Pages

Most Popular

ہفتہ، 1 اپریل، 2023

کیا عہدنامہ جدید ہی اصل انجیل ہے؟









کیا عہدنامہ جدید ہی اصل انجیل ہے؟

 انجیل مقدس !

کیا سیدنا مسیح کی انجیل بھی گم کر دی گئی جس طرح تورات کو گُم کر دیا گیا تھا؟ [۱-سلاطِین8:9]

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام پر انجیل نازل فرمائی گئی تھی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ اور ہم نے ان پیغمبروں کے بعد عیسیٰ ؑ ابنِ مریمؑ کو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا اور ہم نے انہیں انجیل عطا کی۔ جس میں ہدایت اورنور تھا‘‘۔ (سورۃ المائدہ 46)۔اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ سیدنا مسیح پر بھی انجیل کی صورت میں ایک کتاب نازل کی گئی تھی لیکن صلیبی حضرات اس بات سے مسلسل انکاری ہیں حالانکہ نئے عہد نامہ سے بھی مسیح علیہ السلام کی انجیل کے واضح سراغ مل جاتے ہیں لیکن لفظوں کی ہیر پھیر سے اِن حضرات نے حقائق کو دبانے کی پوری کوشش کی اور چند اناجیل لکھ کر مسیح سے منسوب کر دیں

The Gospel according to Matthew..

متّی کی انجیل

The Gospel according to Mark.

مرقس کی انجیل

The Gospel according to Luke..

....... لُوقا کی انجیل

The Gospel according to John......

یُوحنّا کی انجیل

ان تمام کتب کو انجیل کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اب سوال یہ ہے کہ متی ، مرقس ، لوقا اور یوحنا کی ان کتابوں کو کوئی اور نام کیوں نہ دیا صرف اِنجِیل ہی کیوں ؟یہاں مترجمین نے Gospel کا ترجمہ انجیل کیا ہے لیکن کیا ہر جگہ اس لفظ کا ترجمہ انجیل ہی کیا گیا ؟ جواب ہے👈 "نہیں" کیونکہ اگر ایسا کیا جاتا تو مسیح کی انجیل کے شواہد کھل کر سامنے آجاتے جوکہ صلیبیوں کو کسی بھی طرح گوارا نہیں ۔چونکہ یہ اناجیل پولس کے خطوط کے بعد ضابطہ تحریر میں آئی تھیں (معتدبہ کلام مقدس، صفحہ نمبر 27) اس لئے ہمیں پہلے پولس کے خطوط میں دیکھنا چاہئے کہ کیا وہاں ہمیں انجیل کے کوئی شواہد ملتے ہیں یا نہیں؟پولس جی فرماتے ہیں؛ میں ہی انجیل کے وسیلہ سے مسیح میں تمہارا باپ بنا۔ (1کرنتھیوں15:4)

سوال؛ جب اناجیل لکھی ہی نہیں گئی تھیں تو یہاں پولس کس انجیل کی بات کر رہا ہے ؟

مزید دیکھیئے👈 البتّہ بعض ایسے ہیں جو تمہیں گھبرا دیتے اور مسیح کی انجیل کو بگاڑنا چاہتے ہیں، لیکن ہم یا آسمان کا کوئی فرشتہ بھی اُس انجیل کے سوا جو ہم نے تمہیں سنائی کوئی اور انجیل تمہیں سنائے تو ملعون ہو۔(گلتیوں 7:1) یہاں پولس خود فرما رہا ہے کہ مسیح کی انجیل کے سوا متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کے نام سے ہمیں کوئی دوسری انجیل قابل قبول نہیں ۔اب بعض دوست یہاں کہیں گے کہ انجیل کا مطلب ہوتا ہے خوشخبری۔اس خوشخبری کی بھی وضاحت کریں گے۔ تھوڑا سا صبر رکھیں ، اب آتے ہیں مرقس جی کی طرف۔سیدنا مسیح اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں؛ جو کوئی میری اور انجیل کی خاطر اپنی جان کھوئے گا وہ اُسے بچائے گا۔

(مرقس 35:8). یسوع نے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایسا کوئی نہیں جس نے گھر یا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یا بچوں یا کھیتوں کو میری خاطر اور اِنجِیل کی خاطر چھوڑ دیا ہو اور اب اس زمانہ میں سو گنا نہ پائے۔ (مرقس 29:10)۔اور ضرور ہے کہ پہلے سب قوموں میں انجیل کی منادی کی جائے۔ (مرقس 10:13). میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمام دنیا میں جہاں کہیں انجیل کی منادی کی جائے گی یہ بھی جوا س نے کیا اس کی یادگاری میں بیان کیا جائے گا۔ (مرقس9:14). سیدنا مسیح کے آخری الفاظ بھی جو انہوں نے اپنے شاگردوں سے کہے ملاحظہ فرمائیں۔اور اس نے ان سے کہا کہ تم تمام دنیا میں جاکر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو۔(مرقس 15:16)۔ان تمام حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا مسیح کے پاس اس وقت انجیل کی صورت میں ایک کتاب موجود تھی جس کی تبلیغ کے لیے وہ بار بار حکم صادر فرما رہے تھے لیکن برا ہوتعصب کا جو واضح دلائل دیکھنے کے بعد بھی سچائی کو تسلیم نہیں کرنے دیتا۔اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر مرقس نےمسیح علیہ کی انجیل کا ذکر کرنا ہی تھا تو پھر اپنی کتاب کا نام انجیل کیوں رکھا؟👈 اس کا جواب بائبل سوسائٹی پہلے ہی دے چکی ہے لہٰذا اعادہ کی ضرورت نہیں ۔👇

لکھتے وقت اُن کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ جو کچھ ہم لکھ رہے ہیں اسے وہ معتبری اور سند حاصل ہے یا کبھی حاصل ہوجائے گی، یہ کہنے میں کوئی خدشہ نہیں کہ سوائے "مکاشفہ" کے نئے عہد نامے میں کہیں کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ مصنفین کو یقین تھا کہ جو ہم لکھ رہے ہیں وہ مقدس صحائف کا حصہ بن جائے گا۔ (معتدبہٖ کلام مقدس صفحہ نمبر 165)۔ مرقس نے بھی اپنی انجیل کوئی معتبر سمجھ کر نہیں لکھی تھی یہ تو بعد والوں نے 200 سے زائد لکھی جانے والی اناجیل میں سے معتبر ٹھہرا کر شائع کرڈالی ۔اب آتے ہیں لفظ Gospel کی طرف۔ صلیبی کہتے ہیں کہ جہاں جہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس سے مراد خوشخبری ہے ۔اگر ان کی یہ دلیل اتنی پائیدار ہے تو پھر یہ لوگ تمام اِناجِیل سے ہاتھ دھوتے نظر آرہے ہیں کیونکہ پھر متی، مرقس، لوقا اور یوحنا نام کے آگے بھی انجیل ہٹا کر خوش خبری لکھ دینا چاہئے تاکہ انجیل ہمیشہ کے لیے ہی منظر عام سے غائب ہوجائے ۔اصل میں سیدنا مسیح خدا کی جس بادشاہی کی خوشخبری دیتے رہے ہیں وہاں انہوں نے خوشخبری کے لیے لفظ Good News استعمال کیا ہے. دیکھیے حوالہ جات

تھوڑے عرصہ کے بعد یوں ہوا کہ وہ منادی کرتا اور خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سناتا ۔

I soon afterward he went on through cities and villages, preaching and bringing the good news of the kingdom of God. (Luke 1:8)

Go and tell john what you have seen and heard: the blind receive their sight, the lame walk, lepers are cleansed, and the deaf hear, the dead are raised up, the poor have good news preached to them. (Luke 22:7)

I soon afterward he went on through cities and villages, preaching and bringing the good news of kingdom of God. (Luke 1:8)

لہٰذا صلیبی برادری کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ لوگ لفظGospel اور Good newsکو ایک دوسرے میں گڈ مڈ کرنے کی کوشش نہ کریں ۔سچے صلیبی ہونے کا ثبوت دیں اور سچائی کو تسلیم کرنے کی ہمت دکھائیں کیونکہ ہم اُن لوگوں کی مانند نہیں جو خدا کے کلام میں آمیزش کرتے ہیں بلکہ دل کی صفائی سے اور خدا کی طرف سے خدا کو حاضر جان کر مسیح میں بولتے ہیں ۔(2کرنتھیوں 17:2)

 

مکمل تحریر >>

اتوار، 8 جنوری، 2023

عیدفصح کامنصوبہ اور یسوعؑ مسیح


 

عیدفصح کامنصوبہ اور یسوعؑ مسیح

تحقیق  و تحریر: ڈاکٹر عبداللہ غازیؔ

عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے فلسطین کے تاریخی پس منظر اورمذہبی وسیاسی منظرنامے کو دیکھتے ہوئےاگر عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کاجائزہ لیاجائے تووہ ایک ایسی حریت پسند ہستی کے طورپر سامنے آتے ہیں جواپنی قوم کو نجات دلانے کےلیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار تھے۔گوکہ انہوں نے عسکری راستہ اختیار نہیں کیا تھا مگر پھر بھی ان کے ساتھیوں کے پاس تلواریں موجود تھیں اورانہیں خدا کی ذات پر پورا بھروسہ تھا کہ تلواروں کی کمی کے باوجود خداان کی مدد کرے گا۔یہودی مسیحیوں (Jews Christians)کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام صرف ایک حریت پسند فرد ہی نہیں  بلکہ اسرائیلی انبیاءکی پیشگوئیوں کی تکمیل کاخواب اپنی ذات میں لیے ایک عظیم نبی تھے جنہوں نے تاریخ کادھارا پلٹ دینا تھا۔نبی ہونے کے علاوہ وہ المسیح بادشاہ بھی تھے جس نے اپنے اجداد داؤدوسلیمان علیہماالسلام کی سلطنت کو بحال کرناتھا۔[1]

          عیدفصح سے قبل جب مسیح علیہ السلام یروشلم میں داخل ہوئے توانہوں نے کسی زمینی سلطنت کے قیام کااعلان نہیں کیاتھا لیکن ان کے شاگردوں اور دیگر یہودیوں کوغلط فہمی ہوئی  کہ انہوں نے یروشلم ہیکل پر فتح حاصل کرلی ہے چنانچہ تمام یہودیوں نے اُن سے بحیثیت المسیح وہ تمام سیاسی توقعات وابستہ کرلیں جو ان کی روایات میں موجود تھیں لیکن جب مسیحؑ ان کی مادی توقعات پر پورا نہ اتر سکے توان کی آمد پر رومی غلامی سےنجات ملنے کی امید لگائے یہودی انتہائی مایوس ہوئے اور ان کے جانی دشمن بن گئے۔

مادیت پرست یہودیوں کی نظر میں یسوع ایک 'ناکام'انسان  تھے اور انہیں  پولس نے غیریہودی معاشروں میں پھلتی پھولتی پولوسی مسیحیت (Paulian Christianity) میں خدا کابیٹا بناکر ایک روحانی نجات دہندہ کے منصب پر بٹھا دیا۔اس پر مستزاد واقعہ تصلیب کو بنیاد بناکر عیدفصح پر کی جانے والی قربانی کی مناسبت سے عیسیٰ علیہ السلام کو 'فصح کابرہ'قرار دے دیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں پر مسیح کے متعلق یہودی اور مسیحی تصورات کافرق روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتاہے کہ کس طرح یہودیوں کے 'المسیح'کو غیراقوام میں الوہی حیثیت کاحامل 'نجات دہندہ'بناکر پیش کیاگیا ۔

          المسیح ہونے کاادعا کرنا درحقیقت یہودی بادشاہ ہونے کادعویٰ تھا جس کا دوسرا مطلب سراسر رومی حکومت کے خلاف اعلان بغاوت تھا۔اسی سبب سے عیسیٰ علیہ السلام نے کمال بصیرت سے کام لیتے ہوئے کبھی بھی اپنی زبان مبارک سے المسیح ہونے کادعویٰ نہیں کیا۔فریسیوں کے بار بار استفسار کرنے پربھی انہوں نے خود کو المسیح قرار نہیں دیا ۔ان کی یہی کمال احتیاط تھی کہ رومی جاسوس اور یہودی معاندین ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت جمع نہیں کرسکے۔بادشاہ نے ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ا ن کے گرد جمع ہونے والے مضبوط اور تندمزاج گلیلی مردوں کے باعث تمام کوششیں ناکام ہوئیں کیونکہ گرفتاری کی صورت میں زبردست مزاحمت کااندیشہ تھا جس کے نتیجہ میں یہودی بغاوت برپا ہوسکتی تھی۔[2]

          واقعہ فصح سے چنددن قبل بروز اتوار جب وہ یروشلم میں داخل ہوئے توان کامطمع نظررومیوں کے خلاف اسرائیلیوں کی تنظیم نوکرناتھا۔اس منصوبے کے لیے فصح کاانتخاب اس لیے کیاگیا تاکہ یہودی تاریخ کاآغاز بننے والے'واقعہ  خروج' کی طرح موسم بہار کی آمد پر آنے والا تہوار'عیدفصح'بھی یہودیوں کی رومی غلامی سے نجات کاآغاز بن جائے  کیونکہ فصح بھی خروج کی یاد میں ہی منائی جاتی تھی [3]لہذا جس طرح خدا نے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے اپنی قوم کو مصریوں کی غلامی سےآزادی دی تھی اسی طرح خدا دوبارہ المسیح ابن داؤد کے ذریعے اسرائیل کو رومی غلامی سے نجات دینے والاتھا۔عیدفصح کے اس منصوبے میں مسیح علیہ السلام  المسیح بادشاہ  اور نجات دہندہ تھےجنہوں نے عیدفصح پر اپنے المسیح ہونے کااعلان کرکے یہودیوں کو  اپنےگرد جمع کرناتھا۔تاہم ان کا یہ منصوبہ اس قدر خفیہ تھا کہ ان کے قریبی شاگردوں کو بھی ان کی بھنک نہ تھی۔[4]

          اناجیل متوافقہ (Synoptic Gospels)کے مطابق ان کی مبینہ گرفتاری سے قبل عیدفصح کی شام جب عیسیٰ علیہ السلام یروشلم میں داخل ہوئے تو فصح کابرہ کھانے کاانتظام بھی اس قدر رازداری میں تھا کہ پطرس،یعقوب اوریوحنا جیسے مقرب حواریین کو بھی اس کی خبر نہ تھی۔جب وہ شاگردوں سمیت شہر سے باہر بیت عننیاہ میں تھے توان سےاستفسار کیاگیاکہ فصح کدھر تیار کی جائے۔اس سوال کے جواب میں انہوں نے اپنے دو شاگردوں  کو کسی مقرر مقام کے بارے میں بتانے کے بجائے ہدایت کی کہ تم شہر(یروشلم) کی طرف جاؤگے تووہاں پانی کاگھڑا اٹھائے کوئی شخص ملےگا،یہ شخص تمہیں ایک گھر تک لے جائے گااوروہاں جاکر تم گھر کے مالک سے پوچھنا کہ استاد کہتاہے کہ میرا وہ مہمان خانہ کدھر ہے جہاں میں نے اپنے شاگردوں کے ساتھ فصح کھانی ہے؟چنانچہ گھر کامالک تمہیں وہ بالاخانہ دکھائے گا جدھر تم نے فصح تیار کرنی ہے۔[5]

یہودیہ کے علاقے کے مہمان نوازوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے لیے تمام انتظام تیار کررکھاتھا۔ان کی دی گئی ہدایت پر بغیر کسی توقف عمل کیاگیاچنانچہ شاگردوں نے پانی کاگھڑااٹھائے شخص کو طےشدہ جگہ پرپایا اور بعدازاں ان کے شاگرد اس بالاخانےتک پہنچ گئے جہاں سب کچھ تیار تھا۔[6]شام کے وقت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے شاگردوں سمیت اس مقررہ جگہ پہنچ گئے اور فصح کاآخری کھانا کھایا۔کھانے سے فارغ ہوکر وہ زیتون کے پہاڑ پر گئے جہاں انہوں نے خداکےحضور مناجات کی اور پھر گتسمنی کے باغ چلے گئے جہاں اناجیل کے مطابق گرفتاری کاواقعہ پیش آیا۔

 



[1] Maccoby, Revolution in Judaea Jesus and the Jewish Resistance, 160–61.

[2] Schonfield, The Passover Plot, 109.

[3] Maccoby, Revolution in Judaea Jesus and the Jewish Resistance, 137.

[4] Schonfield, The Passover Plot, 111–12.

[5] کتاب مقدس،لوقا ۱۴ :۱۲-۱۶۔

[6] Schonfield, 139–40.

مکمل تحریر >>

جمعہ، 8 جولائی، 2022

قدیم مصری تہذیب میں تصورِ نجات بذریعہ صلیب

 














قدیم مصری تہذیب میں تصورِ نجات بذریعہ صلیب

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر عبداللہ غازیؔ        

انسانیت کی نجات کے لیے صلیب پر جان دینے والے دیوتاؤں کاتصور قدیم مشرک مذاہب میں موجود رہاہے۔ مصر بھی ازمنہ قدیم میں شرک اور گمراہیت کا مرکز رہاہے لہذا وہاں بھی ایسےہی لایعنی اور خرافات پر مبنی عقائد موجود تھے جن میں الوہی حیثیت کے حامل دیوتا کاانسانیت کی نجات کے لیے اپنی جان دے کر کفارہ اداکرنے کا عقیدہ بھی موجود تھا۔ اس عقیدے نے ازلی گناہ کے نظریے سے جنم لیاجس کےمطابق زمین پر پیداہونے والا ہر شخص گناہ گار تھا۔اس گناہ کی معافی خون بہائے بغیر ملنا ناممکن تھی لہذا خدا نے مجسم ہوکر اس گناہ کی معافی کےلیے اپنا خون بہایا تاکہ انسانیت کو بچایا جاسکے۔اس طرح کے عقائد جہاں دیگر مشرک اقوام میں تھے وہیں مصر میں بھی راسخ تھے۔ مصر میں اس قسم کے نجات دہندہ اور سورج دیوتا کے اکلوتےبیٹے کے متعلق نظریات عام تھے  کیونکہ  ہورس دیوتاکے متعلق مصلوب ہونے کانظریہ تھاکہ اس نے صلیب پر اپنی جان دے کر انسانیت کو گناہ سے آزاد کیا۔

مصری مصلوب دیوتاہورس

مصر میں ایسے دیوتاؤں کے قصے عام تھے جو انسانیت کی نجات کے لیے مر گئے اور پھر زندہ ہوگئے۔ان میں سب سے مشہور کہانی ہورس دیوتاکی ہے جوکہ اوسائیرس اورآئسس(نورکادیوتا اور دنیاکی نجات دہندہ) کا بیٹا تھااورسورج کی پیدائش کاشخصی مظہر تھا۔خداکے بیٹے کے تجسم اختیار کرنے اور موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی کہانی سب سے پہلے قدیم مصر میں موجود تھی بعدازاں اسی عقیدے کو غناسطیوں اور یونانیوں سے اختیار کیا۔ان سے یہ عقیدہ عبرانیوں میں منتقل ہوا اور بالآخر ناواقفیت کی بناء پر مسیحیوں نے اس عقیدے کو اپنے مسلمہ عقائد کاجز بنادیا۔[1]

قدیم مصری دیوتاؤں میں ہورس ایک خاص اہمیت کاحامل ہے۔ماقبل تاریخ کے مصر سے لے کر رومی مصر تک اس  کی بطور دیوتا تعظیم کی جاتی تھی۔ہورس دیوتاکی شخصیت تین جہات کی تثلیث پر مشتمل ہے جس میں بچہ،جوان اوربوڑھاشامل ہیں۔ یہ مختلف جہات ہورس کی متعددخدائی حیثیتوں کے اظہار کے  لیے تھیں  کیونکہ قدیم مصر کے لوگ  حقیقت کے مختلف چہروں کودیکھا کرتے تھے۔[2]

الاقصور(Luxor)کےمقام پر قدیم مصری آثارقدیمہ کی دریافتوں میں ملنے والے ہزاروں سال پرانے معبد کی اندرونی دیواروں پر مصری بادشاہ آمن حوتب سوم کے حکم پرکی جانے والی ہورس کی تصویرکشی میں اس کی پیدائش کامنظر دکھایاگیاہے۔ان قدیم تصاویرمیں نومولودہورس کو دیوتاؤں کی طرف سے تعظیم دی جارہی ہےاورپس منظر میں صلیب کی علامت واضح طورپر موجود ہے۔[3]

                اناجیل میں پیش کردہ عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر قدیم مصری دیوتاہورس سے حیرت انگیز مماثلت رکھتی ہے۔ہورس کی پیدائش سے لےکر موت تک کے تمام واقعات انجیلی بیانات سے قدرے مشابہہ ہیں حتی کہ ہورس کی طرف منسوب اقوال وتعلیمات بھی اناجیل میں موجود عیسیٰ علیہ السلام کی مبینہ تعلیمات سے اس قدر ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں کہ علما نے اسے مسیحیت سے قبل مسیحیت کانام دے دیاہے۔[4]ٹوم ہاربر لکھتے ہیں۔

"انسانیت کی نجات کے لیے مصائب برداشت کرنے والے منجی کی داستان کسی تاریخی یسوع کےظہور سے بہت پہلے لکھی گئی۔اناجیل میں موجود یسوع کی زندگی کے واقعات دراصل مسیحیت سے قبل کسی مصیبت زدہ مسیح کی کہانی ہے جسے دستیاب شواہد کے مطابق زخم خوردہ اورمصلوب ہورس کی کہانی سے تعبیر کیاجاتاہے۔"[5]

محققین کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کے صلیبی واقعات ہورس کی موت کے وقت پیش آنے والے واقعات سے اس قدر کلی مطابقت رکھتے ہیں کہ گمان ہوتاہے کہ ایک ہی واقعہ کو دواشخاص پر چسپاں کیاگیاہے۔اناجیل کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کو دوچوروں کے ساتھ مصلوب  کیاگیااوربعدازاں مقبرے میں دفن کیاگیاجہاں تین دن بعد وہ دوبارہ زندہ ہوگئے۔دوسری طرف ہورس دیوتاکوبھی دوچوروں کے ساتھ مصلوب کیاگیا،مقبرے میں دفن کیااورپھروہ بھی  دوبارہ سے زندہ ہوگیا۔[6]

                مسیحی مذہبی ادب پر مصری اثرات کےحوالے سے لکھی گئی ہزاروں کتب کو تیسری صدی عیسوی میں مسیحیوں نے نذرِآتش کیا جس میں غناسطی علم الٰہیات کے ماہرباسلیدس(Basiliders) کی چوبیس جلدوں پرمشتمل عہد نامہ جدید کی تفسیر بھی شامل تھی۔یہ کتاب نہ صرف باسلیدس کے بائبلی مطالعہ کانچوڑ تھی بلکہ کسی مسیحی مفکر کی انجیل پر لکھی جانے والی پہلی تفسیر بھی تھی۔اپنی اس تفسیر میں اس نے قدیم مصری ،عبرانی اور یونانی معاشروں میں مروج روایات کی روشنی میں اناجیل  کاجائزہ لیااور اناجیل پرپڑنے والے قدیم مصری اثرات پر روشنی ڈالی تھی۔باسلیدس وہ مفکر تھاجس نے گمشدہ حکمتوں کے سراغ پانے اور قدیم پراسرار معموں کے حل کے لیے اپنی زندگی وقت کردی تھی۔ اسکندریہ کے کلیمنٹ  نے باسلیدس کوالوہی معاملات کے تفکر میں مستغرق فلسفی قرار دیاتھا۔[7]

قدیم مصری نشانِ صلیب انخ

مسیحیت سے ماقبل زمانوں میں صلیب کو مذہبی نشان کے طور پر استعمال کیاجاتارہاہے ۔بعض جگہ اسے شناختی علامت کے طورپر توکچھ مواقع پر عبادت اور ایمان کی اہمیت کےظہور  کی علامت بنایا گیا۔ مسیحیت سے قبل مشرک معاشروں میں مستعمل دوقسم کی صلیبی علامتیں ابتدائی مسیحیوں میں مروج رہی ہیں۔ قدیم مصرکی دریافتوں میں سےایک زندگی کانشان 'انخ'(ankh)ہے جوکہ یونانی حرف تہجیtauکی شکل کی طرح ہے۔قدیم قبطی مسیحیوں نے اسی نشان کو مستعار لےکر وسیع پیمانے پر استعمال کیا اورآج بھی اسی نشان کی باقیات قبطی مسیحیوں کی باقیات پر موجود ہیں۔صلیب کی دوسری شکلswastikaہے جوکہ نازی پارٹی کانشان بھی رہی ہے۔یہ صلیبی نشان کثیرابتدائی مسیحیوں کے مقبروں پر صلیب کےپوشیدہ نشان کےطورپرپایاگیاہے۔چوتھی صدی عیسوی میں قسطنطین بادشاہ سے قبل مسیحی صلیب کے نشان کی تصویرکشی کرنے میں انتہائی محتاط تھے کیونکہ موت کی علامت کے اس نشان کو استعمال کرنے پر معاشرہ انہیں پاگل اور خطرناک قرار دے سکتاتھا۔ قسطنطین نے مسیحیت قبول کرکے صلیبی سزائے موت کو ختم کردیااورصلیب کے نشان کو مسیحی ایمان کی علامت ٹھہرایا تو350 ء سے یہ نشان مسیحی آرٹ اورقبروں پرکنندہ کیاجانے لگا۔[8]

انخ کی صلیبی علامت

                قدیم مصری عقائد کےمطابق زندگی ایسی قوت تھی جو زمین کے گردچکرلگاتی تھی۔انسان سمیت ہرجاندار شےاسی قوت کامظہر اوراسی سے بندھی ہوئی تھیں۔[9]ان کانظریہ تھا کہ دنیاکی تخلیق کے ساتھ ہی زندگی وجود میں آئی اورسورج کے نکلنے اور غروب ہونے جیسے واقعات تخلیق کے اصل واقعات کی تجدید تھے جو زندگی کو کائنات میں اصل حالت کےساتھ ازسرنو حیات بخشتے تھے۔زندگی کاپھیلنا دیوتاؤں کی بنیادی قوت تھی جو اس قدرتی پھیلاؤں پر حکومت کرتے تھے۔اسی لیے قدیم مصری دریافتوں میں انخ کی علامت متعددمواقع پر مختلف دیوتاؤں کے ہاتھ میں نظرآتی ہے جوکہ "حیات بخش اختیار"کی طرف اشارہ کرتی ہے۔انخ کاعلامتی نقش جسمانی وروحانی دونوں قسم کی زندگی کی ابدیت کو ظاہر کرتاہے۔انخ درحقیقت ایک صلیب ہے جس کے ساتھ ملحق حلقہ کے ذریعہ دیوتااسے تھام لیا کرتے تھے۔مشہور فرعون مصرتوتن خامن(Tutankhamen) کے خزانے سے بھی کلیدی شکل میں انخ کی صلیبی علامت برآمد ہوئی ہے۔[10]

قدیم مصری اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ جب وہ مرجائیں گے تواس کے بعدانہیں اسی طرح دوبارہ سے پھر زندہ کیا جائے گا۔[11]اسی وجہ سے اکثر قدیم مقبروں میں دیوتاؤں کو مختلف انسانوں بالخصوص فرعونوں کو انخ کی علامت دیتے ہوئے دکھایاگیاہے۔[12] مصر کی درمیانی سلطنت کے اختتام سےقبل دیگرانسانوں کی نسبت فراعینِ مصر کو شاذونادر ہی انخ کی صلیبی علامت تھامے یاہبہ کرتے ہوئے دکھایاگیاہے۔اس وقت تک مصرکوفرعون کانمائندہ سمجھا جاتا تھا لہذا فرعونوں کو انخ کی صلیبی علامت تفویض کرنے کامطلب دراصل مصری قوم کو دیوتاؤں کی طرف سے زندگی عطا کرنا تھا۔[13]

وقت کے ساتھ ساتھ تصورِحیات کے مفہوم میں وسعت آگئی اور انخ کی صلیبی علامت ہوا اورپانی پر بھی دلالت کرنے لگی۔ قدیم مصری آرٹ میں دیوتاؤں کو فرعونوں کی ناک کے پاس انخ کی علامت اٹھائے زندگی کا سانس عطاکرتے دکھایا گیاہے۔[14]قدیم مصری مذہبی آرٹس سے زیادہ آئینوں،مختلف غلافوں اور پھولوں کے گلدستوں میں بطور تزئین وآرائش انخ کا نشان استعمال کیا گیاہے۔انخ کی علامت سب سے زیادہ عمومی انداز میں عمارتوں،مقبروں اور مختلف معبدوں کی دیواروں پر کنندہ نظر آتی ہے۔[15]معبدوں کی دیواروں پر کی جانے والی سنگ تراشی میں وس(was)اورڈجیڈ(djed)جیسی علامات  کے ساتھ انخ کااشتراک 'حیات،حکومت،استحکام' کو ظاہر کرتاہے اور پتح (Ptah) اور اسائریسس(Osiris)کوان علامات کواٹھائے ہوئے دکھایاگیاہے۔[16]

                مصریو ں میں تعویز پہننے کا بھی رواج تھا اوروہ مختلف علامات کو بطورتعویز استعمال کرتے ہوئے گلے میں لٹکاتے تھے۔ مصریوں کی  زندگیوں میں ہی نہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی تعویز کااستعمال کیاجاتاتھا۔وہ اپنے مردوں کے گلے میں تعویز اس امر کویقینی بنانے کےلیے باندھتے تھے کہ اس کی برکت سے متوفی آخرت میں بہترین حالت پائے گا۔تعویزی علامتوں کایہ استعمال قدیم سلطنت کے آخر میں شروع ہوا تھا اور ایک ہزارقبل مسیح تک اس کی موجودگی کا ثبوت ملتاہے۔ ان تعویزوں پر کنندہ علامات کی اہمیت کے باوجود انہیں عجیب ہی سمجھا جاتاتھا۔تعویز کے طورپر گلے میں پہنی جانے والی علامات میں انخ کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ یہ حیات کانشان متصور کی جاتی تھی۔[17]

قبطی مسیحیوںمیں انخ کااستعمال

قدیم مصری امتیازی علامتوں میں سے ایک علامت 'انخ'کااستعمال مصرمیں مسیحیت کے پھیل جانے کے بعد  چوتھی اور پانچویں صدی تک جاری رہا۔[18]یہ نشان چونکہ مسیحی صلیب سے مشابہت رکھتاتھا لہذا دیگرمسیحیوں کی طرح قبطی مسیحیوں نے اسے عیسیٰ علیہ السلام  سے منسوب مبینہ نشان 'صلیب' کے طور پر استعمال کیا[19]انخ کی صلیبی علامت کے استعمال کا ثبوت تیسری یاچوتھی صدی عیسوی کے یہوداہ اسکریوطی کی انجیل کے نسخے سے بھی ملتاہے۔[20]

قسطنطنیہ کے سقراط کے مطابق جب مسیحی 391 عیسوی میں اسکندریہ کے عظیم ہیکل کو منہدم کررہے تھےتوانہوں نے پتھروں پر صلیب سے ملتا جلتا نشان کنندہ دیکھے۔ وہاں موجود بت پرستوں نے اس نشان کا مطلب 'زندگی بخشنا'قرار دیا جبکہ مسیحیوں نے دعویٰ کیا کہ یہ نشان بت پرستوں کے بجائے ان کا ہے۔اس طرح سے انخ کانشان مصری مسیحیت میں مروج ہوگیا۔[21]

 



[1] Tom Harrpur, The Pagan Christ: Recovering The Lost Light, p 80.

[2] “The Two Babylons- The Sign of Cross,”

[3] جان جی جیکسن،انسان،خدااورتہذیب ،ص146-147۔

[4] Harrpur, The Pagan Christ: Recovering The Lost Light, 78–79.

[5] Harrpur, 112.

[6] Harrpur, 84.

[7] Harrpur, 113.

[8] Michael Levy, “Cross Religious Symbol,” in Encyclopædia Britannica, n.d., 

[9] Ragnhild Bjerre Finnestad, “Egyptian Thought about Life as a Problem of Translation,” in The Religion of the Ancient Egyptians : Cognitive Structures and Popular Expressions, p 29–38.

[10] Nur Ankh Amen, The Ankh: African Origen of Electromagnetism, p 19.

[11] Vincent Arieh Tobin, Theological Principles of Egyptian Religion, pp 197–198, 206–208.

[12] Tobin, 197–198.

[13] Jane A. Hill, “Window between Worlds: The Ankh as a Dominant Theme in Five Middle Kingdom Funerary Monuments,” in Millions of Jubilees : Studies in Honor of David P. Silverman, pp 240, 242.

[14] Richard H. Wilkinson, Reading Egyptian Art : A Hieroglyphic Guide to Ancient Egyptian Painting and Sculpture, pp 177–179.

[15] Wilkinson, 177.

[16] Wilkinson, 181, 199.

[17] Carol (Carol A. R.) Andrews, Amulets of Ancient Egypt, p 6, 86.

[18] Du Bourguet Pierre, “Art Survivals from Ancient Egypt,” in The Coptic Encyclopedia, 1991, 

[19] Larry W. Hurtado, The Earliest Christian Artifacts : Manuscripts and Christian Origins, p 136.

[20] Jonathan. Bardill, Constantine, Divine Emperor of the Christian Golden Age, p 166–67.

[21] Bardill, 167–68.


مکمل تحریر >>