پولسی
مسیحیت کی باطنی خصوصیات
مترجم:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ
اناجیل میں پیش کردہ حضرت عیسیٰؑ اور پولس
کے بیان کردہ مسیح کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ اناجیل کا عیسیٰؑ ایک ایسے الٰہی
معلم کی حیثیت رکھتا ہے جسے خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا جبکہ پولس کا
مسیح خود اسی پیغام کا مرکزی موضوع اور محور بن جاتا ہے۔پولس کی دلچسپی حضرت
عیسیٰؑ کی تاریخی زندگی کی تفصیلات میں
نہیں تھی۔ وہ نہ ناصرت اور نہ گلیل کا ذکر کرتا ہے، نہ حضرت عیسیٰؑ کے والدین کا، نہ سردار کاہن حنّاہ اورکائفا کا
اور نہ ہی ہیرودیس اینٹی پاس یا پیلاطوس گورنر کا۔ اس کی توجہ تاریخی پس منظر سے
ہٹ کر فقط اس مختصر عرصے پر مرکوز رہتی ہے جو حضرت عیسیٰؑ کی گرفتاری سے ایک رات پہلے شروع ہوتا ہےجسے وہ
صرف ”جس رات وہ حوالہ کیا گیا“[1]کے
الفاظ میں بیان کرتا ہےاور حضرت عیسیٰؑ کے
جی اٹھنے پر ختم ہو جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران وہ کہیں بھی یہوداہ
اسکریوطی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا کہ اس نے حضرت عیسیٰؑ کو گرفتار کروایا تھا۔
اس طرح پولسی مسیحیت کی اصل بنیاد ان
تاریخی واقعات کی تفصیل نہیں بلکہ ان کے گرد قائم کیا گیا ایک گہرا عقیدتی اور
الٰہیاتی نظام ہے جسے پولس نے اپنی فکری صلاحیت اور مذہبی بصیرت سے تشکیل دیا۔ اس
پورے نظام کامرکز حضرت عیسیٰؑ مسیح کی موت
اور اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا عقیدہ ہے۔پولس کی یہ الٰہیات اس قدر منظم اور
گہری ہے کہ اس کے بالمقابل اناجیل متوافقہ اور اعمال کی کتاب کی الٰہیات نسبتاً ابتدائی
اور سادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس وسعت ِفکری میں صرف انجیلِ یوحنا ہی اس کی ہم پلہ نظر
آتی ہے کیونکہ وہ بھی مسیح کی ایک نہایت گہری، روحانی اور ماورائی تصویر پیش کرتی
ہے۔پولس کی اس فکری تعمیر کے پس مردہ دو بڑی بنیادیں کارفرما تھیں۔ ایک طرف یہودیت
سے اس کی گہری واقفیت اور دوسری طرف یونانی و رومی تہذیب سے کم از کم بنیادی
آشنائی۔ ان دونوں کے ساتھ اس کی غیر معمولی روحانی بصیرت اور تخلیقی فکر نے اسے اس
قابل بنایا کہ وہ یہودی مذہب کے تصورات مثلاً مسیح (Messiah)کا
عقیدہ اور شہداء کی قربانی کے اجر و ثواب کے نظریے کو نئے انداز میں یکجا کرے۔
انہی عناصر کو بنیاد بنا کر پولس نے ایک جامع اور مؤثر نظام ِالہیات تشکیل دیاجس
میں مسیح کو انسانیت کے آخری اور حتمی نجات دہندہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔
مسیح
کی موت اور قیامت کی علامتی معنویت
پولس نے اگرچہ حضرت عیسیٰؑ پر بائبل کے
مسیح کے تصور کا اطلاق کیایعنی اس
ہستی کا جو آخری زمانے میں یہودیوں کو نجات دلائے گی، انصاف قائم کرے گی اور دنیا
میں نیکی بحال کرے گیلیکن وہ اس تعبیر میں قمرانی پیش گوئیوں کی تکمیل (Pesher) اور
روایتی ربّانی تفسیر سے بھی آگے بڑھ گیا۔ پولس نے اس تصور کو ایک عظیم مذہبی اور
علامتی ڈرامے کی صورت دے دی جس کا مرکزی موضوع خدا کے بیٹے کی موت اور دوبارہ
زندگی پانے کا راز تھا۔اس روحانی ڈرامے کے دو مرکزی کردار ہیں جن میں سے پہلا حضرت
آدمؑ ہیں جو تمام انسانیت کے جدامجد ہیں اور دوسرا کردار حضرت عیسیٰؑ مسیح کاہے
جسے پولس نے دوسرا یاآخری آدمؑ قرار دیا ہے۔اس داستان میں حضرت ابراہیم ؑاور حضرت
اسحاق ؑبھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ ایمان اور خود سپردگی (قربانی) کی
اعلیٰ ترین مثالیں سمجھے جاتے ہیں۔تصور ِ نجات پر مبنی اس ڈرامے کا بنیادی تصور یہ
ہے کہ آخری آدم یعنی حضرت عیسیٰؑ مسیح کی
موت اور قیامت نے پہلے آدم کے گناہ سے پیدا ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کر دیا جس
کے نتیجے میں انسان ابدی زندگی سے محروم ہو گیا تھا۔
ابتدا میں حضرت آدم ؑکو باغِ عدن میں ہمیشہ
کی زندگی عطا کی گئی تھی لیکن وہ بی بی حوا کے ذریعے سانپ(شیطان)کے فریب میں آگئے۔
اس طرح ایک ہی نافرمانی(جسے بعد میں سینٹ آگسٹین نے ”ازلی گناہ“ (Original Sin) کا نام دیا)نے
انسان کو لافانی زندگی سے محروم کر دیا۔اس نافرمانی کی سزا صرف آدم اور حوا تک
محدود نہ رہی بلکہ ان کی پوری نسل اس کے اثرات کی زد میں آ گئی۔ حکمت کی کتاب کے
مطابق شیطان کے حسد[2]
اور یشوع بن سِیراخ کے مطابق حوا کی لغزش نے پوری انسانیت میں برائی کا رجحان پیدا
کر دیا۔[3]
ربّانی ادب اسے ”یتصر ہرا“(Yetser Ra)یعنی
انسان کے اندر موجود برائی کی فطری خواہش کہتا ہے جبکہ عزرادوم اسے ”بددل“(Cor
Malignum)سے تعبیر کرتی ہے۔[4]
اسی سبب موت پوری نسلِ انسانی کا مقدر بن گئی۔
پولس کا عقیدہ تھا کہ آدم کی اس نافرمانی
نے ایک پراسرار انداز میں پوری انسانی فطرت کو متاثر کر دیا۔ ازلی گناہ کا یہ
نظریہ پولس کی اپنی فکری تشکیل ہے جس کی نہ عبرانی بائبل میں کوئی واضح مثال ملتی
ہے اور نہ بعد کی یہودی روایت میں۔پولس کے نزدیک یہ بنیادی خرابی عام انسانی
کوششوں سے دور نہیں ہو سکتی تھی حتیٰ کہ
مصر سے بنی اسرائیل کی نجات اور خدا کی براہِ راست مداخلت بھی اس مسئلے کا مستقل
حل نہ بن سکی۔اس کے برعکس کوہِ سینا پر
کیے گئے عہد کے ساتھ جو تورات عطا کی گئی، اس نے انسان کو نجات دینے کے بجائے گناہ
کو زیادہ نمایاں کر دیا۔ چونکہ شریعت نے واضح کیا کہ کون سے اعمال ممنوع ہیں، اس
لیے انسان کو پہلی بار اپنے گناہ کا شعور حاصل ہوا۔پولس کی نفسیاتی تعبیر کے مطابق
جب انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی کام ممنوع ہے تو اسی ممنوع چیز کی طرف اس کا
میلان بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ شریعت ایک طرف گناہ کو آشکار کرتی ہے اور دوسری طرف
انسان کی نافرمانی کو نمایاں کرکے اسے سزا اور محکومی کا مستحق بھی بنا دیتی ہے۔
”پس ہم کیا
کہیں؟کیا شریعت گنا ہ ہے؟ہرگز نہیں بلکہ بغیر شریعت کے میں گناہ کو نہ پہچانتا
مثلاً اگر شریعت یہ نہ کہتی کہ تو لالچ نہ کر تو میں لالچ کو نہ جانتا مگر گناہ نے
موقع پاکر حکم کے ذریعے سے مجھ میں ہر طرح کا لالچ پیدا کردیا کیونکہ شریعت کےبغیر
گناہ مردہ ہے۔ایک زمانہ میں شریعت کے بغیر میں زندہ تھا مگر جب حکم آیا تو گناہ
زندہ ہو گیا اور میں مر گیا اور جس حکم کا منشا زندگی تھا وہی میرے حق میں موت کا
باعث بن گیا۔“[5]
پولس کے نزدیک حضرت عیسیٰؑ کی موت اور قیامت کے ذریعے نجات کا عظیم واقعہ
پیش آنے سے پہلے بھی انسان خدا کے نزدیک راستباز یا روحانی طور پر مقبول شریعت کے
احکام پر عمل سے نہیں بلکہ ایمان
کے ذریعے ٹھہر سکتا تھا۔ یہ اصول پہلے حضرت نوحؑ کی نسل کو دی گئی
ہدایات پر بھی صادق تھا اور بعد میں حضرت موسیٰؑ کے ذریعے بنی اسرائیل کو عطا کی
گئی شریعت پر بھی۔پولس کے مطابق حقیقی ایمان کا مطلب خدا پر مکمل بھروسا اور اپنے
آپ کو اس کے سپرد کر دینا ہے اور اس ایمان کی سب سے اعلیٰ مثال حضرت ابراہیمؑ
ہیں۔حضرت ابراہیمؑ کو اس لیے راستباز قرار نہیں دیا گیا کہ انہوں نے شرعی حکم
مثلاً ختنہ کی تعمیل کی تھی بلکہ اس لیے کہ انہوں نے غیر معمولی ایمان کا
مظاہرہ کیا۔ ننانوے برس کی عمر میں انہوں نے یقین کیا کہ خدا ان کی نوّے سالہ
بانجھ بیوی سارہ کو بیٹا عطا کرے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر جب خدا نے ان سے اپنے
معجزانہ طور پر عطا کیے گئے بیٹے کو قربان کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ اس حکم کی
تعمیل کے لیے بھی آمادہ ہوگئے۔متاخریہودی روایات میں ”حضرت اسحاقؑ کی قربانی“کا
تصور،جس میں نہ صرف حضرت ابراہیمؑ کی کامل اطاعت بلکہ حضرت اسحاقؑ کی رضامندی کو
بھی نمایاں کیا گیا ہے،غالباً پولس کے اس نظریے کی بنیاد بنا کہ حضرت عیسیٰؑ کی موت اور قیامت انسانوں کی نجات کا ذریعہ
ہیں۔میں تقریباً نصف صدی سے یہ مؤقف پیش کرتاآرہاہوں کہ پولس کا کفارے (Atonement)کا
نظریہ یعنی یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰؑ نے
اپنی جان قربان کرکے انسانوں کی نجات کا راستہ کھولا دراصل حضرت ابراہیمؑ اور حضرت
اسحاقؑ کی قربانی کے واقعے سے متاثر ہے۔اس کی تائید کے لیے وہ دو آیات کا تقابل
پیش کرتے ہیں۔رومیوں کے نام اپنے خط میں پولس
لکھتا ہے کہ ”جس نے اپنے بیٹے ہی کو دریغ نہ کیا بلکہ ہم سب کی خاطر اسے
حوالہ کردیا وہ اس کے ساتھ اور سب چیزیں بھی ہمیں کس طرح نہ بخشے گا ؟ “[6]جب کہ
پیدائش میں خدا حضرت ابراہیمؑ سے فرماتا ہے کہ ”چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے
بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم
کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔[7]
غالب امکان یہی ہے کہ پیدائش باب 22 (حضرت
ابراہیمؑ اور حضرت اسحاقؑ کی قربانی کا واقعہ) وہی غیر مذکورہ بائبلی متن ہے جس کی
طرف پولس نے اس وقت اشارہ کیا جب اس نے لکھا”مسیح کتاب مقدس کے مطابق ہمارے گناہوں
کے لیے موا۔“[8]شاید
یہی وجہ ہے کہ ابتدائی کلیسائی بزرگوں(Church Fathers)
نے
حضرت اسحاقؑ کو عیسیٰؑ نجات دہندہ کا نمونہ (Prototype)
قرار
دیا۔مزید یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ دوسری صدی قبل مسیح کے وسط سے یہودی روایت کی
ایک شاخ،جس کا قدیم ترین ثبوت جوبلی کی کتاب میں ملتا ہے،حضرت اسحاقؑ کی قربانی کے
واقعے کو عیدِ فصح کے دن سے جوڑتی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب مسیحی روایت کے مطابق
حضرت عیسیٰؑ نے دکھ اٹھایا اور مصلوب
ہوئے۔
اگر پولس کے پورے استدلال کو دیکھا جائے تو
اس کی منطق واضح نظر آتی ہے۔پولس کے مطابق ہر انسان گناہ گار ہے، اس لیے سزا کا
مستحق بھی ہے۔ اس سزا کا نام موت ہے، جسے وہ ”آخری دشمن“[9]کہتا
ہے اور جسے وہ ”گناہ کی مزدوری“بھی قرار دیتا ہے[10]لیکن
پہلے آدم کی نافرمانی سے پیدا ہونے والی یہ صورتِ حال اس وقت یکسر بدل گئی جب مسیح
جو بے گناہ خدا کا بیٹا تھا، ”گناہ بنا دیا گیا“[11]تاکہ
وہ صلیب پر اپنی موت کے ذریعے پوری انسانیت کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے۔پولس کے
مطابق صلیب پر لٹکے ہوئے مسیح کے زخمی جسم میں خدا باپ نے ”جسم میں موجود گناہ کو
سزا دی“۔[12]چناں
چہ جب ایک شخص ایمان کے ساتھ اس بات کو قبول کرتا ہے کہ مسیح کی موت اور قیامت
نجات کا ذریعہ ہیں تو روحانی اور رمزی معنوں میں وہ گناہ کے اعتبار سے مر جاتا ہے
اور ایک نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔اسی لیے پولس لکھتا ہے کہ ”ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب
ایک سب کے واسطے موا ہو تو سب مر گئے اور وہ اس لیے سب کے واسطے موا کہ جو جیتے
ہیں وہ آگے کو اپنے لیے نہ جئیں بلکہ اس کے لیے جو ان کے واسطے موا اور پھر جی
اٹھا۔“[13]
پولس کے اس پورے مذہبی نظام میں مسیح کی
موت بنیادی مرکز ہے اور کوہِ کلوری پوری انسانی تاریخ کا مرکزی نقطہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے پولس اعلان کرتا ہے کہ میں نے
تمہارے درمیان یسوع مسیح اور خصوصاً اس کے مصلوب ہونے کے سوا کسی اور چیز کی منادی
نہیں کی۔[14]پولس
کے نزدیک پہلے صلیب آتی ہے اور قیامت اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی یہ دونوں نجات بخش کارروائیاں ایمان رکھنے
والوں کے لیے نجات اور نئی زندگی کا ذریعہ بن سکتی ہیں لیکن صرف یہ واقعات اپنی
جگہ کافی نہیں۔ ان کے اثرات اس وقت تک حقیقت نہیں بنتے جب تک انسان ایمان نہ
لائے۔آخرکارجب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے(جسے پولس مسیح کی موت اور قیامت کی علامت
قرار دیتا ہے)تو ایمان کے ذریعے صلیب اور قیامت کی نجات بخش برکت اس فرد تک منتقل
ہو جاتی ہے۔اسی وجہ سے ابتدائی کلیسیا میں بپتسمہ عموماً عیدِ قیامت(Easter)کی رات
یا اس کی عبادت کے سلسلے میں ہونے والی بیداری کے موقع پر دیا جاتا تھا کیونکہ یہی
وہ وقت تھا جو مسیح کی موت اور قیامت کی یاد سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔
یہودی مذہبی فکر سے متاثر ہونے کی وجہ سے
پولس نے مسیح کی صلیبی موت کوہیکلِ یروشلم میں ہونےوالی تمام قربانیوں کی آخری
اورکامل تکمیل قراردیا۔جس طرح یہودی علماءکاعقیدہ تھاکہ خون بہائےبغیرکفارہ ممکن
نہیں، اسی طرح پولس اور اس کے پیروکار بھی یہی سمجھتے تھے ۔[15]اسی
لیے پولس لکھتا ہے کہ انسان خدا کے حضور راستباز قرار پاتا ہے”اس کے فضل کے سبب سے
اس مخلصی کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے مفت راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں۔اسے خدا
نے اس کے خون کے باعث یک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔“[16]یہ
تعلیم اپنے عروج پر اس وقت پہنچتی ہے جب پولس یسوع کو ”نیا اسحاق“اور ”عیدِ فصح کا
حقیقی برّہ“قرار دیتے ہوئے کہتا ہے”کیوں کہ ہمارا بھی فصح یعنی مسیح قربان ہوا۔“[17]غالب
امکان ہے کہ پولس کے ذہن میں حضرت اسحاقؑ کی قربانی کا وہ یہودی تصور موجود تھا جس
کے مطابق یہ واقعہ عیدِ فسح (15 نیسان) کے دن پیش آیا تھا۔ اسی پس منظر نے یسوع کو
”نئی قربانی“ کے طور پر سمجھنے میں اس کی رہنمائی کی۔
پولس کے مذہبی نظریے میں گناہوں سے نجات
اور نئی روحانی زندگی کا حصول دراصل ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں اور دونوں کا
سرچشمہ یسوع کی موت اور قیامت ہیں۔اس کے نزدیک پہلے صلیب آتی ہے لیکن اس کی سچائی
اور عظمت کو قیامت ثابت کرتی ہے۔اگرچہ پولس کی منادی کا مرکزی موضوع یسوع کی صلیبی
موت ہے لیکن وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اگر قیامت کا عقیدہ نہ ہو تو پورا مسیحی
ایمان بے بنیاد ہو جاتا ہے۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے”جب مسیح کی یہ منادی کی جاتی ہے
کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا تو تم میں سے بعض کس طرح کہتے ہیں کہ مردوں کی قیامت
ہے ہی نہیں؟ اگر مردوں کی قیامت نہیں تو مسیح بھی نہیں جی اٹھا اور اگر مسیح نہیں
جی اٹھا تو ہماری منادی بھی بے فائدہ ہے اور تمہارا ایمان بھی بے فائدہ بل کہ ہم
خدا کے حضور جھوٹے گواہ ٹھہرے۔“[18]
بات کو سمیٹے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ
پولوس کی پیش کردہ مسیحیت کے باطنی یا اعتقادی ڈھانچے کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان
گناہوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے،وہ قیامت اور نئی زندگی کا حق دار بن سکتا ہے،یہ
دونوں نعمتیں صرف اس وقت حاصل ہوتی ہیں جب انسان یسوع کی کفارہ بخش موت اور زندگی
عطا کرنے والی قیامت پر ایمان لائےتاہم پولس کا خیال تھا کہ موجودہ دنیا کا زمانہ
بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔ اسی لیے اس نے اپنے پورے مذہبی نظام میں مسیح کی آمد
ثانی کو بھی بنیادی حیثیت دی۔
[1]
1- کرنتھیوں 11 :23
[2]
حکمت 2 :24
[3]
یشوع بن سیراخ 25 :24
[4]
2 Esdras 3:20-22
[5]
رومیوں۷: ۷-۱۰
[6]
رومیوں
8 :31–32
[7]
پیدائش
22 :16–17
[8]
۱-کرنتھیوں 15 :3
[9]
1- کرنتھیوں 15 :26
[10]
رومیوں
6 :23
[11]
2- کرنتھیوں 5 :21
[12]
رومیوں
8 :3
[13]
۲-کرنتھیوں 5 :14–15
[14]
۱- کرنتھیوں 2:2
[15]
عبرانیوں
9 :22
[16]
رومیوں
3 :24–25
[17]
۱-کرنتھیوں 5 :7
[18]
۱-کرنتھیوں 15 :12–۱۵


