پولسی
کلیسا کے خادم
فلسطین میں رسولوں کے لیے مقامی کلیسیاؤں
کی نگرانی نسبتاً آسان تھی کیونکہ وہ سب یروشلم کے قریب واقع تھیں لیکن شام،
ایشیائے کوچک، یونان اور اٹلی تک پھیلی ہوئی پولس کی کلیسیائیں اتنی وسیع اور
منتشر تھیں کہ پولس کے لیے ان سب کی براہِ راست نگرانی کرنا ممکن نہ رہا۔اگرچہ وہ
وقتاً فوقتاً اپنی قائم کردہ کلیسیاؤں کا دورہ کرتا یا اپنے قابلِ اعتماد نمائندوں
تیمتھیس، ططس اور سیلاس وغیرہ کو وہاں بھیجتا تھا تاکہ وہ جماعتوں کی نگرانی کریں
لیکن جلد ہی اسے احساس ہوگیا کہ اگر ان نئی کلیسیاؤں کے لیے مضبوط انتظامی ڈھانچہ
قائم نہ کیا گیا تو وہ منتشر ہو جائیں گی۔پولس کے بیشتر نووارد پیروکار عام یونانی
عوام سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں زیادہ تر نچلے طبقے کے سادہ لوح افراد تھے، اگرچہ
چند خوش حال تاجر اور ہنرمند بھی شامل تھے۔ پولس کی نظر میں یہ لوگ ابھی اس قابل
نہیں ہوئے تھے کہ اپنی مذہبی جماعتوں کا نظم و نسق خود سنبھال سکیں۔اسی لیے اس نے
ان کلیسیاؤں کے لیے ایک نیا انتظامی نظام وضع کیا۔ یہ نظام یہودی عبادت گاہوں
(سیناگوگ) کی طرح بزرگوں کی اجتماعی مجلس پر مبنی نہیں تھا بلکہ ہر جماعت کی
سربراہی ایک واحد نگران (بشپ) کے سپرد کی جاتی تھی جس کی معاونت پریسبیٹرز (بزرگ)،
مرد و خواتین خادم (ڈیکن اور ڈیکنیس) اور خیراتی خدمات انجام دینے والی بیوائیں
کرتی تھیں۔ اس انتظامی ماڈل کی سب سے نمایاں مثال صحائفِ بحرِ مردار میں ملتی ہے
جہاں ہر جماعت کی قیادت ایک مذہبی نگران کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ غالب امکان یہی ہے
کہ پولس نے اپنی غیر یہودی کلیسیاؤں کی تنظیم کے لیے اسی نمونے سے رہنمائی حاصل
کی۔کلیسائی روایت کے مطابق پولس کے دو قریبی ساتھی تیمتھیس، جس کی ماں یہودی اور
باپ غیر یہودی تھا اور ططس، جو خود غیر یہودی تھا،بالترتیب افسس اور کریت کے پہلے
بشپ مقرر کیے گئے۔
بشپ کے فرائض اور اس منصب کے لیے امیدوار
میں مطلوب اوصاف کا ذکر پاسبانی خطوط یعنی تیمتھیس کےنام دونوں اور ططس کے نام
خط میں ملتا ہے۔ عام طور پر محققین کی رائے ہے کہ
یہ خطوط خود پولس نے نہیں لکھے بلکہ اس کے شاگردوں نے اس کی تعلیمات کی روشنی میں
تحریر کیے اور انہیں پولس ہی کے نام سے منسوب کیا۔ اسی بنا پر انہیں ڈیوٹرو-پولسی (Deutero-Pauline) تحریریں
کہا جاتا ہے۔ان خطوط میں بشپ کے لیے جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ اس معاشرتی
ماحول کی عکاسی کرتی ہیں جس سے پولسی کلیسا کے زیادہ تر افراد تعلق رکھتے تھے۔ ان
سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے تک وہ شدید جوش و جذبہ، جسے حضرت عیسیٰؑ نے فروغ دیا تھا اور جسے پولس نے اپنی ابتدائی
تبلیغ میں نمایاں رکھا، بتدریج ماند پڑنے لگا تھا۔
پاسبانی
خطوط اور تعلیمِ بارہ رسول (Didache)کے
مطابق بشپ کو علمی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے نمایاں شخصیت ہونا چاہیے ۔[3]اسے
ایک اچھا معلم اور مضبوط مناظر ہونا چاہیے جو صحیح تعلیم پر کامل عبور رکھتا ہو
اور گمراہ کن نظریات کی مؤثر تردید کر سکے۔ خاص طور پر اسے ان لوگوں کا مقابلہ
کرنا آنا چاہیے جو ”یہودی افسانوں“کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سے غالباً مراد وہ افراد
ہیں جو غیر یہودی نوواردوں پر ختنہ اور شریعتِ موسوی کے دیگر احکام نافذ کرنے کے
حامی تھے۔بشپ کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ نیا نیا مسیحی نہ ہو کیونکہ جلد منصب
ملنے سے تکبر پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا تھا۔تعلیم دینا اور عقیدے کا دفاع کرنا ہی
اس کی واحد ذمہ داری نہیں تھی۔ چونکہ اسے ”خدا کا منتظم“سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس
پر جماعت کی روحانی نگہداشت بھی لازم تھی۔ اس سلسلے میں بحرِ مردار کے مخطوطات میں
شامل دمشق دستاویز ایک دلچسپ مماثلت پیش کرتی ہے جہاں جماعت کے نگران کو ایسے باپ
اور چرواہے سے تشبیہ دی گئی ہے جو محبت کے ساتھ اپنے افراد کی حفاظت اور رہنمائی
کرتا ہے۔[4]اس
کے علاوہ کلیسا کے مالی وسائل کی نگرانی بھی بنیادی طور پر بشپ کی ذمہ داری تھی۔
اسی لیے اس کے لیے لازم تھا کہ وہ لالچی یا دولت کا حریص نہ ہو۔
سب سے بڑھ کر بشپ کو اپنی زندگی کے ذریعے
اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بننا چاہیے تھا۔ اس کا کردار بے داغ ہو، وہ سمجھ دار، اعتدال
پسند، شراب نوشی سے دور، نرم خو، ضبطِ نفس کا مالک اور غیر مسیحیوں کے درمیان بھی
اچھی شہرت رکھنے والا ہو۔یہ بات رومن کیتھولک روایت سے واقف قارئین کے لیے حیران
کن ہو سکتی ہے، جہاں پادریوں کی مجرد زندگی(Celibacy)کو
لازمی سمجھا جاتا ہے لیکن پولسی کلیسا میں صورتِ حال اس کے برعکس تھی۔ وہاں بشپ کے
لیے شادی شدہ ہونا ایک مطلوبہ شرط تھی۔ اس سے مراد یہ تھا کہ وہ اپنی زندگی میں
صرف ایک ہی شادی کر چکا ہو، اگر اس کی بیوی وفات پا جاتی تو اسے دوبارہ شادی کی
اجازت نہیں تھی۔اس اصول کے پیچھے یہ تصور کارفرما تھا کہ جو شخص اپنے گھرانے کی
اچھی نگرانی کر سکتا ہے اور اپنی اولاد کی درست تربیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ
کلیسا کی جماعت کی بھی بہتر رہنمائی کر سکے گا۔تاہم اگر انہی شرائط کو معیار بنایا
جائے تو خود پولس، جو اپنی غیر شادی شدہ زندگی کا اعتراف کرتا ہے بلکہ حضرت عیسیٰؑ
بھی، بشپ کے اس معزز اور دشوار منصب کے لیے اہل قرار نہ پاتے۔
پریسبیٹر (Presbyters)
یا
کاہن بشپ کے اہم معاون ہوتے تھے۔ وہ تبلیغ، تعلیم اور جماعت کی روحانی نگہداشت میں
بشپ کے شریکِ کار تھے۔ ان کے لیے بھی وہی بنیادی شرائط مقرر تھیں جو بشپ کے لیے
تھیں یعنی وہ ایک ہی شادی کر چکے ہوں، دیندار خاندان کے سربراہ ہوں اور اپنی خدمات کے عوض اپنی جماعت کی طرف سے مالی
معاونت حاصل کرنے کے حق دار ہوں ۔[5]
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ نہ پاسبانی خطوط اور نہ ہی بارہ رسولوں کی تعلیم(Didache)میں
بشپ یا پریسبیٹر کے لیے عشائے ربانی(Lord's Supper)کی رسم
ادا کرانے کا کوئی مخصوص منصب یا اختیار بیان کیا گیا ہے۔ ان کی ذمہ داریاں بنیادی
طور پر تعلیم، تبلیغ اور روحانی رہنمائی تک محدود تھیں۔ عشائے ربانی ایک اجتماعی
عبادت تھی جبکہ دوسرا اہم مذہبی عمل یعنی بپتسمہ بھی کسی مخصوص منصب کے ساتھ
وابستہ نہیں تھا اور اسے کوئی بھی شخص انجام دے سکتا تھا۔
جہاں تک ڈیکن (Deacons) کا
تعلق ہے تو تیمتھیس کے نام پہلے خط میں ان
کے فرائض کی واضح تفصیل نہیں ملتی البتہ اعمال کی کتاب وں انہیں معاشرتی اور فلاحی
خدمات انجام دینے والے کارکنوں کے طور پر پیش کرتی ہے ۔[6] ان
کے ایمان کی پختگی کو جانچا جاتا تھا اور ان کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ شادی شدہ
ہوں، اپنے گھرانے کےکفیل ہوں اور اخلاقی اعتبار سے انہی اعلیٰ اوصاف کے حامل ہوں
جو بشپ کے لیے مطلوب تھے۔
عورتوں کو بھی ڈیکنیس(Deaconess)کی
حیثیت سے خدمت انجام دینے کی اجازت تھی۔ اس کی ایک نمایاں مثال کنخریہ کی فتیبے ہے
۔[7] ان
کا بنیادی فریضہ کلیسا کے ایسے افراد کی خدمت اور نگہداشت تھا جو مدد کے محتاج
ہوتے تھے۔یہ منصب صرف ایسی دیندار بیوہ عورتوں کے لیے مخصوص تھا جن کی عمر ساٹھ
سال سے زیادہ ہو جنہوں نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی شادی کی ہو اور جو نہ صرف
اچھی مائیں اور دادی نانیاں ثابت ہوئی ہوں بلکہ پوری زندگی مہمان نوازی، مقدسین کی
خدمت (مقدسین کے پاؤں دھونا)، مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت اور دیگر نیک کاموں میں
نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہوں۔اس کے برعکس ساٹھ برس سے کم عمر بیواؤں کو اس منصب
کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ اندیشہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ وہ بعد
میں دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ کر سکتی ہیں یا فضول گفتگو اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت
کی عادت میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔[8]
پاسبانی خطوط میں بیان کردہ یہ کلیسائی انتظامی
ڈھانچہ واضح طور پر اس دور کی نمائندگی کرتا ہے جو رسولوں کے زمانے کے بعد وجود
میں آیا۔ بشپ، پریسبیٹر، ڈیکن اور ڈیکنیس پر مشتمل یہ تنظیم ایسے فکری ماحول کی
عکاس ہے جس میں توجہ اب خدا کی بادشاہی یا مسیح کی فوری آمد کے انتظار پر نہیں رہی
تھی بلکہ ایک ایسے طویل المدت مستقبل پر
مرکوز ہو چکی تھی جس میں مسیحی جماعت کی تنظیم، نگہداشت اور بقا بنیادی اہمیت
اختیار کر گئی تھی۔دوسرے لفظوں میں وہ دور جس پر قیامت اور مسیح کی عنقریب واپسی کی
توقع غالب تھی، بتدریج ختم ہو رہا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسی منظم کلیسا لے رہی
تھی جو وقت، معاشرے اور تاریخ کے اندر مستقل ادارے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔
[1]
1 -کرنتھیوں 9 :5
[2]
1- پطرس 5 :13
[3]
1- تیمتھیس 3 :2-7؛ ططس 1 :7-13؛ دیداخے 15 :1
[4]
Cairo Damascus Document13:7-10
[5]
1 -تیمتھیس 5 :17-18؛
ططس 1 :6
[6]
اعمال
6 :2
[7]
رومیوں
16 :1
[8]
1- تیمتھیس 5 :3-13


