیاکہ کیا تم پولس کے نام پر بپتسمہ لیے تھے؟[1] اس
سوال کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ بپتسمہ کسی انسانی رہنما کے نام پر نہیں بلکہ
صرف حضرت عیسیٰؑ مسیح کے نام پر دیا جاتا ہے۔ تاہم پولس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس
کی بنیادی ذمہ داری بپتسمہ دینا نہیں بلکہ انجیل کی تبلیغ کرنا تھی [2]اس
لیے وہ بپتسمہ دینے کا کام عموماً اپنے ساتھیوں کے سپرد کر دیتا تھا، صرف چند
افراد کو اس نے خود بپتسمہ دیا۔
اگرچہ پولس نے روح القدس کی عطا کردہ
روحانی نعمتوں(Charismatic Gifts)پر
بہت زور دیا لیکن اعمال کی کتاب کے مصنف
کے برعکس اس نے کبھی روح القدس کی ان نعمتوں کو بپتسمہ کے ساتھ براہِ راست وابستہ
نہیں کیا۔ اس کی اصل توجہ بپتسمہ کے ظاہری عمل پر نہیں بلکہ اس کے روحانی مفہوم پر
تھی۔ اپنے نظریہِ نجات کے مطابق پولس بپتسمہ کو حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور
دوبارہ زندہ ہونے کی ایک علامتی اور روحانی بازآفرینی قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک
جب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے تو گویا وہ علامتی طور پر مسیح کے ساتھ مر جاتا ہے،
دفن ہوتا ہے اور پھر ایک نئی روحانی زندگی کے لیے زندہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح پولس
نے ایک عام یہودی طہارت کے رسمی عمل کو ایک بالکل نیا مذہبی اور علامتی مفہوم عطا
کیا۔
یہودی مذہب میں پانی میں غوطہ لگانے کا
مقصد بنیادی طور پر رسمی طہارت حاصل کرنا تھا۔ یہ عمل جسمانی ناپاکی مثلاًجنسی
تعلق، حیض، ولادت، بعض جِلدی یا جسمانی بیماریوں یا مردہ جسم کو چھونے سے پیدا
ہونے والی نجاست کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ بعد میں حضرت یحییٰؑ اصطباغی کے بپتسمہ نے اس عمل کو ایک اخلاقی اور روحانی
معنی بھی دیا جہاں بپتسمہ گناہوں سے توبہ اور ان کی آلودگی سے پاک ہونے کی علامت
بن گیا۔ یہی تطہیری تصور ان رسومات میں بھی برقرار رہا جو صرف ایک مرتبہ ادا کی
جاتی تھیں مثلاً یہودیت قبول کرنے والے نو وارد (Proselytes) کے بپتسمہ میں، جو ان کے یہودی برادری میں
داخلے کی علامت تھا۔اسی طرح بحرِ مردار یاقمرانی جماعت میں بھی نئے رکن کی عہد میں
شمولیت کے وقت پانی میں غوطہ لگانے کی رسم بنیادی طور پر تزکیہ اور پاکیزگی کی
علامت سمجھی جاتی تھی۔ قمران کی جماعت کے ضابطۂ حیات میں مذکور ہے کہ ” جب اس کا جسم پاک کرنے والے پانی سے دھویا
جائے گا اور اس کی روح خدا کے تمام احکام کے سامنے عاجزی سے جھک جائے گی، تب وہ
حقیقت میں پاک شمار ہوگا۔“[3]
پولس کے نزدیک بپتسمہ کا حوض محض پانی میں
غوطہ لگانے کی جگہ نہیں بلکہ اس کا ایک نہایت گہرا علامتی مفہوم تھا۔ اس کے مطابق
یہ حوض اس قبر کی نمائندگی کرتا تھا جس میں مصلوب حضرت عیسیٰؑ کی لاش دفن کی گئی
اور جہاں وہ تیسرے دن دوبارہ زندہ ہونے تک رہی۔ اس لیے پولس بپتسمہ کو ایک علامتی
مذہبی ڈراما(Myth-Drama)قرار
دیتا ہے۔ اس کے نزدیک جب کوئی شخص بپتسمہ کے لیے پانی میں اترتا اور پھر باہر
نکلتا ہے تو وہ علامتی طور پر حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور قیامت میں شریک ہو
جاتا ہے۔ اس رسم کے ذریعے مسیح کے ان واقعات کے روحانی اثرات نئے مسیحی کی زندگی
میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایمان کی نظر سے دیکھا جائے تو بپتسمہ ایک روحانی
ولادتِ نو (Sacramental Rebirth) ہےجس
میں انسان اپنی پرانی زندگی کو چھوڑ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔اسی تصور کو
پولس رومیوں کے نام اپنے خط میں یوں بیان کرتا ہے
”کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح حضرت عیسیٰؑ میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اس کی موت میں
شامل ہونے کا بپتسمہ لیا؟ پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اس کے
ساتھ دفن ہوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مردوں میں سے جلایا گیا
اسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں۔“[4]
بپتسمہ کی یہ تعبیر روایتی یہودی یا ابتدائی
یہودی-مسیحی تصورِ طہارت سے کافی مختلف ہے۔ اس کے نزدیک پولس کا نظریۂ بپتسمہ رومی
سلطنت میں حضرت عیسیٰؑ کے زمانے میں رائج یونانی، مصری، شامی اور فارسی اسراری
مذاہب (Mystery Cults) کے
افکار سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے جہاں مذہبی رسومات کے ذریعے دیوتا کی موت اور
دوبارہ زندگی میں علامتی شرکت کو روحانی نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا جبکہ یہودی
روایت میں بپتسمہ یا غسل بنیادی طور پر طہارت، توبہ اور پاکیزگی کی علامت تھا۔
عشائے
ربانی
مسیحیت کی پہلی اور زندگی میں ایک ہی بار
ادا کی جانے والی مذہبی رسم ”بپتسمہ“تھی تاہم اس کے علاوہ پولس نے اپنے پیش روؤں
سے ایک دوسری اہم عبادتی روایت بھی حاصل کی یعنی اجتماعی مذہبی کھانا۔ ابتدائی
مسیحی اس رسم کو ”روٹی توڑنا“کہتے
تھے جبکہ یونانی زبان میں اسے ”شکرگزاری“(Eucharist) کہا
جاتا تھا۔ جس طرح پولس نے بپتسمہ کو ایک نیا روحانی مفہوم دیا اسی طرح اس نے اس
اجتماعی کھانے کی بھی نئی تعبیر پیش کی اور اسے حضرت عیسیٰؑ کے آخری فسح کے کھانے (Lord’s
Supper) کی یاد اور اس کی تجدید قرار دیا جو آپؑ نے
اپنی مصلوبیت سے ایک رات پہلے اپنے رسولوں کے ساتھ تناول کیا تھا۔
پولس کا دعویٰ ہے کہ اس رسم کا باطنی اور
روحانی مفہوم اسے براہِ راست حضرت مسیح سے حاصل ہوا تھا۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے”یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچا
دی “۔[5]یہاں
وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ تعلیم اسے دوسرے رسولوں کی روایت سے ملی جیسا کہ وہ حضرت
عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور قیامت کے متعلق کہتا ہے”میں نے سب سے پہلے تم کو وہی بات پہنچا دی جو مجھ تک پہنچی تھی ۔“[6]اگر یہ
تجزیہ درست ہو تو عشائے ربانی کے اس گہرے روحانی اور علامتی مفہوم کا اصل سرچشمہ
اناجیل کے مصنفین نہیں بلکہ خود پولس ہے جس نے 50ء کی دہائی کے آغاز میں اپنے خطوط
میں اسے بیان کیا۔ بعد میں یہی تصور غالباً لوقا کے ذریعے اناجیل کی روایت میں
داخل ہوا کیونکہ لوقا کو پولس کا شاگرد سمجھا جاتا ہے اور اس کی انجیل میں عشائے
ربانی کا بیان پولس کی تعلیم سے نمایاں مشابہت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ حضرت عیسیٰؑ
کی یہ ہدایت کہ ”اسے میری یادگاری میں کرتے رہو“صرف پولس اور لوقا
ہی نقل کرتے ہیں۔
پولس کے نزدیک عشائے ربانی کی رسم دو
بنیادی روحانی معانی رکھتی ہے۔ پہلا یہ کہ اس میں شریک ہونے والے ایماندار علامتی
اور روحانی طور پر حضرت مسیح کی موت اور قیامت کے نجات بخش عمل میں شریک ہوتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ وہ اس رسم کے ذریعے حضرت مسیح اور کلیسیا کے روحانی جسم کا حصہ بن
جاتے ہیں۔ اس کے مطابق جب ایماندار روٹی کھاتے اور پیالے میں سے پیتے ہیں تو وہ سب
سے پہلے ایک روحانی اور مقدس تعلق کے ذریعے حضرت مسیح کی فدیہ بخش موت میں شریک ہو
جاتے ہیں اور اسی شرکت کے ذریعے ان کا رشتہ نہ صرف مسیح سے بلکہ پوری مسیحی جماعت
سے بھی قائم اور مضبوط ہوتا ہے۔
”یہ بات مجھے
خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچادی کہ خداوند حضرت عیسیٰؑ نے جس رات وہ پکڑوایا گیا روٹی لی او رشکر کرکے
توڑی اور کہا یہ میرا بدن ہے جو تمہارے لیے ہے۔میری یادگاری کے واسطے یہی کیا
کرو۔اسی طرح اس نے کھانے کے بعد پیالہ بھی لیا اور کہا یہ پیالہ میرےخون میں نیا
عہد ہے۔جب کبھی پیو میری یادگاری کے لیے یہی کیا کرو۔ کیونکہ جب کبھی تم یہ روٹی
کھاتے اور اس پیالے میں سے پیتے ہو تو خداوند کی موت کا اظہار کرتے ہو،جب تک وہ نہ
آئے۔“[7]
مزید برآں چونکہ پولس کے نزدیک روٹی حضرت
عیسیٰؑ کے جسم کی علامت تھی، اس لیے اس روٹی میں شریک ہونے والے تمام افراد بھی
روحانی طور پر ایک ہی جسم یعنی کلیسیا میں متحد ہو جاتے تھے۔ اسی تصور کو وہ یوں
بیان کرتا ہے کہ جو روٹی ہم توڑتے ہیں، کیا وہ مسیح کے جسم
میں شریک ہونے کی علامت نہیں؟ چونکہ روٹی ایک ہے، اس لیے ہم اگرچہ بہت سے ہیں، ایک ہی جسم ہیں کیونکہ ہم سب اسی ایک روٹی میں شریک ہوتے ہیں۔[8]اس
طرح عشائے ربانی پولس کے نزدیک صرف ایک یادگاری رسم نہیں بلکہ ایسی عبادت تھی جو
ایمانداروں کو روحانی طور پر حضرت مسیح اور ایک دوسرے کے ساتھ متحد کر دیتی تھی۔
جب پولس نے اس اجتماعی کھانے کو اس قدر
بلند روحانی اور مقدس مقام دیا تو اسے یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ کرنتھس کی
کلیسیا کے عام لوگ اس کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہے تھے۔ اس نے شکایت کی کہ
کلیسیا کے افراد اتحاد کے بجائے مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کی تقسیم
معاشرتی حیثیت کی بنیاد پر بھی نمایاں ہے ۔[9]مزید
یہ کہ عشائے ربانی کی تقریب کے دوران بھی ان کا طرزِ عمل بے ترتیبی اور خود غرضی
کا مظہر تھا۔ مشترکہ کھانے کے بجائے ہر خاندان اپنا الگ کھانا لے آتا تھا۔ نتیجہ
یہ ہوتا کہ غریب اور کم حیثیت لوگ بھوکے رہ جاتے اور احساسِ محرومی کا شکار ہوتے
جبکہ دولت مند افراد عمدہ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے یہاں تک کہ بعض نشے کی حالت تک
پہنچ جاتے تھے ۔[10]پولس
کرنتھس کی کلیسیا کی جو تصویر پیش کرتا ہے، وہ اس جماعت کی اخلاقی کمزوریوں کو بھی
ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کو ہدایت دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ دسترخوان
پر نہ بیٹھیں جو شراب نوشی، بت پرستی، گالی گلوچ، ڈاکہ زنی، جنسی بے راہ روی یا
لالچ جیسی برائیوں میں مبتلا ہوں ۔[11]
بہرحال پولس نے روٹی توڑنے یا عشائے ربانی کو جس روحانی اور اعتقادی مفہوم کے ساتھ پیش کیا وہی غیر یہودی مسیحیت کی عبادتی زندگی کا بنیادی ستون بن گیا۔ یہی رسم بعد کی مسیحی روایت میں بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گئی اور آج تک مسیحی عبادت کا ایک اہم اور بنیادی جزو سمجھی جاتی ہے۔
[1]
1- کرنتھیوں 1 :12–13
[2]
1- کرنتھیوں 1 :17
[3]
1QS 3:9
[4]
رومیوں
6 :3–4
[5]
1 -کرنتھیوں 11 :23
[6]
1- کرنتھیوں 15 :3
[7]
۱-کرنتھیوں ۱۱: ۲۳-۲۶
[8]
1- کرنتھیوں 10 :16–17؛ رومیوں 12 :4–5
[9]
1- کرنتھیوں 11 :18؛ 1: 12
[10]
1- کرنتھیوں 11 :21–22، 33–34
[11]
1- کرنتھیوں 5 :11


