Pages

Most Popular

اتوار، 1 نومبر، 2026

پولوسی مسیحیت کی باطنی خصوصیات (مسیح کی موت اور قیامت کی علامتی معنویت)

 












پولسی مسیحیت کی باطنی خصوصیات

مترجم:ڈاکٹرعبداللہ غازیؔ

اناجیل میں پیش کردہ حضرت عیسیٰؑ اور پولس کے بیان کردہ مسیح کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ اناجیل کا عیسیٰؑ ایک ایسے الٰہی معلم کی حیثیت رکھتا ہے جسے خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا جبکہ پولس کا مسیح خود اسی پیغام کا مرکزی موضوع اور محور بن جاتا ہے۔پولس کی دلچسپی حضرت عیسیٰؑ  کی تاریخی زندگی کی تفصیلات میں نہیں تھی۔ وہ نہ ناصرت اور نہ گلیل کا ذکر کرتا ہے، نہ حضرت عیسیٰؑ  کے والدین کا، نہ سردار کاہن حنّاہ اورکائفا کا اور نہ ہی ہیرودیس اینٹی پاس یا پیلاطوس گورنر کا۔ اس کی توجہ تاریخی پس منظر سے ہٹ کر فقط اس مختصر عرصے پر مرکوز رہتی ہے جو حضرت عیسیٰؑ  کی گرفتاری سے ایک رات پہلے شروع ہوتا ہےجسے وہ صرف ”جس رات وہ حوالہ کیا گیا“[1]کے الفاظ میں بیان کرتا ہےاور حضرت عیسیٰؑ  کے جی اٹھنے پر ختم ہو جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران وہ کہیں بھی یہوداہ اسکریوطی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا کہ اس نے حضرت عیسیٰؑ کو گرفتار کروایا تھا۔

اس طرح پولسی مسیحیت کی اصل بنیاد ان تاریخی واقعات کی تفصیل نہیں بلکہ ان کے گرد قائم کیا گیا ایک گہرا عقیدتی اور الٰہیاتی نظام ہے جسے پولس نے اپنی فکری صلاحیت اور مذہبی بصیرت سے تشکیل دیا۔ اس پورے نظام کامرکز حضرت عیسیٰؑ  مسیح کی موت اور اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا عقیدہ ہے۔پولس کی یہ الٰہیات اس قدر منظم اور گہری ہے کہ اس کے بالمقابل اناجیل متوافقہ  اور اعمال کی کتاب کی الٰہیات نسبتاً ابتدائی اور سادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس وسعت ِفکری میں صرف انجیلِ یوحنا ہی اس کی ہم پلہ نظر آتی ہے کیونکہ وہ بھی مسیح کی ایک نہایت گہری، روحانی اور ماورائی تصویر پیش کرتی ہے۔پولس کی اس فکری تعمیر کے پس مردہ دو بڑی بنیادیں کارفرما تھیں۔ ایک طرف یہودیت سے اس کی گہری واقفیت اور دوسری طرف یونانی و رومی تہذیب سے کم از کم بنیادی آشنائی۔ ان دونوں کے ساتھ اس کی غیر معمولی روحانی بصیرت اور تخلیقی فکر نے اسے اس قابل بنایا کہ وہ یہودی مذہب کے تصورات مثلاً مسیح (Messiah)کا عقیدہ اور شہداء کی قربانی کے اجر و ثواب کے نظریے کو نئے انداز میں یکجا کرے۔ انہی عناصر کو بنیاد بنا کر پولس نے ایک جامع اور مؤثر نظام ِالہیات تشکیل دیاجس میں مسیح کو انسانیت کے آخری اور حتمی نجات دہندہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔

مسیح کی موت اور قیامت کی علامتی معنویت

پولس نے اگرچہ حضرت عیسیٰؑ پر بائبل کے مسیح  کے تصور کا اطلاق کیایعنی اس ہستی کا جو آخری زمانے میں یہودیوں کو نجات دلائے گی، انصاف قائم کرے گی اور دنیا میں نیکی بحال کرے گیلیکن وہ اس تعبیر میں قمرانی پیش گوئیوں کی تکمیل (Pesher) اور روایتی ربّانی تفسیر سے بھی آگے بڑھ گیا۔ پولس نے اس تصور کو ایک عظیم مذہبی اور علامتی ڈرامے کی صورت دے دی جس کا مرکزی موضوع خدا کے بیٹے کی موت اور دوبارہ زندگی پانے کا راز تھا۔اس روحانی ڈرامے کے دو مرکزی کردار ہیں جن میں سے پہلا حضرت آدمؑ ہیں جو تمام انسانیت کے جدامجد ہیں اور دوسرا کردار حضرت عیسیٰؑ مسیح کاہے جسے پولس نے دوسرا یاآخری آدمؑ قرار دیا ہے۔اس داستان میں حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسحاق ؑبھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ ایمان اور خود سپردگی (قربانی) کی اعلیٰ ترین مثالیں سمجھے جاتے ہیں۔تصور ِ نجات پر مبنی اس ڈرامے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ آخری آدم یعنی حضرت عیسیٰؑ  مسیح کی موت اور قیامت نے پہلے آدم کے گناہ سے پیدا ہونے والے اس نقصان کا ازالہ کر دیا جس کے نتیجے میں انسان ابدی زندگی سے محروم ہو گیا تھا۔

ابتدا میں حضرت آدم ؑکو باغِ عدن میں ہمیشہ کی زندگی عطا کی گئی تھی لیکن وہ بی بی حوا کے ذریعے سانپ(شیطان)کے فریب میں آگئے۔ اس طرح ایک ہی نافرمانی(جسے بعد میں سینٹ آگسٹین نے ”ازلی گناہ“ (Original Sin) کا نام دیا)نے انسان کو لافانی زندگی سے محروم کر دیا۔اس نافرمانی کی سزا صرف آدم اور حوا تک محدود نہ رہی بلکہ ان کی پوری نسل اس کے اثرات کی زد میں آ گئی۔ حکمت کی کتاب کے مطابق شیطان کے حسد[2] اور یشوع بن سِیراخ کے مطابق حوا کی لغزش نے پوری انسانیت میں برائی کا رجحان پیدا کر دیا۔[3] ربّانی ادب اسے ”یتصر ہرا“(Yetser Ra)یعنی انسان کے اندر موجود برائی کی فطری خواہش کہتا ہے جبکہ عزرادوم  اسے ”بددل“(Cor Malignum)سے تعبیر کرتی ہے۔[4] اسی سبب موت پوری نسلِ انسانی کا مقدر بن گئی۔

پولس کا عقیدہ تھا کہ آدم کی اس نافرمانی نے ایک پراسرار انداز میں پوری انسانی فطرت کو متاثر کر دیا۔ ازلی گناہ کا یہ نظریہ پولس کی اپنی فکری تشکیل ہے جس کی نہ عبرانی بائبل میں کوئی واضح مثال ملتی ہے اور نہ بعد کی یہودی روایت میں۔پولس کے نزدیک یہ بنیادی خرابی عام انسانی کوششوں سے دور نہیں ہو سکتی تھی  حتیٰ کہ مصر سے بنی اسرائیل کی نجات اور خدا کی براہِ راست مداخلت بھی اس مسئلے کا مستقل حل نہ بن سکی۔اس کے برعکس  کوہِ سینا پر کیے گئے عہد کے ساتھ جو تورات عطا کی گئی، اس نے انسان کو نجات دینے کے بجائے گناہ کو زیادہ نمایاں کر دیا۔ چونکہ شریعت نے واضح کیا کہ کون سے اعمال ممنوع ہیں، اس لیے انسان کو پہلی بار اپنے گناہ کا شعور حاصل ہوا۔پولس کی نفسیاتی تعبیر کے مطابق جب انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی کام ممنوع ہے تو اسی ممنوع چیز کی طرف اس کا میلان بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ شریعت ایک طرف گناہ کو آشکار کرتی ہے اور دوسری طرف انسان کی نافرمانی کو نمایاں کرکے اسے سزا اور محکومی کا مستحق بھی بنا دیتی ہے۔

”پس ہم کیا کہیں؟کیا شریعت گنا ہ ہے؟ہرگز نہیں بلکہ بغیر شریعت کے میں گناہ کو نہ پہچانتا مثلاً اگر شریعت یہ نہ کہتی کہ تو لالچ نہ کر تو میں لالچ کو نہ جانتا مگر گناہ نے موقع پاکر حکم کے ذریعے سے مجھ میں ہر طرح کا لالچ پیدا کردیا کیونکہ شریعت کےبغیر گناہ مردہ ہے۔ایک زمانہ میں شریعت کے بغیر میں زندہ تھا مگر جب حکم آیا تو گناہ زندہ ہو گیا اور میں مر گیا اور جس حکم کا منشا زندگی تھا وہی میرے حق میں موت کا باعث بن گیا۔“[5]

پولس کے نزدیک حضرت عیسیٰؑ  کی موت اور قیامت کے ذریعے نجات کا عظیم واقعہ پیش آنے سے پہلے بھی انسان خدا کے نزدیک راستباز یا روحانی طور پر مقبول شریعت کے احکام پر عمل سے نہیں بلکہ ایمان کے ذریعے ٹھہر سکتا تھا۔ یہ اصول پہلے حضرت نوحؑ کی نسل کو دی گئی ہدایات پر بھی صادق تھا اور بعد میں حضرت موسیٰؑ کے ذریعے بنی اسرائیل کو عطا کی گئی شریعت پر بھی۔پولس کے مطابق حقیقی ایمان کا مطلب خدا پر مکمل بھروسا اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دینا ہے اور اس ایمان کی سب سے اعلیٰ مثال حضرت ابراہیمؑ ہیں۔حضرت ابراہیمؑ کو اس لیے راستباز قرار نہیں دیا گیا کہ انہوں نے شرعی حکم مثلاً ختنہ کی تعمیل کی  تھی  بلکہ اس لیے کہ انہوں نے غیر معمولی ایمان کا مظاہرہ کیا۔ ننانوے برس کی عمر میں انہوں نے یقین کیا کہ خدا ان کی نوّے سالہ بانجھ بیوی سارہ کو بیٹا عطا کرے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر جب خدا نے ان سے اپنے معجزانہ طور پر عطا کیے گئے بیٹے کو قربان کرنے کا مطالبہ کیا تو وہ اس حکم کی تعمیل کے لیے بھی آمادہ ہوگئے۔متاخریہودی روایات میں ”حضرت اسحاقؑ کی قربانی“کا تصور،جس میں نہ صرف حضرت ابراہیمؑ کی کامل اطاعت بلکہ حضرت اسحاقؑ کی رضامندی کو بھی نمایاں کیا گیا ہے،غالباً پولس کے اس نظریے کی بنیاد بنا کہ حضرت عیسیٰؑ  کی موت اور قیامت انسانوں کی نجات کا ذریعہ ہیں۔میں تقریباً نصف صدی سے یہ مؤقف پیش کرتاآرہاہوں کہ پولس کا کفارے (Atonement)کا نظریہ یعنی یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰؑ  نے اپنی جان قربان کرکے انسانوں کی نجات کا راستہ کھولا دراصل حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسحاقؑ کی قربانی کے واقعے سے متاثر ہے۔اس کی تائید کے لیے وہ دو آیات کا تقابل پیش کرتے ہیں۔رومیوں کے نام اپنے خط میں پولس  لکھتا ہے کہ ”جس نے اپنے بیٹے ہی کو دریغ نہ کیا بلکہ ہم سب کی خاطر اسے حوالہ کردیا وہ اس کے ساتھ اور سب چیزیں بھی ہمیں کس طرح نہ بخشے گا ؟ “[6]جب کہ پیدائش میں خدا حضرت ابراہیمؑ سے فرماتا ہے کہ ”چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔[7]

غالب امکان یہی ہے کہ پیدائش باب 22 (حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسحاقؑ کی قربانی کا واقعہ) وہی غیر مذکورہ بائبلی متن ہے جس کی طرف پولس نے اس وقت اشارہ کیا جب اس نے لکھا”مسیح کتاب مقدس کے مطابق ہمارے گناہوں کے لیے موا۔“[8]شاید یہی وجہ ہے کہ ابتدائی کلیسائی بزرگوں(Church Fathers) نے حضرت اسحاقؑ کو عیسیٰؑ نجات دہندہ کا نمونہ (Prototype) قرار دیا۔مزید یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ دوسری صدی قبل مسیح کے وسط سے یہودی روایت کی ایک شاخ،جس کا قدیم ترین ثبوت جوبلی کی کتاب میں ملتا ہے،حضرت اسحاقؑ کی قربانی کے واقعے کو عیدِ فصح کے دن سے جوڑتی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب مسیحی روایت کے مطابق حضرت عیسیٰؑ  نے دکھ اٹھایا اور مصلوب ہوئے۔

اگر پولس کے پورے استدلال کو دیکھا جائے تو اس کی منطق واضح نظر آتی ہے۔پولس کے مطابق ہر انسان گناہ گار ہے، اس لیے سزا کا مستحق بھی ہے۔ اس سزا کا نام موت ہے، جسے وہ ”آخری دشمن“[9]کہتا ہے اور جسے وہ ”گناہ کی مزدوری“بھی قرار دیتا ہے[10]لیکن پہلے آدم کی نافرمانی سے پیدا ہونے والی یہ صورتِ حال اس وقت یکسر بدل گئی جب مسیح جو بے گناہ خدا کا بیٹا تھا، ”گناہ بنا دیا گیا“[11]تاکہ وہ صلیب پر اپنی موت کے ذریعے پوری انسانیت کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے۔پولس کے مطابق صلیب پر لٹکے ہوئے مسیح کے زخمی جسم میں خدا باپ نے ”جسم میں موجود گناہ کو سزا دی“۔[12]چناں چہ جب ایک شخص ایمان کے ساتھ اس بات کو قبول کرتا ہے کہ مسیح کی موت اور قیامت نجات کا ذریعہ ہیں تو روحانی اور رمزی معنوں میں وہ گناہ کے اعتبار سے مر جاتا ہے اور ایک نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔اسی لیے پولس لکھتا ہے کہ ”ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب ایک سب کے واسطے موا ہو تو سب مر گئے اور وہ اس لیے سب کے واسطے موا کہ جو جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لیے نہ جئیں بلکہ اس کے لیے جو ان کے واسطے موا اور پھر جی اٹھا۔“[13]

پولس کے اس پورے مذہبی نظام میں مسیح کی موت بنیادی مرکز ہے اور کوہِ کلوری پوری انسانی تاریخ کا مرکزی نقطہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے پولس اعلان کرتا ہے کہ  میں نے تمہارے درمیان یسوع مسیح اور خصوصاً اس کے مصلوب ہونے کے سوا کسی اور چیز کی منادی نہیں کی۔[14]پولس کے نزدیک پہلے صلیب آتی ہے اور قیامت اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ حضرت عیسیٰؑ  کی یہ دونوں نجات بخش کارروائیاں ایمان رکھنے والوں کے لیے نجات اور نئی زندگی کا ذریعہ بن سکتی ہیں لیکن صرف یہ واقعات اپنی جگہ کافی نہیں۔ ان کے اثرات اس وقت تک حقیقت نہیں بنتے جب تک انسان ایمان نہ لائے۔آخرکارجب کوئی شخص بپتسمہ لیتا ہے(جسے پولس مسیح کی موت اور قیامت کی علامت قرار دیتا ہے)تو ایمان کے ذریعے صلیب اور قیامت کی نجات بخش برکت اس فرد تک منتقل ہو جاتی ہے۔اسی وجہ سے ابتدائی کلیسیا میں بپتسمہ عموماً عیدِ قیامت(Easter)کی رات یا اس کی عبادت کے سلسلے میں ہونے والی بیداری کے موقع پر دیا جاتا تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جو مسیح کی موت اور قیامت کی یاد سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔

یہودی مذہبی فکر سے متاثر ہونے کی وجہ سے پولس نے مسیح کی صلیبی موت کوہیکلِ یروشلم میں ہونےوالی تمام قربانیوں کی آخری اورکامل تکمیل قراردیا۔جس طرح یہودی علماءکاعقیدہ تھاکہ خون بہائےبغیرکفارہ ممکن نہیں، اسی طرح پولس اور اس کے پیروکار بھی یہی سمجھتے تھے ۔[15]اسی لیے پولس لکھتا ہے کہ انسان خدا کے حضور راستباز قرار پاتا ہے”اس کے فضل کے سبب سے اس مخلصی کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے مفت راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں۔اسے خدا نے اس کے خون کے باعث یک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔“[16]یہ تعلیم اپنے عروج پر اس وقت پہنچتی ہے جب پولس یسوع کو ”نیا اسحاق“اور ”عیدِ فصح کا حقیقی برّہ“قرار دیتے ہوئے کہتا ہے”کیوں کہ  ہمارا بھی فصح یعنی مسیح قربان ہوا۔“[17]غالب امکان ہے کہ پولس کے ذہن میں حضرت اسحاقؑ کی قربانی کا وہ یہودی تصور موجود تھا جس کے مطابق یہ واقعہ عیدِ فسح (15 نیسان) کے دن پیش آیا تھا۔ اسی پس منظر نے یسوع کو ”نئی قربانی“ کے طور پر سمجھنے میں اس کی رہنمائی کی۔

پولس کے مذہبی نظریے میں گناہوں سے نجات اور نئی روحانی زندگی کا حصول دراصل ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں اور دونوں کا سرچشمہ یسوع کی موت اور قیامت ہیں۔اس کے نزدیک پہلے صلیب آتی ہے لیکن اس کی سچائی اور عظمت کو قیامت ثابت کرتی ہے۔اگرچہ پولس کی منادی کا مرکزی موضوع یسوع کی صلیبی موت ہے لیکن وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اگر قیامت کا عقیدہ نہ ہو تو پورا مسیحی ایمان بے بنیاد ہو جاتا ہے۔ اسی لیے وہ لکھتا ہے”جب مسیح کی یہ منادی کی جاتی ہے کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا تو تم میں سے بعض کس طرح کہتے ہیں کہ مردوں کی قیامت ہے ہی نہیں؟ اگر مردوں کی قیامت نہیں تو مسیح بھی نہیں جی اٹھا اور اگر مسیح نہیں جی اٹھا تو ہماری منادی بھی بے فائدہ ہے اور تمہارا ایمان بھی بے فائدہ بل کہ ہم خدا کے حضور جھوٹے گواہ ٹھہرے۔“[18]

بات کو سمیٹے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ پولوس کی پیش کردہ مسیحیت کے باطنی یا اعتقادی ڈھانچے کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان گناہوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے،وہ قیامت اور نئی زندگی کا حق دار بن سکتا ہے،یہ دونوں نعمتیں صرف اس وقت حاصل ہوتی ہیں جب انسان یسوع کی کفارہ بخش موت اور زندگی عطا کرنے والی قیامت پر ایمان لائےتاہم پولس کا خیال تھا کہ موجودہ دنیا کا زمانہ بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔ اسی لیے اس نے اپنے پورے مذہبی نظام میں مسیح کی آمد ثانی کو بھی بنیادی حیثیت دی۔



[1] 1- کرنتھیوں 11 :23

[2] حکمت 2 :24

[3] یشوع بن سیراخ 25 :24

[4] 2 Esdras 3:20-22

[5] رومیوں۷: ۷-۱۰

[6] رومیوں 8 :31–32

[7] پیدائش 22 :16–17

[8] ۱-کرنتھیوں 15 :3

[9] 1- کرنتھیوں 15 :26

[10] رومیوں 6 :23

[11] 2- کرنتھیوں 5 :21

[12] رومیوں 8 :3

[13] ۲-کرنتھیوں 5 :14–15

[14] ۱- کرنتھیوں 2:2

[15] عبرانیوں 9 :22

[16] رومیوں 3 :24–25

[17] ۱-کرنتھیوں 5 :7

[18] ۱-کرنتھیوں 15 :12–۱۵


مکمل تحریر >>

منگل، 4 اپریل، 2023

تاریخی دستاویز ات اور واقعہ صلیب کی حقیقت

 


تاریخی دستاویز ات اور واقعہ صلیب کی حقیقت

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر عبداللہ غازی (استاذ جامعۃ الرشید، کراچی)

واقعہ صلیب کے متعلق جن دیگر ماخذات کی گواہیاں پیش کی جاتی ہیں ان میں سے اکثر مسیحی روایات کے زیراثر ہیں یاپھران کی استنادی حیثیت مشکوک اور بیانیہ حقیقت سے خالی ہے۔ان شواہد میں سب سے مضبوط گواہی پہلی صدی عیسوی کے مؤرخ فلووس جوزیفس(Flavius Josephus)(37-100 CE)کی سمجھی جاتی ہے ۔وہ لکھتاہے کہ یسوع ایک داناانسان ، معجزات دکھانے والے اور شریعت کے عالم تھے۔انہوں نے اپنی ذات سے یہودیوں اور غیریہودیوں دونوں کو ہی متاثر کیا۔وہ المسیح تھے۔جب پیلاطوس نے انہیں صلیب کی سزادی توان کے چاہنے والوں نے انہیں چھوڑا نہیں تھا کیونکہ وہ تیسرے ہی دن انہیں دوبارہ زندہ دکھائی دیئے تھے۔[1]

مبینہ طور پر جوزیفس کے ان الفاظ پر سب سے پہلے اعتراض سولہویں صدی عیسوی میں کیا گیا مگر آج تقریبا عالمی طور پر یہ بات مانی جاتی ہے کہ یہ تحریر جعلی ہے اور اسے جوزیفس کی تحاریر میں کسی مسیحی نے شامل کیا ہے کیونکہ ابتدائی مسیحیوں نے جوزیفس سے نقل کرتے ہوئے اس تحریر کے بالکل برعکس نقل کیاہےنیز اوریجن(185-254 CE)نے واضح طورپر دوبار لکھاہے کہ جوزیفس یسوع کے المسیح ہونے پر ایمان نہیں رکھتاتھا۔[2]

عیسیٰ علیہ السلام کی صلیبی موت کے بارے میں ذکر کرنے والا ایک اور رومی مؤرخ'کورنیلس ٹاسیٹس(Conrnelius Tacitus, 56-120 CE)ہے جس نے 117ء میں عیسیٰ علیہ السلام کی صلیبی موت کے بارے میں لکھاہے کہ المسیح  کو قیصر طبریاس کے زمانے میں رومی پروکیوریٹر(Procurator)پینتس پیلاطوس نے سزائے موت دی جس کے نتیجے میں خطرنات بدعتیں نہ صرف یہودیہ بلکہ دارالحکومت تک پہنچ گئیں۔[3]

ٹاسیٹس کا بیان تاریخی لحاظ سے اس لیے مشکوک ہے کہ اس نے پیلاطوس کو پروکیوریٹر(Procurator)کے عہدے پر براجمان بتایا ہے حالانکہ وہ پروکیوریٹر کے بجائے پریفیکٹ (Prefect)تھا۔یہودیہ کاعلاقہ  ہیرودیس ارخلاس کی برطرفی کے بعد ہیرودیس اگرپا کی موت تک پریفیکٹ کاعہدہ رکھنے والے رومی افسران کے سپرد تھا لہذا پیلاطوس کو پریفیکٹ کے بجائے پروکیوریٹر کہنااس سارے بیانیے کو ہی مشکوک بنا دیتاہے۔کچھ علما نے یہ امکان  بھی ظاہر کیا ہے کہ ٹاسیٹس نے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی خبر مسیحیوں سے سنی ہو۔[4]

تصلیب عیسویٰؑ کے حوالے سے تلمودی روایات بھی انتہائی مشکوک ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہودیوں کا عیسیٰ علیہ السلام سے بغض ووعناد رکھناہے۔انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بحیثیت المسیح اور نہ ہی بطور نبی قبول کیا بلکہ ان پر ہمیشہ الزام درالزام لگاتے رہے حتی کہ ان کو مصلوب کردیاجانابھی یہودیوں کاایک الزام ہی ہے۔ انہیں صلیب  دیئے جانے کےحوالے سے تلمودمیں روایت ہے۔

"فصح کی شام یشوع کودرخت پر لٹکا دیاگیا اور انہیں قتل کیے جانے سے قبل چالیس روزتک ایک قاصد باہر نکلتا اور چلاتا:وہ سنگسار کرنے کے لیے باہر نکالا جا رہا ہے کیونکہ اس نے جادو کیا ہے اور اسرائیل کو گمراہ کیا ہے۔ اگر کوئی اس کی حمایت میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو سامنے آئے اور اس کی طرف سے مقدمہ پیش کرے۔لیکن چونکہ کوئی بھی اس کی حمایت کے لیے سامنے نہیں آیا لہذا انہوں نے اسے درخت پر لٹکا دیا۔۔۔۔ہمارے ربائیوں نے سکھایا کہ یشوع کے پانچ شاگرد تھے۔متھیائی،نیکائی،ناضر،بنی اور توداہ۔"[5]

          یہ تالمودی بیان اناجیل متوافقہ سے متضاد  جو تصلیبِ یسوعؑ کا دن ۱۵ نیسان کو قرار دیتی ہیں مگر یہ تالمودی بیانیہ انجیل یوحنا کے مطابق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو عیدفصح کی شام کو صلیب پر لٹکایا گیا لیکن یہ روایت دولحاظ سے قابل قبول نہیں ۔اول یہ کہ اس میں عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھائے جانے کے بجائے پتھر مار کر سنگسار کرنے اور اس کے بعد لٹکانے کا  ذکر کیا گیاہے اوردوم یہ کہ اس میں بارہ کے بجائے پانچ شاگردوں کا ذکر ہے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کےبارہ شاگردتھے اور ان شاگردوں کے نام بھی دیگر روایات کے مقابلے میں اس تلمودی روایت کے خلاف ہیں۔[6]

 



[1] Flavius Josephus, Antiquities of the Jews, trans. W. Whiston,18.63-64.

[2] Fatoohi, The Mystery of the Crucifixion, 71–72.

[3] Tacitus, Annals, trans. C. H. Moore & J. Jackson, chap. 15.44.

[4] Fatoohi, The Mystery of the Crucifixion, 76.

[5] Babylon Talmud, Tractate Sanhedrin 43a

[6] Fatoohi, The Mystery of the Crucifixion, 82.

مکمل تحریر >>

اتوار، 8 جنوری، 2023

عیدفصح کامنصوبہ اور یسوعؑ مسیح


 

عیدفصح کامنصوبہ اور یسوعؑ مسیح

تحقیق  و تحریر: ڈاکٹر عبداللہ غازیؔ

عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے فلسطین کے تاریخی پس منظر اورمذہبی وسیاسی منظرنامے کو دیکھتے ہوئےاگر عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کاجائزہ لیاجائے تووہ ایک ایسی حریت پسند ہستی کے طورپر سامنے آتے ہیں جواپنی قوم کو نجات دلانے کےلیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار تھے۔گوکہ انہوں نے عسکری راستہ اختیار نہیں کیا تھا مگر پھر بھی ان کے ساتھیوں کے پاس تلواریں موجود تھیں اورانہیں خدا کی ذات پر پورا بھروسہ تھا کہ تلواروں کی کمی کے باوجود خداان کی مدد کرے گا۔یہودی مسیحیوں (Jews Christians)کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام صرف ایک حریت پسند فرد ہی نہیں  بلکہ اسرائیلی انبیاءکی پیشگوئیوں کی تکمیل کاخواب اپنی ذات میں لیے ایک عظیم نبی تھے جنہوں نے تاریخ کادھارا پلٹ دینا تھا۔نبی ہونے کے علاوہ وہ المسیح بادشاہ بھی تھے جس نے اپنے اجداد داؤدوسلیمان علیہماالسلام کی سلطنت کو بحال کرناتھا۔[1]

          عیدفصح سے قبل جب مسیح علیہ السلام یروشلم میں داخل ہوئے توانہوں نے کسی زمینی سلطنت کے قیام کااعلان نہیں کیاتھا لیکن ان کے شاگردوں اور دیگر یہودیوں کوغلط فہمی ہوئی  کہ انہوں نے یروشلم ہیکل پر فتح حاصل کرلی ہے چنانچہ تمام یہودیوں نے اُن سے بحیثیت المسیح وہ تمام سیاسی توقعات وابستہ کرلیں جو ان کی روایات میں موجود تھیں لیکن جب مسیحؑ ان کی مادی توقعات پر پورا نہ اتر سکے توان کی آمد پر رومی غلامی سےنجات ملنے کی امید لگائے یہودی انتہائی مایوس ہوئے اور ان کے جانی دشمن بن گئے۔

مادیت پرست یہودیوں کی نظر میں یسوع ایک 'ناکام'انسان  تھے اور انہیں  پولس نے غیریہودی معاشروں میں پھلتی پھولتی پولوسی مسیحیت (Paulian Christianity) میں خدا کابیٹا بناکر ایک روحانی نجات دہندہ کے منصب پر بٹھا دیا۔اس پر مستزاد واقعہ تصلیب کو بنیاد بناکر عیدفصح پر کی جانے والی قربانی کی مناسبت سے عیسیٰ علیہ السلام کو 'فصح کابرہ'قرار دے دیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں پر مسیح کے متعلق یہودی اور مسیحی تصورات کافرق روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتاہے کہ کس طرح یہودیوں کے 'المسیح'کو غیراقوام میں الوہی حیثیت کاحامل 'نجات دہندہ'بناکر پیش کیاگیا ۔

          المسیح ہونے کاادعا کرنا درحقیقت یہودی بادشاہ ہونے کادعویٰ تھا جس کا دوسرا مطلب سراسر رومی حکومت کے خلاف اعلان بغاوت تھا۔اسی سبب سے عیسیٰ علیہ السلام نے کمال بصیرت سے کام لیتے ہوئے کبھی بھی اپنی زبان مبارک سے المسیح ہونے کادعویٰ نہیں کیا۔فریسیوں کے بار بار استفسار کرنے پربھی انہوں نے خود کو المسیح قرار نہیں دیا ۔ان کی یہی کمال احتیاط تھی کہ رومی جاسوس اور یہودی معاندین ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت جمع نہیں کرسکے۔بادشاہ نے ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ا ن کے گرد جمع ہونے والے مضبوط اور تندمزاج گلیلی مردوں کے باعث تمام کوششیں ناکام ہوئیں کیونکہ گرفتاری کی صورت میں زبردست مزاحمت کااندیشہ تھا جس کے نتیجہ میں یہودی بغاوت برپا ہوسکتی تھی۔[2]

          واقعہ فصح سے چنددن قبل بروز اتوار جب وہ یروشلم میں داخل ہوئے توان کامطمع نظررومیوں کے خلاف اسرائیلیوں کی تنظیم نوکرناتھا۔اس منصوبے کے لیے فصح کاانتخاب اس لیے کیاگیا تاکہ یہودی تاریخ کاآغاز بننے والے'واقعہ  خروج' کی طرح موسم بہار کی آمد پر آنے والا تہوار'عیدفصح'بھی یہودیوں کی رومی غلامی سے نجات کاآغاز بن جائے  کیونکہ فصح بھی خروج کی یاد میں ہی منائی جاتی تھی [3]لہذا جس طرح خدا نے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے اپنی قوم کو مصریوں کی غلامی سےآزادی دی تھی اسی طرح خدا دوبارہ المسیح ابن داؤد کے ذریعے اسرائیل کو رومی غلامی سے نجات دینے والاتھا۔عیدفصح کے اس منصوبے میں مسیح علیہ السلام  المسیح بادشاہ  اور نجات دہندہ تھےجنہوں نے عیدفصح پر اپنے المسیح ہونے کااعلان کرکے یہودیوں کو  اپنےگرد جمع کرناتھا۔تاہم ان کا یہ منصوبہ اس قدر خفیہ تھا کہ ان کے قریبی شاگردوں کو بھی ان کی بھنک نہ تھی۔[4]

          اناجیل متوافقہ (Synoptic Gospels)کے مطابق ان کی مبینہ گرفتاری سے قبل عیدفصح کی شام جب عیسیٰ علیہ السلام یروشلم میں داخل ہوئے تو فصح کابرہ کھانے کاانتظام بھی اس قدر رازداری میں تھا کہ پطرس،یعقوب اوریوحنا جیسے مقرب حواریین کو بھی اس کی خبر نہ تھی۔جب وہ شاگردوں سمیت شہر سے باہر بیت عننیاہ میں تھے توان سےاستفسار کیاگیاکہ فصح کدھر تیار کی جائے۔اس سوال کے جواب میں انہوں نے اپنے دو شاگردوں  کو کسی مقرر مقام کے بارے میں بتانے کے بجائے ہدایت کی کہ تم شہر(یروشلم) کی طرف جاؤگے تووہاں پانی کاگھڑا اٹھائے کوئی شخص ملےگا،یہ شخص تمہیں ایک گھر تک لے جائے گااوروہاں جاکر تم گھر کے مالک سے پوچھنا کہ استاد کہتاہے کہ میرا وہ مہمان خانہ کدھر ہے جہاں میں نے اپنے شاگردوں کے ساتھ فصح کھانی ہے؟چنانچہ گھر کامالک تمہیں وہ بالاخانہ دکھائے گا جدھر تم نے فصح تیار کرنی ہے۔[5]

یہودیہ کے علاقے کے مہمان نوازوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے لیے تمام انتظام تیار کررکھاتھا۔ان کی دی گئی ہدایت پر بغیر کسی توقف عمل کیاگیاچنانچہ شاگردوں نے پانی کاگھڑااٹھائے شخص کو طےشدہ جگہ پرپایا اور بعدازاں ان کے شاگرد اس بالاخانےتک پہنچ گئے جہاں سب کچھ تیار تھا۔[6]شام کے وقت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے شاگردوں سمیت اس مقررہ جگہ پہنچ گئے اور فصح کاآخری کھانا کھایا۔کھانے سے فارغ ہوکر وہ زیتون کے پہاڑ پر گئے جہاں انہوں نے خداکےحضور مناجات کی اور پھر گتسمنی کے باغ چلے گئے جہاں اناجیل کے مطابق گرفتاری کاواقعہ پیش آیا۔

 



[1] Maccoby, Revolution in Judaea Jesus and the Jewish Resistance, 160–61.

[2] Schonfield, The Passover Plot, 109.

[3] Maccoby, Revolution in Judaea Jesus and the Jewish Resistance, 137.

[4] Schonfield, The Passover Plot, 111–12.

[5] کتاب مقدس،لوقا ۱۴ :۱۲-۱۶۔

[6] Schonfield, 139–40.

مکمل تحریر >>