Pages

Most Popular

جمعرات، 16 جون، 2022

انجیل پطرس اور واقعہ صلیب (قدیم مسیحی روایات میں مندرج واقعہ صلیب کی روایت کی تلخیص)


 








پطرس کی انجیل

                پطرس کی انجیل غیرقانونی(non-canonical)قراردی جانے والی اناجیل میں سے ایک ہے جسے کلیسا نے اپاکریفا قرار دے کر رد کردیا۔[1]غیرقانونی سمجھی جانے والی اناجیل میں یہ پہلی دریافت شدہ انجیل ہے جو 1886ء میں مصرکے شہر قاہرہ کے قریب سے دریافت ہوئی۔[2]تیسری صدی عیسوی کے ابتدا میں کلیسائی بزرگ اسے الہامی سمجھتے تھے اور اس سے اقتباسات نقل کرتے تھے۔ایوسبوس (Eusebius) نے  بھی اپنے خط (190ء-203ء) میں اس انجیل سے کچھ مواد نقل کیاہے اس کے علاوہ اوریجن(Origen) نے بھی یعقو ب کی انجیل کے ساتھ انجیلِ پطرس کاذکر کیاہے[3]اور اسے شمعون پطرس کی تصنیف قراردیاہے۔[4]اس انجیل کاایک بڑا حصہ عیسیٰ علیہ السلام کی  زندگی کے آخری ایام بالخصوصی مبینہ تعذیب کی روایات پر مشتمل ہےجوکہ ان کی تصلیب کاذمہ دار پینتس پیلاطوس کے بجائے ہیرودیس اینٹی پاس کو قرار دیتی ہیں۔علماکے مطابق اس انجیل کاماخذ وہی ہے جہاں سے اناجیل اربعہ کے مصنفین نے تعذیب کی روایات نقل کی ہیں۔[5]پطرس کی انجیل اس وقت تک کلیسا میں پڑھی جاتی رہی جب تک کہ اس کو پڑھنے اور رکھنے پر پابندی نہ لگادی گئی۔ابتدائی مسیحی دور میں یہ انجیل نہ صرف سیریا بلکہ مصر تک بہت سی کلیساؤں میں پڑھی جارہی تھی۔[6]

واقعہ تصلیب بمطابق انجیل پطرس

                اس انجیل کے مطابق جب عیسیٰ علیہ السلام کو سزا سنائی گئی تو قاضیوں اورہیرودیس سمیت کسی یہودی نے ہاتھ نہیں دھوئے کیونکہ وہ  دھونا نہیں چاہتے تھے۔پیلاطوس کھڑا ہوا اور ہیرودیس بادشاہ نے انہیں حکم  دیتے ہوئے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو لے جائیں اور اس کے ساتھ وہی کریں جو کچھ انہیں کہاگیاہے۔وہاں یوسف بھی کھڑا تھا جو کہ عیسیٰ علیہ السلام اور پیلاطوس دونوں کاہی دوست تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دینے والے ہیں لہذا وہ پیلاطوس کے پاس آیا اور اس سے لاش مانگی تاکہ اسے دفنادے۔ پیلاطوس نے ہیرودیس بادشاہ کو پیغام بھیجا اور لاش طلب کی ۔ہیرودیس نے کہا کہ برادرم پیلاطوس اگرکوئی اس کی لاش نہیں مانگتا تو ہم کو چاہیے کہ اس کو دفن کردیں کیونکہ سبت ہونے والاہے اور شریعت میں لکھا ہے کہ کسی مقتول پر سورج طلوع نہیں ہونا چاہیے۔چنانچہ انہوں نے بےخمیری روٹی کے پہلے دن سے قبل اسے(عیسیٰ علیہ السلام) لوگوں کے حوالہ کردیا اور وہ انہیں تیزی سے دھکیلتے ہوئے لے گئے۔لوگوں نے انہیں قاضی کی کرسی پر بٹھایا اور ارغونی جامہ پہنایا اوران میں سے ایک نے کانٹوں کاتاج ان کے سر پررکھا۔وہ سب کہہ رہے تھے کہ یہ یہودیوں کابادشاہ ہے۔ وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے ان کے چہرے پر تھوکا، تھپڑ وسرکنڈےاور کوڑے مارے۔وہ کہتے جاتے تھے کہ ہمیں خداکے بیٹے کی تعظیم کرنے دے۔اور انہوں نے دوبدکاروں کو لیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے درمیان صلیب پر لٹکا دیا لیکن وہ بالکل خاموش تھے گویا کہ انہیں کوئی درد نہ ہو۔ جب لوگوں نے صلیب کو سیدھا کھڑا کیا تواس پر لکھا کہ یہ اسرائیل کابادشاہ ہے۔ اورانہوں نے قرعہ ڈال کر ان کے کپڑوں کو بھی آپس میں تقسیم کرلیا۔ ان کے ساتھ مصلوب ہونے والے دونوں بدکار کہہ رہے تھے کہ ہم ان شیطان کاموں کی وجہ سے اس مصیبت میں مبتلاہوئے ہیں جوہم نے کیے ہیں لیکن اس کے ساتھ کیا ہواہے جو انسانیت کا نجات دہندہ ہے۔ا س نے تمہارے ساتھ کیا کیاہے۔کیونکہ وہ لوگ ان(عیسیٰؑ) پر سخت غضب ناک تھے لہذا انہوں نے حکم دیا کہ اس کی ٹانگیں نہ توڑی جائیں تاکہ یہ صلیبی صعوبتیں سہہ کر مرے۔اورابھی دن ہی تھا کہ سارے یہودیہ پر اندھیراچھا گیا۔ وہ سب گھبراگئے اور پریشان ہوگئےکہ سورج غروب ہوگیا جبکہ وہ(عیسیؑ) ابھی تک زندہ تھے کیونکہ لکھا ہے کہ سورج مقتول پر طلوع نہیں ہوگا۔ اور ان میں سے کسی نے کہا کہ اسے شراب ملا سیال پلاؤ۔ اورانہوں نے شراب ملا کر اسے پینے کے لیے دی اور انہوں نے تمام چیزیں پوری کیں اور ان کے گناہوں کو ان کے سروں پر پورا کیا۔۔۔بہت سے لوگ رات خیال کرکے لالٹین لے کر نکل پڑے اور دھوکہ کھا گئے اور اسی وقت عیسیٰؑ نے بلند آواز نکالی کہ اے میری طاقت اے میری طاقت تو نے مجھے چھوڑ دیا۔یہ کہہ کر وہ اٹھا لیے گئے اور اسی وقت ہیکل کاپردہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔وہاں موجود لوگوں نے ان کےہاتھوں میں لگی میخیں نکالیں اور ان کو زمین پر رکھا کہ اچانک ایک زلزلہ آیا۔اس وقت دن  کا نواں گھنٹہ تھا۔[7]

 



[1] Patrick Halton Thomas, On Illustrious Men, p 5–7.

[2] Van Voorst, Jesus Outside the New Testament: An Introduction to the Ancient Evidence, p 205.

[3] Origen of Alexandria, “‘The Brethren of Jesus’ Origen’s Commentary on Matthew in Ante-Nicene Fathers,” No Dated, vol. IX,

[4] Bart D. Ehrman and Zlatko Plese, eds., The Other Gospels: Accounts of Jesus from Outside the New Testament, p 191.

[5] Van Voorst, Jesus Outside the New Testament: An Introduction to the Ancient Evidence, p 205–6.

[6] Bart D Ehrman, Lost Christianities: The Battle for Scripture and the Faiths We Never Knew, p 27.

[7] F. Neirynck, “The Apocryphal Gospels and the Gospel of Mark,” in The New Testament in Early Christianity, p 171–75.





مکمل تحریر >>

ہفتہ، 1 مئی، 2021

اسرار و رموزِ یسوع: انصاف کا قتل

 

زیرنظر تحریر سابقہ امریکی نن روزلین کینڈرک اور موجودہ نومسلم رقیہ وارث مقصود کی کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ ہے جسے ڈاکٹر قاضی سعید احمد نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

انصاف کا قتل

سیزر ری پبلکن ایسے ٹن بروٹس نے بادشاہ ٹارکیون کو روم کے تخت سے اتار دینے کے وقت سے لیکر یسوع ناصری کے دور تک رومیوں نے شاہی خاندان کے نظریہ حکومت کے ساتھ کوئی بھی تبدیلی نہ کی تھی۔ روم میں ایک جمہوری حکومت قائم تھی جس میں عام لوگوں کے پاس حکومت  بنانے کےلئے چناؤ کا حق ہوتا تھا اور جوکوئی  بھی یہ سازش کرتا کہ وہ طاقت، اقتدار اور جملہ اختیارات پر یا ان اختیارات کے اصول و ضوابط پر قبضہ کرلے تو اسے کڑی سزا دی جاتی تھی۔اس ممکنہ ظلم کی روک تھام کیلئے اور تمام اداروں کو اپنی حدود میں رکھنے کیلئے ایوان بالا (سینٹ) کے حکامِ اعلٰی نے ایک طریقہ کار وضع کر رکھا تھا جس میں وہ  دو افراد کو بطور قانونی و سیاسی مشیر مقرر کرتے تھے(ان کے عہدےکی مدت صرف ایک سال ہوتی تھی) یہ دو افراد مساوی اختیارات کے حامل ہوا کرتے تھےنیز وہ ایک دوسرے کی رائے کو مسترد کرنے کا بھی مکمل اختیار رکھتے تھے۔

یسوع کی پیدائش سے تقریباََ ۴۰ سال قبل جولیس سیزر کو قتل کردیا گیا تھا۔ یقینی طور پر اس کے دشمنوں کو یہ خدشات لاحق تھے کہ وہ تاحیات تخت شاہی پر قابض رہنا چاہتا ہے۔ غیرمعمولی طور پر جب آکٹاوین، سیزر کی بہن جولیا کے پوتے نے ایک سازش کے ذریعے خود کو حکمران بنانے کی کوشش کی اور خود کو آگسٹس (Augustus) "رومن سلطنت کی بنیاد رکھنے والا" ہونے کا اعلان کردیا۔   ایسا کہنا کلی طور پر درست نہ ہو گا کہ اس کے ذہن میں ایسا کوئی فریبی منصوبہ نہ تھا کہ کرنسی کے طور پر مروج سکوں پر اس کا نام بحیثیت دیوتا "ابن خدا" لکھا جائے۔ اس کےنزدیک دیوتا مر چکا تھا مگر نیا "دیوتا" سیزر کی موت سے لے کر اب تک ( سینٹ) ایوان بالا کی جانب سے سرکاری طور پر ملک کے طول و عرض میں دیوتا کا درجہ پاچکا تھا اور  تمام عبادت گاہوں اور سرکاری عمارتوں سمیت اس کا نام دیوتا کی حیثیت سے مانا جا چکا تھا۔

اس کے بعد آنے والا بادشاہ بھی 'خدا کا بیٹا' یا' دیوتا' ہی تھا۔ وہ آگسٹس (Augustus) کو ذاتی طور پر پسند کرتا تھا۔ اس مقدس دیوتا کا متنبہ ' لے پالک' بیٹا ہونے کا دعویدار تھا وہ انسانی تصور جو اسے 'خدا کا بیٹا' قرار دیتا تھا، اس کا پس منظر یہودی روایات بھی تھیں اور داؤد David کے پیشروحکمران بھی خدا کے "لےپالک بیٹے" کہلاتے تھے جب وہ مقدس غسل لے کرتخت حکمرانی پر بیٹھ جایا کرتے اور رسم تاج پوشی میں شریک ہوتے تھے۔ زبور 7:2 کے یہ الفاظ: (تو میرا بیٹا ہے آج تو  مجھ سے پیدا ہوا)اور 2سموئیل 14:7 کے مطابق خدا کا کہنا بادشاہ سے " میں اسکا باپ ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا"۔ تاہم رومن کے معمول کے قانون اور روایت کے مطابق یہ "مقدس دیوتا" جیسا ہرگز نہیں ہوتا تھا  یا اصلی ابدنیت پر مبنی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن یہ اعلٰی اور باوقار الفاظ صرف ملائکہ کے لیے ہی مستعمل تھے۔

مختصراََ یہ کہ یسوع کے دور تک یہ نظریہ یا تصور نہ کوئی نیا تھا اور نہ ہی قابلِ قبول تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک بغاوت ہی تھی، کہ بحراوقیانوس کے اردگرد بہت سے دیوتا تھے اور ان کی خوبیاں اور خواص بھی مختلف تھے۔ وہ کوئی انتہائی دانش مند یا انتہائی بیوقوف آدمی تھا جس نے دو ٹوک بات کرنے کی جرات کی کہ دیوتاؤں کا کوئی وجود ہی دنہیں ہے۔ یا یہ کہ: دیوتاؤں کی کوئی اولاد ہی نہیں ہوتی اور وہ کب اور کہاں کسی پر مہربان ہوتے ہیں۔ سو، مذہبی متکبر اور جوشلیے یہ دعوٰی کرتے تھے کہ ایک پرہیزگار نوجوان بڑھئی/ترکھان مبلغ پادری، وہ ان کے دیوتا کا بیٹا تھا"۔ یہ بات نفرت آمیز لوگوں کوخوش کرسکتی تھی لیکن وہ اس کو ایک بڑا جرم بمشکل ہی سمجھتے تھے۔ لیکن! یہ دعوٰی کرنا کہ رومن بادشاہ کی اجازت کے بغیر بادشاہ بننا ایک غیر اخلاقی عمل تھا۔ یہ ایک خودپسندی تھی اور خطرناک بھی، کہ شاہی روایتی رعایت کا ازخود فائدہ اٹھایا جائے۔ مختصراََ یہ کہ: یہ ایک کھلی بغاوت تھی۔

یسوع کو گرفتار کیوں کیا گیا اور اسکی سزائے موت کی مذمت کیوں کی گئی؟ تمام اناجیل متفقہ طور پر یہ تاثیر دیتی ہیں کہ اسکا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ لیکن یہ سب ان کے حسد اور تلخی کی بنیاد پر ہوا جوکہ یہودی فرقہ فریسی کہلاتے تھے۔ یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ ان کی دشمنی نےیروشلم کے ہیکل کے کاہنوں کی حوصلہ افزائی کی، اس کے خلاف کام کیا اور اسکی تباہی و زوال کا سبب بنے۔

تاہم علماٰء کی ایک بڑی اور بڑھتی ہوئی تعداد نے اس نکتہ نظر کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا۔ شاید کہ یسوع ایک مضبوط کردار کا رہنما/لیڈر تھا اور بادشاہ ڈیوڈ جیسا افسانوی کردار رکھتا تھا، اس نے دعوٰی کیا کہ "وہ یہودیوں کا بادشاہ بنے گا" اسکی صلیب کے وقت بھی ایک پلے کارڈ پر لکھا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ رومن ہی ہو جو درحقیقت اسکی موت کے ذمہ دار ہو۔ اور ان یہودیوں جیسے بےاختیار نہ ہو۔ جو بغض و عناد سے بھرے پوئے تھے۔

بلاشبہ یہودیوں کے بعض بہت ہی طاقتور اتحادی بھی تھے۔کاہنوں کے تنظیمی ڈھانچے میں، یا موروثی، جوکہ اسکندریہ کے شہروں اناس (Annas) اور بوتھس (Brethus) کے عالیشان محلات میں رہایش پذیر تھے۔ فیابی (Phiabi) اور کام ہیٹ (Qamhit)، جنہوں نے گورنمنٹ سے اپنا عہدہ چھوڑ رکھا تھا، سالانہ کی بنیاد پر۔ تاہم باوجود ان کی طاقت اور اثرو رسوخ کے بڑے بڑے کاہن بھی اچھی پوزیشن میں نہ تھے وہ عام طور پر عوام میں غیر مقبول تھے ان مذہبی انتہاپسند  جوشیلے لوگوں کی ایک بڑی ایسی تھی جو یہ سمجھتے تھے کہ بات صحیح اور معقول ہونے کا جواز ان کے پاس موجود ہے۔ جنکی اخلاقی حالت بددیانت گھریلو ملازموں کی سی تھی جو سامراجیت کے اشاروں پر بھاگنے والے کتے تھے ان کی ان حرکات کے پیچھے محض لالچ ہوتا تھا۔

بوتھسیانز (Boethusians) اوپر سے لیکر نیچے تک اقرباء پروری کے پروردہ تھے۔ بوتھسیانز (یروشلم کی تباہی سے قبل کا یہودی فرقہ) اوپر نیچے تک مکمل طور پر جارحیت پسند سالانہ وظیفہ خوار، سانپ جیسی پھنکار والے، اسماعیل نم فیابی کی نسل سے تعلق رکھنے والے، مکے باز جھگڑالو، وہ سب کے سب بڑے بڑے مذہبی پادری تھے۔ یا تو ان  کے بیٹے خزانچی تھے یا پادری، ان کے پوتے نواسے بھانجے بھتیجے داماد عبادت گاہوں کے کیپٹن تھے۔ اور ان کے نوکروں کی حالت یہ ہوتی تھی کہ وہ عام لوگوں کو چوبی ڈنڈوں سے مارا کرتے تھے۔ غرض یہ کہ یہ لوگ اپنے شاہانہ کردار کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی حفاظت کا مکمل انتظام رکھتے تھے چاہے روم کے دور دراز کے علاقے ہو یا اپنے قانونی اور مہذب دوست ہو۔ اور بےبس ملکی شہری یا اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے سامنے اپنی طاقت  کا اظہار کیا کرتے تھے۔ تاہم وہ لوگوں میں میل ملاپ بھی رکھتے تھے اور شکرگزار بھی رہتے تھے تاکہ لوگ انہیں اچھے وفادار یہودی سمجھیں۔ اور انہیں رومیوں کے کٹھ پتلی خیال نہ کریں۔

بہتری کے عمل کو مشکل سے دیکھا جاسکتا تھا اگر رومی آقا ان بادشاہوں کو مجبور کردیتے کہ کسی آدمی کو ان کے حوالے کردیں یا اسے مصلوب کردیں چاہے وہ معاشرے کا پرہیز گار آدمی ہو یا کوئی مقبول عام ٹیچر ہو یا ہیرو ہو، انجیل مرقس اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کاہن اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر یسوع کو سرعام گرفتار کیا گیا تو لازمی بلوہ ہو جائے گا۔ (مرقس 14:2) حقائق کی طرف نظر کریں تو لوقا بھی یہی خیال کرتا نظر آتا ہے۔ فقیہوں  اور دیگر سردار  کاہن اسے مارنے کےلئے اس پر ہاتھ ڈال دیتے لیکن وہ لوگوں سے ڈرتے تھے۔(لوقا 19:20)

وہ لوگ جنہوں نے اس  شورش کرنے والے ہجوم کا عینی مشاہدہ کیا تھا کہتے ہیں: ایسا ہجوم اپنے ملک میں مقید اپنے ہیرو کو چھڑوانے کے لئے سب کچھ کرسکتا تھا اور کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔ اور چاہے وہ قیدی ہیرو ایران، یورپ، روس، جنوبی افریقہ یا کیوبا سے ہی تعلق رکھتا ہو۔ اس میں تھوڑے شک کی گنجائش ہے کہ ملک میں سب سے بڑی جو تحریک چلی تھی اسکو عیسٰیؑ کیلئے برابر بنایا جاسکتا تھا۔

کسی بھی بغاوت میں یسوع کو اس ہجوم سے بچا لینا یا رہا کردینا یا بری کردینا ممکن تھا۔ اور نہ ہی یہ بات قابلِ اعتبار تھی کہ یہودی، یسوع کے شہری کردار کے خلاف تھے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ روم کے خلاف اٹھنے والی ہر قسم کی بغاوت میں یہودی اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ۔ لہذا اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر یہودی آخری حد تک جاسکتے تھے۔ اس وجہ سے بھی نہیں کہ انہوں نے یسوع کی مخالفت کی کہ وہ یسوع کے مشن کے سخت مخالف تھے۔ کیا ہوتا اگر یسوع کو گرفتار کر لیا جاتا؟ لیکن اسمبلی کونسل نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے؟ کیا وہ اسے چھوڑ سکتے تھے؟ بات صحیح ہے کہ ایسا ہوسکتا تھا۔ لیکن کیا انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا؟ وہ اسے رومی قانون کے مطابق بچاسکتے تھے اگر یسوع اپنے مقدمے میں اس الزامات سے بری الذمہ ٹھہرتے جو ان کے خلاف لگائے تھے اور ثبوت اور گواہیاں ان کے خلاف نہ ہوتیں جو ان کے قصور کو ثابت کرسکتے تب انہیں آزاد کردیا جاتا کیونکہ  رومنوں کے عام قانونِ معافی کے مطابق ایسے ملزموں کو  صاف طور پر بری کردیا جاتا تھا۔

دوسرا  اختیار: موت کے فیصلے کو معطل  کرنا رومیوں میں کبھی کبھار ہی ہوتا تھا۔ لیکن اگر یسوع ریاستی قانون کو توڑنے کے مرتکب پائے جاتے تو انہیں معاف کیا جاسکتا تھا۔ اگر وہ اقرار کرلیتے کہ انہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا تھا اور بیان حلفی داخل کرتے کہ وہ بغاوت کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور ملوث ہونے کا اقرار نامہ عدالت میں داخل کردیتے تو انہیں معاف کیا جاسکتا تھا۔ تاہم اناجیل اس امر پر متفق نظر آتی ہیں کہ یہودی حکومت ان کو آزاد کرنے کے لئے ایسا طریقِ کار عمل میں لاسکتی تھی، مثال کے طور پر، یسوع سردار کاہن  کے گھر لایا گیا تھا جہاں یہودی کونسل ایک رات کے لئے جمع  ہوئی تھی ، تو اپنی جگہ پر یہ اجتماع بھی غیرقانونی تھا۔ اسی جگہ ان پر مبینہ توہیں رسالت/خدا کا الزام لگایا گیا تھا۔ اور ان کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ایک قیدی کو متعصبانہ فیصلے سے بچانے کے لئے، عدالت کے دروازے بند کرکے کوئی بھی ایسا خفیہ فیصلہ کرنا ممنوع تھا۔

کسی بھی چیمبر میں یہودی  کونسل  کا اجلاس منعقد کرنے کی قطعا اجازت نہ تھی  کہ مجرمانہ سرگرمیوں کو سنا جائے وہ جگہ عبادت گاہ کے احاطہ سے باہر ہو یا کوئی پرائیویٹ مکان ہو۔ ایسا اس لئے تھا کہ کوئی شخص ذاتی طور پر ججوں پر اپنے بغض و عناد کا اثر یا غیر معمولی دباؤ  یا ذاتی طور پر اپنے سے سوچی سمجھی رائے مسلط نہ کرسکیں۔

دوسری بات: مجرم سے متعلق فیصلے کو شفاف رکھنے کی غرض سے کہ جن کے فیصلوں پر مجرم کی زندگی وابستہ ہوتی تھی ، یہودی کونسل مجرمانہ نوعیت کے مقدمات صرف دن کی روشنی میں ہی سن سکتی تھی نہ کہ رات کی تاریکی میں، جبکہ کونسل کے ممبران تھکے ہوئے ہوتے یا جلد باز اور بےصبرے ہوتے تو مقدمات ایسی صورت میں اگلے دن تک مؤخر کردیا جاتا تھا۔ ایسے مقدمات دن کی روشنی میں ہی نمٹائے جاتے تھے اور فیصلہ اگلے دن سنایا جاتا تھا۔ ایک رات کا انتظار کے بعد تہواروں کے دنوں میں یا تہوار  کے روز کسی بھی مجرم کا مقدمہ نہیں سنا جاتا تھا۔ کہ ان دنوں میں ججوں کا ذہن تہوار کی جانب ہوتا تھا۔ اور نہ ہی وہ لوگ جو اپنے اعترافی بیان کی وجہ سے اپنے ہی دباؤ میں رہے ہوں یا وہ بےقصور لوگ شاید ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہر اس جرم کو قبول کرلیں جو انہوں نے کیا   ہی نہ ہو اسی کو مدنظر رکھناضروری ہوا کرتا تھا۔ مجرم کے جرم کو ثابت کرنے کےلئے دو معتبر گواہیوں کی گواہی ضروری ہوتی تھی۔ اور اسے مزید جرم دہرانے کے لئے صاف صاف تنبیہ کردی جاتی تھی۔ اس کے اعترافی بیان اور تنبیہ کے ساتھ اسے اس الزام سے بری کردیا جاتا تھا۔مزید برآں اگر مجرم کو گواہوں کی موجودگی میں جرم دھوکہ دہی/فراڈ میں ملوث پایا جاتا تو اس پر جرمانہ عاید کر دیا جاتا۔

مگر  یسوع کے مقدمہ کے سلسلے میں ایسا قطعا نہ ہوا تھا  اور نہ ہی اناجیل کے حوالوں کے مطابق اور نہ ہی ملکی قانون کے مطابق یسوع کو اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے کو نہ تو کہا گیا اور نہ ہی اپنی صفائی میں دلائل دینے کا موقع دیا گیا۔حلاناکہ تین مضبوط نڈر راہنماؤں کو گواہی کےلئے طلب کیا جاسکتا تھا۔

نمبر1: "یوسف ارمتیائی "جو یسوع کا ایک قریبی رشتے دار تھا۔باخبر ذریعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شہزادے کا خطاب پاچکا تھا۔

نمبر2: "نیکدویمس" ایک فریسی جو خفیہ طور پر مذہب تبدیل کرنے والا تھا۔

نمبر3: "اسٹیفن" جو پہلا شہید عیسائی کہلایا۔

تو یہاں پر حالات حقائق سے مختلف پاگئے ہیں کہ یسوع ایک انتہائی متعصب عدالت کے سامنے تھے۔ کہ جس عدالت نے جان بوجھ کر عمداََ یسوع استفاثہ کے خلاف معاندانہ اور مخالفانہ سیکٹر سے ثبوت حاصل کئے۔ کاہنِ اعظم جو چیف جج تھا، فیصلے پر اپنی مرضی مسلط نہ کرسکتا تھا۔ مزید برآں ایک متفقہ عدالتی فیصلہ جو متنازع ہو یا مشکوک ہو اسے کالعدم قرار دے دیا جاتا تھا۔ اگر دوسری نشست برائے سماعت ضروری ہوتی تو اسے ایک دن کے لئے مؤخر کردیا جاتا تھا۔ اور کسی بھی مقدمے کے ضمن میں یہ عمل غیر قانونی ہوتا تھا۔ کہ چیمبر آف ہیون سٹون (Chamber of Hewn Stone) کے علاوہ کسی اور جگہ سزائے موت کا حکم سنایا جاتا۔ تاہم یہودی  کونسل کا کورم جوعام طور پر 23 ممبران پر مشتمل ہوتا تھا، فریسی دیار عدالت کے مطابق وہ اس امر کا مجاز نہیں ہوتا تھا کہ وہ غیر قانونی سزائے موت کا فیصلہ دےسکے۔ اگر یسوع کے خلاف جھوٹی گواہیاں پیش ہوتیں تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس سے متفق نہ ہوتے؟  جھوٹی گواہیاں عموماََ ان کے بااختیار لوگوں کی گھڑی ہوئی کہانیاں ہوتیں؟ یہ بات کس قدر ناقابل اعتبار اور عدل سے ہٹ کر تھی کہ انہی میں سے نااہل لوگ، کاہنِ اعظم جج سب کے سب یسوع کے درمیان رابطہ رکھنے میں ناکام رہے یہ بات واضح طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اس کیس کے گواہ پہلے سے بنائے جائے چکے تھے۔ اور انہوں نے اسی طرح گواہی دی جس طرح سے انہوں نے یسوع کو سمجھا اور حقائق اور عدل کو مدنظر نہ رکھا۔ اور یہ گواہی قطعا  غیرقانونی تھی۔ کہ یسوع کو موردالزام ٹھہرایا جاتا۔ تاہم اگر ہم اس بات کو فرض کرلیں کہ اناجیل کے حوالوں سے اس کیس کو مکمل کیا جارہا  تھا  پھر بھی وہ کلی طور پر یسوع کی لئے غیرقانونی ہی تھے۔ کیا علماء اس عمل کو یہودی زعماء کی مکاری اور ٹیڑھ پن نہیں کہیں گے۔ یا انہیں الزام سے بری کرنے کو نہ کہیں گے اگر ایسا ہوتا تو ایک کے بجائے دو باتیں سامنے آجاتیں ، ایک: یہودیوں کا تعصب، اور دوسری: بات بے بنیاد الزام، پہلی بات پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ قوانین اس وقت رائج ہی نہیں تھے۔ یہ تو فرعونی نظریات کی نمائندگی کرتے تھے۔ اور یہودی کونسل کی اکثریت صدوقیوں پر مشتمل تھی جوکہ  یسوع کی مذمت میں پیش پیش تھے۔ یہی وہ حکومتی/ درباری کاہن تھے جو اسمبلی کونسل کے تنظیمی ڈھانچے کا حصہ تھے۔

فریسی کاہن نہیں تھے یہ تو عام مزدور طبقہ لوگ تھے اور سخت مذہبی قسم کے لوگ تھے جو اپنی زندگی گزارنے کے لئے ایک تفصیل اللہ کے احکامات سےلیتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ ممتاز علماء بھی تھے۔ اور یہی مذہبی کاہن صدقات و خیرات عقل و شعور اور انسانیت پسند تھے۔ یہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی احتیاط برتنے والے تھے۔ تاہم پھر بھی فریسیوں سے اس معاملے میں دلچسپی کے حامل کم ہی لوگ تھے۔ اور بیوقوفانہ باتوں کو نظرانداز کرنے والے لوگ تھے۔

یسوع کے دور میں فریسیوں کے بنائے ہوئے قوانین حکومتی قوانین اثرانداز تھے۔ اور اسمبلی کونسل بھی انہی کے زیر اثر تھی۔ عام لوگ اس وقت تک اسمبلی کونسل کے کسی بھی فیصلے کو قبول نہ کرتے تھے  جب تک کہ ان میں درج ذیل فریسی راہنما موجود نہ ہوتے تھے۔

نمبر 1: ربائی ہللیل اور ربائی شمائی (Rabbis hillel shammai)

نمبر2: ربائی گملی ایل (Gammaliel)

کسی بھی طرح یہ فرض کرلینا کہ صدوقی،بےایمان،ظالم،لالچی، انتہائی تنگ نظر اور غلط تھے مزید برآں صدوقیوں پر جدید تحقیق یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات پر کس طرح عمل کرتے تھے جیسے کہ ہم دیکھتے ہیں: ان حالات سے نکلنے کا دوسرا راستہ یہ بیان کرنا بھی ہے کہ وہ تمام قوانین جن کا ذکر اوپر بیان کیا جاچکا ہے وہ غیرتحریری یہودی قانون کی ایک قسم ہے۔ جوکہ غیرمتعلقہ ہیں۔ غیر تحریری یہودی قانون اس وقت سے لیکر یسوع کی موت تک کسی ضابطے کی شکل میں تحریر نہ تھا۔ تاہم اس قانون کے ضابطے پہلے وقتوں ،میں نافذالعمل تھے لیکن یہ دلیل مشکل سے ہی قابل قبول ہے کہ اس دور کے ضابطے اور قوانین جو غیرتحریری یہودی قانون سمجھے جاتے تھے کہ یہ سب کے سب قوانین جو غیر متوقع طور پر فوراََ ہی سامنے آجائیں گے۔ ان پرانے قوانین کو موجودہ قوانین سے (جو یسوع کے دور میں رائج اور نافذالعمل تھے) ڈھونڈھ نکالا جائے گا۔

اس کا ایک تیسرا متبادل بھی ہے: ایک وہ کہ جو عیسائیوں میں سے سب سے زیادہ گھناؤنے اور مکروہ کردار کو حامل ہے اسےبھی زیر غور رکھنا چاہئے تھا۔

یہ ہے وہ بات! اناجیل کو بیان کرنے والے صحیح طور پر تاریخی ریکارٖڈ کا حصہ بلکل نہیں تھیں۔بلکہ یہ تو مختلف النوع سنی سنائی غلط باتوں کے مرکب کی کھچڑی ہے جسے باہم ملا جُلا کے/اکھٹا کرکے سالوں اور پیش کیا گیا ہے۔ یا عمداََ قدیم ذرائع مواد سے جعلسازی ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی کے ذریعے سے اس مواد کو حاصل کیا گیا ہے۔ اس کا ایک مقصد اور بھی تھا کہ جس سے دشمنی کو بڑھانا تھا برخلاف ان عیسائیوں کے جو یہودیت کے ساتھ مخلص رہے اور نظریہ تثلیث کو قبول نہ کیا۔

یہ تجویز یا مشورہ معیار حق کے برابر کیوں نہیں ہے؟ دلیل بلکل سیدھی اور عین حق ہے۔ یسوع کے اصل پیروکار،دوست اور رشتےدار اور جو بہت قریب سے یسوع کو جانتے تھے، اور جو صرف ایک وحدۃ لاشریک سچے خُدا کی عبادت کےلئے مخلص رہے تھے۔ اور اصرار کرتےتھے کہ تمام عیسائی شریعت پر کاربند رہیں۔ جسے اللہ نے بذریعہ وحی اپنے رسولوں کی طرف بھیجی تھی انہوں نے یسوع کا بحثیت "اللہ" ہونے کا ہرگز احترام نہ کیا بلکہ اللہ کا منتخب رسول ہونے کا ہرگز احترام نہ کیا بلکہ اللہ کا منتخب رسول ہونے کا احترام کیا جو قابل حداحترام پیغمبروں کی لڑی سے تعلق رکھتے تھے۔

تاہم یہ دوسری قسم کے عیسائی تھے جو یسوع کو انسان ہونے کے علاوہ کچھ اور بھی سمجھنے کا اعتقاد رکھتے تھے۔ اور اس عقیدے والے عیسائی فلسطین اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں رہتے تھے۔ ان جگہوں پر مذہبی ذہن رکھنے والے "خواص کی حکمرانی کے نظریے" کے حامی لوگوں  کے ساتھ تھے۔ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ پُراسرار روایات پر منبی سزاؤں کا تصور درست ہے۔ اور یسوع خدا اور انسان کے ادغام کی زندہ مثال ہے۔ اور کفارہ ادا کرنے والے نجات دیندہ بھی ہیں۔

اناجیل اربعہ اس دور سے لیکر موجودہ دور تک، کے عہد عقیق کے لکھے جانے میں ایک انتہائی مضبوط خواہش کار فرما یہ رہی تھی کہ تصور خدا کے بارے میں یہودی عقائد ناکافی تھے، کا اظہار واضح طور پر کیا جائے۔ اس خواہش کے زیر انہیں پُر زور اور پُراثر بنایا جائے ایسا کہ یہودیوں کے مروجہ شر یعنی قوانین میں پوری طاقت کے ساتھ شگاف ڈٖال دیا جائے۔

خصوصی طور پر ختنہ، قوانین رسومِ طہارت اور کھانے پینے کےضوابط یعنی حرام و حلال کے قوانین و ضوابط، عیسائیوں اور یہودیوں کی مزاحمت اور کشمکش کے وقت سے لیکر بگاڑ اور خرابی پیدا ہوجانے کے وقت تک ایک نئے عقیدے کی مخالفت شدت کے ساتھ شُروع ہوچکی تھی جس کی مزاحمت پہلے کے تمام پیغمبر بھی کرچکے تھے جن میں مذہبی رسوم اور ہالی کلٹ کی عبادت سرفہرست تھی۔ یہاں پر اگر نئی عیسائیت اپنے عزائیم میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ یہودیت کیلئے ایک دشمن کے طور پر ظاہر ہوجائے گی۔

اگر کوئی قاری ان نظریات سے اختلاف رکھتے ہوئے ناراض ہوجاتا ہے کہ پرانے وقتوں کے مصنفین جان بھوج کر ہیرا پھیری اور ردُ بدل کے شکار ہیں اور ان کی باتیں بے ثبوت ہیں تو یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ انہوں نے بدعتی پر مبنی منصوبہ بندی کرکے زبردستی حق کو چھپایا ہے۔ بعد میں آنے والے یہودی اور مسلمان ان الزامات سے بُری طرح متاثر ہوئے جو صدیوں سے چلتے آرہے تھے۔ یہاں تک کہ نیک لوگوں کی ایک بڑی تعداد قبروں میں اتر گئی، ہمیں چاہیے کہ اس مواد کو کڑے امتحان سے گزارا جائے اور دیکھیں کہ کیا نتائج ہم تک پہنچ سکتے ہیں؟


مکمل تحریر >>

ہفتہ، 22 اپریل، 2017

مقدمہ یسوع کےتراشیدہ افسانے کا تاریخی وتحقیقی جائزہ


مقدمہ یسوع کےتراشیدہ افسانے کا تاریخی وتحقیقی جائزہ 
تحقیق : عبداللہ غازی ،
مقدس پولس کی منادی کے نتیجے میں مشرک اقوام  سے بڑی تعداد میں افراد مسیحیت داخل ہوئے جو کہ نہ ہی شریعت کے بکھیڑوں سے واقف تھے اور نہ ہی تاریخ کے اس یہودی پس منظر سے آگاہی رکھتے تھے جس دوران یسوع نے اپنی منادی کی . ان ناواقف مشرکین نے پولوسی نظریات پر مشتمل مسیحیت کو قبول کرکے یسوع سے متعلق ہر اُس تاریخی و الہامی سچائی کا انکار کیا جو پولوسی نظریات کے مخالف تھی. مشرکین مسیحیوں کے اس رویے کا محرک مقدس پولس کا "روح القدس یافتہ" وہ ارشاد َتھا جس میں وہ اپنے مخالفین اور ان کی تعلیمات پر کان دھرنے والوں پر لعنتی ہونے کا فتوی عائد کرتے ہیں. 
 "مَیں پِھر کہتا ہُوں کہ اُس خُوشخبری کے سِوا جو تُم نے قبُول کی تھی اگر کوئی تُمہیں اَور خُوشخبری سُناتا ہے تو ملعُون ہو۔"گلتیوں 1:9
عہد جدید میں شامل سب سے قدیم تحاریر پولس کے خطوط ہیں جن کا زمانہ تصنیف 40 تا 60 عیسوی بنتا ہے جبکہ اناجیل اربعہ کی تصنیفی تواریخ پہلی صدی عیسوی کے آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں چنانچہ یہ بالوثوق کہا جا سکتا ہے کہ جب اناجیل لکھی گئیں تو پولوسی نظریات مسیحیت میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکے تھے. اناجیل بھی انہی پولوسی نظریات کی ترویج کے مقصد کے تحت اور یہود دشمنی کے عنصر کو مسیحی ایمانداروں میں پروان چڑھانے کے لیے وجود میں لائیں گئیں جنہیں عوام الناس کی جانب سے تقریبا دوسری صدی عیسوی کے آخر اور تیسری صدی کی ابتداء میں الہامی ہونے کی سند ملنا شروع ہوئی. اسی وجہ سے موجودہ تمام بڑی کلیسیائیں اور ان سے نکلی چھوٹی موٹی ذیلی جماعتیں انجیل نویسوں کے اس دعوے پر آنکھ بند کرکے یقین رکھتی ہیں کہ یسوع کے آخری صلیبی مقدمے میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور انکو یہودیوں نے عدالت سے سزا دلوا کر مصلوب کروایا تھا. 
 
بہت کم اشخاص نے یہود دشمنی سے معمور انجیل نویسوں کے دعاوی کے برخلاف، اس بات کی تفہیم کے لیے سعی کی ہے کہ اصل حقائق تک پہنچا جائے یا اُس وقت کے حالات اور واقعات کو جاننے کی کوشش کی جائے کہ کیا انجیل نویسوں کا یہ دعوی درست ہے یا پھر یہ بھی مشرک مسیحیوں کا آل ابراہیم سے فقط حقد ہے.
زیر نظر مختصر سا مضمون بھی ایک ایسی ہی چھوٹی سی کوشش ہے تاکہ اندھی عقیدتوں پر سوال اٹھانے کی جرات پیدا کی جاسکے، بہت سے ایسے تاریخی حقائق کو سامنے لایا جا سکے جنہیں عمدا مستور کردیا گیا ہے اور جو باتیں مخفی رہی ہیں انہیں محققین کے سامنے لا کر اس مضمون پر روایتی تفسیر سے ہٹ کر تحقیق کا باب کھولا جاسکے۔
 
اناجیل کے کسی ذوعلم قاری پر یہ مخفی نہیں کہ یسوع نے کہیں بھی فصح کا برہ ہونے کا دعوٰی نہیں کیا بلکہ یہ دعوی بہت بعد میں ان سے منسوب کردیا گیا. اس دعوے کے موجد مقدس پولس اپنے خط میں لکھتے ہیں. 
ہمارا بھی فَسح یعنی مسِیح قُربان ہُؤا۔ پس آؤ ہم عِید کریں۔کرنتھیوں اول 5:7
 
اسی پولوسی نظریہ کو تقویت دینے کے لیے انجیل یوحنا کا نامعلوم مصنف یوحنا نبی کے منہ میں یہ الفاظ ڈال کر ان کا انتساب یسوع کی طرف کرتا ہے کہ " یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔" یوحنا1:29
 
عید فصح کے اس پورے معاملے کا تنقیحی پوسٹ مارٹم معروف یہودی ہائی اتھارٹی اسکالر ڈاکٹر ہیوجےشون فیلڈ اپنی بیسٹ سیلر بک Passover plot میں کر چکے ہیں. کامل استفادہ کے لیے وہاں سے رجوع کیا جا سکتا ہے. یہاں ہم صرف انہی مقامات پر بات کریں گے جن کے متعلق کچھ دیسی عیسائیوں نے دھوکہ دہی کی واردات کرتے ہوئے تاریخی حقائق کو یسوع کی مانند مصلوب کرنے کی کوشش کی ہے.
تاریخ سے واقف نہ ہونے کی بنا پر اکثر اوقات یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسیح کو سزا دینے میں یہودی عدالت سینہیڈرن کا ہاتھ تھا جبکہ سینہیڈرن کو 40 ق م میں ہیرودیس نے ختم کر دیا تھا اور 42 بعد از مسیح میں اگرپا اول نے دوبارہ اسکو قائم کیا۔۱؎یہ تاریخی واقعہ اس بات کی شہادت ہے کہ مسیح کی صلیبی موت میں یہودی عدالت ملوث نہیں تھی تاہم ہم مزید شہادتوں کو دیکھیں گے تاکہ تاریخی طور پر یہ پتا چلایا جا سکے کہ المسیح کی صلیبی موت کے پیچھے کون سے محرکات اور عوامل کار فرما تھے۔
یروشلم کی یہودی مذہبی شرعی عدالت جیسے عدالت عظمی یا سنہڈرین کہا جاتا ہے، 722 افراد پر مشتمل ہوتی تھی نیز عدالت کی کارروائی سننے کیلئے یروشلم اور اسرائیل کے دوسرے علاقوں کے مدارس کے قابل طالبعلم موجود ہوتے تھے
یروشلم کی یہودی مذہبی (شرعی) عدالت (عدالت عظمی) 722 افراد پر مشتمل ہوتی تھی نیز عدالت کی کارروائی سننے کیلئے یروشلم اور اسرائیل کے دوسرے علاقوں کے مدارس کے قابل طالبعلم موجود ہوتے تھے۔۲؎
 جبکہ اناجیل میں بیان کردہ واقعات کے مطابق سردار کاہن کیفا اور اسکے حامیوں نے مسیح کا مقدمہ رات کی تاریکی میں اپنے گھر پر سنا ۔
 
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شرع کے پابند علماء و ربائی کیسے سنہڈرین کے اصولوں کی دھجیاں اڑا رہے تھے اور انہیں روک ٹوک کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا؟ یہودی سنہڈرین تو رات کے وقت کوئی مقدمہ سن ہی نہیں سکتی تھی جبکہ انجیل کا مصنف اس مقدمہ کی کاروائی کو رات کے وقت دکھاتا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نامعلوم انجیل نویس یہودی سنہڈرین کے قوانین سے یکسر ناواقف ہے.
مقدمہ یسوع میں کچھ بھی یہودی عدالت کے قانون کے مطابق نہ تھا جو کہ انجیل نویسوں کا یہودی شرعی قوانین سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مثلاً: یہودی عدالت میں تب تک کوئی مقدمہ پیش نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ کوتوال٣؎ کے پاس ملزم کے جرم کے مکمل ثبوت موجود نہ ہوں۔ یہ بھی ضروری تھا کہ ملزم کو قانون کا پتا ہو لا علمی کی صورت میں قانون کا ملزم پر اختیار نہیں رہتا. یعنی جو کوئی کسی شخص پر مدعی ہو اس پر لازم تھا کہ اس نے ملزم کو اس حوالہ سے انتباہ کر رکھا ہو کہ تمہارے اس فعل کیلئے عدالت سزا دے سکتی ہے۔٤؎
 
کسی ایک بھی انجیلی مصنف نے ایسا بیان نہیں دیا کہ اس قسم کی تحقیقات عمل میں لائی گئی ہوں کہ شرعی کوتوال کو مسیح کے خلاف ثبوت فراہم کئے گئے، مدعیوں نے مسیح کے خلاف شرع افعال پر انکو انتباہ دی ہو ۔معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انجیل نویسوں کے مقصود اس قضیہ میں زیادہ سے زیادہ یہود دشمنی کا رنگ بھرنا تھا جس کی تکمیل کی خاطر انہوں نے یہودی شرعی امور کا بھی لحاظ نہ رکھا وگرنہ یسوع کے بظاہر خلاف شرع چھوٹے چھوٹے معاملات پر نکتہ چینی کرنے والے شرع کے علماء اور فقیہ کیسے خلاف شریعت افعال کا ارتکاب کر کے خود کو الہی عذاب کا حقدار بنا سکتے تھے؟
المسیح کے خلاف یہودی عدالت میں کوئی بھی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا تھا کیونکہ یسوع کا مقدمہ دراصل سیاسی نوعیت کا تھا جسے بعد ازاں مذہبی لبادہ پہنا کر پیش کیا گیا. المسیح ہونے کا دعوی کرنا دراصل یہودی بادشاہ ہونے کا اعلان کرنا تھا اور علی الاعلان ایسا مشتہر کرنا رومی سلطنت کے عتاب کو دعوت دینا تھا. یسوع کا زمانہ (جو کہ 6ق م تا 33ق م) پر مشتمل ہے، یہ یکے بعد دیگرے اٹھنے والی یہودی شورشوں کا زمانہ ہے اور یہ بغاوتیں یسوع کی موت کے بعد بھی جاری رہیں یہاں تک کہ سقوط یروشلم کا سانحہ ہوگیا. رومی سلطنت نے جب سرکاری مذہب مسیحیت کو قرار دیا تو بعد کے لوگوں نے اس زمانے کو پرامن بنا کر پیش کردیا تاکہ رومی حکومت کی خوشنودی حاصل کی جا سکے. ایسی صورت حال میں کہ جب رومی جاسوس جگہ جگہ بکھرے ہوں، یہودی بادشاہ ہونے کا اعلان کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا یہی وجہ تھی کہ یسوع کا سارا کلام نہ صرف تمثیلی (Code Words) ہوتا تھا بلکہ وہ اپنے متعلقین کو بھی منع فرماتے تھے کہ کسی سے میرے متعلق ذکر مت کرنا. (متی 16:20)(مرقس 8:30) (لوقا 9:21)
 
یہی وجہ تھی کہ انجیل نویس کے مطابق جو مقدمہ پیش کیا گیا وہ یا تو سنی سنائی باتیں تھیں یا پھر یہ افواہوں پر تھا۔
یہ بات بھی اہم تھی کہ عدالت میں بیٹھا منصف غیر جانب دار ہونا چاہیے اگر کوئی منصف کسی بھی طور سے ملزم کے کیس کو بنانے، ثبوت فراہم کرنے یا اور کسی بھی طریقے سے شامل رہا ہو تو وہ فیصلہ دینے کے لیے نہیں بیٹھ سکتا۔٥؎اس کے برعکس انجیل میں بیان ہوا ہے کہ سردار کاہن نے یہودہ کو غداری پہ آمادہ کیا اور خود ہی گواہ کا کردار بھی ادا کرنا چاہا (متی 59:26). کوئی بھی یہودی عدالت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی تھی مگر اس کے باوجود انجیل نویس یہود دشمنی سے سرشار ہو کر ایک ایسے افسانے کو تراشتا ہے جس کا وقوع سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا.
اس کے علاوہ انجیلی بیان کے مطابق مسیح کا مقدمہ سردار کاہن کے گھر میں سنا گیا جو کہ عدالتی قانون کی عدولی ہے کیونکہ کوئی بھی مقدمہ ہیکل میں موجود تراشیدہ پتھر والے کمرے٦؎ (جو کہ عدالت کیلئے مخصوص تھا) ِہی سنا نہیں جا سکتا تھا۔٧؎ اس کے علاوہ مسیح یسوع کو رات کے وقت پکڑ کر انکا مقدمہ و فیصلہ کر دیا گیا جو کہ عدلتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھی کیونکہ کسی بھی مقدمے کی سنوائی و پیروی رات کو عمل میں نہیں لائی جا سکتی تھی۔ ( مشناہ سینہیڈرن 1:4)۔ اس کے علاوہ دوران مقدمہ ایک شخص نے المسیح کو تھپڑ مارا جو کے عدالتی کارروائی کے خلاف ہے اور کسی حقیقی عدالت میں اس شخص کو توہین عدالت کے جرم میں سزا ہو سکتی تھی
انجیل نویس یہودی قوانین سے ناواقفیت کی بناء پر یہ دعوی کرتا ہے کہ یسوع کا مقدمہ سنہڈرین کے بجائے کائفا کے گھر پر سنا گیا. ایسے فضول دعوے تاریخ کے ساتھ ساتھ انجیلی حقائق کے بھی خلاف ہیں. اگر اس دعوے کو مانا بھی جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سردار کاہن کو یہ اختیار کس نے دے دیا کہ وہ سنہڈرین کا انعقاد کسی لوکل کانفرنس کی طرح اپنے گھر پر کروا کر اور ملزم کو تھپڑ لگوا کر اس عدالت عظمی کے شرعی تقدس کی پامالی کرے؟ اگر سردار کاہن رومی سلطنت کے مفادات کی خاطر ایک باغی کو سزا دلانے کے لیے اتنا ہی اندھا ہوا جارہا تھا تو کیا باقی اراکین سنہڈرین کی عقل بھی ہوا ہو چکی تھی؟
کسی بھی عید سے پہلے یا عید والے دن مقدمے کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی تاکہ عید کا تقدس پامال نہ ہو اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یسوع کو عید فصح کے ایام میں گرفتار و مصلوب کیا گیا ۔علاوہ ازیں دو کاتبوں کی موجودگی بھی ضروری تھی جو تمام عدالتی کارروائی و دلائل کو درج کریں ( سینہیڈرن 36B) جب کہ یہ عید پر ممکن نہ تھا کیونکہ سبت پر یہودی مذہبی روایات کے مطابق لکھنا منع تھا ( مشناہ سبت 2:7)۔عید پر عدالتی کارروائی کو منعقد کرنا عید کی بے ادبی یا اسے نجس کرنا سمجھا جاتا تھا (مشناہ سینہیڈرن 1:4)۔کوئی بھی مقدمہ عید سے پہلے شنوائی میں نہیں لایا جا سکتا تھا۔٨؎ مگر مقدمہ مسیح کی مد میں یہود دشمنی سے معمور ہوکر انجیل نویس نہ صرف عدالتی روایات و قوانین٩؎ کو توڑتا گیا بلکہ تحریری شرع کے قوانین کو بھی نام نہاد عدالتی کارروائی کے نام پر رسوا و پامال کیا گیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے فصح آتے ہی سارے یہودی اندھے گونگے بہرے ہو گئے تھے جو یسوع کی مصلوبیت سے قبل ہی شرعی قوانین کو سردار کاہن کے ہاتھوں مصلوب ہوتا دیکھ رہے تھے اور کسی کو اس پامالی شریعت پر لب کشائی کی جرات نہیں ہورہی تھی. بتیس سو سالہ یہودی تاریخ میں ایسے نرالے یہودی صرف اناجیل میں ہی پائے جاتے ہیں. ایسا ہرگز نہیں ہے کہ سردار کاہن کا مقام یہودی زعماء و عوام الناس میں صاحبِ اختیار کا تھا. اس متعلق معروف یہودی النسل کیتھولک اسکالر ہائم مکابی لکھتے ہیں. 
 "
وہ کاہن کو پیشوا یا روحانی رہنماء کی حیثیت نہیں دیتے تھے بلکہ ان کو محض رسوماتی عامل سمجھتے تھے جن کا کام ہیکل کے اندر قربانیوں کا عمل جاری رکھنا اور ہیکل کی عمومی دیکھ بھال کرنا تھا۔ یہاں تک کہ سردار کاہن کو بھی محض ایک عامل سمجھتے تھے جس کے پاس مذہبی امور پر بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ "
پھر ہم پڑھتے ہیں کہ سردار کاہن نے کہا :
 ’’
اِس پر سردار کاہِن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اُس نے کُفربکا ہے۔ اب ہم کو گواہوں کی کیا حاجت رہی؟ دیکھو تُم نے ابھی یہ کُفر سُنا ہے۔ تُمہاری کیا رائے ہے؟‘‘( متی 65:26)
 
یہ کسی بھی یہودی عدالت کی کارروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے جواب میں باقی منصفین نے کہا کہ:
’’
اُنہوں نے جواب میں کہا وہ قتل کے لائِق ہے۔‘‘(57:26)
 
انجیل نویس کا یہودی علم الکلام سے ناواقفیت کا منہ بولتا ثبوت یہی قضیہ ہے صرف یہی نہیں بلکہ یہاں انجیل نویس کہانت جیسے عظیم فرض منصبی کے قوانین سے بھی نابلد نظر آتا ہے. 
 
یہودی عدالتی کارروائی کے حوالے سے ایک نہایت دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں کبھی متفقہ فیصلہ نہیں ہوتا جیسا کہ مسیح یسوع کے مقدمہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ سب ایک ہی زبان بول رہے تھے کہ یہ موت کا سزاوار ہے۔چونکہ یہودی عدالت میں وکیل نہیں ہوتا اس لیے منصف ہی دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں ایک جو ملزم کے مفادات کا دفاع کرتا اور دوسرا گروہ استغاثہ کا کام کرتا ۔بالفرض اگر ملزم کو ایسی سہولت میسر نہ آئے اور اس کے خلاف فیصلہ متفق ہو جائے جیسا کہ یسوع مسیح کے مقدمہ میں ہوا تو ملزم کو فوری طوربری کر دیا جاتا ( تالمود سینہیڈرن 72:12a)کیونکہ اس سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ عدالتی کارروائی نہیں بلکہ سازش ہے۔ سو اگر مسیح یسوع کا مقدمہ کسی حقیقی’’ یہودی شرعی عدالت‘‘ میں ہوا ہوتا تو وہ اُس ہی وقت بری ہو جاتے جب سب نے انکے خلاف متفقہ فیصلہ دیا تھا۔
 
انجیل نویس یقیناً یہودی عدالتی قوانین سے ناواقف تھا بلکہ اسے کہانت سے متعلق قوانین سے بھی شناسائی نہ تھی.اس صورتحال کا مظہر ہمیں اس وقت نظر آتا ہے جب انجیل نویس کائفا سردار کاہن کی بدترین تصویر کشی کرتا ہے اور 
’’
اِس پر سردار کاہِن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اُس نے کُفربکا ہے۔‘‘( متی 65:26)
 
جبکہ
توریت میں اس بات کا بیان ہے کہ:
 "
مُوسیٰ نے ہارُون اور اُس کے بیٹوں اِلیعزر اور اِتمر سے کہا کہ نہ تُمہارے سر کے بال بکھرنے پائیں اور نہ تُم اپنے کپڑے پھاڑنا"( احبار 6:10)
اور سردار کاہن کے لیے تو پابندی اور بھی سخت تھی:
 "
اور وہ جو اپنے بھائیوں کے درمِیان سردار کاہِن ہو جِس کے سر پر مَسح کرنے کا تیل ڈالا گیا اور جو پاک لِباس پہننے کے لِئے مخصُوص کِیا گیا وہ اپنے سر کے بال بِکھرنے نہ دے اور اپنے کپڑے نہ پھاڑے۔ وہ کِسی مُردہ کے پاس نہ جائے اور نہ اپنے باپ یا ماں کی خاطِر اپنے آپ کو نجس کرے۔"( احبار 10:21)
 
اس کے بعد انجیل نویس ایک اور افسانہ تراشتا ہے جہاں قاضی نے خود ملزم یعنی جناب مسیح سے پوچھا یعنی ان سے کہا گیا کہ وہ اقرار کر لیں۔ کسی بھی یہودی عدالت میں یہ ایک انتہائی سنگین غلطی ہے کیونکہ تالمود یہ بتاتی ہے کہ ’’کوئی شخص خود کو مجرم قرار نہیں دے سکتایا کسی شخص کی گواہی اپنے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔‘‘
 
اور سب سے شاندار ثبوت کہ یہ پوری عدالتی کارروائی کا افسانہ ہی صرف فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہ تھا۔ جب المسیح کو پیلاطس کے حوالے کیا گیا تورات کی کارروائی کے بارے ایک حرف نہیں کہا گیا بلکہ حاکم کے سامنے مسیح یسوع پر صرف اور صرف بغاوت کا الزام لگایا گیا۔اور یہ بات نہیں کی گئی کہ المسیح نے کس مد میں کفر بولا ہے بلکہ رومی دربار میں صرف رومی حکومت اور قیصر کے خلاف بات کرنے کو بنیاد بنا کر صلیب کا مطالبہ کیا گیا جسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ رومی حکومت ریاستی باغیوں کو صلیب دیا کرتی تھی اور کسی بھی شخص کا المسیح ہونے کا ادعا دراصل حکومت وقت کے خلاف اعلان اور خود کو بادشاہ بنا کر پیش کرنا تھا. یسوع نے بھی یہی دعوی کیا مگر وہ اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو سکے تو یہودیوں نے انکے دعوی کو کتاب مقدس کے خلاف پاکر انہیں بغاوت کے جرم میں حاکم وقت کے سامنے پیش کردیا. یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یسوع کی پیلاطس کے دربار میں پیشی کے موقع پر سردار کاہن پیش پیش تھا اور یہ سردار کاہن خود رومیوں کی طرف سے مقرر کردہ تھا جس کا کام یہودی حریت پسندوں سے رومی سلطنت کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا یہی وجہ تھی کہ سردار کاہن کی شخصیت ہی بار بار اس موقع پر سامنے آتی ہے.
یسوع پر لگائے گئے الزامات کا جائزہ
آئیے یسوع پر لگائے گئے کچھ الزامات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی یہودی عقیدے کے مطابق انکی کچھ حیثیت ہے کہ ان الزامات کی بنا پر کسی شخص کو سزا دی جاسکتی تھی ۔؟
مسیح یسوع پر لگایا گیا ایک الزام متی 63:26 میں موجود ہے۔
 ’’
سردار کاہِن نے اُس سے کہا مَیں تُجھے زِندہ خُدا کی قَسم دیتا ہُوں کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔ یِسُوؔع نے اُس سے کہا تُو نے خُود کہہ دِیا بلکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِس کے بعد تُم اِبنِ آدم کو قادِرِ مُطلِق کی دہنی طرف بَیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔ اِس پر سردار کاہِن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اُس نے کُفربکا ہے۔ اب ہم کو گواہوں کی کیا حاجت رہی؟ دیکھو تُم نے ابھی یہ کُفر سُنا ہے۔‘‘
 
اس آیت کے مطابق مسیح یسوع نے کفر کہا ہے، لیکن وہ کفر ہے کیا، کیا خدا کا بیٹا کہلانا کفر ہے؟ تو یہاں یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ "خدا کے بیٹے" کی اصطلاح ہر یہودی پر لاگو ہوتی ہے بلکہ استثنا 1:14 کے مطابق جناب موسی نے سب سے پہلے اس اصطلاح کو تمام اسرائیل کے لیےاستعمال کیا۔
’’
تُم خداوند اپنے خدا کے فرزند ہو‘‘استثنا 1:14
 
بنی اسرائیل میں ہر نیک بندے کے لیے’’ خدا کے بیٹے‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔ سو اگر یسوع نے ایسا کہا بھی تو یہ کوئی خلافِ شرع بات نہ تھی جو عدالت کی نظر میں سزا کے لائق ہوتی. دراصل یہاں انجیل نویس نے بدترین یہودی نفرت و دشمنی کا رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے اور عبرانی بائبل میں موجود حقائق کو بری طرح سے پامال کیا ہے. یسوع نے قاضیوں کی موجودگی میں انتہائی حلیمی سے خود کو ابن آدم پکارا اور خود کو ابن آدم کہنے میں کسی بھی یہودی شرعی عدالت کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا تھا تو پھر وہ کفر کہاں ہے جو انجیل نویس یہودی رہنما کیفا کے منہ میں ڈال کر پوری یہودی قوم کو یسوع کی تکذیب میں اول طور پر پیش کرتا ہے؟
کیا یہ کفر تھا کہ ابن آدم کبریا( یونانی dunamiss جس کا ترجمہ طاقت کیا گیا ہے) کے دائیں جانب ہو گا؟
کیفا نے خود سے اندازہ لگا لیا کہ یسوع اگر اپنے سیاسی مشن میں کامیاب ہوگیا تو پھر یہ اقتدار حاصل کرلے گا اور یہودی بجائے انکے( سردار کاہن کے گروہ کے) یسوع کو اپنا نمائندہ چن لیں گے جو انکے اختیارات کے لیے خطرناک ہو سکتا تھا۔ 
 
لفظ "طاقت" ارامی زبان میں دو معنی رکھتا ہے ایک استعاراتی طور پر رب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرا literal معنی رکھتا ہے یعنی اختیار والوں یا حکومت کے لیے. یہودیوں کے لیے یہ ایک کفر تھا کہ حکومت، طاقت و اختیار کو خدا کے علاوہ کسی سے منسوب کرے اور یسوع نے بھی وہی بات تمثیلی انداز میں کہی جس کے بعد سردار کاہن حق بجانب تھا کہ وہ یسوع پر کفر گوئی کا الزام عائد کرتا. رومی بت پرستوں کو تو یہودی محاورات و تماثیل سے کچھ واقفیت نہ تھی مگر کائفا تو خود شریعت کا عالم تھا اس نے فورا یسوع کی تمثیلی بات کو سمجھ لیا کہ جو کفر سنہڈرین میں ثابت نہ ہو سکا وہ یہاں سب کے سامنے ظاہر ہوگیا.تبھی اس نے سزا کا مطالبہ کردیا. باقی گریبان پھاڑنے اور چیخنے چلانے کا سارا افسانہ فضول اور یاوہ گوئی پر مشتمل ہے.
اس کے علاوہ ایک گواہ نے یہ الزام لگایا کہ اس نے کہا تھا کہ اس مقدس کو ڈھا دو تو میں تین دن میں اسے کھڑا کر دو گا. بظاہر تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں پائی جاتی جو یہودی عدالتی قوانین کے مطابق سزائے موت کی وجہ بنے لیکن یہودی تاریخ سے ادنی سی واقفیت یسوع کے اس ایک جملے کے پیچھے چھپے اصل مدعا کو سامنے لے آتی ہے. جب ہم یسوع کو بحیثیت فریسی ربائی دیکھتے ہیں تو یسوع کے کلام کی تفہیم کا درست ادراک بھی کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے یہ جاننا بھی نہایت ضروری ہے کہ فریسی کون تھے اور وہ کس نظریات کے حامل تھے. یہ سب بحث یہاں نہیں کی جا سکتی ہے لہذا ہم یہاں مطمع نظر بات پر ہی کلام کریں گے. 
 
یسوع کے وقت میں موجود ہیکل رومیوں کا تعمیر کردہ تھا اور فریسی علماء کو یہ ہرگز برداشت نہیں تھا کیونکہ رومی بت پرستوں نے اپنا نشان عقاب کو ہیکل کے دروازے پر نصب کیا ہوا تھا جس کے نتیجے میں دخول ہیکل کے وقت ہر یہودی کواس کے نیچے سے گزرنا پڑتا تھا اور اس کے نیچے سے گزرنے کا مطلب رومی بت پرست بادشاہ کی حاکمیت کو قبول کرنا تھا جو کہ موحد اور حریت پسند یہودیوں کے لیے سوہانِ روح سے کم نہ تھا اسی وجہ سے فریسی علماء کا نظریہ یہ تھا کہ مسیح موعود نے آکر رومیوں کے بنائے ہیکل کو ڈھا دینا ہے اور اس کی جگہ نیا ہیکل تعمیر کرنا ہے. یسوع کا ہیکل ڈھانے کی بابت گفتگو کرنا دراصل اسی فریسی نظریہ کے مطابق یہودیوں کو تسلی دینا تھا لیکن یسوع کی اس بات کے ساتھ تین دن بعد کا دم چھلا اس وقت لگایا گیا جب پولوسی نظریات مسیحیت میں جڑ پکڑ گئے اور یسوع کا مردوں میں سے جی اٹھنے کا افسانہ مشرک اقوام میں عام ہوگیا. پیلاطس کے دربار میں یسوع کی مجرمانہ خاموشی ہرگز اسے ان الزامات سے بری نہیں کرتی جو کہ یہودی اس پر لگا رہے تھے بلکہ یہودی علم الکلام کے مطابق یہودی بالکل درست مؤقف پر تھے.
حاصلِ تحریر
 
الغرض یسوع پر لگائے گئے سارے الزامات مذہبی کے بجائے سیاسی تھے اور رومی قانون کی نظر میں بغاوت کے جرم کے مترادف تھے. یہی وجہ تھی کہ یہودیوں نے ایسے انسان کو صلیب پر چڑھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جس نے یہ کہہ کر ان کی آرزو و امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں. 
 
یاد رہے کہ انجیل نویس نے یسوع کی مصلوبیت کا مجرم اجتماعی طور پر تمام یہودی قوم کو قرار دیا ہے. انجیل نویس متی لکھتا ہے. 
سب لوگوں نے جواب میں کہا اِس کا خُون ہماری اور ہماری اَولاد کی گردن(متی 27:266)
انجیل نویس یسوع کے مقدمہ کے افسانے میں یہود دشمنی کا ایسا رنگ بھرتا ہے کہ یسوع کی مخالفت میں سارے یہودی کردار یکے بعد دیگرے ساتھ آتے ہیں گویا کہ اس کہانی کا مرکزی حصہ یہی ہو. اس مقام پر تمام معاصرین یسوع یہودیوں کی منظر کشی کچھ اس طرح سے کی گئی ہے کہ کاہن اعظم، صدوقی، فریسی اپنے متبعین سمیت، انقلابی شدت پسند، ہیرودیئن اور کثیر تعداد یہودی سب یسوع کی دشمنی میں متحد نظر آتے ہیں. انجیل نویس کی یہود دشمن طبیعت اس بات کا بھی جواب نہیں دیتی کہ اس موقع پر وہ سارا مجمع کدھر غائب ہو گیا تھا جو یسوع کے یروشلم میں داخلے کے وقت کھجور کی شاخیں لہرا لہرا کر ان سے وفاداری کا عہد کررہا تھا؟
خیر اندیش
تحقیق: عبداللہ غازی 

۱؎ : بابلی تالمود،بابا بترا: ۳۔الف، جوئیش انسائیکلوپیڈیا مضمون ہیرودیس۔’’جوئش ہیسٹری‘‘گیریٹز،جلد نمبر ۲ ، باب نمبر ۴
۲؎: جوئش انسائیکلوپیڈیا مضمون سنہیڈرن
٣٣؎: عبرانی لفظ ہذان کا ترجمہ کوتوال کیا گیا ہے ۔ یہ شرعی عدالت کا انسپکٹر ( دروغہ ) تھا جسکی ذمہ داری ہوتی تھی کے ملزم کو ثبوت ملنے کے بعد تفتیش و تحقیق کرکے شرعی عدالت کے سامنے پیش کرے۔
٤؎ : سینہڈرن:۸ :ب، ۴۱ :الف، ۷۲:ب، ۸۰۰:ب/دی ٹرائل آف جیزز فرام جوئش سورسز ، ربی اے ۔ پی ڈریوکر، بلوچ پبلشنگ کمپنی نیویارک ۱۹۰۷،صفحہ نمبر ۶
٥٥؎:دی ٹرائل آف جیزز فرام جوئش سورسز ، ربی اے ۔ پی ڈریوکر، بلوچ پبلشنگ کمپنی نیویارک ۱۹۰۷،صفحہ نمبر ۷
٦؎ انگریزی لفظ ’’Hewn Chamber‘‘ کا ترجمہ
٧؎: سینہڈرن۸۶ب اور ۸۸۸ ب/ دی ٹرائل آف جیزز فرام جوئش سورسز ، ربی اے ۔ پی ڈریوکر، بلوچ پبلشنگ کمپنی نیویارک ۱۹۰۷،صفحہ نمبر ۸
٨؎: سینہیڈرن 1:4
٩٩؎ : تالمودی قوانین جنکو توراہ شبل پے کہا جاتا ہے ۔

مکمل تحریر >>