Pages

Most Popular

جمعرات، 26 اپریل، 2018

مورمن مسیحیت عقائد و نظریات


مورمن مسیحیت عقائد و نظریات :
تحریر:حکیم عمران ثاقب
 مسیحی فرقہ مورمن کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا مورمن کی چند مشہور اور مستند کتب درج ذیل ہیں Gospel priciples (انجیلی اصول ) Achieving a Celestial Marriage 1976 (بہشتی شادی کا حصول ) A Study of the Articles of Faith ( ایمان کی شقوں کا مطالعہ ) از مورمن رسول جیمس ای طالمیج اور اس کے ساتھ ساتھ Doctrines of Salvation vol 3 (عقائد نجات جلد سوئم ) از مورمن عقیدے کے دسویں صدر اور نبی جوزف فیلڈ سمتھ : Mormon Dotrine 2nd .ED. 1979 عقیدہ مورمن بروس آر میکونکی اور جوزف سمتھ کی دیگر تعلیمات مبینہ کتب سے مورمن مسیحیوں کے چند عقائد پیش خدمت ہیں. . : 1--مورمن مذہب سکھاتا ہے کہ بہت سے خدا کے بیٹے ہیں جو سب خدا ہیں (ابرہام کی کتاب 4:3 ) اور یہ کہ ہم بھی مسیح میں ہیں لہذا بہشتی سلطنت میں ہم بھی دیوتا اور دیویاں بن سکتے ہیں ( عقیدہ اور عہد 132- 19 - 20 انجیلی اصول صفحہ 245 بہشتی شادی کا حصول صفحہ 130 ) نیز جو لوگ خدا بن جائیں گے انکی روحانی اولاد بھی ہوگی اور انکی اولاد اسی طریق پر انکی پرستش کریگی اور ان سے دعا مانگے گی جیسے ہم خدا باپ کی پرستش اور عبادت کرتے ہیں ( انجیلی اصول صفحہ 302) مزے کی بات یہ ہے کہ وہ تخریج میں اپنے ان عقائد کو تورات وزبور وغیرہ سے ثابت کرتے ہیں اور تخریج میں بائبل کے حوالے پیش کرتے ہیں جیسے الہوں کا الہ معبودوں کا معبود خداوندوں کا خداوند وغیرہ 2--- خدا انسان تھا : مورمن یہ تعلیم دیتے ہیں کہ خدا قبل ازیں انسان تھا جس نے آہستہ آہستہ ارتقائی منازل طے کرتے کرتے خدا بن گیا : (عقیدہ اور عہد ص 321 ) خدا خود بھی کبھی ایسا ہی تھا جیسے کہ اب ہم ہیں وہ ایک انسان ہی ہے جو سربلند ہوگیا اور اب اوپر کے آسمانوں میں تخت نشین ہے : (جوزف سمتھ کی تعلیمات صفحہ 345 تا 347 ) انجیلی اصول ص 9 ایمان کی شقیں صفحہ 430 عقیدہ مورمن ص321 ) مزید برآں کہ خدا کا ایک باپ دادا اور دیگر آباء واجداد پورا شجرہ ہے ;( نبی جوزف سمتھ کی تعلیمات صفحہ 373 عقیدہ مورمن صفحہ 577 ) اگر ہم بنظر عمیق دیکھیں تو مسیحیت کے دیگر فرقے بھی تو کچھ ایسے ہی عقائد رکھتے مثلا خدا (یسوع مسیح ) پیدا ہوئے ماں سے یوسف باپ تھا جیسا کہ کہا جاتا ہے اسی طرح ان کے بہن بھائی بھی تھے اور یہ کہ اسے موت بھی آئی اور زندہ ہوگیا اور یہ کہ وہ خدا بھی ہے . . . . . . . . 3---- ثالوث : مختلف مسیحی فرقوں میں عقیدہ الوہیت کے بارے کافی واضح تضادات ہیں بعض تثلیث کے قائل ہیں بعض صرف الوہیت مسیح کے بعض کامل خدا اور کامل انسان کے بعض باپ بیٹا روح القدس کے مجموعہ کو کو یک خدا قرار دیتے ہیں اس سلسلے میں مورمن کا عقیدہ کچھ یوں ہے : باپ بیٹا روح القدس تینوں الگ الگ خدا ہیں ( نبی جوزف سمتھ کی تعلیمات صفحہ 370 : عقیدہ مورمن ص 576 ) اور یہ کہ خدا بیٹا اور روح القدس خدا باپ اور اس کی بہشتی بیوی سے پیدا ہونے والی ان کی اصل اولاد ہے ( جوزف فیلڈنگ میکونکی مورمن ازم کا انسائیکلو پیڈیا جلد 2 صفحہ 259 ) . . .. . . . . . . . .. . .. . .. 4-- یسوع مسیح اور شیطان ? : مورمن مذہب یہ تعلیم دیتا ہے اور سکھاتا ہے کہ مسیح یسوع ہمارا بڑا بھائی ہے جو درجہ بدرجہ مراحل سے گذر کر الوہیت کے مقام کو پہنچا وہ پہلے آسمان پر آسمانی باپ اور آسمانی ملاپ ایک آسمانی بچے (روح ) کے طور پر پیدا ہوا اور بعد میں وہ آسمانی باپ اور کنواری مریم کے ملاپ سے مجسم ہوا ( بہشتی شادی کا حصول صفحہ 129 عقیدہ مورمن 546 : 547 ; 742 ) مورمن عقیدہ باضابطہ دعوی کرتا ہے کہ ; یسوع اور شیطان ایک دوسرے کے بھائی ہیں ( انجیلی اصول 17 --18 : . . عقیدہ مورمن صفحہ 192 ) . 5---- آدم اور حوا کا گناہ بہت بڑی بدی یا تھا یا ایک عظیم برکت ? آدم اور حوا کا گناہ زندگی کے منصوبے میں ایک ناگزیر قدم تھا اور وہ گناہ ہم سب کے لیے ایک عظیم برکت ہے : انجیلی اصول صفحہ33 مورمن کی کتاب 2نیفی 2:25 ; عقائد نجات جلد اول ص 114 ) . . . . .. .. . . .. . 6--- راستبازی اور نجات : خدا کی حضوری میں ابدی زندگی کے حصول کی خاطر کسی بھی شخص کے لیے مخصوص مورمن مذہبی وعبادتی رسومات کے ساتھ ساتھ ان کے تنظیمی احکامات کی فرمانبرداری بہت ضروری ہے نجات اعمال کے بغیر ممکن نہیں : انجیل اصول صفحہ 303 ..304 : ایمان کی تیسری شق : عقیدہ مورمن 339 : 671 ; مورمن کی کتاب ; 2نیفی 25 : 7--- کفارہ مسیح : مورمن یہ تعلیم دیتے ہیں کہ یسوع مسیح کے کفارے کا مقصد اس بات سے قطع نظر کہ کوئی مسیح پر ایمان لاتا ہے یا نہیں یہ تھا کہ تمام انسانیت موت کے بعد دوبارہ جی اٹھے اور ابدی زندگی پائے مسیح کا کفارہ خدا کے حضور راستباز ٹھہرائے جانے اور ابدی زندگی پانے کی بنیاد کا محض ایک جزو ہے نجات کے لیے مگر شریعت کے تمام احکام بشمول مورمن کی عبادتی رسومات کی فرمانبرداری ضروری ہے ( انجیلی اصول 74 عقیدہ مورمن ص 669 ) 8--- تحریف بائبل : مورمن کھلے دل سے یہ اعتراف کرتے ہیں کہ بائبل تحریف شدہ اور ناقابل قبول ہے اس میں بہت سارے خاص حصے غائب ہیں اور نئے عہد نامے کی اناجیل نامکمل ہیں ( مورمن کی کتاب : نیفی 13 : 26 -29 : عقائدنجات جلد سوئم صفحہ 190; 191 ) . . . . . . . 9--- ابتدائی کلیسیا مرتدین کی جماعت ; جس کلیسیا کی بنیاد خود یسوع مسیح نے رکھی وہ مکمل طور پر ارتداد (برگشتگی ) کا شکار ہوچکی ہے اور برگشتگی کی یہ حالت اب بھی کلیسیا میں قائم ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے مورمن چرچ کے بحال شدہ انجیلی پیغام کو جان کر قبول کر لیا ہے ( انجیلی اصول 105 ; 106 ; عقیدہ مورمن صفحہ 44 ) معزز قارئین ہم نے آپ کے سامنے مورمن مسیحیت کے عقائد بمعہ حوالہ پیش کر دئیے ہیں ; کسی دن ہم اسی طرح مسیانک مسیحیت کے عقائد بھی پیش کرینگے ; ممکنہ اعتراض کا جواب ; مبینہ صورتحال دیکھ کر مسیحی دوست بلا سوچے سمجھے الزامی اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بھی تو بکثرت فرقے ہیں مگر وہ یہ بات بالکل بھول جاتے ہیں کہ اسلامی فرقوں کے بنیادی عقائد میں کوئی اختلاف نہیں سب کی اصل ایک ہے اور نجات کا تعلق اصل سے ہے نہ کہ فرع میں
مکمل تحریر >>

جمعرات، 12 اپریل، 2018

یہوداہ اسکریوطی کون تھا؟


یہوداہ اسکریوطی کون تھا؟
زیرنظر مترجمہ تحقیق یہودی النسل  ڈاکٹر ہائم مکابی کی کتاب "Judah Iscariot & the Myth of Jewish Eveil" کے باب نمبر8"Who was Judah" کا ترجمہ ہے ۔اس باب میں ڈاکٹرہائم مکابی  نے یہوداہ اسکریوطی کی اصلیت کے بارے میں تاریخی حقائق کی روشنی میں بحث کی ہے۔جوکہ یہوداہ کی شخصیت کے نت نئے پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹرہائم مکابی کاخاندان یہودی ربائیوں  کاخاندان ہے۔ان کے دادا مشہور ربائی رہ چکے ہیں۔ہائم مکابی تالمودی روایات اوریہودی ومسیحی مذاہب کی تواریخ پر ہائی پروفائل اسکالر سمجھے جاتے ہیں اور یہودی تاریخ اور عہدجدیدکے تاریخی پس منظر پر کئی کتب بھی تحریر کرچکے ہیں۔ میں اپنی اس چھوٹی سی کاوش کو اپنے والدین کی طرف انتساب کرتی ہوں جن کی شفقت ومحبت اور دعاؤں کے باعث میں نے علم حاصل کیا اور یہ ترجمہ کرنے کے قابل ہوسکی ۔اس کے ساتھ ساتھ میں  اپنے سوشل میڈیاپیج وگروپ مسلم مسیحی مکالمہ آفیشل کی  پوری ٹیم کی بھی شکرگزار اورممنون ہوں جن سے مجھےبہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
والسلام
یہودا کی رزمیہ کہانی میں غداری کے سرسری خاکے نے فقط آغاز میں ہی ہمیں اس بات پر مائل کیا ہے کہ ہم یہودا ہ کی پیدائش سے لے کر موت تک اس کی زندگی کے ہر پہلو کے متعلق چھپی ہوئی روایات کو تفصیل سے بیان کریں۔ہم جان چکے ہیں کہ یورپی زبانوں میں 'یہودا' کا نام 'غدار' کی علامت کے طور پر ضرب المثل بن کر زبان زد عام ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ 'یہوداہ' کا یہودیوں کے ساتھ اچھا مصنوعی تعلق کبھی زائل نہ ہوا۔ جب بھی کوئی معاملہ جس میں کوئی یہودی ملوث نہ ہو، میں کسی شخص کو 'یہوداہ' کے طور پر بدنام کیا جاتا ہے تو اس کا مفہوم اور نتیجہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ شخص ایک یہودی کی طرح برا انسان ہے جس نے اپنے اعتماد کے ساتھ اسی طرح غداری کی جس طرح یہودیوں نے یسوع کے ساتھ غداری کی تھی۔لہذا اگر کوئی غیر یہودی بھی یہ نام رکھ لے تب بھی 'غدار ' کے معنوں میں 'یہوداہ' کا لفظ سامی مخالف الزام و اتہام سے پرُ ہوتا ہے۔تاہم یقیناً اس لفظ کی سامی مخالفت کی طاقت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب کسی شخص یا لوگوں کو یہودیوں کی طرح غداری کا مرتکب ٹھہرایا جاتا ہے۔چونکہ مسیحیوں اور حتی کہ بعد کے مسیحیوں کی پرفریب زندگی میں یہودی اصلی غداروں کے طور پر نمایاں ہوتے ہیں جہاں یہودی نازک صورتحال اور شکست کے وقت اس کردار (غداری) کے لیے منتخب کیا گئے ہیں۔
 مسیحیت میں عقائد کی زوال پذیری نے بھی اس صورتحال پر کوئی اثر نہ ڈالا۔ جب کوئی مذہب زوال پذیر ہوتا ہے تو اس کے عقائد تیزی سے بوسیدہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں،لیکن اس کے فریب کو ختم ہونے میں وقت لگتا ہے۔'یہوداہ' کے نام کے ساتھ یہودی مخالف اتہام تب تک چسپاں رہتا جب تک مابعد مسیحی تحاریک میں نیکی اور بدی کے مسیحی کائناتی افسانے کی گونج سنائی دیتی ہے ۔درحقیقت مابعد مسیحی تحریکوں کی یہودی مخالفت زیادہ سخت اور بے رحم ہے کیونکہ ان تحاریک میں اس نظریے کا فقدان ہے کہ یہودا ہ اپنی تمام تر برائیوں کے ساتھ مسیحی حیات کے تسلسل کے لیے کسی نہ کسی طرح لازمی ہے۔نازازم اور کمیونزم کی مابعد مسیحی تحریکوں نے یسوع کی ہزار سالہ بادشاہت کے عقیدے کے ساتھ ساتھ یہودیوں کے ساتھ منسلک بدی کے عقیدے کو بھی وراثت میں حاصل کیا کہ نجات کے لیے اب یہودیوں کی ضرورت نہ رہی لہذا انہیں نیست و نابود کر دینا چاہیے۔کیونکہ مسیحیوں کے نزدیک ہزار سالہ بادشاہت مستقبل بعیدتھی لیکن مابعد مسیحی تحاریک کے مطابق یہ بادشاہت پہنچ چکی تھی جو یہودیوں کے لیے موت کا وقت تھا ۔
لیکن یہودا کے افسانے کے پیچھے تاریخی حقیقت کیا ہے؟ اصل یہودا ہ اسکریوتی کون تھا اور ناصرت کے یسوع کی کہانی میں اس نے کیا کردار ادا کیا؟ اس سوال کے جواب کی تلاش ہمیں واپس اناجیل تک لے جاتی ہے جس میں واضح فریب کے باوجود ابتدائی حقیقی معلومات کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔
جب ہم تاریخی یہودا ہ کی شخصیت کی دوبارہ تصویر کشی کرنے لگتے ہیں (جیسا کہ یسوع کے معاملے میں کرتے ہیں) تو ہمیں دستیاب دستاویزات کی سطور کے درمیان ان اشارات پر غور کرنا چاہیے جو ابتدائی قصوں میں سے محفوظ رہ گئے ہیں۔یہ تفتیش و تحقیق محض غیر عملی اور مذہبی نہیں ہے۔تفتیش کے اس عمل سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ افسانے کس طرح تخلیق کیے جاتے ہیں اور تفتیش سے ہمیں ان تعصبات کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے جو افسانہ  گھڑ کر قائم کیے گئے ہیں۔اگر آخر پر سوالات جنم لیں یا ایک ایسا نظریہ قائم ہو جائے جو صرف ظن پر مشتمل ہو تو بھی اس کے باوجود ہم ان استدلات کو تقویت نہیں دیتے جس کا مقصد گمان پیدا کرنا ، اور افسانوں اور فریب میں رنگے اذہان کی متعصب تحقیق سے گریز کرنا ہوتاہے۔
تاریخی یہودا کے بارے میں قائم مختلف نظریات کا ابتدائی نقطہ اس کا نام 'اسکریوتی' (iscariot) ہے، اس نام کا مصدر کیا ہے؟ کیا یہ عبرانی لفظ ہے یا یہ لفظ کسی اور زبان سے آیا ہے؟ کیا یہ کوئی عرفی نام ہے یا کوئی لقب ہے یا کسی جگہ کا نام ہے؟ کیا یہ نام صرف یہودا کو دیا گیا ہے یا اس نے یہ نام اپنے خاندان سے وراثت میں پایا ہے؟
 اسکریوتی (iscariot) کی عام وضاحت کے مطابق یہ لفظ دو عبرانی الفاظ کا یونانی زبان میں نقل کیا ہوا ترجمہ ہے: اش ish جس کا معنی 'آدمی' ہے اور قیرت (qeriyoth) جو کہ ایک جگہ کا نام ہے جس کا عبرانی بائبل میں قریوت (kerioth) کے نام سے تین بار تذکرہ کیا گیا ہے۔اس طرح اسکریوٹ (Iscariot) کا معنی 'قریوت کا آدمی' ہے۔یرمیا اور آموس کے صحیفے میں یہ شہر موآب کے شہروں کی فہرست میں آیا ہے لیکن یشوع کی کتاب میں یہ شہر یہودیہ کے شہروں کی فہرست میں شامل ہے. جب یشوع کی کتاب کا یونانی زبان میں ترجمہ کیا گیا تو عبرانی لفظ قریوت (qeriyoth) کا ترجمہ جگہ کے نام کے طور پر نہیں کیا گیا بلکہ اس کا ترجمہ حصرون سے منسلک 'شہروں' کے طور پر کر دیا گیا۔ جدید ماہر قدیمہ جات کی کھدائیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حصرون ایک وسیع علاقہ تھا۔ بائبل کی سطور میں یہ ایک مشکوک بات ہے کیونکہ قریوت کو یہودیہ میں شامل دکھایا گیا ہے۔جبکہ درحقیقت یہ ایک شہر کا نام ہے اور کسی نے بھی یہودا ہ کے موآب سے تعلق کی بابت کوئی نظریہ پیش نہیں کیا۔
اس کے باوجود کسی دوسرے نظریے کی غیر موجودگی میں اس نظریے کو وسیع پیمانے پر قبول کر لیا گیا کہ یہودا ہ ،یہودیہ میں شامل ایک علاقے قریوت سے آیا تھا۔ دو قابل غور نظریات اس نقطے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔پہلا ثبوت انجیل یوحنا میں ملتا ہے جس میں یہوداہ کے باپ سائمن (ممکن ہے کہ وہ بھائی ہو) کو اسکریوتی کہا گیا ہے (انجیل یوحنا 6:71 اور 13:26)۔ان حوالوں سے عرفی نام ہونے کا امکان ختم ہو جاتا ہے کیونکہ دو اشخاص کا ایک ہی عرفی نام نہیں ہو سکتا۔لیکن ایک ہی خاندان کے دو اشخاص کا ایک ہی شہر سے آنا معقول بات لگتی ہے۔انجیل یوحنا کے کچھ خاص نسخوں میں بھی ہمیں 'اسکریوتی' (iscariot) کے متعلق ایک اور ثبوت ملتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک متنی روایت کے مطابق 'اسکریوٹ' سے مراد یہودا ہ کو ایک خاص شہر سے آیا ہوا شخص سمجھا گیا، اگرچہ یہ بات مشکوک رہی جبکہ یہ ایک حقیقی جغرافیائی روایت ہے، یا ایک ایسے نام کا لسانی مطلب کھوجنے کی کوشش ہے جس کا مطلب پہلے ہی پراسرار ہو چکا ہو۔
قریوت کے شہر کا ٹھیک ٹھیک مقام تلاش کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں۔جرمن سکالر فرانٹس بہل اپنی کتاب فلسطین کا جغرافیہ (Geography des Atten Palestina) میں قریوت شہر کی شناخت جدید عرب شہر قریاتین کے نام سے کرتے ہیں اور اپنے دعوے کی بنیاد اس حقیقت پر رکھتے ہیں کہ کسی شہر کے نام غیر معمولی طور پر لمبے عرصے تک برقرار رہتے ہیں، لہذا یہ فرض کرنا بعد الفہم نہیں کہ یہ نام دو ہزار سال تک تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ محفوظ رہا۔بدقسمتی سے قریاتین اس علاقے میں واقع نہیں ہے اور حصرون کے قدیم شہر سے کافی دور واقع ہے جو بائبل میں مرقوم قریوت سے منسلک دکھایا گیا ہے۔واضح طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے بائبلی علوم میں قریوت نامی کسی بھی شہر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔اس نقطے سے یہ نظریہ قائم کر لیا گیا کہ اس نام کا کوئی شہر موجود نہیں تھا لیکن یسوع کے زمانے میں اس شہر کی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایک سوال مزید پیدا ہوتا ہے کہ کہ کیا اسکریوٹ (iscariot) دو الفاظ اش ish (آدمی) اور قریوت (qeriyoth) کا مرکب ہے؟ اگر اسکریوٹ کا مطلب 'قریوت کا آدمی' ہے تو عہد نامہ جدید میں پہلے لفظ ish کا ترجمہ کیوں نہیں کیا گیا؟ یونانی زبان میں اس لفظ کا ترجمہ 'آدمی' aner کیوں نہیں کیا گیا؟ یقیناً '.... کا آدمی' کی اصلاح اس زمانے کی عبرانی زبان کی لسانی اصلاح ہے. لیکن '..... کا آدمی' کی اصلاح کو کبھی بھی نام کا حصہ نہیں سمجھا گیا اور جب بھی کسی نام کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا گیا تو اس اصطلاح کا بھی صراحتاً ترجمہ کر دیا گیا۔
مجموعی طور پر 'قریوت کا آدمی' والا نظریہ وسیع پیمانے پر قبولیت کے باوجود ناپائیدار ہا ہے،پھر بھی ان روایات سے پر اثر نتائج اخذ کر لیے گئے اور وہ نتائج اس حد تک سرائیت کر چکے ہیں کہ بلاحجت حقائق میں تبدیل کیے جا چکے ہیں۔دوسرے شاگردوں کے بر عکس یہوداہ اسکریوتی کا گلیل کے بجائے یہودیہ کا باشندہ ہونے کی بابت قول متواتر نزاع کا باعث بنا رہا ہے۔اس قول نے یہوداہ کو شاگردوں میں ایک ایسی بے جوڑ شخصیت میں تبدیل کر دیا ہے جو اس کے ان ساتھیوں سے موافقت نہ رکھتا ہو ، جنہوں  نے خود یسوع کے ساتھ گلیل کا مشاہدہ کیا۔دوسروں (شاگردوں) کی نسبت یہودا کے متعلق دلائل اعلیٰ درجے کی معاشرتی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ مشرق سے اس کی یروشلم میں آمد ہی اس کو دارالسلطنت یروشلم کی ریت رواجوں سے روشناس کرواتا ہے۔یہ بات ہی یہودا ہ کو گنوار شاگردوں اور یسوع سے جداگانہ پہلو عطا کرتی ہے۔ اس کے اعلیٰ خاندانی پس منظر نے اس کو 'خدا کی بادشاہت' میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے پر عزم بنا دیا تھا،لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ یسوع کو سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں تو وہ فریب سے باہر نکل گیا اور یسوع کو دغا دے گیا۔
ان تمام مفروضات کی بنیاد یہودا ہ کا یہودیہ کے قصبے قریوت میں پیدا ہونے کے مفروضے، اور اوپر بیان کیے گئے مکمل طور پر مشکوک علم لسانیات پر رکھی گئی ہے۔ان کے علاوہ یہودا ہ کا یہودیہ کے ساتھ تعلق ظاہر کرنے کے لیے ثبوت کا کوئی ایک ٹکڑابھی موجود نہیں ہے۔ یہودا کے نام سے ایسا کچھ ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ یہ نام گلیل میں ایک عام نام تھا۔شدت پسند تحریک کا بانی یہودا ہ گلیلی، گلیل کا رہنے والا اس کی ایک واضح مثال ہے اور دوسری مثال یسوع کا جڑواں بھائی یہودا ہ توام ہے (متی 13:55)۔لہٰذا زیادہ احتمال اسی بات کا ہے کہ دوسرے شاگردوں کی طرح یہودا اسکریوتی بھی گلیلی تھا۔
بہت سے علماء 'قریوت کے آدمی' کے نظریے سے غیر مطمئن ہیں اور انہوں نے اس نام کی دوسرے طریقوں سے وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔کچھ علماء نے رائے دی ہے کہ اسکریوٹ (iscariot) اشکاروی (issacharite) کی ایک شکل ہے جس کا مطلب 'اشکار' (issacharite) کے قبیلے کا فرد ہے۔لسانی طور پر یہ ایک پرکشش تصور ہے لیکن اس نظریے کا درست ہونا ناممکن ہے،کیونکہ اشکار کا قبیلہ بہت پہلے ہی ختم ہو چکا تھا اور اس وقت کوئی وجود نہ رکھتا تھا۔شمالی سلطنت کی ایشیائی سلطنتوں کے فتح ہونے کے بعد شکست اور جلاوطنی کے باعث جو دس قبائل گم ہو گئے تھے، ان میں اشکار کا قبیلہ بھی شامل تھا۔
جبکہ کچھ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اسکریوٹ کا لفظ (iscariot) شہر کے نام سے اخذ نہیں کیا گیا بلکہ یہ اس کا عرفی نام تھا جو شاگرد کے طور پر 'خزانچی' کی ذمہ داری سونپنے کے بعد یہودا کو دیا گیا تھا۔اس نظریے کی بنیاد اس دعوے پر رکھی جاتی ہے کہ اسکریوٹ کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ سکورٹیا (scortea) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب 'چمڑے کا تھیلا' ہے (یوحنا 12:6 اور 13:29)۔یہاں پر استعمال کیا گیا لفظ glossokoman ہے جو کسی بھی طرح اسکریوٹ کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتا۔لیکن یہ نظریہ قائل کرنے والا نہیں ہے کیونکہ ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جماعت میں خزانچی کے طور پر یہودا کا تقرر مستند نہیں ہے کیونکہ ابتدائی مسیحیت میں ایسا کوئی نظریہ نہیں ملتا،بلکہ یہودا کو لالچی ثابت کرنے کے لیے ارتقائی طور پر یہ نظریہ گھڑا گیا ہے۔
ایک قابل قدر معقول نظریے کے مطابق اسکریوٹ (iscariot) کا لفظ سوخار (sychar) شہر سے ماخوذ ہے جو کہ سماریہ کا شہر تھا جیسا کہ یوحنا (4:5) میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ اسکریوٹ کا مطلب 'سوخار کا آدمی' ہے، کیونکہ نام کا پہلا حصہ ish ہے جیسا کہ 'قریوت کا آدمی' ہے، لیکن دوسرا عبرانی نام خواہ کچھ بھی تھا اس کا یونانی ترجمہ سوخار (sychar) کر دیا گیا۔یہ نظریہ کہ یہودا ہ یہودیہ کا شہری ہونے کے باعث بے جوڑ آدمی تھا لیکن دوسرے نظریے کے مطابق سماریہ کا شہری بن جاتا ہے جن کو یہودیوں کی ایک بڑی جماعت بدعتی خیال کرتی تھی،یہ بات ناممکن نظر آتی ہے لیکن ایسا ہو بھی سکتا ہے۔لیکن اناجیل میں دکھایا گیا ہے کہ سماریہ کے رہنے والوں کا سلوک ریاکاری پر مبنی تھا 'اس نے اپنے شاگردوں کو ان (سماریہ) کے شہروں میں داخل ہونے سے منع کیا (متی 10:5)۔جب یسوع نے یروشلم کی طرف سفر کیا تو سماریہ کے باشندوں نے اپنی سلطنت سے گزرنے کے دوران ان کے لیے مزاحمت پیدا کی جو زائرین کے ساتھ ان کی عام مخالفت کو ظاہر کرتا ہے۔دست اندازی کرنے والوں کو آسمان کی آگ سے تباہ کرنے کی خواہش کرنے پر اگرچہ یسوع نے شاگردوں کو ملامت کی تھی۔یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کے گروہ اور سماریہ کے باشندوں کے درمیان تعلقات اچھے نہیں تھے۔یہودیوں کے برعکس 'جن کی ہم جان کر عبادت کرتے ہیں وہ نہیں ہے' (یوحنا 4:22)۔رابائیوں کی طرح اس (یسوع) نے  سامریوں کو اچھے کام کرنے کے احکامات دیئے (لوقا باب 10 فقرہ 30 تا 36) اور ایسے واقعات کو بطور مثال پیش کیا لیکن اس (یسوع)نے اسی بات پر اصرار کیا کہ نجات یہودیوں میں سے ہے۔ ایسے حالات ایک سامری کو شاگرد کے طور پر قبول کرنے کے لیے ناموافق اور ناممکن نظر آتے ہیں۔
مزید برآں سوخار (sychar) کا لفظ مشکلات کو جنم دیتا ہے۔انجیل یوحنا کے علاوہ کسی بھی یہودی اور غیر یہودی دستاویزات میں اس نام کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔بہت سے علماء کا ماننا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ سوخار (sychar) کا لفظ سماریہ (shechemn) کی تحریف شدہ شکل ہے۔پہلے اس کی شناخت جیروم کے طور پر ہوئی۔یوحنا کے بیان کے مطابق اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ شہر زمین کے اس قطعے کے نزدیک تھا جو یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دیا تھا۔اس کے باوجود کچھ علماء نے سوخار شہر کو جدید 'عسکر askar ' کے نام سے شناخت کیا ہے جو کہ بنوس (shechem) کے شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے،لیکن اس نظریے کو نظر انداز کر دیا گیا۔اگر اس کا مطلب بنوس (shechem) ہے تو اس کے مصدر کا نظریہ لسانیاتی طور پر مضبوط نظریہ ہے۔
تاہم جو مشکلات 'سوخار کا آدمی' کی بابت نظریے میں ہے وہی مشکلات 'قریوت کا آدمی' کی بابت نظریے میں بھی ہیں۔یہ سمجھنا مشکل ہے کہ 'آدمی' کی اصلاح کا یونانی زبان میں ترجمہ کیوں نہیں کیا گیا؟ اور شہر کے نام کے ساتھ ضم کر کے مرکب بنا دیا گیا جس سے یہودی تقدیم ظاہر نہیں ہوتی۔
اسکریوٹ (iscariot) کے معنی اور مصدر کی بابت ایک اور نظریہ پیش کیا گیا جو ان مشکلات سے آزاد اور خالی ہے ، جس کو محض نظریاتی اختلاف کی بنیادوں پر رد کر دیا گیا۔اس نظریے کے مطابق اسکریوٹ کا لفظ لاطینی لفظ سیکیریس (sicarius) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب 'کھینچنے والا آدمی' ہے۔یہ لفظ ان شدت پسند تحریک کے بہت سے اراکین کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو یہودیہ پر رومی قبضے کے شدید مخالف اور مسلح مزاحمت کرتے ہوئے رومیوں کے خلاف برسر پیکار تھے۔اس نظریے کی خاص بات کیا ہے؟ یہ نظریہ صرف لسانیاتی طور پر ہی مضبوط نہیں بلکہ یہ ایک قابل غور حقیقت بھی ہے کیونکہ یسوع کا ایک اور شاگرد بھی 'شمعون زیلوتیس' کہلاتا تھا۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع نے ایک اور ایسے شخص کو بھرتی کیا ہوا تھا جس کا عرفی نام تحریک میں اس کی سابقہ رکنیت کو ظاہر کرتا تھا۔لفظ سکیریس (sicarius) کے آرامی زبان میں ترجمہ کے شواہد رابائی علوم میں بھی ملتے ہیں۔ان رابائی علوم کے مطابق رومیوں کے خلاف یہودی جنگ (66 تا 70 عیسوی) میں کچھ خاص باغی 'ابا سکرا' یا 'ابا زیلوتیس' کے نام سے مشہور تھے۔اسم اور عرفیت کا یہ مجموعہ بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح کا مجموعہ یہودا اسکریوتی کے نام میں دیکھنے کو ملتا ہے۔حقائق کے مطابق رابائی محفوظ دستاویزات میں اسکریوٹ (iscariot) کے لفظ کا حرف آئی ( i ) شامل نہیں ہے، لیکن ایک ترجمہ کیے ہوئے نام کا مختلف حالتوں میں پایا جانا غیر معمولی بات نہیں ہے کیونکہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ کسی بھی غیر ملکی زبان کے لفظ کا تلفظ ادا (pronunciation) کرنے کی بابت مسائل کو حل کرنا جانتے تھے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عہد نامہ جدید کے کچھ نسخوں میں اسکریوٹ کا لفظ آئی ( i ) کے بغیر سکیریوٹ (skariotes) سکیریوتھ (skarioth) یا سکیریوٹا (scariota) کی تین حالتوں میں لکھا نظر آتا ہے۔
خاص تحقیق اور سوچ و بچار کی مدد سے یسوع کے شاگردوں کی جماعت میں داخل ہونے سے پہلے یہودا اسکریوتی کا زیلوتیس تحریک میں جنگجو کا کردار ثابت کیا جا سکتا ہے، جو بہت سے علماء کے لیے مشکل کام ثابت تھا۔یہ بات تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ یسوع کے شاگردوں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا پس منظر رکھتا ہوگا جبکہ اس کے علاوہ یسوع کے مزید دو اور شاگرد بھی ایسا ہی پس منظر رکھتے تھے۔اس لیے بذات خود یسوع کے متعلق اور اس کے مسیحا ہونے کے دعوے کے مقاصد معلوم کرنے کی بابت خاص تحقیق اور سوچ و بچار کی ضرورت ہے۔ایک ایسی تحریک جس نے زیلوتیس قائدین کی ایک بڑی تعداد کو بھرتی کیا تھا، آرتھوڈوکس نظریات کے برعکس ضرور اسی (زیلوتیس) تحریک کی مانند نظر آتی ہے۔
لسانیاتی طور پر تحقیق اور غور و فکر کے علاوہ بھی بائبل کے مسوداتی نسخوں سے یہودا ہ اسکریوتی کے 'یہوداہ  زیلوتیس' ہونے کی بابت دلچسپ ثبوت ملتے ہیں۔یسوع کا زیادہ سرگرم سیاسی مقام حاصل کرنے کی ترغیب کو ثابت کرنے کی غرض سے ہم نے پہلے ہی صفحہ نمبر 31 پر انجیل یوحنا 14:22 میں مرقوم سطور میں سازشی طور پر کی ہوئی خرد برد پر پہلے ہی غور و فکر کیا ہے، جس میں ایک شاگرد یہودا ہ کو بڑی احتیاط سے 'اسکریوتی نہ تھا' کہہ کر امتیاز برتنے اور الگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ثابت کریں گے کہ یہ سطور اصل میں یہودا اسکریوتی کے متعلق ہیں اور ان سطور میں اس کو غدار کے بجائے غیر تفہیمی فعال ارادیت پسند کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔انجیل یوحنا کے تیسری اور چوتھی صدی کے قبطی نسخوں سے بھی 'اسکریوٹ کے زیلوتیس ہونے' کے بابت تصورات اور نظریات کی تصدیق ہوتی ہے، جن میں 'اسکریوتی نہ تھا' والی سطر میں 'نہ' کا لفظ شامل نہیں ہے، لیکن اسکریوٹ کے لفظ کے بجائے وہاں 'کینانائٹس' (kananites) کا لفظ لکھا ہوا ہے۔قبطی نسخوں میں اس مقام پر یسوع سے سوال و جواب کرنے والا شخص' یہودا کینانائٹس' (یہودا قینائی) بنتا ہے جس کا عبرانی ترجمہ 'قینائی' (qan, ai) ہے جس کا مطلب 'زیلوتیس' ہے۔اناجیل نویسوں نے دیگر مقامات (متی 3:18 او 10:4) پر بھی اس لفظ 'قینائی' میں خرد برد (اور تتربتر) کرنے کی کوشش کی ہے اور شمعون زیلوتیس کو شمعون قینائی کہا ہے۔لہذا قبطی نسخے (coptic version) ہی ہیں جن میں یہ بات محفوظ رہ گئی ہے کہ انجیل یوحنا باب 14 میں یسوع سے گفتگو کرنے والا شخص درحقیقت یہودا اسکریوتی ہی تھا (یہاں 'نہ' کا لفظ ترک ہو جاتا ہے) اور اس کا متبادل نام 'یہودا قینائی' یعنی 'یہودا زیلوتیس' تھا۔کسی لکھنے والے نے انجیل یوحنا کے بعد میں لکھے جانے والے نسخوں میں 'نہ' کے لفظ کا اضافہ کر دیا تھا، کیونکہ وہ لکھنے والا جانتا تھا کہ ان سطور میں مرقوم یہودا اسکریوتی کا کردار یسوع مخالف تصورات و کردار سے مطابقت نہیں رکھتا اور اسی لیے ان دونوں کے درمیان گفتگو کو کسی نیک یہودا کے ساتھ منسوب کر دیا گیا۔
اناجیل کی حتمی ترمیم نو سے بہت پہلے کے عرصے میں چرچ کی تاریخی دستاویزات میں بھی 'یہودا زیلوتیس' نامی شخصیت کی موجودگی کے ثبوت ملتے ہیں۔متی کی انجیل (باب 10 فقرہ 2 تا 4) میں بھی رسولوں کی ایک فہرست بیان کی گئی ہے، اس فہرست میں ہم یہودا نامی صرف ایک شاگرد کو دیکھتے ہیں جس کا نام یہودا اسکریوتی تھا۔لیکن ہم ' لبیاس' (Lebbaeus) نام کا ایک اور شاگرد دیکھتے ہیں جس کا عرفی نام 'تدی' تھا (دوسری کتابوں میں)۔ہم مرقس 6:19 میں بیان کی گئی شاگردوں کی فہرست میں بھی 'تدی' کا نام دیکھ سکتے ہیں۔لوقا اپنی فہرست میں 'تدی' نامی کسی بھی شاگرد کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے بجائے اس جگہ' یعقوب کا بھائی یہودا' کا نام دیکھتے ہیں (لوقا 6:19) پھر یہ تصور پیش کیا گیا کہ 'تدی' یہودا کا دوسرا نام ہے اور کچھ علماء نے یہ خیال پیش کیا ہے کہ یہ فعل کی تبدیل شدہ شکل ہے، جبکہ یہ ایک غیر موافق نظریہ ہے۔سب سے اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ متی کی انجیل کے کچھ ابتدائی لاطینی نسخوں میں 'تدی' کی جگہ 'یہودا زیلوتیس' کا نام لکھا ہوا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ 'تدی' (یہ جس کو بھی ظاہر کرتا ہے) واضح طور پر یہوداہ کو بدل کر لکھا گیا تھا۔
ہم انجیل یوحنا کے قبطی نسخے سے بھی یہوداہ زیلوتیس (یہودا قینائی کی شکل میں) کی تصدیق کر سکتے ہیں۔اس طرح اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ یہودا اسکریوتی ہی یہوداہ  زیلوتیس تھا۔تاہم یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہودا ہ اسکریوتی یہوداہ  زیلوتیس نہیں تھا بلکہ یہ یعقوب کا بھائی یہودا تھا، جس کا ذکر لوقا کی اناجیل میں بھی ملتا ہے. یہ نتیجہ ان علماء نے اخذ کیا ہے جو یوحنا 14:22 والے 'اسکریوتی نہ تھا' کو یہودا کے بجائے دوسرا یہودا خیال کرتے ہیں. یہ ایک ممکنہ حل پیش کیا گیا لیکن میری رائے کے مطابق یہ خیال درست نہیں ہے، کیونکہ یہوداہ  نام کے دو شاگرد تھے جن میں سے ایک کا عرفی نام زیلوتیس تھا اور دوسرے کا عرفی نام اسکریوتی تھا یہ وہ نام تھا جس کے متعلق سریع الاعتقادی سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا معنی زیلوتیس ہے۔شاگردوں کے ناموں کی تمام فہرستیں یہوداؤں کی تعداد کی بابت اس قدر مشکوک ہیں کہ کوئی سمجھ نہیں سکتا کہ وہ ایک تھا یا دو تھے، یا یہودا زیلوتیس کی طرح کوئی ایسا شخص بھی تھا جس کو چھپا دیا گیا ہو۔یہ فہرستیں کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں؟ میں سب سے بہترین نظریہ پیش کرونگا کہ اس وقت یہودا ہ نامی صرف ایک شاگرد تھا جس کا نام یہودا اسکریوتی تھا۔ اور جب اس کو غدار کے افسانوی کردار کے لیے منتخب کیا گیا تو تاریخی یہودا ہ کے بارے میں اچھی روایات کسی دوسرے یہوداہ کی طرف منتقل کر دی گئیں جو پہلے پہل کسی عرفی نام کے ساتھ منسوب کی گئیں، لیکن مختلف القابات سے نواز نواز کر آہستہ آہستہ اسے یہودا اسکریوتی سے الگ شخصیت بنا دیا گیا (غالباً اسی وجہ سے حواریوں کی تعداد پندرہ سے تجاوز کر گئی، از مترجم)۔
اس نظریے کی تائید میں لسانی اور مسواداتی شواہد موجود ہیں کہ اسکریوٹ کا مطلب زیلوتیس ہے جو کہ سائیکیریس (sicarius) سے اخذ کیا گیا ہے۔تاہم یہاں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا معقول ترین متبادل 'قریوت کا آدمی' ہے مسائل کے باوجود اس نظریے کو عام طور پر سب سے بہترین نظریہ سمجھا گیا ہے۔لہذا گلیلیوں کی جماعت میں ایک علیحدہ یہودیہ کا باشندہ ہونے کی بابت عام طور پر قبول کیے گئے نظریے تک خود کو محدود کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے برخلاف دوسرے شاگردوں کی طرح یہوداہ کا بھی گلیلی ہونے کے واضح نظریے (جس کا اناجیل میں صاف انکار کیا گیا ہے) کو قبول کرنے کی تمام تر وجوہات موجود ہیں۔
 اس نقطے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہودا اسکریوتی ہی یہودا زیلوتیس تھا، تو یوحنا کا اسے شمعون اسکریوتی کا بیٹا (یا بھائی) قرار دینے کی حقیقت کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔یہ 'قریوت کے آدمی' کے نظریے کی مضبوطی ہی ہے جو اس مسئلے کی حسب اطمینان وضاحت کرتا ہے کہ ایک ہی خاندان کے دو افراد اپنے شہر کے نام کو عرفی نام کے طور پر استعمال کرتے تھے (لیکن اگر ایسا ہی ہے تو 'جداگانہ شخص' کے نظریے کو کیسے بیان کیا جائے گا؟ دو شخصیات یہودا کے نرالے پن کی واضح وضاحت فراہم نہیں کر سکتیں)۔لیکن زیلوتیس کا نظریہ دونوں شخصیات کے عرفی ناموں کی حسب اطمینان وضاحت فراہم کرتا ہے؛ ایک ہی تحریک کے دو ارکان ایک ہی عرفی نام کو یکساں طور پر استعمال کر سکتے ہیں، خاص طور پر یہ بات اس وقت اور بھی ممکن ہو جاتی ہے کہ (شمعون) 'کے بیٹا' کا درست ترجمہ (شمعون) 'کا بھائی' کے طور پر کیا جائے۔درحقیقت اگر ہم ایک بار اسکریوتی کا مطلب زیلوتیس بیان کرتے ہیں تو ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ شمعون اسکریوتی اور شمعون زیلوتیس ایک ہی شخص کے نام ہیں، جس طرح یہودا اسکریوتی اور یہودا قینائی (زیلوتیس) ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔اس معاملے میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کہ یسوع کا حواری شمعون زیلوتیس یہودا اسکریوتی کا بھائی تھا۔کیونکہ ایک ہی وقت میں ایک شخصیت سے منسوب دو ناموں کا ایک ہی وقت میں بھائی ہونا اور بھائی نہ ہونا ناممکن بات ہے۔
اس موضوع کو ختم کرنے سے پہلے ان نظریات کو بیان کرنا ضروری ہے جن میں اسکریوٹ کے لفظ کو عبرانی اور آرامی روٹ shqr سے ماخوذ بتایا گیا ہے، جس کا مطلب 'دھوکہ دینا' ہے۔یہ مطلب ایک مغالطہ پیدا کرتا ہے۔یہ مفروضہ بھی پیش کیا گیا کہ اس کی روٹ sgr ہے جو کہ عبرانی میں ہفل فارم یا ایکٹو وائس ظاہر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کا معنی 'دشمن کے حوالے کرنا' ہے۔اس معاملے میں لسانیاتی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کس طرح ان دو روٹس سے 'اسکریوٹ' کا لفظ اخذ کیا گیا؟ لیکن اصل اعتراض یہ بنتا ہے کہ اس وضاحت سے اس بات کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس نام کو یہودا نے یسوع کا شاگرد ہونے کے زمانے میں خود اختیار نہیں کیا تھا بلکہ بغاوت کے بعد اس کو یہ نام دیا گیا۔پھر بھی تمام شواہد اسی بات کی تائید کرتے ہیں کہ اس کا شروع سے یہ ہی نام تھا،اس لیے یہ وضاحت غیر موثر ہے۔اس کے باوجود اس بات کا یقینی امکان ہے کہ اس کی بغاوت کے بعد اس کے نام اسکریوتی کا غداری کے ساتھ اس طرح کا کوئی تعلق نہیں بنتا کہ جس طرح اس لفظ کی وضاحت کی جاتی رہی ہے۔رابائی علوم میں بھی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور لاطینی میں بھی جہاں بدی کا کردار ادا کرنے والے اشخاص کے ناموں کی ہتک آمیز توضیح کی گئی۔
بہت سے علماء نے نظریاتی میدانوں میں اختلاف کی بنیاد پر یہودا کو شاگردی سے برخاست کرنے کا تصور پیش کیا۔دوسرے شاگردوں کی بابت معنی خیز معلومات حاصل کر کے اس نتیجے کو پرزور انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ یسوع کی تحریک زیلوتیس تحریک سے مماثلت رکھتی تھی اور آرتھوڈوکس مسیحیت کے برعکس دنیا اور جنگ کی مخالف نہیں تھی۔کچھ علماء نے یہودا اسکریوتی کی زیلوتیسزم کے ساتھ رفاقت کو شاگردی سے برخاستگی کی ظاہری وجہ کے طور پر بیان کیا ہے۔اگر یہودا زیلوتیس تھا اور رومیوں کے خلاف گوریلا جنگ میں شامل تھا تو اس نے اپنا دنیاوی عسکری انداز برقرار رکھا ہوگا جو یسوع کے لیے اجنبی ہوگا۔یسوع کی انوکھی بات سے متاثر ہو کر (اس نظریے کی بنیاد پر) اس نے زیلوتیس تحریک چھوڑ دی کہ یسوع اصل میں مسیحا ہے جو اپنے معجزاتی طریقوں سے رومیوں کو مغلوب کر دے گا، لیکن آہستہ آہستہ اس پر یہ بات عیاں ہو گئی کہ یسوع رومیوں کو مغلوب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ اس نے اپنی مسیحائی کو ہر لحاظ سے روحانی انداز میں پیش کیا۔غلط راہ پر لگانے کے باعث یہودا نے مایوسی اور پریشانی میں یسوع سے انتقام لیا اور اس سے بغاوت کر کے اس کے دشمنوں تک پہنچا دیا۔
ایک اور متبادل نظریے کے مطابق یسوع کو مسیحا سمجھنے کی بابت یہودا کا ایمان کبھی بھی کم نہ ہوا تھا بلکہ وہ یسوع کی تاخیر کے باعث بےقرار ہو گیا تھا اور یہوداہ  نے یسوع سے غداری کر کے شدید مجبور حالات کو ایک نتیجے پر پہنچانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ رومیوں کو شکست دینے کے لیے اپنی معجزانہ طاقت استعمال کر سکے، اس نظریے کے مطابق یہودا کوئی ولن نہ تھا بلکہ اچھے مقاصد رکھنے والا شاگرد تھا جو سیاسی اقدامات اٹھانے کی بابت یسوع کی نارضا مندی کو نہ سمجھ سکا بلکہ وہ (یسوع) نجات کے روحانی تصور سے مرغوب تھا اور یہی بات رومیوں کی شکست سے غیر متعلق تھی۔واقعات و حالات کی ایسی صورتحال نہ صرف علماء میں بہت مقبول ہے بلکہ یسوع کے بارے میں ناول اور فلمی نوشتے لکھنے والے مصنفین اور ابتدائی مسیحیت میں بھی بہت مقبول رہی ہے اور اس صورتحال کے ساتھ ساتھ 'قریوت کے آدمی' کا نظریہ بھی بہت مقبول رہا جس کے مطابق یہودا کو یہودیہ کا باشندہ ہونے کے باعث دوسرے شاگردوں سے الگ تھلگ رنگ دے دیا گیا۔یہ منظر نامہ یہودا کو ایک ایسا قابل فہم مقصد تحریک عطا کرتا ہے جو کہ قصے کو بیان کرنے کے لیے مناسب ہے اور جو شیطانیت سے مغلوب اناجیل کے ناگوار قصوں سے یہودا کو بچاتا ہے اور اس کو وہ رمزی اہمیت عطا کرتا ہے جو یسوع کے زمانے میں اسے حاصل تھی جو روحانی مسیحا کے بجائے سیاسی مسیحا کو تلاش کر رہے تھے۔ لہٰذا خاص نقطہ نظر اور حب الوطنی کا جذبہ رکھنے کے باعث یہودا کے ساتھ ہمدردی کا جواز موجود ہے لیکن اس کے باوجود یسوع اور صلیب پر اس کے کفارے کے مشن کی روحانی طور پر قدر دانی کرنے میں ناکامی پر یہودا اور یہودیوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ بہت ہی حیرانی کی بات ہے کہ یہ الگ الگ سمت رکھنے والی متضاد باتیں ناول نگاروں اور فلمی داستانیں لکھنے والے مصنفین کے لیے کشش کا باعث بنیں جو اپنے نظریے کے سامی مخالف مفہوم کا پردہ فاش ہونے سے بچانے کے لیے مسیحی مذہبیت کے جنون کو بچانا چاہتے تھے۔
اس کہانی کے اشارے روایات میں بھی ملتے ہیں اور یہودا کا زیلوتیس تحریک کے ساتھ الحاق کی طرف اشارہ کرنے والی متضاد انجیلی سطور کی بنیاد پر جلد ہی یہودا کی بغاوت کو تاریخی حیثیت دے دی گئی۔اس سے خودکشی کرنے کا یسوع کا اپنا ارادہ اور اس وقت کی یہودیت سے روگردانی کا دعوٰی بھی ظاہر ہوتا ہے۔یہ نظریہ شیطانی انداز میں بیان کیے گئے قصے جس کے مطابق یسوع سے بغاوت کرنے والا یہوداہ یہودیوں اور ان کے مذہب کو عیب والا ثابت کرتا ہے، کے بجائے اس قصے کو قابل قبول انداز میں پیش کرتا ہے۔
ایک نظریے کے مطابق یہودا نامی شخصیت کا کوئی وجود نہ تھا بلکہ یہ ابتدائی چرچ کا تخلیق کیا ہوا مکمل افسانوی کردار ہے۔جے-ایم-رابرٹسن واضح طور پر اقرار کرتے ہیں کہ یہودا اسکریوتی کے کردار کو ایک پروپیگنڈہ کے طور پر تخلیق کیا گیا جس کا مقصد یہودیت اور یروشلم کے خلاف ایک ہتھیار تیار کرنا تھا۔ولیم بنجامین سمتھ (William Benjamin Smith) اے ڈریوز (A. Drews) جی شلاگر (G. Schlager) ایل جی لیوے (L. G. Levy) اور ایس لوبنزکے (S. Lobinski) نے بھی اس نظریے کو پرزور انداز میں بیان کیا ہے۔کچھ دوسرے علماء  نےاس کا مقصد پروپیگنڈہ کے بجائے کہانی کے مشکل خلا کو پر کرنے کے لیے افسانوی انداز میں کیا گیا ارتقاء بیان کیا ہے جس کا مقصد 'یسوع کیسے گرفتار ہوا؟' جیسے سوالات کا جواب تخلیق کرنا تھا۔فرینک کرموڈے (Frank kermode) نے یہ تصور پیش کیا ہے کہ یہودا کی کہانی تاریخی خلا کو پر کرنے کے بجائے ضرورت کی بنیاد پر مخالفین کو روائیتی مواد فراہم کرنے کے لیے بلوئی اور گھڑی گئی ہیں، کیونکہ مخالفت کا عنصر پیدا کیے بغیر اس کہانی کو مکمل کرنا ناممکن تھا (وہ اپنے کام کی بنیاد ولادیمیر پروپ viladimir propp کی تحقیق پر رکھتا ہے جس نے مخالفین کے لیے ضروری افسانوی کہانیوں کی ایک بڑی تعداد کا تجزیہ کیا)۔
 یہ تمام علماء خاص بصیرت رکھتے تھے اور انہوں نے معقول نظریات پیش کیے تھے۔وہ علماء یوحنا کی انجیل میں تفصیلاً بیان کیے گئے خاکے کے مرکزی خیال اور مقاصد سے حاصل کیا گیا نظریہ اور قرون وسطی میں تخلیق کی گئی افسانوی داستانوں کی بہتات اور ارتقاء کے پہلوؤں کا خاص ادراک رکھتے تھے۔لیکن اب بھی یہ سوال پوچھنا باقی ہے کہ تاریخی یہودا کون تھا؟ جے ایم رابرٹسن (J. M. Robertson) کی طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سوال کا جواب ملنا ناممکن ہے،کیونکہ اگر افسانے کو لیپنے کے لیے یہودا نامی شخص اگر حقیقی طور پر موجود ہوتا تو بہت غیر ممکن الوصول بات ہوتی۔اسی طرح تاریخی یسوع کے بارے میں اس کے وجود کا انکار کرنے والے (جی اے ویلG. A. Well) علماء بھی ہیں اور کچھ علماء ایسے بھی ہیں جنہوں نے یسوع کے وجود کو تو تسلیم کیا ہے لیکن اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی تاریخی معلومات دستیاب نہ ہونے کا اقرار کیا ہے جن میں روڈولف بلٹمین (Rudolf bultmann) جیسے علماء شامل ہیں۔میرا اپنا نظریہ یہ ہے کہ مخلوط معلومات رکھنے والی دستاویزات میں ان کی ظاہری حالت کے پیچھے تاریخی اہمیت کا حامل ایسا کافی مواد موجود ہے جس کو بعد کے مصنفین اپنے قلم سے گم کرنے میں ناکام رہے۔رجحان و رغبت کے طریقے کو استعمال کر کے اس تاریخی مواد کی شناخت کی جا سکتی ہے جو انیسویں صدی میں تخلیق کرنا شروع کیا گیا اور جس کے ایسے نتائج برآمد ہوئے جو مسیحی عقائد کے لیے اس قدر بھیانک ثابت ہوئے (یہودی یسوع اور یہودی یروشلم چرچ کی وضاحت کرتے ہوئے) کہ ان کو بیسویں صدی میں دوسرے پسندیدہ طریقوں جیسا کہ تنقید وغیرہ کے بعد تبدیل کر دیے گئے۔
رغبت اور رجحان کے طریقوں کی مدد سے تاریخی یسوع اور تاریخی یہودا دونوں کی درست تصویر کافی حد تک دریافت کی جا سکتی ہے۔یہوداہ کی کہانی کے مسائل حل کرنے کے دوسرے طریقوں کو نفسیاتی اور تحلیل نفسی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق تحقیق اور جانچ پڑتال سڈنی کے ٹیراکوو (Tarachov) نے تھیوڈر ریک (Theoder Reik) کے طریقے کو استعمال کیا جو فرائیڈ کے تحلیل نفسی کے نظریے کا ماہر تجزیہ کار اور ثقافتی افسانہ نگاری کو سمجھنے کا ماہر تھا۔اپنے مضمون 'یہودا ایک محبوب قاتل' (Judas the beloved executioner) میں وہ اپنے نظریے کی بنیاد کچھ خاص انجیلی دلائل پر رکھتا ہے (جس کی نشاندہی سابقہ علماء نے بھی کی ہے) جس کے مطابق غداری سے پہلے صرف ایک شاگرد ہی نہیں تھا بلکہ یسوع کا ایک خاص منظور نظر شاگرد تھا۔اس نظریے کی دلیل اور شواہد ہمیں عشائے ربانی کے آخری کھانے کی میز پر بھی نظر آتی ہے جب یہودا یسوع سے اگلی نشست پر ٹیک لگائے بیٹھا نظر آتا ہے۔ٹیراکوو (Tarachov) کے نظریے سے قبل بھی یہ نظریہ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ یہودا درحقیقت سب سے محبوب شاگرد تھا اور اس کا ذکر یوحنا نے بھی کیا ہے۔ایک اور مصنف سی ایس جریفین (C. S. Griffin) نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ چوتھی انجیل کا مصنف یہودا اسکریوتی تھا(Griffin 1892)۔
ابتدائی چرچ کی دستاویزات میں پیش کی گئی شاگردوں کی فہرستوں کا مطالعہ کرنے والے کچھ مصنفین اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ شاگردوں کی فہرست میں یہودا اسکریوتی کا نام سر فہرست تھا جس کا ثبوت اناجیل میں بھی ملتا ہے۔ٹیراکووز (Tarachov) اپنے کام کی بنیاد ایسے نظریات پر رکھتا ہے جس کی مدد سے یسوع کی گرفتاری کے وقت یہوداہ کے بوسے کو ایک نئے رنگ میں پیش کیا جا سکتا ہے. ٹیراکوو (Tarachov) کے نظریے کے مطابق یہ بوسہ پیار کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے جس کا باخبر اور اعلانیہ ہونا ضروری نہیں ہے۔لیکن دو آدمیوں کی کہانی میں متوازیت ہونا زیادہ اہم بات ہے۔یہودا اسکریوتی یسوع کا عکس ہے (اس نظریے کے اثبات میں یہودا اسکریوتی کے بچپن کا وہ قصہ بیان کیا جاتا ہے جس کے مطابق وہ یسوع کے بھائی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے اور اسی کی مانند شاہی ترکے کے دعویدار کے طور پر سامنے آتا ہے)۔خدا باپ کے حکم کے سامنے یسوع ظالمانہ قوت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، اس کے برعکس یہودا موت کو اٹھا کر خدا بیٹے کے پاس لے آتا ہے۔یہودا سکے کا دوسرا رخ ہے، جس وقت یسوع اطاعت کا مظاہرہ کرتا ہے یہودا بغاوت کرتا ہے۔یہودا یسوع کا برا رخ ہے جو یسوع کی اس اذیت پسندی کا ثبوت ہے جو یسوع کی جذباتی اذیت سے محظوظ ہونے کی عادت کے پیچھے چھپی ہے۔
یسوع اور یہودا کے درمیان پیار کے تعلق کو اس اذیت پسندی اور جذباتی اذیت سے محظوظ ہونے کی عادت کے تعلق سے بھی سمجھا جاسکتا ہے جس میں عمیق محبت کا عمل قتل اور قتل کے سامنے ہتھیار ڈال دینا ہے۔تاہم مصنف کے نظریے کے مطابق یسوع اور یہودا ہ میں یکسانیت ظاہر ہوتی ہے۔یسوع کا خود کو قربانی کے لیے پیش کرنا باپ کے ساتھ بیک وقت محبت اور نفرت کے جذبے کو الگ الگ کرنے کا راستہ ہے۔وہ (یہودا کے طور پر) باپ کو برباد کرنا چاہتا ہے اور (یسوع کے طور پر) اپنی بربادی کو قبول کر لیتا ہے اور تمام انسانیت کی موت کا کفارہ دے دیتا ہے۔جب یہودا یسوع کو برباد کرتا ہے تو وہ اصل میں خود کو برباد کرتا ہے۔یہ یسوع اور یہودا کے درمیان محبت کے مثبت تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔تمام شاگردوں میں صرف یہودا ہی یسوع کی ضروریات کو سمجھتا تھا۔فریڈرک ہیبل (Friedrich Hebbel) نے بھی اس نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ لکھتا ہے کہ "جب وہ اپنے ڈرامے کا خاکہ تیار کر رہا تھا، اس وقت وہ یسوع کے بارے میں لکھنے کا سوچ رہا تھا (Judas war der allerglaubigste) جس کا مطلب ہے کہ 'یہودا تمام شاگردوں میں سب سے زیادہ وفادار تھا' (جیسا کہ وہ پہلے رائے دے چکا ہے) اس کے باوجود ہیبل (Hebbel) یہودا کی بابت 'یہودا زیلوتیس' ہونے کا نظریہ رکھتا تھا۔
یہودا کا قینائی ہونے کی بابت غناسطی نظریے کا ہم پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں جس کے مطابق یہودا ہ انسانیت کی نجات کا باعث بنا (صفحہ 93)جبکہ جدید مسیحی علماء لیون بلوئے (Leon Bloy) اور چارلس ریگائے (Charles Reguy) بھی یہودا کی بابت یہی نظریہ رکھتے تھے. یہودا کی غداری کے مشن نے یہودی مصنف برنارڈ لعزر (Bernard Lazare) کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا ہے (صفحہ 95)۔تحلیل نفسی کے انداز میں کہانی کا تجزیہ کہانی کو عوامی دائرہ اثر سے باہر نکال کر لے جاتا ہے اور اس کا تعلق ہر شخص سے جوڑ دیتا ہے۔یسوع نے اپنے بدن کے ذریعے نجات نہیں دی جیسا کہ پولوس کا دعوٰی ہے بلکہ ہر شخص یسوع کے ساتھ ذاتی تعلق ہونے کی بنا پر نجات حاصل کر سکتا ہے۔
یہودا کی کہانی کی اس طرح وضاحت اس کی اپنی سطح تک کافی اہمیت کی حامل ہے لیکن یہ وضاحت ان عوامی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی جن مقاصد کی خاطر یسوع کا افسانہ پورے معاشرے کے لیے بطور مثال تخلیق کیا گیا۔اجتماعی سطح پر کہانی تحلیل نفسی کے نظریے کے بجائے اجتماعی تجزیے کا تقاضا کرتی ہے۔ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ مسیحی افسانہ کس قسم کے معاشرتی افسانوں سے تعلق رکھتا ہے؟ اور کس طرح یہ افسانہ مسیحی معاشرے کی چسپیدگی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے؟ اس سوال کا ممکنہ جواب (میری دوسری کتاب sacred executioner میں بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے) یہی ہے کہ مسیح کے افسانے کا تعلق انسانی قربانی کی رسومات سے متعلقہ ان افسانوں کے ساتھ ہے جو قربانیاں سر پر آئی ہوئی آفات سے بچنے کے لیے (یا جب نئے خطرات کو دعوت دی جاتی تھی) یا کسی نئے قبیلے کے قیام کے وقت ادا کی جاتی تھیں۔تحلیل نفسی کی سطح پر ادراک سے معاشرتی تمثیل کو بھی سمجھا جا سکتا ہے. خاص طور پر قربانی سے متعلقہ مظلوم اور قربانی دینے والے کی یکسانیت، مرنے کے لیے مظلومین کی رضامندی کو ظاہر کرتا ہے۔۔اور مظلوم اور اس معاشرے کی قبائلی یکسانیت قربانی کے چڑھاوے کا حکم اور انتظام کرتا ہے. لیکن قربانی پیش کرنے والے معاشرے اور رضامند مظلوم کے درمیان یکسانیت کو خفیہ رکھا جاتا ہے جس کو والٹر برکرٹس (Walter Burckerts) نے 'عدم واقفیت کا سوانگ' (comedy of innecence) قرار دیا ہے۔معاشرہ یہ دعوٰی کرتا ہے کہ اس نے قربانی کا حکم بالکل نہیں دیا اور یہ ان کی مرضی کے خلاف واقعہ ہوئی ہے. 'ہاتھ دھونے' کی رسم اجتماعی اختیارات کی عدم واقفیت کو ظاہر کرتی ہے اور جلاد درحقیقت عوامی خادم ہوتا ہے جس کو الگ اور جلا وطن کر دیا جاتا ہے۔انفرادی نفسیاتی سطح پر رسم کا انکار شعوری طور پر موت کی خواہش کے ذریعے جلا وطنی میں تبدیل ہو جاتا ہے جو کہ جسمانی اذیت سے محظوظ ہونے کی عادت ہے۔لیکن معاشرتی یا عالمی سطح پر انکار کرنے کا عمل معاشرتی دستور کی شکل اختیار کر لیتا ہے،جس کے نتیجے میں نیچ ذات کی بابت ذات پات کا ایسا نظام قائم ہو جاتا ہے جو ہمیشہ قربانی کے احساس جرم کو دل میں چھپا کر رکھتا ہے تا کہ معاشرہ احساس جرم کے بغیر اس سے فائدہ اٹھا سکے۔مسیحی ثقافت میں یہ نیچ ذات یہودیوں کو سمجھا جاتا ہے جس کو یہودا ہ کے ابدی کردار کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا۔ذاتی ذہنی حالت کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے انفرادی نفسیات پر معاشرتی اغراض و مقاصد کو ترک کرنا ہوگا اور مسیحیت میں یہودیوں کی حالت پر غور کرنا ہوگا۔
تحلیل نفسی کا نظریہ یہودا کی کہانی کو تاریخی واقعے کے بجائے علامتی قصہ ثابت کر سکتا ہے۔اس طرح کا تجزیے کا طریقہ کار اس کہانی کے ارتقاء اور ضرورت کو سمجھنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے،لیکن اگر صرف انفرادی نفسیات تک محدود ہو جائیں تو علامتیت بھی محدود ہو جاتی ہے۔افسانے کا تجزیہ، ظلم، نفرت اور بے چینی کے ساتھ ساتھ مسیحی معاشرے کی نمو پزیری اور استواری کی بابت وضاحت فراہم کرتا ہے جو معلومات دستاویزات میں محفوظ رہ گئی ہیں،پھر بھی یہودا کی کہانی مکمل طور پر علامتی نہیں ہے۔اس قصے کو تاریخ میں خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور اگر ہم اس قصے کو تھوڑا مزید سمجھ جائیں تو حقیقت اور خیالی دنیا کے درمیان فرق واضح ہو جائے گا اور خیالات و گمان کو حقیقت میں بدلنے کے طریقے کو سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔

مکمل تحریر >>

منگل، 20 مارچ، 2018

گزارےہوئے چند لمحات عظیم ربائی یسوع کے ساتھ

اس تحریر کو پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
میں تم سے سچ کہتاہوں جس کے کان ہوں وہ سن لے کہ “ابن آدم اس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اس لیے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے”۔[1]
                عظیم ربائی یسوع نے یہ الفاظ اس وقت کہے جب یروشلم کی طرف جاتے ہوئے زبدی کی ماں اپنے بیٹوں کے ہمراہ اس سے ملی۔
یروشلم سے جاتے جاتے میں بھی دیگر افراد کی طرح اس کی معیت میں ہوگیاتھا کیونکہ اس کا کلام حکیمانہ اور دانائی سے بھرپور تھا۔لوگ اسے سنتے تو اسی کا ہوکر رہ جاتے ،اسرائیل کے عوام وخواص اس کے دلدادہ ہوتے چلے جارہے تھے،چنانچہ میں بھی اس کے ساتھ اسی لیے ہولیا تاکہ اس کی باتوں کی حکمت کے موتیوں سے اپنا دامن بھر سکوں اور 'اُس'خدا کی بادشاہت میں اِس کے ساتھ داخل ہوجاؤں جس کی وہ منادی کرتا رہاہے۔بے شک اس کی زبردست تعلیمات،رومیوں کے جبرواستعمار کی چکی میں پسنے والے اسرائیل کے کثیر افراد کے لیے مرہم کا کام دے رہی تھیں اور وہ اس کا وعظ سن کر پرامید ہوچکے تھے کہ اب اسرائیل کی بحالی کا وقت آچلا ہے اوروہ منجی آپہنچا ہے جو اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی جان کی بازی تک لگا دینے کے لیے تیار ہے۔
                لیکن جب  میں نے اس  کے ان الفاظوں پر دوبارہ سے غور کیا جن میں اس نے اپنی آمد کا مقصد بتایاکہ"کہ ابن آدم اس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اس لیے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے" تو بےساختہ میرا ذہن اُس تورات کی طرف چلاگیا جسے خداوند نے اسرائیل کے لیے کوہ طور پرموسیٰ کوتفویض کیاتھا ۔بےشک ،عظیم استاد یسوع اپنے شاندار پہاڑی وعظ میں یہ کہہ چکاتھا کہ "یہ نہ سمجھو کہ میں تورات او رنبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں،منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں"[2]لیکن پھر بھی مجھے اس بات پر شدید حیرت تھی کہ خود کو تورات کی تکمیل کرنے والاقرار دینے والے اس زبردست استاد نے تورات کے ان ابتدائی قصص کے متعلق کچھ بھی نہیں کہاجس کو ہمارے اجداد صدیوں سے نسل درنسل بیان کرتے چلے آرہے تھے۔
                یسوع کایہ رویہ مجھے-بحیثیت تورات کے طالب علم ہونے کے-الجھن میں ڈال رہاتھا۔میں بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر اس  کی شان اور شخصیت اور رعب ہی ایسا تھا کہ میں اس سے یہ پوچھنے کی جرات بھی نہیں کرپارہاتھا کہ اے عظیم استاد!کیا موسیٰ کی تورات کے مطابق تو واقعی بہتیروں کے بدلے اپنی جان فدیہ میں دینے آیا ہے؟
اس کے ہمراہ یروشلم سے یریحو کوجاتے ہوئے میں سوچنے لگاکہ اس عظیم استاد کی آمد یقیناً اسرائیل کو اس لانظیر گناہ سے نجات دینے والی ہے جس میں مبتلا ہوکرہمارے باپ آدم کے وسیلہ سے پوری انسانیت ہی گناہ آلود ہوگئی تھی اورآدم کی توبہ کے بعد بھی وہ گناہ انسانی سرشت میں منتقل ہوتارہاتھا،مگر مجھے یہ ہرگز سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس قدر زبردست گناہ کے باوجود نوح کیسے خداوند کی نظر میں مقبول ہوگیا؟[3] یقیناً اسرائیل کاقدوس جوکہ صیہون میں  سکونت پذیر ہے،وہ پاک ہے ،اس نے ہمیں پاک کرنے کےلیے شریعت دی،ہمارے گناہوں کی تطہیر کےلیے کہانت دی،اپنے برگزیدہ نبیوں کوبھیجا،اس نے ہمیں اپنے لیے پاک ہونے کاحکم دیا[4]اور وہ پاک دلوں پرہی مہربان ہوتاہے[5] تو پھر اس نے کیسے نوح جیسے گناہ آلود انسان کواپنی نظر میں مقبول ٹھہرا لیا؟مجھے محسوس ہونے لگا -ہوسکتا ہے کہ میں درست نہ ہوں-کہ شاید گناہ سے پاک ہونا ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس سے روئے زمین پر فقط خاندان نوح ہی باقی رہا باقی سب کوخداوند نے نیست ونابود کردیا،مگر میں نے فوراً ہی اس خیال کو خود سے الگ کردیا کیونکہ یہ میرے عظیم استاد یسوع کی تعلیم کے مطابق نہ تھا۔
                سوال پھر بھی وہیں  کاوہیں تھا کہ توپھر طوفان سے فقط نوح کاخاندان ہی کیوں بچا؟ہوسکتا ہے کہ خداوند نے انہی لوگوں کو زمین پر باقی چھوڑا ہو جن میں گناہ کے اثرات بالکل بھی نہ تھے اورہراس ذی نفس کو غرق کردیاگیا جس میں رتی برابر بھی گناہ کے اثرات موجودتھے۔مجھے لگا کہ شاید مجھے میرے سوال کاجواب مل گیا ہے،آخر لوط کے معاملے میں بھی تو خداوند نے بالکل اسی طرح کیا تھاکہ راستبازوں کو صدوم کی بستی سے نکال لیا اور تمام گناہگاروں کوتباہ کردیا۔مجھے اپنے مقدس بزرگ ابراہیم کی دعایادآنے لگی جواُس نے اس وقت خداوند کے حضور گڑگڑا کرکی جب خداوند کے فرشتے لوط کی بستی کی طرف عذاب نازل کرنے کے واسطے روانہ ہوچکے تھے۔

لیکن ابراہیم خداوند کے  سامنے  کھڑے  ہو گئے۔  ابراہیم نے  خداوند کے  قریب آ کر کہا، " اے  خداوند جب تو بُروں کو تباہ کرتا ہے  تو کیا نیک و راستبازوں کو بھی بر باد کرتا ہے ؟۔  اگر کسی وجہ سے  ایک شہر میں پچاس آدمی  راستباز ہوں تو تُو کیا کرے  گا؟ کیا تو اس شہر کو تباہ کرے  گا؟ ایسا ہر گز نہ ہو گا۔ وہاں کے  پچاس زندہ نیک و راستبازوں کے  لئے  کیا تو اس شہر کو بچا کر اس کی حفاظت کرے  گا۔ یقیناً تو برے  لوگوں کے  ساتھ اچھے  لوگوں کو مار نے  کے  لئے  ایسا نہیں کرے  گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے  تو یہ ظاہر کرتا ہے  کہ اچھے  اور برے  دونوں برابر ہیں۔ اور تو پوری دُنیا کا حاکم ہے  اور تجھے  وہی کر نا چاہئے  جو صحیح ہے۔ " تب خداوند نے  کہا کہ میں سدوم میں اگر پچاس نیک لوگوں کو دیکھ لوں تو میں پو رے  شہر ہی کو بچا کر اس کی حفاظت کروں گا۔  تب ابراہیم نے  خداوند سے  کہا کہ اگر تجھ میں اور مجھ میں مماثلت پیدا کی جائے  تو میں تو صرف دھول و گرد اور راکھ کے  برابر ہوں گا۔ اور مجھے  موقع دے  کہ میں اس سوال کو پوچھوں۔  اور پوچھا کہ اگر کسی وجہ سے  ان میں سے  پانچ آدمی  کم ہو کر صرف پینتالیس آدمی  راستباز ہوں تو کیا تو اس شہر کو تباہ کرے  گا؟ اس پر خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر میں پینتالیس نیک آدمیوں کو دیکھوں تو اس شہر کو تباہ نہ کروں گا۔ پھر ابراہیم نے  خداوند سے  کہا کہ اگر تو صرف چالیس نیک لوگوں کو دیکھے  تو کیا تو اس شہر کو تباہ کر دے  گا؟ خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر میں چالیس نیک آدمیوں کو دیکھوں تو اس شہر کو تباہ نہ کروں گا۔ تب ابراہیم نے  خداوند سے  کہا کہ مجھ پر غصہ نہ ہو۔ اور میں اس سوال کو پوچھوں گا۔ اگر کسی شہر میں صرف تیس نیک آدمی  ہوں تو کیا تو اس شہر کو تباہ کرے  گا؟ خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر وہاں تیس آدمی  بھی نیک ہوں تو میں ان کو تباہ نہ کروں گا۔ پھر ابراہیم نے  کہا کہ میرا خداوند کچھ بھی کیوں نہ سمجھے۔ لیکن میں تو ایک اور سوال ضرور کروں گا۔ پوچھا کہ اگر بیس آدمی  راستباز ہوں تو کیا کرے  گا؟ خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر میں وہاں بھی بیس نیک آدمیوں کو پاؤں تو اس کو تباہ نہ کروں گا۔ پھر ابراہیم نے  خداوند سے  کہا، " برائے  مہر بانی مجھ پر غصہ نہ کر۔ صرف ایک مرتبہ اور سوال پوچھوں گا۔ اگر تو صرف میں دس نیک آدمی  دیکھے  ، تو تُو کیا کرے  گا؟ " خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر اس شہر میں صرف دس نیک آدمیوں کو پاؤں تو میں اس کو تباہ نہ کروں گا۔ خداوند نے  جب ابراہیم سے  باتیں کر نا ختم کیں تو وہاں سے  چلا گیا۔ اور ابراہیم بھی خود وہاں سے  اپنے  گھر کو واپس چلے  گئے۔[6]

                اس سے پہلے کہ میں اپنے اس گمان کویقین کاجامہ پہناتاکہ اب مجھے میرے سوال کاجواب مل گیا ہے،میری نظر یسوع پرپڑی جونہایت وقار ،بردباری ،متانت اورخاموشی سے یریحو کی طرف گامزن تھا اور مجھ سمیت ایک بھیڑ اس کی ہمراہی تھی۔چنانچہ میں نے پھر سے اپنے اس خیال کوجھٹک دیا ۔ لیکن خیالات کاتسلسل تھاکہ ختم ہونے کوہی نہیں آرہاتھا ،اس عظیم استاد(یسوع) کی ایک بات نے ہی میرے قلب وذہن میں ہلچل سی مچا دی تھی،چنانچہ باوجود کوشش کے میں خیالوں کی آمد روک نہیں پارہاتھا۔مجھے خیال آیا کہ طوفان میں گناہ گاروں کے ہلاک ہوجانے کے بعد 'خداوند کے مقبول ِنظر'نوح کی آمدہ نسل یقینا ً راستباز ہوئی ہوگی۔آخر طوفان سے قبل بھی تو حنوک جیسے راستباز موجودتھے جو خداوند کے ساتھ چلتے رہے تھے۔نجانے کیوں مجھے بار بار یسوع کی بات بےچین کررہی تھی کہ ' ابن آدم اس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اس لیے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے'۔اگر  ساری نسل انسانی ہی آدم کی غلطی کے باعث گناہ آلود ہوچکی تھی تو حنوک اور نوح جیسے راستباز خداوند کی نظر میں کیسے مقبول ٹھہرگئے؟یکایک مجھے خیال آیا کہ اگر حنوک خداوند کی نظر میں مقبول نہ تھا تو وہ آسمان پر خداوند کے پاس کیسے پہنچ گیا؟[7]
                ہم یریحو پہنچ چکے تھے۔ مگروہاں پہنچنے کے باوجود میں حاضر الدماغ نہ تھا۔سوالات کاایک سمندر تھا جو میرے ذہن میں موجیں ماررہاتھا۔مجھ سے رہا نہیں گیااور میں یسوع کے قریب پہنچ گیا۔میں نے اسے کہا کہ اے استاد کیا میں تجھ سے کچھ سوال کرسکتاہوں؟
                اس نے ایک مشفقانہ نظر مجھ پرڈالی اور مسکراتے ہوئے اجازت دےدی۔
میں نے کہنا شروع کیا:"اے استاد!جیساکہ تو نے فرمایا کہ تو اس لیے نہیں آیا کہ خدمت کرائے بلکہ اپنی جان فدیہ میں دے،توآخر تو کن کے لیے فدیہ دے گا؟آدم کے باعث دنیا میں آنے والے ازلی گناہ سے آلودہ انسانیت کوتو خداوند ہماراخدا نوح کے طوفان میں ہلاک کرچکاہے۔یقیناً اس طوفان سے خداوند نے فقط انہی کو بچایا جس میں اس نے کوئی گناہ کااثر نہ پایا،اور ان بچنے والوں میں فقط آٹھ افراد(نوح ،اسکی بیوی،اس کے تین بیٹے اوران کی بیویاں) شامل ہیں۔اب صرف ان آٹھ آدمیوں کے فدیہ کے لیے تو آیا ہے؟
                میرے یہ کہتے ہوئے ،اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوچکی تھی اور اس کی جگہ ایک سنجیدہ سوچ نے لے تھی۔ میں نے انتظار کیا کہ وہ کچھ کہےمگر وہ خاموش ہی رہا۔
اس کی خاموشی طویل تر ہوتی چلی گئی۔
کافی انتظار کے بعدمیں نے اس سے دوبارہ کچھ کہنے کے لیے اجازت چاہی اور اس نے سر کے اشارے سے اجازت دے دی۔
میں نے کہنا شروع کیا:"اے استاد!جیسا کہ ہمیں شریعت کی کتاب میں بتایاگیاہے کہ جب طوفان نوح کے بعد دنیا تباہ ہوچکی تھی اور طوفان کے بعد نوح کووسیلہ تجدیدبناکرخدانے ہم سے دائمی عہد قائم کیا،[8]اس عہد کانشان  بھی دیااور اسی عہد کے وسیلہ سے ابراہیم وموسیٰ کے عہود کی بنیاد ڈالی گئی۔ان دونوں عہدوں میں خداوند نے ہمیں ان گنت نشانات دیئے،وعد ے کیے،بشارات دیں مگر ا ن سب کے باوجود نہ ہی نوح کے عہد میں اور نہ ہی ابراہیم کے عہد میں حتی کہ موسیٰ کے عہد میں بھی مجھے خداکے اس الہامی منصوبے کاذکر نہیں ملتا کہ تجھے ہمارے لیے کفارہ دیناپڑے گا تاکہ ہماری نجات ہوبلکہ ہمارے ہر طرح کے گناہوں کی بخشش کے لیے تو خداوند نے ہمیں کفارے کا کا عظیم دن دیا ہے جس کے وسیلہ سے اسرائیل کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔کوہ سینائی پر موسیٰ کو دی گئی زبانی تورات میں بھی توخداوندنے اسی طرح فرمایا ہے۔"
A.     ربائی اشماعیل کہتے ہیں:کفارہ کی چار قسمیں ہیں۔
B.     اگر کوئی کسی نے (اوامر میں سے)حکم کی خلاف ورزی کی لیکن شرمندہ ہوا،اس کے اپنی جگہ سے حرکت کرنے سے پہلے ہی اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
C.     کیونکہ کہاگیاہے کہ"اےبرگشتہ فرزندوں!واپس آؤ تومیں تمہاری بغاوتوں کوشفاء دوں گا"(یرمیاہ3:22)
4:7
A.     اگرکوئی (منہیات میں سے)حکم کی خلاف ورزی کرلیتاہے لیکن پشیمان ہوا،تویہ پشیمانی اس کی سزا کو معطل کردے گی اوروہ یوم کفارہ پرکفارہ اداکرے گا۔
B.     کیونکہ کہاگیاہےکہ "کیونکہ اُس روزتمہاری پاکیزگی کےلیے تمہارے واسطے کفارہ دیا جائے گا"(احبار16:30)
4:8
A.   اگر وہ کوئی ایسا حکم توڑتا ہے جس کی سزا دنیاوی عدالت میں قتل یا پھانسی ہے،لیکن اپنے فعل پرنادم ہوتاہے تویہ ندامت اور کفارے کادن سزاکو معطل کردیتے ہیں اور سال کے دوسرے دنوں کی آزمایشیں اس کے گناہ کو مٹا ڈالیں گی۔
B.     کیونکہ کہاگیاہےکہ"تومیں ان کوچھڑی سے خطاکی سزا دوں گا"(زبور89:32)
C.   لیکن اگر کوئی آسمان کے نام کو جان بوجھ کر بےحرمت کرتاہے اور پچھتاتاہے تو یہ پچھتاوا اس کی سزاکومعطل کرنے کی طاقت نہیں رکھتااورنہ ہی یوم کفارہ اس کوخلاصی دلاسکتاہے۔
D.     لیکن یوم کفارہ اور ندامت ایک تہائی،تکالیف کاابتلاء ایک تہائی،اور تکالیف کے ساتھ موت مکمل طور پر اسے گناہ سے خلاصی دے دے گی۔
E.     اوراسی طرح کے معاملے کے لیے کہا گیا ہے کہ "اس بدی کا تم سے کفارہ نہ کیا جائے گا جب تک کہ تم مرنہ جاؤ"(اشعیا22:14)[9]
اے عظیم استاد!اسرائیل کے بزرگ جوشروع سے ہی تورات ،خواہ وہ لکھی ہوئی ہویازبانی، کی تعلیم دیتے چلے آرہے ہیں اِس طرح کافدیہ میں نے ان کی تعلیمات میں تو نہیں پایاجس کی بابت تو نے ابھی کچھ دیرپہلے کہہ کر مجھے تجھ سے کلام کرنے پرابھارا۔توپھر تو کس طرح سے  فدیہ دے کرہمیں ابدی نجات دے گا۔؟"
میری گفتگو ختم ہوچکی تھی مگر اس کی خاموشی ویسے ہی برقرار تھی۔
کافی دیر بعد اس نے سکوت کوتوڑا اور رخ موڑ کراپنے ساتھیوں کویریحو سے نکل چلنے کاحکم دیا۔
جب وہ یریحو سے نکل رہاتھا،اس وقت بھی ایک بڑی بھیڑ اس کے ہمراہ تھی مگراس کی خاموشی نے میرے قدموں کو روک لیا تھا اور میں چاہنے کے باوجود اس کاساتھ نہیں دے پارہاتھا ۔وہ سب یریحو سے نکلتے چلے گئے اور بالآخر میں اپنے سوالات کے ہمراہ وہاں تن تنہاکھڑارہ گیا۔





[1] متی20:28
[2] متی5:17
[3] پیدائش6:8
[4] خروج 22:31
[5] زبور73:1
[6] پیدائش باب18آیات23تا33
[7] پیدائش5:24
[8] یشوع بن سیراخ 44:19
[9] Tosefa tractate Kippurim 4:6-8
مکمل تحریر >>