Pages

Most Popular

منگل، 27 اکتوبر، 2026

پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات (ظاہری رسومات و طرززندگی)

 











پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

(قسط سوم)

روحانی  مظاہر

حضرت عیسیٰؑ کی دعوت اور ابتدائی فلسطینی رسولی کلیسیا کی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت روحانی یا کرشماتی مظاہر (Charismatic Manifestations) تھے۔ اعمال کی کتاب  کے مطابق ان میں مختلف زبانیں بولنا،بیماروں کوشفادینااور فرشتوں کےظہور جیسےغیر معمولی واقعات شامل تھے۔ یہی روحانی کیفیت پولس کی قائم کردہ کلیسیاؤں میں بھی موجود تھی۔اگر کرنتھس کی کلیسیا کو بطور نمونہ دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر یہودی مسیحی جماعتوں میں بھی یہ روحانی مظاہر عام تھے۔پولس کے نزدیک یہ روحانی نعمتیں محض ذاتی فضیلت یا انفرادی عظمت کا اظہار نہیں تھیں، بلکہ ان کا مقصد پوری کلیسیا کی بھلائی اور تعمیر تھا۔ اسی لیے وہ روح القدس کی عطا کردہ مختلف قسم کی نو روحانی نعمتوں (Spiritual Gifts) کا ذکر کرتا ہے جنہیں خدا نے جماعت کے مشترکہ فائدے کے لیے عطا کیا تھا۔ اس طرح پولس کے نزدیک کرشماتی مظاہر ابتدائی مسیحی زندگی کا ایک لازمی حصہ تھے تاہم ان کا صحیح استعمال ذاتی شہرت یا برتری کے اظہار کے بجائے پوری جماعت کی خدمت، اتحاد اور روحانی ترقی کے لیے ہونا چاہیے تھا۔

”کیونکہ ایک کو روح کے وسیلہ سے حکمت کا کلام عنایت ہوتا ہے اور دوسرے کو اسی روح کی موافق علمیت کا کلام۔کسی کو اسی روح سے ایمان اور کسی کو اسی ایک روح سے شفا دینے کی تووفیق۔ کسی کو معجزوں کی قدرت۔ کسی کو نبوت کی۔ کسی کو روحوں کاامتیاز۔کسی کو طرح طرح کی زبانیں۔کسی کو زبانوں کو ترجمہ کرنا۔“[1]

اعمال کی کتاب کی ابتداء میں جن روحانی نعمتوں کا ذکر ملتا ہے مثلاً شفا دینا، معجزات دکھانا، نبوت کرنا اور مختلف زبانوں میں بولنا، وہی نعمتیں پولس کے قائم کردہ کلیسیائی حلقوں میں بھی پائی جاتی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی فلسطینی اور پولسی دونوں کلیسیاؤں میں کرشماتی یا روحانی تجربات روزمرہ کی مذہبی زندگی کا حصہ تھے۔ تاہم مصنف کے مطابق ان روحانی مظاہر کے بارے میں پولس کا نقطۂ نظر فلسطینی یہودی-مسیحی حلقوں سے کسی حد تک مختلف تھا۔ فلسطین میں ان غیر معمولی واقعات کو خدا کی رضا اور تائید کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن پولس نے بعض روحانی مظاہر، خاص طور پر مختلف زبانوں میں بولنے (Glossolalia)، کو اپنی غیر یہودی کلیسیاؤں کی عبادت کے دوران بعض اوقات نقصان دہ بھی قرار دیا۔

اعمال کی کتاب  کے مطابق عیدِ پینتیکوست کے دن رسولوں نے جب مختلف زبانوں میں کلام کیا تو وہاں موجود لوگ ان کی بات سمجھ رہے تھے[2]لیکن کرنتھس کی کلیسیا میں جو ”زبانوں میں بولنا“ رائج تھا، وہ ایک ایسی وجدانی اور غیر واضح گفتگو تھی جسے دوسروں کے لیے ناقابل تفہیم تھی۔ پولس اسے روح القدس کی تحریک کا نتیجہ تو تسلیم کرتاتھا لیکن اس کے نزدیک اس کا فائدہ ہ پوری جماعت کے بجائے فقط صرف بولنے والے شخص کو پہنچتا تھا۔یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ  پولس نے عورتوں کو کلیسیا ئی مجمعے میں بولنے کی اجازت نہیں دی تھی [3]اس لیے اس بحث کا اطلاق عملی طور پر مردوں پر ہوتا تھا۔پولس کے خیال میں اگر کسی نامعلوم زبان کی گفتگو کا کوئی مترجم موجود نہ ہو تو یہ عبادت گزاروں کے لیے سودمند ہونے کے بجائے پیچیدگی و انتشار کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے وہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر کوئی ترجمان موجود نہ ہو تو زبانوں میں کلام کرنے والا شخص خاموشی سے دل ہی دل میں خدا سے مخاطب ہو کیونکہ اس کے الفاظ جماعت میں کسی کی سمجھ میں نہیں آئیں گے ۔[4]پولس خود کہتا ہے کہ وہ کرنتھس کے تمام لوگوں سے زیادہ زبانوں میں بول سکتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایسی غیر واضح گفتگو کے بجائے قابلِ فہم تعلیم کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے کہ ”میں تم سب سے زیادہ زبانیں بولتا ہوں لیکن کلیسیا میں بیگانہ زبان میں دس ہزار باتیں کہنے سے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ اوروں کی تعلیم کے لیے پانچ ہی باتیں عقل سے کہوں“۔[5]پولس کے نزدیک سب سے افضل روحانی نعمت نبوت تھی  کیونکہ اس سے پوری جماعت کی اصلاح اور تربیت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ کہتا ہےکہ جو نبوت کرتا ہے وہ اس شخص سے بڑا ہے جو زبانوں میں بولتا ہےماسوائے یہ کہ کوئی اس کی بات کا ترجمہ کرے تاکہ کلیسیا کو فائدہ پہنچے۔[6]عبادت میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پولس نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایک مجلس میں زیادہ سے زیادہ دو یا تین افراد ہی زبانوں میں بولیں یا نبوت کریں [7]تاکہ روحانی جوش و خروش عبادت کے نظم میں خلل نہ ڈالے۔

 

مسیحی طرزِ زندگی

ظاہری طرزِ زندگی اور عملی احکام کے اعتبار سے پولس کے غیر یہودی مسیحی پیروکاروں کو شریعتِ موسوی کی بیشتر مذہبی اور غذائی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ ان پابندیوں میں سب سے نمایاں ختنہ تھاجو ہر مرد یہودی پر لازمی تھا۔ پولس کا خیال تھا کہ اگر غیر یہودی مردوں پر بھی ختنہ لازم کر دیا جائے تو اس سے مسیحیت ان کے لیے کم پرکشش ہو جائے گی۔ اس لیے رسولوں کی کونسل کے فیصلے کے مطابق اس نے اپنے غیر یہودی پیروکاروں کو تورات کے بیشتر مذہبی احکام سے آزاد رکھاالبتہ چند ایسی پابندیاں برقرار رہیں جنہیں یہودی اور یہودی-مسیحی انتہائی اہم سمجھتے تھے۔ ان میں بتوں کے لیے قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت کھانا، گلا گھونٹ کر مارے گئے جانوروں کا گوشت کھانا، خون پینا اور بعض ممنوعہ جنسی تعلقات سے اجتناب شامل تھا ۔[8] ان چند احکام کے علاوہ پولس نے غیر یہودی مسیحیوں پر تورات کے رسمی قوانین نافذ نہیں کیے۔بتوں کے نام پر قربان کیے گئے جانوروں کا گوشت ایک خاص مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ رومی معاشرے میں ایسا گوشت عام قصابوں کی دکانوں پر بھی فروخت ہوتا تھا۔ بعض مسیحیوں کا خیال تھا کہ چونکہ دوسرے مذاہب کے دیوتا حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتے، اس لیے ایسا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی بنیاد پر پولس نے انہیں ہدایت دی کہ”جوکچھ قصابوں کی دکانوں میں بکتا ہے وہ کھاؤ اور دینی امتیاز کے سبب سے کچھ نہ پوچھو “[9]لیکن بعض دوسرے مسیحی اتنے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے نزدیک بتوں کے لیے قربان کیا گیا گوشت کھانا ایسا تھا گویاشیطان کے دسترخوان میں شریک ہونا۔ وہ اس عمل سے سخت پریشان اور دل آزردہ ہوتے تھے۔ اس لیے پولس نے ان لوگوں کو جو اپنے ایمان میں زیادہ مضبوط تھے، نصیحت کی کہ اپنی آزادی کو اس طرح استعمال نہ کریں کہ کمزور ایمان رکھنے والے بھائیوں کے لیے ٹھوکر کا باعث بن جائے۔ اس نے لکھاکہ خبردار! تمہاری یہ آزادی کسی کمزور شخص کے لیے گمراہی کا سبب نہ بن جائے۔[10]

پولس کے خطوط میں اس کے پیروکاروں کے لیے کوئی جامع ضابطۂ اخلاق موجود نہیں لیکن وہ اپنے متعدد خطوط کے آخری حصوں میں اخلاقی ہدایات ضرور دیتا ہے۔ یہ ہدایات زیادہ تر اس زمانے کی یہودی اخلاقی تعلیمات سے ماخوذ ہیں۔ ان میں سب سے مفصل فہرست رومیوں کے نام خط کے ابواب 12 تا 15 میں ملتی ہے جہاں وہ مختلف اخلاقی اصول بیان کرتا ہے مثلاًاپنے بارے میں حد سے زیادہ بلند رائے نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کے ساتھ پیش آؤ۔ مصیبت میں صبر کرو۔ اجنبیوں کی مہمان نوازی کرو۔ آپس میں اتفاق اور ہم آہنگی سے زندگی گزارو۔ اگر تمہارا دشمن بھوکا ہو تو اسے کھانا کھلاؤ۔ حکومتی حکام کی اطاعت کرو اور اپنے ٹیکس ادا کرواور سب سے بڑھ کر اپنے پڑوسی سے اپنے جیسی محبت کرو۔

علاوہ ازیں پولس نے کرنتھس کی کلیسیا کے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ ہر ہفتے کے پہلے دن، یعنی اس دن جب مسیحی روٹی توڑنے (عشائے ربانی) کے لیے جمع ہوتے تھے، اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں کی مدد کے لیے کچھ رقم الگ رکھیں۔[11] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی مسیحی عبادت صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ سماجی ذمہ داری اور محتاجوں کی امداد کو بھی بنیادی اہمیت حاصل تھی۔گلتیوں کے نام اپنے خط میں پولس ”جسم کے اعمال“اور ”روح کے پھل“کے درمیان واضح فرق بیان کرتا ہے۔ [12]جسم کے اعمال میں وہ بدکاری، ناپاکی، بے راہ روی، بت پرستی، جادوگری، شراب نوشی اور اسی نوع کی دوسری برائیوں کا ذکر کرتا ہے جبکہ روح کے پھل محبت، خوشی، اطمینان، صبر، مہربانی، فیاضی اور ضبطِ نفس جیسی اخلاقی صفات ہیں۔ اس کے نزدیک ایک حقیقی مسیحی کی زندگی انہی روحانی اوصاف سے مزین ہونی چاہیے۔پولس اپنے پیروکاروں کو بار بار گھریلو اور معاشرتی زندگی میں امن، محبت اور ہم آہنگی اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس کے مطابق شوہروں کو چاہیے کہ اپنی بیویوں سے محبت کریں، بیویوں کو اپنے شوہروں کا احترام اور اطاعت کرنی چاہیے، بچوں کو والدین کی عزت کرنی چاہیے، والدین خصوصاً باپوں کو اپنی اولاد کے ساتھ سختی یا اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے، اور غلاموں کو اپنے مالکوں کے ساتھ وفاداری اور احترام کا برتاؤ کرنا چاہیے۔

ان عمومی اخلاقی نصیحتوں کے علاوہ پولس بعض ایسے احکام کا بھی ذکر کرتا ہے جنہیں وہ براہِ راست حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے منسوب کرتا ہے۔ عشائے ربانی سے متعلق حکم [13]کے علاوہ وہ دو اور احکام بیان کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا غالباً یہ خیال ہے کہ وہ رسولی روایت کے ذریعے حضرت عیسیٰؑ سے منتقل ہوئے ہیں۔ پہلا حکم طلاق کی مکمل ممانعت ہے [14] جہاں وہ متی کی انجیل میں مذکور بدکاری کی استثنائی صورت [15]کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ انجیل کی منادی کرنے والوں کا خرچ کلیسیا کے ذمہ ہے یعنی جو لوگ تبلیغ اور دینی خدمت انجام دیتے ہیں، انہیں جماعت کی طرف سے مالی تعاون ملنا چاہیے۔[16]ان احکامات کے علاوہ پولس نے بعض ہدایات اپنی ذاتی رسولی حیثیت اور اختیار کی بنیاد پر بھی دیں۔ ان میں ایک اہم ہدایت یہ تھی کہ چونکہ وہ آخری زمانے اور خدا کی بادشاہی کے جلد آنے کا منتظر تھا، اس لیے وہ ایمانداروں کو مشورہ دیتا ہے کہ اپنی ازدواجی حالت میں غیر ضروری تبدیلیاں نہ کریں بلکہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی توجہ خدا کی بادشاہی کے حصول اور روحانی زندگی پر مرکوز رکھیں۔

”پس موجودہ مصیبت کے خیال سے میری رائے میں آدمی کے لیے یہی بہتر ہے کہ جیسا ہے ویسا ہی رہے۔ اگر تیری بیوی ہے تو اس سے جدا ہونے کی کوشش نہ کر اور اگر تیری بیوی نہیں تو بیوی کی تلاش نہ کر لیکن تو بیاہ کرے بھی تو گناہ نہیں اور اگر کنواری بیاہی جائے تو گناہ نہیں مگر ایسے لوگ جسمانی تکلیف پائیں گے اور میں تمہیں بچانا چاہتا ہوں۔ مگراے بھائیو! میں یہ کہتا ہوں کہ وقت تنگ ہے۔ پس آگے کو چاہیے کہ بیوی والے ایسے ہوں کہ گویا ان کی بیویاں نہیں اور رونے والے ایسے ہوں گویا نہیں روتے اور خوشی کرنے والے ایسے ہوں گویا خوشی نہیں کرتے اور خریدنے والے ایسے ہوں گویا مال نہیں رکھتے اور دنیوی کاروبار کرنے والے ایسے ہوں کہ دنیا ہی کے نہ ہو جائیں کیونکہ دنیا کی شکل بدلتی جاتی ہے۔“[17]

پولس خود غیر شادی شدہ تھا، اس لیے وہ اپنے پیروکاروں کو بھی ترغیب دیتا تھا کہ اگر ممکن ہو تو وہ اسی طرزِ زندگی کو اختیار کریں۔ تاہم، اس معاملے میں وہ اسینی زاہدوں کی طرح سخت گیر نہیں تھا۔ اس نے تجرد  کو کبھی بھی لازمی یا مذہبی فریضہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک اختیاری اور پسندیدہ طرزِ زندگی کے طور پر پیش کیا۔جو لوگ غیر شادی شدہ زندگی کو اپنے لیے ناقابلِ برداشت سمجھتے تھے، پولس نے انہیں شادی کرنے کی اجازت دی [18]تاہم اس نے خبردار کیا کہ چونکہ آخری زمانے کے ہولناک حالات قریب ہیں، اس لیے شادی شدہ افراد کو غیر شادی شدہ لوگوں کی نسبت زیادہ مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔[19]پولس نے ایک خاص ازدواجی مسئلے کا بھی عملی حل پیش کیا۔ اگر کسی مشرک یا غیر مسیحی میاں بیوی میں سے ایک شخص مسیحیت قبول کر لیتا اور دوسرا فریق اس کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھنے پر آمادہ ہوتاتو ان دونوں کو ایک ساتھ رہنے کی ہدایت دی گئی  لیکن اگر غیر مسیحی شریکِ حیات علیحدگی اختیار کرنا چاہتا یا ازدواجی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا تو پولس نے مسیحی فریق کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دی ۔[20] کلیسائی قانون میں یہ اصول ”پولسی استحقاق“(Pauline Privilege) کے نام سے معروف ہے اور آج بھی رومن کیتھولک کلیسا کے قانون Codex Iuris Canonici دفعات 1143–1144 کا حصہ ہے۔

اسی طرح ایک اور مسئلہ بھی زیرِ بحث آتا ہے، جسے ”کنوارے میاں بیوی“کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ ازدواجی جوڑے ہیں جو باہمی رضامندی سے طویل عرصے یا مستقل طور پر ازدواجی تعلق قائم نہ کرنے کا عہد کرتے تھے۔ اگر بعد میں شوہر کو محسوس ہوتا کہ وہ اپنے اس عہد پر قائم نہیں رہ سکتا تو پولس نے اگرچہ پوری دلجمعی کے ساتھ نہیں لیکن اسے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہاکہاگر اس کے جذبات پر قابو نہ رہے اور ایسا کرنا ضروری معلوم ہو، تو وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کر لے اور  اس میں کوئی گناہ نہیں۔[21]آخر میں، پولس نے بیوہ عورت کو بھی کسی مسیحی مرد سے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دی لیکن اس کی رائے میں اگر وہ غیر شادی شدہ رہتی تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر اور قابلِ تحسین ہوتا۔[22]

 



[1] ۱-کرنتھیوں۱۲: ۸-۱۰

[2] اعمال 2 :6

[3] 1- کرنتھیوں 14 :34؛ 1- تیمتھیس 2 :11–12

[4] 1- کرنتھیوں 14 :2، 9–11

[5] ۱-کرنتھیوں 14 :18–19

[6] ۱-کرنتھیوں 14 :5

[7] 1- کرنتھیوں 14 :27–29

[8] اعمال 15: 19–21

[9] 1- کرنتھیوں 10 :25

[10] ۱-کرنتھیوں 8 :1–10؛ 10 :19–21، 26–29؛ رومیوں 14 :13–21

[11] 1- کرنتھیوں 16 :2؛ اعمال 20 :7؛ دیداخے 14 :1

[12] گلتیوں 5: 19–23

[13] 1- کرنتھیوں 11 :23

[14] 1- کرنتھیوں 7 :10–11

[15] متی 5 :32؛  19 :9

[16] 1- کرنتھیوں 9: 14

[17] ۱-کرنتھیوں ۷: ۲۶- ۳۱

[18] 1- کرنتھیوں 7 :8-9

[19] 1- کرنتھیوں 7 :28

[20] 1- کرنتھیوں 7 :12-15

[21] 1- کرنتھیوں 7 :36-38

[22] 1- کرنتھیوں 7 :40


مکمل تحریر >>

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

 












پولوسی مسیحیت کی نمایاں خصوصیات

مترجم:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ

بپتسمہ

پولس کے غیر یہودی سامعین کو مسیحی بنانے کے لیے سب سے پہلے ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ پولس کی منادی پر ایمان لائیں یعنی یہ تسلیم کریں کہ حضرت عیسیٰؑ مصلوب ہوئے، پھر زندہ کیے گئے اور وہی نجات دہندہ ہیں۔ اس ایمان کے بعد انہیں حضرت عیسیٰؑ کے نام پر بپتسمہ دیا جاتا تھا۔ جب کرنتھس کی کلیسیا مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئی اور ہر گروہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی رہنما مثلاً پولس، اپلوس یا کیفا (پطرس) سے منسوب کرنے لگا تو پولس نے ان سے سوال کیاکہ کیا تم پولس کے نام پر بپتسمہ لیے تھے؟[1] اس سوال کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ بپتسمہ کسی انسانی رہنما کے نام پر نہیں بلکہ صرف حضرت عیسیٰؑ مسیح کے نام پر دیا جاتا ہے۔ تاہم پولس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کی بنیادی ذمہ داری بپتسمہ دینا نہیں بلکہ انجیل کی تبلیغ کرنا تھی [2]اس لیے وہ بپتسمہ دینے کا کام عموماً اپنے ساتھیوں کے سپرد کر دیتا تھا، صرف چند افراد کو اس نے خود بپتسمہ دیا۔

اگرچہ پولس نے روح القدس کی عطا کردہ روحانی نعمتوں(Charismatic Gifts)پر بہت زور دیا لیکن اعمال کی کتاب  کے مصنف کے برعکس اس نے کبھی روح القدس کی ان نعمتوں کو بپتسمہ کے ساتھ براہِ راست وابستہ نہیں کیا۔ اس کی اصل توجہ بپتسمہ کے ظاہری عمل پر نہیں بلکہ اس کے روحانی مفہوم پر تھی۔ اپنے نظریہِ نجات کے مطابق پولس بپتسمہ کو حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور دوبارہ زندہ ہونے کی ایک علامتی اور روحانی بازآفرینی قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک جب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے تو گویا وہ علامتی طور پر مسیح کے ساتھ مر جاتا ہے، دفن ہوتا ہے اور پھر ایک نئی روحانی زندگی کے لیے زندہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح پولس نے ایک عام یہودی طہارت کے رسمی عمل کو ایک بالکل نیا مذہبی اور علامتی مفہوم عطا کیا۔

یہودی مذہب میں پانی میں غوطہ لگانے کا مقصد بنیادی طور پر رسمی طہارت حاصل کرنا تھا۔ یہ عمل جسمانی ناپاکی مثلاًجنسی تعلق، حیض، ولادت، بعض جِلدی یا جسمانی بیماریوں یا مردہ جسم کو چھونے سے پیدا ہونے والی نجاست کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ بعد میں حضرت یحییٰؑ اصطباغی  کے بپتسمہ نے اس عمل کو ایک اخلاقی اور روحانی معنی بھی دیا جہاں بپتسمہ گناہوں سے توبہ اور ان کی آلودگی سے پاک ہونے کی علامت بن گیا۔ یہی تطہیری تصور ان رسومات میں بھی برقرار رہا جو صرف ایک مرتبہ ادا کی جاتی تھیں مثلاً یہودیت قبول کرنے والے نو وارد (Proselytes) کے بپتسمہ میں، جو ان کے یہودی برادری میں داخلے کی علامت تھا۔اسی طرح بحرِ مردار یاقمرانی جماعت میں بھی نئے رکن کی عہد میں شمولیت کے وقت پانی میں غوطہ لگانے کی رسم بنیادی طور پر تزکیہ اور پاکیزگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ قمران کی جماعت کے ضابطۂ حیات میں مذکور ہے کہ ” جب اس کا جسم پاک کرنے والے پانی سے دھویا جائے گا اور اس کی روح خدا کے تمام احکام کے سامنے عاجزی سے جھک جائے گی، تب وہ حقیقت میں پاک شمار ہوگا۔“[3]

پولس کے نزدیک بپتسمہ کا حوض محض پانی میں غوطہ لگانے کی جگہ نہیں بلکہ اس کا ایک نہایت گہرا علامتی مفہوم تھا۔ اس کے مطابق یہ حوض اس قبر کی نمائندگی کرتا تھا جس میں مصلوب حضرت عیسیٰؑ کی لاش دفن کی گئی اور جہاں وہ تیسرے دن دوبارہ زندہ ہونے تک رہی۔ اس لیے پولس بپتسمہ کو ایک علامتی مذہبی ڈراما(Myth-Drama)قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک جب کوئی شخص بپتسمہ کے لیے پانی میں اترتا اور پھر باہر نکلتا ہے تو وہ علامتی طور پر حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور قیامت میں شریک ہو جاتا ہے۔ اس رسم کے ذریعے مسیح کے ان واقعات کے روحانی اثرات نئے مسیحی کی زندگی میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایمان کی نظر سے دیکھا جائے تو بپتسمہ ایک روحانی ولادتِ نو (Sacramental Rebirth) ہےجس میں انسان اپنی پرانی زندگی کو چھوڑ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔اسی تصور کو پولس رومیوں کے نام اپنے خط میں یوں بیان کرتا ہے

”کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح حضرت عیسیٰؑ  میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اس کی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا؟ پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اس کے ساتھ دفن ہوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مردوں میں سے جلایا گیا اسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں۔“[4]

بپتسمہ  کی یہ تعبیر روایتی یہودی یا ابتدائی یہودی-مسیحی تصورِ طہارت سے کافی مختلف ہے۔ اس کے نزدیک پولس کا نظریۂ بپتسمہ رومی سلطنت میں حضرت عیسیٰؑ کے زمانے میں رائج یونانی، مصری، شامی اور فارسی اسراری مذاہب (Mystery Cults) کے افکار سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے جہاں مذہبی رسومات کے ذریعے دیوتا کی موت اور دوبارہ زندگی میں علامتی شرکت کو روحانی نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا جبکہ یہودی روایت میں بپتسمہ یا غسل بنیادی طور پر طہارت، توبہ اور پاکیزگی کی علامت تھا۔

عشائے ربانی

مسیحیت کی پہلی اور زندگی میں ایک ہی بار ادا کی جانے والی مذہبی رسم ”بپتسمہ“تھی تاہم اس کے علاوہ پولس نے اپنے پیش روؤں سے ایک دوسری اہم عبادتی روایت بھی حاصل کی یعنی اجتماعی مذہبی کھانا۔ ابتدائی مسیحی اس رسم کو ”روٹی توڑنا“کہتے تھے جبکہ یونانی زبان میں اسے ”شکرگزاری“(Eucharist) کہا جاتا تھا۔ جس طرح پولس نے بپتسمہ کو ایک نیا روحانی مفہوم دیا اسی طرح اس نے اس اجتماعی کھانے کی بھی نئی تعبیر پیش کی اور اسے حضرت عیسیٰؑ کے آخری فسح کے کھانے (Lord’s Supper) کی یاد اور اس کی تجدید قرار دیا جو آپؑ نے اپنی مصلوبیت سے ایک رات پہلے اپنے رسولوں کے ساتھ تناول کیا تھا۔

پولس کا دعویٰ ہے کہ اس رسم کا باطنی اور روحانی مفہوم اسے براہِ راست حضرت مسیح سے حاصل ہوا تھا۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے”یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچا دی “۔[5]یہاں وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ تعلیم اسے دوسرے رسولوں کی روایت سے ملی جیسا کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کی موت، تدفین اور قیامت کے متعلق کہتا ہے”میں نے سب سے پہلے تم کو وہی بات پہنچا دی جو مجھ تک پہنچی تھی ۔“[6]اگر یہ تجزیہ درست ہو تو عشائے ربانی کے اس گہرے روحانی اور علامتی مفہوم کا اصل سرچشمہ اناجیل کے مصنفین نہیں بلکہ خود پولس ہے جس نے 50ء کی دہائی کے آغاز میں اپنے خطوط میں اسے بیان کیا۔ بعد میں یہی تصور غالباً لوقا کے ذریعے اناجیل کی روایت میں داخل ہوا کیونکہ لوقا کو پولس کا شاگرد سمجھا جاتا ہے اور اس کی انجیل میں عشائے ربانی کا بیان پولس کی تعلیم سے نمایاں مشابہت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ حضرت عیسیٰؑ کی یہ ہدایت کہ ”اسے میری یادگاری میں کرتے رہو“صرف پولس اور لوقا ہی نقل کرتے ہیں۔

پولس کے نزدیک عشائے ربانی کی رسم دو بنیادی روحانی معانی رکھتی ہے۔ پہلا یہ کہ اس میں شریک ہونے والے ایماندار علامتی اور روحانی طور پر حضرت مسیح کی موت اور قیامت کے نجات بخش عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ اس رسم کے ذریعے حضرت مسیح اور کلیسیا کے روحانی جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے مطابق جب ایماندار روٹی کھاتے اور پیالے میں سے پیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے ایک روحانی اور مقدس تعلق کے ذریعے حضرت مسیح کی فدیہ بخش موت میں شریک ہو جاتے ہیں اور اسی شرکت کے ذریعے ان کا رشتہ نہ صرف مسیح سے بلکہ پوری مسیحی جماعت سے بھی قائم اور مضبوط ہوتا ہے۔

”یہ بات مجھے خداوند سے پہنچی اور میں نے تم کو بھی پہنچادی کہ خداوند حضرت عیسیٰؑ  نے جس رات وہ پکڑوایا گیا روٹی لی او رشکر کرکے توڑی اور کہا یہ میرا بدن ہے جو تمہارے لیے ہے۔میری یادگاری کے واسطے یہی کیا کرو۔اسی طرح اس نے کھانے کے بعد پیالہ بھی لیا اور کہا یہ پیالہ میرےخون میں نیا عہد ہے۔جب کبھی پیو میری یادگاری کے لیے یہی کیا کرو۔ کیونکہ جب کبھی تم یہ روٹی کھاتے اور اس پیالے میں سے پیتے ہو تو خداوند کی موت کا اظہار کرتے ہو،جب تک وہ نہ آئے۔“[7]

مزید برآں چونکہ پولس کے نزدیک روٹی حضرت عیسیٰؑ کے جسم کی علامت تھی، اس لیے اس روٹی میں شریک ہونے والے تمام افراد بھی روحانی طور پر ایک ہی جسم یعنی کلیسیا میں متحد ہو جاتے تھے۔ اسی تصور کو وہ یوں بیان کرتا ہے کہ جو روٹی ہم توڑتے ہیں، کیا وہ مسیح کے جسم میں شریک ہونے کی علامت نہیں؟ چونکہ روٹی ایک ہے، اس لیے ہم  اگرچہ بہت سے ہیں، ایک ہی جسم ہیں  کیونکہ ہم سب اسی ایک روٹی میں شریک ہوتے ہیں۔[8]اس طرح عشائے ربانی پولس کے نزدیک صرف ایک یادگاری رسم نہیں بلکہ ایسی عبادت تھی جو ایمانداروں کو روحانی طور پر حضرت مسیح اور ایک دوسرے کے ساتھ متحد کر دیتی تھی۔

جب پولس نے اس اجتماعی کھانے کو اس قدر بلند روحانی اور مقدس مقام دیا تو اسے یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ کرنتھس کی کلیسیا کے عام لوگ اس کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہے تھے۔ اس نے شکایت کی کہ کلیسیا کے افراد اتحاد کے بجائے مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان کی تقسیم معاشرتی حیثیت کی بنیاد پر بھی نمایاں ہے ۔[9]مزید یہ کہ عشائے ربانی کی تقریب کے دوران بھی ان کا طرزِ عمل بے ترتیبی اور خود غرضی کا مظہر تھا۔ مشترکہ کھانے کے بجائے ہر خاندان اپنا الگ کھانا لے آتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ غریب اور کم حیثیت لوگ بھوکے رہ جاتے اور احساسِ محرومی کا شکار ہوتے جبکہ دولت مند افراد عمدہ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے یہاں تک کہ بعض نشے کی حالت تک پہنچ جاتے تھے ۔[10]پولس کرنتھس کی کلیسیا کی جو تصویر پیش کرتا ہے، وہ اس جماعت کی اخلاقی کمزوریوں کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کو ہدایت دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ دسترخوان پر نہ بیٹھیں جو شراب نوشی، بت پرستی، گالی گلوچ، ڈاکہ زنی، جنسی بے راہ روی یا لالچ جیسی برائیوں میں مبتلا ہوں ۔[11]

بہرحال پولس نے روٹی توڑنے یا عشائے ربانی کو جس روحانی اور اعتقادی مفہوم کے ساتھ پیش کیا وہی غیر یہودی مسیحیت کی عبادتی زندگی کا بنیادی ستون بن گیا۔ یہی رسم بعد کی مسیحی روایت میں بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گئی اور آج تک مسیحی عبادت کا ایک اہم اور بنیادی جزو سمجھی جاتی ہے۔



[1] 1- کرنتھیوں 1 :12–13

[2] 1- کرنتھیوں 1 :17

[3] 1QS 3:9

[4] رومیوں 6 :3–4

[5] 1 -کرنتھیوں 11 :23

[6] 1- کرنتھیوں 15 :3

[7] ۱-کرنتھیوں ۱۱: ۲۳-۲۶

[8] 1- کرنتھیوں 10 :16–17؛ رومیوں 12 :4–5

[9] 1- کرنتھیوں 11 :18؛ 1: 12

[10] 1- کرنتھیوں 11 :21–22، 33–34

[11] 1- کرنتھیوں 5 :11


مکمل تحریر >>

جمعہ، 23 اکتوبر، 2026

مقدس پولس کا پیش کردہ تصورِمسیحیت( قسط اول)

 











مقدس پولس کا پیش کردہ تصورِ مسیحیت(قسط اول)

مترجم:عبداللہ غازیؔ

یہودیوں اور غیر قوموں میں پولس کی تبلیغی خدمت

پولس کی مسیحیت(Pauline Christianity)کی حقیقت سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی ابتدا کیسے ہوئی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ طرسوس کے رہنے والے یہودی پولس نے خود کو حضرت عیسیٰؑ کا منتخب نمائندہ اور رسول کس بنیاد پر سمجھا؟اس سوال کا جواب ہمیں بنیادی طور پر دو ذرائع سے ملتا ہےجن میں اعمال  کی کتاب  کےباب 9 تا 28 اور خود پولس کے خطوط خصوصاً گلتیوں اور دوسرا کرنتھیوں شامل ہیں ۔ تاہم ان دونوں ذرائع میں بعض مقامات پر معلومات ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد بھی معلوم ہوتی ہیں۔اعمال کی کتاب  کے مطابق پولس کا تعلق ایشیائے کوچک (موجودہ جنوبی ترکی) کے شہر طرسوس سے تھا جہاں وہ پیدا ہوا اور مختلف اوقات میں قیام بھی کرتارہا۔ وہ نسلاً یہودی تھالیکن کسی نامعلوم وجہ سے پیدائشی طور پر رومی شہریت بھی رکھتاتھا۔ مزید یہ کہ اس کی تعلیم مبینہ طورپر یروشلم میں اس زمانے کے مشہور فقیہ اور ربی گملی ایل(Gamaliel)کی شاگردی میں ہوئی تھی۔ ان باتوں میں سے کوئی بھی ناممکن نہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پولس اپنے خطوط میں ان میں سے کسی بات کا ذکر نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اپنی اعلیٰ یہودی علمی حیثیت یا رومی شہریت کا حوالہ دیتاتو یہ یہودی اور رومی حکام سے معاملات میں اس کے لیے سودمندثابت ہو سکتا تھا۔

اعمال کی کتاب  کے مطابق پولس نے اپنی تبلیغ صرف غیر قوموں تک محدود نہیں رکھی بلکہ یہودیوں اور غیر قوموں دونوں کو اپنا مخاطب بنایا۔دمشق میں جب اس نے یہودیوں کو حضرت عیسیٰؑ کا پیغام سنایا تو اس  کی جان خطرے میں پڑ گئی ۔[1]بعد ازاں اس نے پسدیہ کے انطاکیہ، اِکونیم، بیریہ، کرنتھ اور روم جیسے شہروں میں بھی سب سے پہلے یہودیوں کو تبلیغ کی لیکن اسے وہاں بہت محدود کامیابی حاصل ہوئی۔ عموماً یہودی عبادت گاہوں کے ذمہ دار افراد اسے فسادی شخص سمجھتے تھے جو ان کی جماعت کے امن و اتحاد کے لیے خطرہ بن گیا تھا، اس لیے انہوں نے پولس کی شدیدمخالفت کی۔اس کے برعکس پولس کی دعوت کو زیادہ پذیرائی دو طبقوں میں ملی۔اولاًوہ غیر یہودی جو پہلے ہی یہودی مذہب سے متاثر ہو کر عبادت خانوں میں آتے تھے اور دوم وہ بت پرست غیر اقوام جن کا پہلے یہودیت سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن وہ پولس کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں۔ یوں پولس کی تبلیغی سرگرمیوں کا اصل اور دیرپا اثر غیر قوموں میں زیادہ نمایاں ہوا جبکہ یہودی معاشرے میں اسے نسبتاً کم کامیابی ملی۔

پولس خود کو کو خدا کی طرف سے غیر اقوام تک خوشخبری پہنچانے کے لیے چنیدہ شخص سمجھتا تھا۔ وہ خود کو”مسیح حضرت عیسیٰؑ  کا خادم، جو غیر قوموں کے درمیان خدا کی خوشخبری کی خدمت انجام دیتا ہے“قرار دیتا ہے ۔[2] وہ اپنے آپ کو غیر قوموں کا استاد، رسول، اور ان لوگوں کے لیے خوشخبری کا امین بھی کہتا ہے جو مختون نہیں ہیں۔[3]اس کے برعکس پولس کے مطابق یہودیوں میں تبلیغ کی ذمہ داری پطرسؔ کے سپرد تھی، کیونکہ وہ "مختون افرادکے لیے خوشخبری“کے رسول تھے۔[4]اگرچہ پولس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہودیوں میں تبلیغ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہےلیکن وہ یہ ضرور یقین رکھتا تھا کہ آخرکار یہودی بھی نجات پائیں گے۔ اس کے نزدیک جب غیر اقوام کی بڑی تعداد مسیح پر ایمان لے آئے گی تو خدا بنی اسرائیل پر بھی اپنا فضل فرمائے گا۔ اسی خیال کو وہ یوں بیان کرتا ہے کہ ”میں نہیں چاہتا کہ تم اس بھید سے ناواقف رہو کہ اسرائیل کا ایک حصہ سخت ہو گیا ہے اور جب تک غیر قومیں پوری طرح داخل نہ ہوں ایسا ہی رہے گا اور اس صورت میں تمام اسرائیل نجات پائے گا۔“[5]

اعمال کی کتاب  کے مطابق، جب بھی پولس فلسطین سے باہر کسی شہر میں پہنچتا تو اپنی تبلیغ کا آغاز عموماً یہودی عبادت گاہ  سے کرتا تھا۔ وہاں مقامی یہودیوں کے ساتھ ساتھ وہ غیر یہودی بھی موجود ہوتے تھے جو یہودیت سے متاثر تھے اور خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ پولس ان سب کے سامنے اپنا پیغام پیش کرتا تھا۔پولس نے ایک موقع پر اپنی تبلیغی حکمتِ عملی کو ان الفاظ میں بیان کیا

”میں یہودیوں کے لیے یہودی بنا تاکہ یہودیوں کو کھینچ لاؤں۔ جو لوگ شریعت کے ماتحت ہیں ان کے لیے میں شریعت کے ماتحت ہوا تاکہ شریعت کے ماتحتوں کو کھینچ لاؤں۔۔۔۔۔میں سب آدمیوں کے لیے سب کچھ بنا ہوا ہوں تاکہ کسی طرح سے بعض کو بچاؤں۔“[6]

اگرچہ پولس اپنی تبلیغ میں یہودیوں تک بھی پہنچنے کی کوشش کرتا تھا لیکن فلسطین سے باہر اس کی سرگرمیاں یہودیوں کے ساتھ شدید تنازعات کا باعث بنتیں۔ بہت سی عبادت گاہوں کے ذمہ دار اس کے مخالف ہو گئے اور اسے سخت سزائیں بھی دیں۔پولس خود بیان کرتا ہے کہ ”میں نے یہودیوں سے پانچ بار ایک کم چالیس چالیس کوڑے کھائے۔تین بار بید لگے۔ ایک بار سنگسار کیاگیا۔ تین بار جہاز ٹوٹنے کی بلا میں پڑا۔ ایک رات دن سمندر میں کاٹا۔“[7](اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس کی تبلیغی زندگی آسان نہیں تھی۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر غیر قوموں کا رسول سمجھا جاتا تھا پھر بھی وہ اکثر یہودیوں سے بھی رابطہ کرتا رہا لیکن اس کوشش کی قیمت اسے شدید مخالفت، جسمانی اذیت اور بار بار سزاؤں کی صورت میں چکانی پڑی۔مترجم)

اگر اعمال کی کتاب  میں موجود معلومات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو غالباً واقعات کی اصل صورتِ حال کچھ یوں تھی۔جب پولس اور اس کے ساتھی مختلف شہروں کا سفر کرتے تو وہ سب سے پہلے وہاں کی یہودی برادری سے رابطہ کرتے اور عموماً انہیں انہی کے ہاں قیام و مہمان نوازی مل جاتی۔ پھر پولس اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سبت(Sabbath) کے دن عبادت گاہ میں حاضر لوگوں سے خطاب کرتا۔ بعض اوقات اسے دوسری مرتبہ بھی وعظ کرنے کی دعوت مل جاتی۔اس کی تقریر کے بعد چند یہودی اور عموماً ان سے زیادہ تعداد میں وہ غیر یہودی جو پہلے ہی یہودیت سے متاثر تھے (جنہیں ”خدا ترس“ یا God-fearers کہا جاتا تھا)، پولس کے ساتھ ہو لیتے اور اس سے مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے۔تاہم اکثر یہودی اس کی باتوں سے متاثر نہ ہوتے۔ اس کے برعکس عبادت گاہ کے رہنما پولس کو اپنی جماعت کے اتحاد اور امن کے لیے خطرہ سمجھتے تھے، اس لیے وہ اس کے نئے پیروکاروں کو دوبارہ اپنی جماعت میں واپس لانے کی کوشش کرتے تھے ۔[8]ایسے حالات میں پولس اور اس کے ساتھی یہودی برادری سے اپنا تعلق ختم کر دیتے اور اپنی تمام تر توجہ ان غیر یہودیوں کی تعلیم و تربیت پر مرکوز کر دیتے جو یہودیت سے متاثر تھے نیز دوسرے دلچسپی رکھنے والے بت پرست لوگوں پر۔اس موقع پر وہ مخالف یہودیوں سے کہتے”ضرور تھا کہ خڈا کا کلام پہلے تمہیں سنایاجائے لیکن چونکہ تم اس کو رد کرتے ہو اور اپنے آپ کو ہمیشہ کی زندگی کے ناقابل ٹھہراتے ہوتودیکھو ہم غیر قوموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ “[9]یہی غیر یہودی ایمان  دار بعد میں پولس کی قائم کردہ کلیسیاؤں کی بنیاد بنے۔ان نئی جماعتوں کے افراد عبادت یا مذہبی اجتماعات کے لیے کسی باقاعدہ عبادت گاہ میں نہیں بلکہ اپنے ہی کسی خوش حال رکن کے کشادہ گھر میں جمع ہوتے تھے۔ ایسے اجتماعات کو بعد میں ”ہاؤس چرچ“(House Church) کہا جانے لگا۔یونانی دنیا میں غیر قوموں پر مشتمل مسیحیت کی باقاعدہ توسیع کا آغاز اسی طریقے سے ہوا۔


[1] اعمال 9 :20 –25

[2] رومیوں 15 :16

[3] گلتیوں 1 :16؛ 2 :7؛ 1- تیمتھیس 2 :7

[4] گلتیوں 2 :7

[5] رومیو۱۱: ۲۵-۲۶

[6] ۱-کرنتھیوں 9 :20–22؛ 10 :33

[7] ۲۔کرنتھیوں 11 :24–25

[8] اعمال 13 :45؛ 17 :13

[9] اعمال 13 :46


مکمل تحریر >>