Pages

Most Popular

اتوار، 29 جنوری، 2017

مسیحی سوالات مسلم جوابات


بائبل مقدس کے محرف ہونے کے متعلق اہل اسلام کے دعوے کے ساتھ ہی مسیحی برادری کی جانب سے عجیب طرح کے سوالات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جن کا جواب دینے پربھی مسیحی برادری اسے معقولی تسلیم نہیں کرتی۔اسی وجہ سے مضمون ہذا میں مسیحی برادری کو ان کے چند روایتی سوالات کا غیرروایتی جواب ان ہی کے گھر کی گواہی سے دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ حقیر سی کاوش کسی مسیحی بھائی کی آنکھیں کھول دے۔

مسیحی سوالات مسلم جوابات

تحریر:عبداللہ غازیؔ


سوال نمبر ١. کیا بائبل بدل گئی ہے؟
الجواب : جی ہاں بالکل بائبل بدل گئی ہے اور اس کا اقرار خود بائبل میں بھی موجود ہے. 
11.تُم کیونکر کہتے ہو کہ ہم تو دانِش مند ہیں اور خُداوند کی شرِیعت ہمارے پاس ہے؟ لیکن دیکھ لِکھنے والوں کے باطِل قلم نے بطالت پَیدا کی ہے۔یرمیاہ 8:8
22. خُداوند کی طرف سے بارِ نبُوّت کا ذِکر تُم کبھی نہ کرنا اِس لِئے کہ ہر ایک آدمی کی اپنی ہی باتیں اُس پر بار ہوں گی کیونکہ تُم نے زِندہ خُدا ربُّ الافواج ہمارے خُدا کے کلام کو بِگاڑ ڈالا ہے۔ یرمیاہ 23:36 
33. پادری جی ٹی مینلی لکھتے ہیں "بائبل میں ربانی اور انسانی عناصر ایک دوسرے سے جدا نہیں کئے جا سکتے. ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بات ربانی ہے اور یہ انسانی" (بحوالہ ہماری کتب مقدسہ، صفحہ 28) پادری صاحب واضح اقرار کررہے ہیں کہ بائبل میں الہامی کے ساتھ انسانی عنصر بھی موجود ہے. *
سوال نمبر ٢. کیا بائبل کو کوئی بدل سکتا ہے؟ 
 الجواب : جی ہاں بائبل میں تغیر و تبدل ہو سکتا ہے بلکہ نبی کی موجودگی میں ایسا ہوا ہے جب شاہ یہوداہ یہویاقیم نے وحی کا طومار جلایا اور بعد میں الہی ہدایت پر یرمیاہ نبی نے باروخ منشی سے اسے دوبارہ لکھوایا تو باروخ نے اس میں بہت سی باتوں کا اضافہ کردیا. 
 یَرمِیاؔہ نے دُوسرا طُومار لِیا اور بارُوؔک بِن نیرِؔیاہ مُنشی کو دِیا اور اُس نے اُس کِتاب کی سب باتیں جِسے شاہِ یہُوداؔہ یہویقِیم نے آگ میں جلایا تھا یَرمِیاؔہ کی زُبانی اُس میں لِکھِیں اور اُن کے سِوا وَیسی ہی اَور بُہت سی باتیں اُن میں بڑھا دی گئِیں۔ یرمیاہ 36:32
سوال نمبر ٣. بائبل کس نے بدلی؟ 
 الجواب : اوپر سوال میں اس کا جواب گزر چکا ہے کہ بائبل کس نے بدلی، اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
11. اگر بائبل میں تغیر و تبدل واقع نہیں ہوا تو پھر تورات کی پانچویں کتاب تثنیہ شرع کے آخر میں موسی علیہ السلام کی وفات کا حال کیا موسی نے قبر سے اٹھ کر لکھا ہے؟ 
2. مرقس کی انجیل کے آخری 12 فقرات قدیم نسخوں میں کیوں غائب ہیں؟ گڈنیوزبائبل کے 19799 کے ایڈیشن کے فٹ نوٹ میں مرقس کی آخری بارہ آیات کے متعلق لکھا ہے. 
""Some manuscripts and ancient translations do not have this ending to the Gospel (verse 9-20) "
اسی طرح نیوانٹرنیشنل ورژن میں ان فقرات سے قبل کچھ اس طرح کا توضیحی نوٹ دیا گیا ہے. 
""The earliest manuscripts and some other ancient witnesses do not have Mark 16:9-20"
 اس طرح کے فٹ نوٹس جگہ جگہ ان دونوں بائبلز کے نسخ پر موجود ہیں جو کہ یونائیٹڈ بائبل سوسائٹی امریکہ کی طرف سے شائع کی گئی ہیں.
3. قدیم نسخہ واشنگٹن میں بھی مرقس کی آخری 122 آیات موجود نہیں (بحوالہ صحت کتب مقدسہ، صفحہ 178، مطبوعہ 1952)*
44.کنگ جیمز ورژن کلام الہی ہے؟ گڈنیوزبائبل یا پھر نیوانٹرنیشنل ورژن؟ تینوں میں سے ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ . ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺗﺎﻭﯾﻞ نکالی جائے ﮐﮧ تینوں ہی کلام الہی ہیں ﺗﻮ ﭘﮭﺮ NIV اور GNB ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﯾﺎﺕ ﺣﺬﻑ کی ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻣﺸﮑﻮﮎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ان کو کس پیرائے میں رکھا جائے گا؟
سوال نمبر ٤. بائبل کب تبدیل کی گئی؟
 الجواب : جب یہ کتب زیر تحریر تھیں اسی وقت ان میں تغیر و تبدل کا عمل بھی جاری و ساری تھا. ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻦ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ان کی ساری زندگی اس کے تراجم و تحقیق کرنے میں کھپ گئی ہیں ﻭﮨﯽ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﻣﻘﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ وقعت باقی رہ جاتی ﮨﮯ؟ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﺸﻨﻞ ﺑﺎﺋﺒﻞ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ DISCOVER THE BIBLE ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻣﻌﺘﺪﺑﮧ ﮐﻼﻡ ﻣﻘﺪﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﻃﻤﻄﺮﺍﻕ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ اور اس میں جابجا تحریف کا اقرار ببانگ دہل کیا گیا ہے. یہ کتاب ایک فرد کی نہیں بلکہ 18 چوٹی کے علماء نے مل کر لکھی ہے. 
11. ہر کلیسیاء کی خواہش ہوتی تھی کہ ہمارے پاس انجیل یا پولس کے خط کا اپنا نسخہ ہو. جب ان تحریروں کی نقول تیار کی گئیں تو نقل نویس جنہیں منشی کہا جاتا تھا وہ ان تحریروں کو پاک ناشتے خیال نہیں کرتے تھے. وہ فقط پولس یا پطرس کے کسی خط یا اپنے جیسے کسی مسیحی کی لکھی ہوئی انجیل کی نقل کررہے ہوتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سہواً غلطی کرنے کے علاوہ بعض اوقات ارادتاً تبدیلیاں بھی کر دیتے تھے رفتہ رفتہ دوسری صدی عیسوی میں مسیحی ان تحریروں کو پاک ناشتے سمجھنے لگے. (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 121) 
22. نئے عہد نامہ کی نقلیں تیار کرتے ہوئے نقل نویس بعض اوقات متن میں تصرفات کر دیتے تھے بعض اوقات تصرفات دانستہ یا ارادی ہوتے تھے تاکہ اسلوب بیان بہتر ہو جائے یا زبان قواعد گرائمر کے مطابق ہو جائے. دوسرے دانستہ تصرفات اس لیے کئے گئے کہ ایک انجیل کے متن کو دوسری انجیل کے متن کے مطابق یا پولس کے خط کے مندرجات کو اسی کے دوسرے خط کے مطابق بنا دیا جائے. (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 124)
33. کئی تصرفات غیر ارادی تھے، اس کا سبب پڑھنے میں غلطی یا ناقص یادداشت ہے. غلطی اس طرح ہو گئی کہ کبھی منشی کی نظر کسی ایک حرف، ایک لفظ یا کبھی پوری سطر سےاچٹ گئی اور ایک لفظ یا کئی لفظ سہواً نقل ہونے سے رہ گئے. کبھی یہ ہوا کہ متن کو غلط پڑھا اور غلط حرف یا غلط لفظ نقل کردیا یا کبھی غلطی سے کوئی لفظ یا چند الفاظ مکرر کر دیئے. (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 125)
سوال نمبر ٥. تورات اور زبور کب بدلیں؟ مسیح سے قبل یا بعد میں؟ 
الجواب : 
11. تورات و زبور میں اگر تبدیلی نہ ہوئی ہوتی تو انجیل جیسی کتاب کی ضرورت ہی نہ تھی. تورات کی غیر محرف موجودگی میں انجیل کی حیثیت کچھ باقی نہیں رہتی. 
2. کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت صفحہ 77 پر لکھا ہے کہ یہودی نوشتوں میں مندرج واقعات دراصل زبانی روایات ہیں جن کا انتقال صدیوں تک سینہ بسینہ ہوا اور اس کے بعد حتمی شکل میں لکھے گئے. معلوم ہوا کہ مروجہ تورات فقط بنی اسرائیل کی زبانی روایات ہیں کیونکہ انہدام ہیکل کے بعد تو یہود کے پاس تورات باقی ہی نہیں بچی تھی. 
33. یاد رہے کہ اس وقت کے یہودی علماء کے نزدیک مروجہ عبرانی بائبل میں شامل کتب کے علاوہ اور بھی بہت سی کتب مقدس متون کے طور پر رائج تھیں. یہودیوں نے جامنیہ کونسل منعقد کرکے اس بات کا فیصلہ کیا کہ کن کتب کو الہامی کتب میں رکھنا چاہیے اور کن کو خارج کر دینا چاہیے. کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت صفحہ 8 پر مرقوم ہے "100ء کے قریب کچھ یہودی علماء Jamnia کے مقام پر جمع ہوئے. اس موقع پر یہ بحث ہوئی کہ کون سی کتب یہودی نوشتوں میں شامل ہونی چاہئیں". معلوم ہوا کہ اس وقت بھی یہودی کتب مقدسہ تحریف کا شکار تھیں تبھی یسوع جیسے عظیم ربائی کی آمد کے باوجود وہ مقدس نوشتوں کی استنادی حیثیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہی رہے.
4. مروجہ زبور کی کتاب میں 1500 زبور شامل ہیں جن میں سے اکثریت کے مصنفین کا کچھ معلوم نہیں. ایف ایس خیر اللہ لکھتے ہیں. "زبور 90 تا150 ایسے زبوروں پر مشتمل ہے جس کے مصنف تقریباً سب ہی گمنام ہیں". (بحوالہ قاموس الکتاب، صفحہ 470) اگر زبور کی کتاب اصل الہام پر قائم ہے تو پھر ان ساٹھ زبوروں کو کیا کیا جائے جن کے مصنفین ہی گمنام ہیں ؟اگر یہ مجہول لوگوں کی تصنیف ہیں تو پھر یہ الہامی کیسے؟
سوال نمبر ٦. انجیل کتنے عرصے بعد بدلی گئی؟ 
 الجواب : یسوع کی اصل انجیل تو ان کے ساتھ ہی آسمان پر چلی گئی تھی. انکے مابعد یسوع کے مخلصین نے ان کی تعلیمات کو لکھ کر محفوظ کیا اس طرح سینکڑوں اناجیل معرض وجود آگئیں نتیجتاً مقدس پولس کو ان لوگوں پر ملعون ہونے کا فتوی صادر کرنا پڑا جنہوں نے پولس کی بنائی ہوئی انجیل کے علاوہ کسی اور انجیل پر ایمان رکھا. "اگر ہم یا آسمان سے کوئی فرشتہ سوائے اس انجیل کے جو ہم نے تمہیں سنائی ہے دوسری انجیل تمہیں سنائے تو وہ ملعون ہو" (غلاطیوں 1:8) 
 تیس سال بعد ہی یہودی بغاوت کے نتیجے میں رومیوں نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی نتیجتاً وہ کثیر مواد ضائع ہوگیا جو یسوع کی اصل تعلیمات پر مشتمل تھا اور یسوع کی لسان مبارک سے وہ انجیل جس کا ذکر مرقس بار بار اپنی کتاب میں کرتا ہے، سننے والے لوگ رومی عتاب کا شکار ہو کر ابدی نیند سو گئے. مروجہ اناجیل اسی تباہی کے بعد کے زمانے میں لکھی گئیں اور تقریباً تین سو سال تک یہ کتب کلیسیاء میں متنازع و مشکوک رہیں کہ آیا یہ کلام الہی ہیں بھی یا نہیں.
11. "ابتدائی کلیسیاء کے بزرگ اور کونسلیں اس بات پر بحث کرتی رہیں کہ نئے عہد نامہ کی کون سی تحریروں کو پاک سمجھنا اور وہی تعظیم دینا چاہیے جو یہودی نوشتوں کو حاصل ہے" (بحوالہ کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 8) 
22. رومی کلیساؤں میں بہت سی کتب گردش کرتی تھیں..... ضروری ہوا کہ کسی عمل کے ذریعے فیصلہ کیا جائے کہ کون سی کتب مقدس ہیں. یہ طریقہ کار راتوں رات وضع نہیں کیا گیا بلکہ ان کتب کے لکھے جانے کے بعد بھی سینکڑوں سال لگ گئے تب کہیں جا کر فیصلہ ہوا کہ جو اتنی بہت سی تحریریں پڑھی جارہی ہیں ان میں سے کون سی پاک کتاب یعنی بائبل میں شامل ہونی چاہیے".(بحوالہ کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 9)
33." آج بہت سے مسیحی ان کتب سے ناواقف ہیں جنہیں ابتدائی مسیحیوں اپنے پاک نوشتوں کا حصہ مانتے تھے". (محولہ بالا، صفحہ 10)
 اگر یہ الہامی کتاب ہوتی تو یسوع کے سو سال بعد نہیں لکھی جاتی اور نہ ہی اس کی الہامی حیثیت چار سو سال تک مشکوک رہتی. یہ سب تو ٹھوس کلیسائی شواہد ہیں جن کا انکار فقط ہٹ دھرمی کی بناء پر ہی کیا جا سکتا ہے. 
44. مقدس پولس لکھتے ہیں "جب یہ خَط تُم میں پڑھ لِیا جائے تو اَیسا کرنا کہ لَودیکیہ کی کلِیسیا میں بھی پڑھا جائے اور اُس خَط کو جو لَودِیکیہ سے آئے تُم بھی پڑھنا" (کلسیوں 4:16) پولس کے حکم کے مطابق لودیکیہ کا خط آج کی کلیسیاء بطور الہام کیوں نہیں پڑھتی حالانکہ اس خط کو مقدس نوشتے کے طور پر پڑھنے کا حکم خود مقدس پولس نے دیا ہے. 
5. "کلیمنٹ کے خط کے متعلق کرنتھیوں کا بشپ ڈایونی سیئس 1700ء میں کہتا ہے کہ" قدیم زمانہ سے ہی اس خط کو گرجا میں پڑھے جانے کا دستور چلا آرہا ہے ". (بحوالہ صحت کتب مقدسہ، صفحہ 216، مطبوع 1952)* اگر انجیل میں تحریف نہیں ہوئی تو قدیم کلیسیاء کے نزدیک مقدس و ملہم سمجھا جانے والا خط آج کی کلیسیاء کیوں نہیں قبول کرتی؟
سوال نمبر ٧. کیا بائبل بدل سکتی ہے؟
 الجواب : "ہمارے پاس یسوع مسیح کے بالکل صحیح الفاظ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں. ہمارے پاس اس کے الفاظ کے صرف یونانی ترجمے موجود ہیں جو اناجیل کے مصنفین نے استعمال کیے (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 118) اگر مسیحی دنیا یہ سمجھتی ہے ﮐﮧ ﺗﺤﺮﯾﻒ ﻭﺍﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﺴﻮﻉ ﻣﺴﯿﺢ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﺁﺭﺍﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﻭ ﻓﺮﺍﻣﯿﻦ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﯾﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺻﻞ ﺍﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺻﻞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮐﮧ ﯾﺴﻮﻉ ﻣﺴﯿﺢ ﻧﮯ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻄﺒﺎﺕ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ اور یونائیٹڈ بائبل سوسائٹی امریکہ جھوٹ بول رہی ہے ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺯﻥ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺑﺼﻮﺭﺕِ ﺩﯾﮕﺮ ﺗﻮ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ. ﯾﺴﻮﻉ ﻣﺴﯿﺢ ﮐﮯ ﺍﺻﻞ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﮔﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ؟ یاد رہے کہ یسوع کی زبان آرامی تھی (بحوالہ صحت کتب مقدسہ، صفحہ 198)
 عہد جدید کی آخری کتاب مکاشفہ کے آخر میں اس کتاب میں تبدیلی کرنے والے کے لیے سخت وعید سنائی گئی ہے جو کہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بائبل میں تبدیلی کی جا سکتی ہے تبھی تو اس کی سزا موجود ہے. جیسا کہ زنا کی سزا سنگسار کرنا ہے. اب اگر اس جرم کا احتمال موجود ہے تبھی تو اس کی سزا رکھی گئی ہے اسی طرح بائبل میں تبدیلی کا امکان تھا تبھی مکاشفہ میں سزا رکھی گئی ہے.
سوال نمبر ٨. کیا بائبل پوری کی پوری بدل گئی ہے؟ 
 الجواب : اصل بائبل بدلی ہی نہیں بلکہ مکمل مفقود ہو چکی ہے. مروجہ بائبل میں مشمولہ کتب کے لیے مسیحی علماء نے ایک نئی اصطلاح " Pseudepigrapha" وضع کی ہے جس کا مطلب ازمنہ قدیم میں مجہول تصنیف کا معروف شخصیت کی طرف انتساب ہے اور عہد جدید و قدیم میں شامل تمام کتب یہی استادی حیثیت رکھتی ہیں کہ یہ گمنام لوگوں کے اقلام سے صفحہ قرطاس پر رقم ہوئیں. 
11. "یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان اناجیل کے مصنفین کون کون تھے... امکان ہے کہ ان کے مصنفین مسیح کے وہ ابتدائی پیروکار تھے جنہوں نے یسوع کے پہلے شاگردوں میں سے کسی ایک سے یا زیادہ سے اس کے بارے میں تفصیل سے سنا". (کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 1733)
22. "اسفار خمسہ کو اپنی آخری شکل میں آتے آتے سینکڑوں سال کا عرصہ لگا اور یہ موسی (علیہ السلام) کے زمانے سے بہت بعد میں اس کی شکل میں آئے". (کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 26) اگر یہ موسی علیہ السلام کے سینکڑوں سال بعد موجودہ شکل میں آئے تو پہلے کس شکل میں تھے؟ ارتقاء کا یہ عمل کتاب میں تصرف و تغیر نہیں تو پھر کیا ہے؟ اگر یہ تحریف نہیں تو پھر شاید تحریف کا لفظ ہی لغت سے خارج کر دیا جائے. 
33. "متی کی انجیل کی نظر ثانی یونانی زبان میں کی گئی غالباً وہ متی نے خود کی یا اس کے کسی مددگار نے" (اطلاقی تفسیر برائے عہد جدید ، صفحہ 136) اگر متی کی انجیل مکمل الہامی ہے تو پھر نظر ثانی کی ضرورت کیوں؟ کیا خدا کے الہام کو بھی نظر ثانی کی ضرورت ہوتی ہے؟ اور پھر یہ نظر ثانی کس نے کی؟ کس اختیار سے کی؟ اور کن مقاصد کے تحت کی؟ ان سب سوالوں کے مسیحی برادری کے پاس خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں ہے لیکن تحدی پر مبنی دعوی پھر بھی قائم ہے کہ بائبل خدا کا کلام ہے.
سوال نمبر ٩. بائبل (یعنی تورات زبور و انجیل) جو پہلے تھیں وہ کہاں ہیں؟ 
الجواب : 
11.یہ سوال ہی غلط اور کٹ حجتی پر مبنی ہے کیونکہ ان کتب کا امین یہودیوں و عیسائیوں کو بنایا گیا تھا نا کہ مسلمانوں کو لہذا مسیحیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اصل تورات زبور و انجیل سامنے لاکر مسلم نقادوں و معترضین کا منہ بند کر دیں. 
22. اگر تورات بحیثیت کلام خدا لا تبدیل ہے تو پھر تورات کی وہ الواح کدھر گئیں جو باری تعالٰی نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر موسی علیہ السلام کو دی تھیں؟ 
3. "6211 قبل مسیح میں ہیکل کی تعمیر نو کے دوران مزدوروں کو شریعت کی کتاب ملی تھی. یہ شریعت کی کتاب کہاں سے آئی؟ ہیکل کے ذخیرے میں کیسے پہنچی؟ (کس نے لکھی؟ از مقتبس) ممکن ہے کہ اسے موجودہ صورت میں ان کاتبوں اور مدیروں نے مرتب کیا ہو جو صدیوں بعد ہوئے (بحوالہ کتاب مقدس مطالعاتی اشاعت، صفحہ 314) ایک نامعلوم کتاب کو، جس کے مصنف کا ہی نہیں معلوم اور یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ آئی کدھر سے ہے، کلام الہی کا درجہ دینا کہاں کا انصاف ہے؟
44. مسیحیوں نے شروع سے ہی جان لیا تھا کہ ہمیں مقدس متون کے ایک ایسے مجموعے کی ضرورت ہے جو ہمارا اپنا ہو، جنہیں حوالے کے لئے استعمال کیا جا سکے جو عقائد سے متعلقہ فیصلوں میں ماخذ اور غیر متغیر حدود ہوں. (بحوالہ معتد بہ کلام مقدس، صفحہ 169) محولہ سطر سے یہ مستنبط ہوا کہ مروجہ انجیل کلیسیاء کی پیداوار ہے نا کہ کلیسیاء کی بنیاد اس انجیل پر ہے اور جو چیز کلیسیاء نے پیدا ہی اپنی ضرورت کی وجہ سے کی ہے، اسے لاتبدیل کلام الہی بنا کر پیش کرنا قطعاً خوف خدا سے ماوراء عمل ہے اور امثال کی کتاب فرماتی ہے کہ "خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہے".
 * جی ٹی مینلی صاحب کی یہ کتاب مسیحی سمنریز میں پڑھائی جاتی ہے لہذا یہ کوئی روایتی پادری کی کتاب نہیں ہے.
 * پادری برکت اللہ صاحب کی کتاب "صحت کتب مقدسہ" کے نئے ایڈیشن میں یہ سب حوالہ جات خارج کر دیئے گئے ہیں. راقم الحروف کے پاس اس کتاب کا 1952ء کا غیر محرف ایڈیشن موجود ہے جہاں یہ سب اقرار جرم موجود ہیں. یہ حال ہے ان مسیحیوں کی علمیت کا کہ جو پادری ساری زندگی یہ دہائی مچاتے دنیا سے چلا جاتا ہے کہ بائبل میں تحریف نہیں ہوئی اس کے مرنے کے بعد خود اس کی کتاب میں تحریف کردی جاتی ہے.
مکمل تحریر >>

بدھ، 4 جنوری، 2017

Jerusalem Church, Peter,Paul & James کلیسیائے یروشلم،پطرس،پولس اور یعقوب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کلیسیائے یروشلم،پطرس ،پولس اور یعقوب

مترجمین: صبا خان، عبداللہ غازیؔ

یہودی و مسیحی علمی حلقوں میں پروفیسر ہائم مکابی جیسے اسکالر کا نام تعارف کا محتاج نہیں، برطانیہ میں یہودی و مسیحی روایات پر انہیں اتھارٹی اسکالرز کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے حتی کہ ڈاکٹر ہیوجے شون فیلڈ جیسے چوٹی کے اسکالرز بھی ان کے علم کے متعلق لکھتے ہیں کہ "مجھے یقین ہے کہ ہائم مکابی کے مقدس پولس کے متعلق نظریات قابل فکر ہیں"۔ زیر نظر تحریر بھی ہائم مکابی کی کتاب The myth maker Paul and The Invention of Christianity کے باب Jerusalem Church, Peter, Paul & Jamesکا سلیس ترجمہ ہے جس میں انہوں نے یسوع کے مقدس پطرس کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اس کی تکمیل کی صورتحال کی غیرروایتی دلچسپ تصویر پیش کی ہے اور عہدجدید کے اس پہلو کا اس انداز سے جائزہ لے کر حقائق کو متعارف کروایا ہے جس سے اس سے قبل قارئین عہدجدید روشناس نہ تھے۔ اس طویل مضمون کا ترجمہ محترمہ صبا خان صاحبہ(جھنگ)اور بندہ ناچیز کی مشترکہ کاوش ہےاوراس ادنی سی کاوش کو میں اپنے محسن، مرشد اور مربی محترم جناب ظفر اقبال صاحب مدظلہ کی طرف منسوب کرتا ہوں جن کی رہنمائی اورمحبت و شفقت کے باعث ہم یہ ترجمہ کرنے اور آپ کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہوئے۔ترجمہ کرتے ہوئے اگر کوئی غلطی آپ کے سامنےآئے تو ضرور نشاندہی کیجئے گا۔آپ کا مشکور ہوںگا۔
        آپ کا رفیق
       عبداللہ غازیؔ
اس تحریر کو پی ڈی ایف میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

یقیناً ہم یہاں فریسی ازم کی ابتدائی کلیسیاء میں امتیازی حیثیت پر مزید توجہ دیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی ملحوظ رکھیں گے کہ خود یسوع نے اس بارے میں کیا بتایا ہے؟
اعمال کی کتاب اس بات کی گواہ ہے کہ ابتدائی کلیسیاء خود بھی ایک نئے مذہب کے بجائے یہودیت ہی کی ایک شاخ کی حیثیت سے شناخت رکھتا تھا۔ اس کے جمیع ارکان مکمل سرگرم یہودی ہی تھے جو شریعت کے تمام قوانین بشمول ختنہ، خوراکی پاکیزگی کا نظام، سالانہ عبادتی تہواروں کی مکمل پاسداری کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ قربانی ادا کرنے کی غرض سے کثرت سے ہیکل میں حاضر ہوتے (اعمال 2:46) اور ہیکل کے احاطے میں داخلے سے قبل غسل کرنے کی ہدایت کے ذریعے مذہبی ارکان کی پاکیزگی کے ضابطے پورے کرنے میں احتیاط برتتے ہوئے ہیکل کی رسومات کی بہت زیادہ تعظیم کرتے نظر آتے ہیں۔ درحقیقت ان کی ہیکل کی رسومات کی ادائیگی بالکل فریسیوں کی طرح دیگر سرگرم یہودیوں سے بہت اوپر جاتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب فقط اعمال کی کتاب کے متن سے ہی ظاہر نہیں ہے بلکہ کلیسیائی روایات میں بھی موجود ہے اور خصوصی طور پر یعقوب برادر یسوع کی طرف منسوب کی گئی ہیں جو کہ ہیکل میں حاضر ہونے کے معاملات میں یروشلم چرچ کے سربراہ تھے۔ (Hegesippus, quoted by Eusebius, Ecclesiastical history, 2.23) کچھ علماء اس شہادت کو خلل ڈالتے ہوئے پاتے ہیں کہ یہ نتیجہ اعمال کی کتاب کی سادہ سی وضاحت میں شک ڈالنے کی کوشش ہے۔ یہ زوردار مثال ہے اس غیر تعصبانہ مظاہرہ کی جو عہد جدید کے نئے دور کے علماء میں بہت عام ہے۔ ایک مقدس تشکیک جو اپنے علم کے متعلق ان کے ذہن میں جگہ بنا چکی ہے جہاں متن کی قبولیت عیسائیت کے مقررہ عقائد کے خلاف چلتی ہے۔ مسیحی علماء متن کے بارے میں شکوک و شبہات میں جانے اور زیرِ بحث متن کی تاریخی حقیقت کو جھٹلانے کے لیے بھی تیار ہیں ۔ کبھی کبھی غیر مسیحی عالم عہد نامہ ِ جدید کے متن کو قبول کر لیتے ہیں اور یہ پچھلی نسلوں میں ہونے والی حیران کن تبدیلی ہے۔
ہیکل کے لیے عقیدت اور خلوص کا ایک منطقی نتیجہ یہ بھی تھا کہ ابتدائی کلیسیاء کے زعماء نے خود کو کبھی کاہن نہیں گردانا تھا، نئے مذہب کی بنیاد رکھنے کی ایک نشانی نئی کہانت کی زیرِ نگرانی ادا کی جانے والی رسومات (ساکرامنٹ) بھی ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسیحیت میں عشائے ربانی کی بنیاد رکھی گئی اور اس رسم کا انتظام کرنے کے لیے ایک نئی کہانت کی بنیاد بھی رکھی گئی، جس کے نتیجہ میں مسیحیت یہودیت سے بالکل الگ ایک نیا مذہب بن گیا۔ لیکن ابتدائی کلیسیاء میں ایسا نہیں ہوا تھا۔ اعمال کی کتاب اس کا ثبوت ہے کہ یروشلم کے چرچ میں عشائے ربانی کی رسم کا کوئی تصور نہ تھا۔ اور اعمال کی کتاب کے اس ثبوت کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے جو Didach( یروشلم چرچ کی ابتدائی دستاویز کا ایک بڑا حصہ) میں آیا ہے اور شراب اور روٹی کی ایک رسم کے بارے میں تفصیل فراہم کرتا ہے (یہ عشائے ربانی سے بالکل مختلف رسم ہے) لیکن اس میں شراب اور روٹی کو یسوع کے خون اور جسم سے تشبیہ نہیں دی جاتی تھی۔اور یوں جو رسم بیان کی گئی ہے وہ سادہ یہودی قدوش Qiddush ہی ہے جو کہ سبت یا تہوار کے کھانوں سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔ عشائے ربانی کا سب سے پہلا بیان پولس کے (cor.11.23.30 (کرنتھیوں کے نام خطوط میں آتا ہے۔ اور اس کے الفاظ اس بات کی واضح طور پر تشریح کرتے ہیں کہ اس نے عشائے ربانی کے بارے میں ہدایات یروشلم چرچ کی روایات سے نہیں لیں بلکہ آسمانی یسوع سے الہامی صورت میں براہِ راست گفتگو کر کے لی ہیں،جس الہام میں عشائے ربانی کا قیام یسوع کےزریعہ ان کے آخری کھانے کے وقت ہوا۔ پولس کا یہ غیر مادی صورت کا الہام مختصر انجیل کے لکھنے والوں نے یسوع کے آخری کھانے کے عنوان کے تحت بہت سے متضاد طریقوں سے بیان کیا ہے۔ انجیل کے آخری کھانے کے بارے میں سب سے طویل بیان یوحنا انجیل نویس کا ہے جس نے عشائے ربانی کے بارے میں سب کچھ حذف کر دیا ہے۔
مندرجہ بالا بحث کا واضح نتیجہ یہ ہے عشائے ربانی کی رسم تاریخی حقائق کے اعتبار سے یسوع کی قائم کردہ نہیں ہے اس لیے یسوع مسیحیت کو یہودیت سے الگ مذہب بنانے والے نہیں ہیں۔یسوع کے مطابق یہودی ہیکل کی رسمیں ہی، جو خاندانِ ہارون کے کاہنوں کی زیر نگرانی ادا کی جاتی تھیں، قابلِ عمل تھیں اور کسی نئی رسم کے زریعے ان کاہنوں کی کہانت یا ہیکل کو منسوخ نہیں کیا گیا تھا۔( اس کوڑھی کو ہیکل میں شرع کے مطابق قربانی ادا کرنے کے لیے کہتا ہے جسے اس نے شفاء دی تھی ، متی 8:4'' جب انہوں نے عبادت گاہ کی اصلاح کی کوشش کی تو ہیکل سے صرافوں کا خاتمہ کیا ، ان کا یہ عمل فقط اس لیے تھا کہ وہ (صرافے) اس عمل سے خدا کے گھر کی بے حرمتی کر رہے تھے۔ اس سے یسوع کی ہیکل کے لیے احترام کے وضاحت ہوتی ہے نہ کہ بے ادبی کی، جیسا کہ اس واقعہ سے کچھ لوگوں نے محسوس کیا ہے۔)
عشائے ربانی کے مؤسس یسوع نہ تھے بلکہ پولس تھا اور یہ عمل اس الہام پر مبنی تھا جس میں آسمانی یسوع نے اسے اس رسم کے بارے میں ایک نئے مذہب کے بانی کے طور پر ہدایات دیں، اور پولس اپنے آپ کو یروشلم چرچ کے ان قائدین سے بدرجہا بہتر سمجھتا تھا جن کا زمینی یسوع کے ساتھ قریبی تعلق رہا تھا لیکن پولس کی طرح ان کو آسمانی یسوع سے مسلسل ہدایات نہیں ملتی تھیں۔ پال اپنے خط میں اپنے مقام کو واضح کرتا ہے لیکن اعمال کی کتاب بھی یروشلم چرچ اور پولوسی چرچ کے درمیان تسلسل کے تحفظ کے لیے مضطرب نظر آتی ہے، اور رسولوں کے ساتھ برابری دینے کے لیے پولس کے مقام کو گھٹاتی ہے اور رسولوں، خاص طور پر پطرس کی تصویر کشی ، یسوع کے ارادوں کو سمجھنے کی کمی پر آہستہ آہستہ قابو پانے والے اور پولس کے مقام تک ترقی پانے والے کے طور پر کرتی ہے۔
پطرس کی پولس کے مقام تک پہنچنے کی مبینہ تعلیم کی کلید پطرس کے خواب کی ایک قسط اعمال باب 10میں بیان ہوئی ہے جس میں وہ دیکھتا ہے کہ
جِس میں زمِین کے سب قِسم کے چَوپائے اور کِیڑے مکوڑے اور ہوا کے پرِندے ہیں۔ اور اُسے ایک آواز آئی کہ اَے پطرس اُٹھ! ذبح کر اور کھا۔ مگر پطرس نے کہا اَے خُداوند! ہرگِز نہِیں کِیُونکہ مَیں نے کبھی کوئی حرام یا ناپاک چِیز نہِیں کھائی۔ پھِر دُوسری بار اُسے آواز آئی کہ جِن کو خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے تُو اُنہِیں حرام نہ کہہ۔
اعمال باب 10 فقرات 12 تا 15
اس کہانی کا نتیجہ یہ نہیں ہے کہ غذا کے بارے میں قوانین ختم ہو گئے ہیں، کیونکہ اس بات کو تو بہت محتاط طریقہ سے واضح کر دیا گیا ہے کہ ناپاک جانور مشرکوں کا استعارہ ہیں، جن کو بغیر امتیاز کے مسیحیت کی تحریک میں داخل کیا جانا ہے۔ بلکہ زیادہ دلچسپ امرتو وہ ہے جس کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا ہے ، اور وہ یہ کہ پطرس ایک مکمل باعمل یہودی ہے، جس کا یسوع کے ساتھ تعلق ایسا مضبوط تھا کہ اس رابطہ نے اس کو پاک اور ناپاک جانوروں کے قوانین سے کبھی لاپرواہ ہونے نہیں دیا۔ اگر یسوع نے تورات کو منسوخ کر دیا تھا تو پطرس اس سے اتنا بے خبر کیسے رہا ؟ یا ( اگر اس کہانی کو غیر تاریخی سمجھا گیا ہے) اعمال کے لکھنے والے نے کیسے اس بات کو غیر اہم سمجھا ہے کہ اس مقام پر پطرس شریعت کی منسوخی کے کسی بھی عقیدے سے لاعلم ہے ؟ اگرچہ اعمال کا مصنف پطرس کے رویے میں بتدریج تبدیلی کو بیان کرنا چاہتا ہے ، لیکن وہ کسی بھی ایسی تبدیلی کو بیان کرنے کی جرات نہیں کرتا جو اس میں یسوع کے ساتھ تعلق کی وجہ سے آئی اور جس نے (ان کی سوچ کے) برخلاف اس کو ایک مکمل باعمل یہودی بنا دیا۔
لیکن کیا یسوع نے یہودیت کے غذا سے متعلق قوانین کو صراحتاْ منسوخ نہیں کیا؟ جب ان کا فریسی علماء کے ساتھ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے معاملے کے بارے میں تصادم ہوا(متی۔15 مرقس 7) انہوں نے کہا کہ نجاست اس سے آتی ہے جو منہ سے باہر آتا ہے نہ کہ اس سے جو منہ کے اندر جائے۔اور مرقس کی انجیل کے مصنف نے اس میں اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ اس طرح انہوں نے ہر کھانے کی چیز پر پاک ہونے کا حکم لگایا ہے (مرقس7،19)( یونانی کےاس، کسی قدر دقیق جملےkatharizon panta ta bromata'' کا یہ ترجمہ RV اور NEB اور دوسرے تراجم میں ملتا ہے، جو کہ چرچ کی روایات پر مشتمل ہے) یہ الفاظ متی کے اسی کے متوازی متن میں مفقود ہیں، اور زیادہ تر علماء اس کو مرقس کی انجیل کی تشریحاتی اشاعت تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس جملے کا NEB ترجمہ شاید غلط ہے. یسوع کا مذاکرہ اس کے بجائے یہ ترجمہ بتاتا ہے ۔ یہی وہ وجہ ہے کہ جو بھی ہم کھاتے ہیں وہ پاک ہوتا ہے جو کہ جسمانی صفائی کے پچھلے موضوع کو تسلسل دیتا ہے اور خود یسوع کے ہی سابقہ خیالات کا خلاصہ ہے۔ اگر یہ ترجمہ درست ہے تو ان سب کے بعد یہ جملہ شاید بعد میں آنے والی تشریحی ادارتی اشاعت نہ ہو۔ تب اس متن کو اس بات کے ثبوت کے حوالے کے طور پر نہیں دیا جا سکتا کہ یسوع نے یہودیت کے غذا کے متعلق قوانین کو منسوخ کر دیا تھا۔ اور یہ کسی بھی صورت میں متعلقہ مواد کے ساتھ مطابقت کی کمی کی وجہ سے بھی مشکوک ہو سکتا ہے، اس لیے کہ یہ مضمون کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے بارے میں ہے نہ کہ خود طعام کے بارے میں۔ جو تشریح اس جملے کی کی گئی ہے وہ اس کے بعد صرف اسی بات کی گواہی دیتی ہے کہ پولس کے چرچ کے اراکین خود ہی تورات کے قوانین کومسترد کر کے اس کو یسوع کے ساتھ منسوب کرنے کے متمنی ہیں۔ پطرس کے خواب والا واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع نے اس کو اپنے قواعد کے بارے میں کوئی ایسی ہدایات نہیں دیں، اور اس نے ہمیشہ غذا کے متعلق قوانین پر اس قدر احتیاط سے عمل جاری رکھا ہے کہ پطرس خواب میں بھی اس خیال سے خوفزدہ ہے کہ اس کو ان قوانین کی خلاف ورزی کا کہا جا رہا ہے۔
لیکن بلا شبہ تمام انجیلوں میں ایک مشہور واقعہ مذکور ہے جو اس دعویٰ کی مخالفت کرتا ہے کہ یسوع نے کسی نئے چرچ کی بنیاد نہیں رکھی، اور ان کا یہودیت، اس کے شعائر ِ مقدسہ، اور اس کی کہانت کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہ تھا؟ عیسائی کہانت کا مکمل شعبہ خاص طور پر پاپائیت، کی بنیاد اس واقعہ کی سند پر ہے (متی باب 16 فقرات 15 تا 19) جس میں یسوع پطرس کا تقرر ایسی چٹان کی مانند کرتے ہیں جس پر انہوں نے کلیسیاء کی بنیاد رکھی. پطرس ہارونی کاہن نہیں تھا اس لیے اس کے نامزد ہونے سے وہ سابقہ کہانت منسوخ ہو گئی جو موسی کے بھائی ہارون کی اولاد میں موروثیت کی طرز پر قائم تھی۔ درحقیقت یہ واقعہ عشائے ربانی کا ایسی رسم کے مثل ذکر نہیں کرتا جس نے اُن رسومات کی جگہ لے لی جو ہارونیوں کو تفویض کی گئی تھیں،لیکن یقینی طور پر یہ ایک نئی کہانت کا اعلان تھا جو موروثی نہیں بلکہ رسولی جانشینی کی بنیاد پر تھی۔
کچھ علماء کی رائے ہے کہ یہ واقعہ جعلی ہے جس کا مقصد رومی کلیسیاء کو پہلے پوپ پطرس کا قانونی جانشین ظاہر کرنا ہے۔ میں (مصنف) اسکے برخلاف یہ سمجھتا ہوں کہ اس واقعہ کو انتہائی مستند اور تاریخی بنیادوں پر بیان کیا گیا ہے۔ اس مضمون کی اہم وجہ اس بات کا اعتماد بھی ہے کیونکہ یہاں مکمل طور پر یہودی رنگ غالب ہے۔ اس میں بہت سی ایسی باتیں شامل ہیں جو یہود دشمنی کو ظاہر کرتی ہے (وہ یہ کہ بظاہر یونانی کے بجائے عبرانی و آرامی محاوروں کو خصوصیت سے شامل کیا ہے) یہ انتہائی ناپسندیدہ امر ہے کہ یہ واقعہ غیر یہودی متصرفین کے ذریعے داخل کیا گیا ہو۔
اس کے باوجود اس مضمون کے ذریعے مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ یسوع کسی مسیحی کلیسیاء کی بنیاد نہیں رکھ رہے تھے اور نہ ہی پطرس کو پہلا پوپ مقرر کررہے تھے۔
عہد جدید میں شامل ایک لفظ ecclesia کا ترجمہ عموما "کلیسیاء" کیا جاتا ہے. یہ لفظ ایک سے زائد مرتبہ عہد جدید میں مذکور ہے جہاں اس کے معنی "فرقہ" کے ہیں۔ بہت بعد میں مترجمین عہد جدید نے اس کا مخصوص ترجمہ کیا جو کہ مخصوص مسیحی تنظیم کے معنوں میں تھا. لیکن جب یسوع مقدس پطرس سے یہ کلمات (تُو پطرس ہے اور میں اِس پتھّر پراپنی کلیسیا بناؤں گا ) کہہ رہے تو ان کے مافی الضمیر ایسا کوئی مقصود معنی نہ تھا۔ ان الفاظ سے یسوع کا مطمع نظر کوئی نیا مذہب قائم کرنے کے بجائے عمومی معنوں میں فقط ایک مذہبی فرقے کی تشکیل تھی۔ چونکہ یہودیت میں بہت سے فرقوں کا وجود تھا جن کا یہودیت سے کسی خاص نوعیت کا تعلق نہ تھا۔ لہٰذا پاپائیت کے نظام کی تائید کے لیے مفسرین نے اس لفظ "کلیسیاء" کا ایسا معنی لوگوں کے ذہن میں منتقل کیا جو یسوع کے وقت میں ہرگز نہ تھا۔
لیکن یسوع کےمافی الضمیر "کلیسیاء" سے کیا مراد تھی؟ اور انہوں نے چٹان کی اصطلاح کیوں استعمال کی؟ یہ واضح طور پر قیادت سونپنے کا بیان ہے لیکن کیا یہودی تہذیب و روایات میں ہم ایسے کوئی تمثیل پا سکتے ہیں؟
بہرحال یہاں مزید ضروری اور پیچیدہ سوال ہے جو اس سارے واقعے کو انتہائی مشکوک بنا دیتا ہے۔ اگر یسوع یہاں تمثیلی انداز میں پطرس کا تقرر اس "کلیسیاء" کے سربراہ کے طور پر سے کررہے تھے تو ایسا کیوں ہے کہ ابتدا میں چرچ کی قیادت پطرس کے بجائے یعقوب برادر یسوع کو ملتی ہے؟ اس سوال کا جواب جہاں مکمل اولین کلیسیاء اور اس کا یسوع سے تعلق پر روشنی ڈالے گا وہیں یہ یسوع کے مقاصد اور اس کا یہودیت سے برتاؤ کی بھی وضاحت کرے گا.
وہ پورا واقعہ فقط متی کی انجیل (متی باب 16 فقرات 15 تا 19) میں ہی پایا جاتا ہے جہاں یسوع پطرس کا تقرر بطور چٹان کرتے ہیں.
اُس نے اُن سے کہا مگر تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ شمعُون پطرس نے جواب میں کہا تُو زِندہ خُدا کا بَیٹا مسِیح ہے۔ یِسُوع نے جواب میں اُس سے کہا مُبارک ہے تُو شمعُون بریوناہ کِیُونکہ یہ بات گوشت اور خُون نے نہِیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تُجھ پر ظاہِر کی ہے۔ اور مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں کہ تُو پطرس ہے اور میں اِس پتھّر پراپنی کلیسیا بناؤں گا اور عالمِ ارواح کے دروازے اُس پر غالِب نہ آئیں گے۔ میں آسمان کی بادشاہی کی کُنجیاں تُجھے دُوں گا اور جو کُچھ تُو زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھیگا اور جو کُچھ تُو زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھُولے گا۔
(متی باب 16 فقرات 15 تا 19)
اس واقعہ کا عبرانی بائبل میں موجود واقعہ سے موازنہ کافی معلومات فراہم کرتا ہے جہاں یسعیاہ نبی شنباہ کو نبوت کرتے ہیں کہ الیاقیم نامی ایک شخص عنقریب حزقیاہ بادشاہ کی جگہ مقرر ہوگا۔
اور اس روز میں اپنے بندے الیاقیم بن حلقیاہ کو بلاؤں گا اور تیری پوشاک پہناؤں گا اور تیرا کمربند اسے باندھوں گا اور تیرا عہد اس کے ہاتھ میں دوں گا اور وہ یروشلم کے باشندوں اور یہودہ کے گھرانے کا باپ ہوگا اور میں داؤد کے گھر کی کنجی اس کے کندھے پر رکھوں گا اور وہ کھولے گا تو کوئی بند نہ کرے گا اور وہ بند کرے گا تو کوئی نہ کھولے گا۔
یسعیاہ باب 22 فقرات 20 تا 23)
یہ پورا واقعہ پطرس کے انجیلی تقرر میں چند غیرمعمولی مشابہتیں ظاہر کرتا ہے جہاں چٹان ہونے کے بجائے الیاقیم کیل کی طرح مضبوط جگہ میں قائم ہے، لیکن مضبوطی کی تشبیہ یکساں ہے۔ "آسمان کی بادشاہت کی کنجیاں" دینے کے بجائے الیاقیم کو "داؤد کے گھرانے کی کنجیاں" دی گئیں۔ یہ آخری بیان مشابہت سے زیادہ ظاہر ہوسکتا ہے کیونکہ آسمان کی بادشاہت دراصل داؤد کے گھرانے کے متماثل ہی تھی۔ یسوع نے یہاں وہی اسلوب بیان استعمال کیا ہے جو وہ تمثیلی انداز میں آزاد اسرائیل کے لیے استعمال کرتے تھے، یسوع کو اسرائیل کی آزادی جو کہ درحقیقت خدا کی بادشاہت تھی، کی امید تھی کہ آزاد اسرائیل کی سرزمین رومی قانون کے زیرتسلط ہونے کے بجائے خدا کے قانون (خدا کی بادشاہی) کے ماتحت ہوگی۔ یسوع پطرس کو اس ملک کے بادشاہ کی حیثیت سے مقرر کررہے تھے جس کا سربراہ دوسرا داؤد ہوگا. یسوع خود بھی اپنے باپ داؤد کے تخت کا وارث ہونے کا جواز رکھتے تھے۔ یہ معاملہ وضاحت طلب ہے کہ یروشلم چرچ کے سربراہ یسوع کے جانشین پطرس کے بجائے یعقوب کیسے بن گئے؟ ایک بادشاہ کا جانشین وزیر اعظم کے بجائے اس کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں، اگرچہ وزیراعظم بھی نئے بادشاہ کے ماتحت اپنی خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔ یہ نقطہ اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ یروشلم چرچ کی قیادت میں یعقوب کے بعد آنے والے بھی یسوع کے قریبی رشتہ دار ہی تھے۔ یسوع کی تحریک ایک نئے مذہب کے بجائے بادشاہی تحریک تھی جس کا مقصد قدیم یہودی بادشاہت کی بحالی تھا، یہودیت سے الگ تھلگ بطور نئے مذہب کے، مسیحیت کا بانی یسوع کے بجائے پولس تھا۔
الیاقیم اور پطرس کو دیئے گئے عہدوں کے درمیان مشابہت بہت نمایاں ہے. ایک طرف پطرس سے کہا گیا کہ " جو کُچھ تُو زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھیگا اور جو کُچھ تُو زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھُولے گا۔ " تو دوسری طرف الیاقیم سے کہا گیا کہ" وہ کھولے گا تو کوئی بند نہ کرے گا اور وہ بند کرے گا تو کوئی نہ کھولے گا۔باندھنے کی اصطلاح ربائی تمثیلی بیان میں منع کرنے کے لیے اور کھولنا کا معنی اجازت دینا ہے۔ یہ ایک بےحد واضح سامی اصطلاح ہے جو اس قضیہ میں موجود ہے۔
یسوع کی کیا مراد تھی جب وہ پطرس سے کہہ رہے تھے کہ جو کچھ وہ زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھے گا اور جو کُچھ وہ زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھُولے گا؟یہاں آسمان کی اصطلاح خدا کے ہم معنی میں نہیں ہے (جیسا کہ ایک عمومی ربائی بیان میں پیچھے آسمان کی بادشاہی کے لیے استعمال ہوا ہے) یہاں اس کا مطلب خدا کا گھر ہے. آسمان کی بادشاہت کی کنجیوں کا پطرس کو جانشین بنانے کے معنی مسیحی قارئین خلط مبحث کرتے ہوئے یہ اخذ کرتے ہیں کہ پطرس ایک نگہبان فرشتے کی حیثیت سے جنت کے دروازے پر یہ فیصلہ کرنے کے لیے مامور ہے کہ کون اس میں داخل ہوگا اور کسے رد کردیا جائے گا). لیکن یسوع پطرس کو ایسے فیصلے کرنے کا اختیار کیسے دے سکتے تھے کہ جس کو خدا کو بھی قبول کرنا پڑے؟ کیا یہ پطرس خدا سے بڑھ کر بلند مرتبت اور مافوق الفطرت ہستی ہے؟
ہم اس معاملے کو ربائی تصنیفات کی مدد سے سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ربائی تحریر یسوع کا پطرس کو عہدہ دینے کے معاملے سے تعلق رکھتی ہے مشہور ربی جوشوا بن حننیاہ جس نے اس تاریخ کے بارے میں جو انہوں نے اس سال کفارے کے دن کے لیے مقرر کی تھی، اس مسئلہ پر گملیل ثانی کی عدالت کے فیصلے سے شدید اختلاف کیا۔ (یہ اس دور میں ہوا جب وہاں کوئی خاص کلینڈر مقرر نہ تھا اور مہینوں کے آغاز کا فیصلہ چاند دیکھ کر کیا جاتا تھا)
ربی گملیل نے ربی جوشوا کو بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں کفارے کے دن اپنے ہرکاروں اور نذرانوں کے ساتھ میرے پاس آنے کے لیے مقرر کرتا ہوں۔ ربی عقیبہ، ربی جوشوا کے پاس گیا تو اسے حیران و پریشان پایا۔ اس نے اسے کہا :میں تمہیں کتاب مقدس سے سمجھا سکتا ہوں کہ جو کچھ گملیل نے فرمایا بالکل درست کہا ہے کیونکہ ایسا ہی لکھا ہے خداوند کی عیدیں جن کا اعلان تم کو مقدس مجمعوں کے لیے وقت مقرر پر کرنا ہوگا وہ یہ ہیں (احبار 23:4) خواہ ان کی آمد خاص موسموں میں ہو یا نہ ہو۔ میں جانتا ہوں کہ ان کے علاوہ کوئی بھی عید محفوظ نہیں رہی ہے۔ ربی جوشوا اسکے بعد ربی دوسا بن ہرکیناس کے پاس کیا (جو پہلے ہی ربی گملیل کے فیصلوں سے اختلاف رکھتا تھا) اور اسے کہا : اگر ہم ربی گملیل کی عدالت کے فیصلوں کی شرعی حیثیت کی جانچ پڑتال کریں گے تو پھر ہمیں ہر اس عدالت کے فیصلوں کی شرعی حیثیت کی تفتیش کرنی پڑے گی جو موسی کے دور سے اب تک قائم ہوئی ہیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں اور اپنے نذرانے ساتھ لیے اور جبناہ کی طرف ربی گملیل سے ملنے اس وقت روانہ ہوا جو کہ اس کے حساب سے کفارے کا دن تھا۔ ربی گملیل نے کھڑے ہوکر اسکے سر کا بوسہ لیا اور کہا : سلامتی میں رہو میرے استاد، میرے شاگرد میرے استاد تم دانائی و حکمت میں ہو اور میرے شاگرد اس لیے کہ تم نے میری بات کو قبول کیا۔ (m. Roz. Hash. 2.9,Danby's translation )
یہاں ہم یہ نظریہ دیکھتے ہیں کہ خدا نے ربائی عدالت کا فیصلہ خارجی طور پر درست یا غلط ہونے کے امکان کے باوجود قبول کر لیا۔ جب یسوع نے پطرس کے بارے میں یہ اعلان کیا کہ جو کُچھ تُو زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بندھیگا اور جو کُچھ تُو زمِین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھُولے گا، تو یسوع کے مافی الضمیر مراد یہ نہیں تھی کہ پطرس کو انفرادی حیثیت سے فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے بلکہ اسے ربائی گملیل کی طرح ایسی عدالت کا سربراہ مقرر کرنا تھا جس کے فیصلے کثرت رائے سے منظور کیے جاتے تھے۔ عصرحاضر کا کثرت رائے کا جمہوری اصول تلمود کے واقعات میں بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ اس واقعے میں سب سے حیرت انگیز بات ربائی العزر کا شرعی عدالت کے فیصلوں سے انحراف کی کوشش اور اس کے رائے کے برخلاف کثرت رائے سے ہونے والے فیصلوں کی منسوخی کا خواہاں ہونا دراصل خدا کو اپنی مدد کے لیے پکارنا تھا۔ ایک ہاتف غیبی کی آواز آتی کہ ربائی العزر درست ہے۔ ندائے غیب خلاف قائدہ قانون تھا کیونکہ اکثریت رائے کا اصول خود خدا کی طرف سے قائم کیا گیا تھا جس کو کسی معقولی اختلاف کے بغیر منسوخ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس پورے قصے (جو کہ قرون وسطی میں ہونے والے مسیحی و یہودی مناظروں میں مسیحی دلیلیوں کی طرف سے ملعون قرار دیا گیا) کا نتیجہ یہ تھا کہ خدا ہنسا اور کہا! میرے بچوں نے مجھے مات دے دی ہے۔ اس مبینہ کہانی کے مطابق خدا خوش تھا کہ انسانی عدالت میں اسکے خلاف اسکے حقوق کا حق جتایا ہے۔
اگرچہ انسانی عدالتوں کے فیصلوں میں انسانی اور مغالطہ انگیزی کا امکان موجود رہتا تھا مگر اسکے باوجود بھی یہ خدا کی طرف سے خاص معنوں میں سمجھے جاتے تھے کیونکہ کثرت رائے سے فیصلہ کرنے کا اختیار خدا کی طرف سے ہی دیا گیا تھا۔ اس طرح کے فیصلے غلط ہونے کے باعث بوقت ضرورت اعلی عدالتوں کی طرف سے بدل دیئے جاتے تھے۔ یہ ضابطہ دستور کی ربیانہ اور تخیل پروازی کی صورت ہے جس نے بعد میں مسیحی چرچ کے تیر بہدف نظریات کی ادھوری بنیاد فراہم کی. تاہم یہ بیسویں صدی تک عقیدہ نہ بن سکی۔
پس ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ یسوع کے پطرس کے لیے کہے گئے الفاظ ربائی گملیل ثانی (اعمال میں مذکور گملیل کا پوتا) کی طرح ایک عہدے کی تقرری کے لیے تھے جو کہ اس مجلس کا سربراہ تھا جس میں قانون سازی کی جاتی تھی۔ ربائی گملیل نے بھی اسی عدالت کی صدارت کی جس کے فیصلے خدا کی طرف سے قبول کیے جاتے تھے "جو زمین پر باندھو گے آسمان پر بندھے گا اور جو زمین پر کھولو گے آسمان پر کھلے گا"۔ جب ربائی گملیل کی عدالت نے کفارے کے دن کی مخصوص تاریخ کے تعین کا فیصلہ کیا تو خدا نے بھی بظاہر اس کے غلط ہونے کے باوجود آسمان پر اپنے کلینڈر پر اسی تاریخ پر نشان لگا دیا۔
لہٰذا یسوع کی جانب سے پطرس کی تقرری نہ صرف ایک لسانیاتی (جیسا کہ کھولنے اور باندھنے کے عبرانی اصطلاحی لفظ جو کہ اجازت دینے اور منع کرنے کے معنی میں ہیں) نمایاں خصوصیت کو ظاہر کرتی اور اسے مستند بناتی ہیں بلکہ نظریاتی خصوصیت کو بھی ظاہر کرتی ہے (وہ تصور جس کے مطابق خدا بزرگوں کی انسانی مجلس کے فیصلوں کی پابندی کرنے کا ذمہ دار تھا) جو کہ پطرس کے واقعہ کو ربائی گملیل کی طرح قابل قبول بناتی ہے۔ یہودیوں کے مذہبی رجحانات میں صرف ربائی تحریک اور ان سے قبل فریسی تحریک میں ہی یہ جرات مندانہ تصور موجود تھا کہ خدا نے ان کو خطا پر مبنی فیصلے کرنے کا اختیار دیا تھا۔ وادی قمران کے صحائف جس یہودی فرقہ سے متعلق ہیں ان کے یہاں بھی ایسا کوئی تصور موجود نہیں تھا جیسا کہ ان کے لکھنے والوں کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے جو کہ ربائی مشنا اور تلمود سے مختلف ہے اور فیصلہ کرنے یا ووٹ دینے کا کوئی ماحول اپنے اندر نہیں رکھتے بلکہ وہاں قابل توجیح خیالات کا اظہار مقصود ہے جسے ناقابل تغیر اور مذہبی قائدہ سمجھا جاتا تھا۔
ربائی العزر کے قصے کے بارے میں قرون وسطی کے مسیحیوں کی ملامت کچھ تبصروں کا تقاضہ کرتی ہے یہ واقعہ مسیحیوں کے اس الزام کی توثیق کرتا ہے جس میں ربیوں نے خود ہی صحائف کو منسوخ کرنے کے اپنے حق کو رد کردیا تھا۔ یہاں ربیوں کی اس طرح عکاسی ہوتی ہے جیسا کہ انہوں نے خود خدا کو ہی رد کردیا ہو۔ یہ بالکل کفر تھا اور عہد جدید کے اس بیان کی تصدیق ہے جس میں یسوع فریسیوں کو مجرم ٹھہراتے ہیں کہ " تُم نے اپنی رِوایَت کے سبب سے خُدا کے حُکم کو باطل کردیا ہے"۔ (متی 15:6)
اسکے باوجود عہد نامہ جدید میں نظر آتا ہے کہ فریسیوں اپنی دعاوی میں عاجزی رکھتے تھے کیونکہ یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ یسوع نے ایک خاص قسم کے اختیار کو اپنا کر تعلیم دی جس کے لوگ پہلے سے عادی نہ تھے۔ "
وہ اُن کے فقِیہوں کی طرح نہِیں بلکہ صاحبِ اِختیّار کی طرح اُن کو تعلِیم دیتا تھا" (متی 7:29) یہاں ایک تضاد یہ ہے کہ فریسی پراعتماد ہوکر صحف کو منسوخ کرتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اختیار کا دعوی کئے بغیر تعلیم دی۔ یہ غیر معقول بیان دراصل اس بات پر ایک خفیف عکس ڈالتا ہے۔ ربائیوں کی تحریک نے قانون سازی کا دعوی کیا یا اسلاف کے بنائے گئے قوانین کو بطور روایت منتقل کیا جن میں سے کچھ بظاہر اصل تعلیمات کے خلاف نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہیں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ "آنکھ کے بدلے آنکھ" کے حکم کو لغوی معنی میں نہ لیا جائے بلکہ اسے زخمی کے زخموں کا زر سے ہرجانہ لینے کے معنی میں استعمال کیا جائے۔ اس وقت تک ان کے قوانین بعینہ انسانی سطح پر بنتے تھے اور اگر اتفاق رائے کا ثابت ہونا اکثریت رائے سے ناممکن ہوتا تو بحث و یقین کے ساتھ قبول کیے جاتے تھے۔ یہ اختیار کا طریقہ نہیں تھا اور وہ یہ اعتبار ظاہر کرتے تھے کہ ان کی غیر معتبر طریقہ کار کی روش خدا کی طرف سے منظور شدہ ہے۔ تاہم یہ غیر معمولی بات اتنی باریک تھی کہ مخالفین کی طرف سے اس انداز میں وقعت پا گئی کہ انہوں نے فریسیوں کو خدا کے خلاف اپنے اختیار سے منصوبہ بنانے والا قرار دے دیا۔ اس معاملے میں ان کے سب سے بڑے مخالف صدوقی تھے جنہوں نے روایات کی پیروی کرنے اور کتاب مقدس سے عنقا قوانین وضع کرنے پر فریسیوں پر شدید تنقید کی۔
لیکن یسوع یقیناً صدوقی نہیں تھے ان کا بظاہر صدوقی ہونا متاخرین علماء کی روایات کے خلاف ہے۔ یہ وہی روایات ہیں جو کتاب مقدس کے لغوی معنی پر زیادہ زور دیتیں، اس کی سزاؤں میں تخفیف کرتیں، خواتین کی حالت میں ارتقاء لاتیں اور ہر قسم کی جدت کو قائم کرتی ہیں جیسا کہ جوزفیس نے لغوی معنی کی طرف محتاج صدوقیوں کی سخت مزاجی کا فریسیوں کی رحمدلی کے ساتھ موازنہ کیا ہے (antiquities 13.10.294).
مکمل تحریر >>

اتوار، 25 دسمبر، 2016

کیا یسوع فریسی تھے؟ Was Jesus a Pharisee?

کیا یسوع فریسی تھے؟

مترجمین: صبا خان، عبداللہ غازیؔ


 یہودی و مسیحی علمی حلقوں میں پروفیسر ہائم مکابی جیسے اسکالر کا نام تعارف کا محتاج نہیں، برطانیہ میں یہودی و مسیحی روایات پر انہیں اتھارٹی اسکالرز کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے حتی کہ ڈاکٹر ہیوجے شون فیلڈ جیسے چوٹی کے اسکالرز بھی ان کے علم کے متعلق لکھتے ہیں کہ "مجھے یقین ہے کہ ہائم مکابی کے مقدس پولس کے متعلق نظریات قابل فکر ہیں"۔ زیر نظر تحریر بھی ہائم مکابی کی کتاب The myth maker Paul and The Invention of Christianity کے باب Was Jesus a Pharisee? کا سلیس ترجمہ ہے جس میں انہوں نے یسوع کی انجیلی تصویر کا ایک انوکھے اور دلچسپ انداز سے جائزہ لے کر مستور حقائق کو معروف کروایا ہے۔ اس طویل مضمون کا ترجمہ محترمہ صبا خان صاحبہ(جھنگ)اور بندہ ناچیز کی مشترکہ کاوش ہےاوراس ادنی سی کاوش کو میں اپنے محسن، مرشد اور مربی محترم جناب ظفر اقبال صاحب مدظلہ کی طرف منسوب کرتا ہوں جن کی رہنمائی اورمحبت و شفقت کے باعث ہم یہ ترجمہ کرنے اور آپ کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہوئےاور اسکے ساتھ ساتھ اپنے چند مخلصین دوستوں بھائی محمد مسلم صاحب(رحیم یارخان)اورمحترمہ اسمارہ رفیق صاحبہ (رحیم یار خان)کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے اس ترجمہ کرنے میں رہنمائی ومعاونت فرمائی۔اللہ تعالیٰ انہیں خوب خوب جزائے خیر عطا فرمائے۔
آپ کا رفیق
عبداللہ غازیؔ پی ڈی ایف میں حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کیجئے
گذشتہ مضمون کی روشنی میں یہ سوال بہتر انداز میں پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر فریسی حق شناس اور ترقی پذیر تحریک تھی تو یسوع کیوں شدت سے ان پر تنقید کررہے تھے؟ اس درپیش صورت کا جواب پہلے ہی تجویز کیا جاچکا ہے کہ یسوع نے فریسیوں کو اس طرح سے تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جیسا کہ اناجیل میں پیش کیا گیا ہے بلکہ وہ بذات خود ایک فریسی تھا.یسوع کی مکمل تصویر جو فریسیوں کے ساتھ تراشی گئی ہے یسوع کی موت کے بعد والے اس زمانے کی تخلیق ہے جب مسیحی کلیسیاء فریسیوں کے خلاف تھی کیونکہ ان کا دعوٰی اصل یہودیت کے علمبردار ہونے کا تھا. اناجیل بھج اسی زمانے یا پھر اس سے متصل زمانے کی ہی پیداوار ہیں جو کہ ایسے مواد پر مشتمل ہیں جن کا کچھ حصہ اس ابتدائی زمانے کی فریسی مخالفت میں مرتب ہونے والی تحاریر سے لیا گیا تھا. اگرچہ خود اناجیل میں شامل فریسی مخالف تصویر کا ابطال ممکن ہے جن میں نظرثانی کرنے کے بعد کافی معلومات و ابتدائی واقعات یہ ظاہر کرنے کے لیے داخل کئے گئے ہیں کہ یسوع فریسیوں کا مخالف نہیں تھا بلکہ خود بھی ایک فریسی ہی تھا.
اناجیل میں نظرثانی کا عمل مفروضہ نہیں ہے بلکہ مختلف اناجیل میں یکساں مبینہ واقعات کے تقابل کے ذریعے واضح دیکھا جا سکتا ہے. یہ حقیقت ہے کہ تجدید کے عمل سے ایک کے بجائے چار اناجیل کی اصل کہانی کی تسہیل مقصود تھی بالخصوص جب کوئی اناجیل کے مرتب کے وقت کے اسلوب میں جدید علماء کی آراء و نتائج کو مستحضر رکھے. مرقس کی انجیل سب سے مستحکم و مستند ہے کیونکہ اناجیل میں سب سے قدیم یہی انجیل ہے لہٰذا ہم دیگر متاخرین اناجیل کے ساتھ مرقس کے تقابل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم متعددبار اس انجیل سے حوالہ دے سکتے ہیں۔
ابتدائی مثال کے طور پر ہم مرقس کی کہانی میں یسوع اور فقیہ (فریسی کی متبادل اصطلاح جوکہ متاخرمسیحی دستاویزات اور اناجیل دونوں میں ہی استعمال کی گئی ہے)کے درمیان ایک مکالمہ پاتے ہیں۔
اور فقِیہوں میں سے ایک نے اُن کو بحث کرتے سُن کر جان لِیا کہ اُس نے اُن کو خُوب جواب دِیا ہے۔ وہ پاس آیا اور اُس سے پوُچھا کہ سب حُکموں میں اوّل کَون سا ہے؟ یِسُوع نے جواب دِیا کہ اوّل یہ ہے اَے اِسرائیل سُن۔ خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔ اور تُو خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اوراپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبّت رکھ۔ دُوسرا یہ ہے کہ تُو اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر محبّت رکھ۔ اِن سے بڑا اَور کوئی حُکم نہِیں۔ فِقیہ نے اُس سے کہا اَے اُستاد بہُت خُوب!تُو نے سَچ کہا کہ وہ ایک ہی ہے اور اُس کے سِوا اَور کوئی نہِیں۔ اور اُس سے سارے دِل اور ساری عقل اور ساری طاقت سے محبّت رکھنا اور اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر محبّت رکھنا سب سوختنی قُربانِیوں اور ذبِیحوں سے بڑھ کر ہے۔ جب یِسُوع نے دیکھا کہ اُس نے دانائی سے جواب دِیا تو اُس سے کہا تُو خُدا کی بادشاہی سے دُور نہِیں اور پِھر کِسی نے اُس سے سوال کرنے کی جُراَت نہ کی۔
(مرقس باب ٢٨ :٢٨تا٣٤)
اسی کہانی کا ترجمہ دوسری انجیل میں بھی پایاگیا ہے،جیساکہ مذکور ہے۔
اور جب فرِیسِیوں نے سُنا کہ اُس نے صدُوقِیوں کا مُنہ بند کر دِیا تو وہ جمع ہوگئے۔ اور اُن میں سے ایک عالمِ شرع نے آزمانے کے لِئے اُس سے پُوچھا۔ اَے اُستاد توریت میں کون سا حُکم بڑا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبّت رکھ۔ بڑا اور پہلا حُکم یِہی ہے۔ اور دُوسرا اِس کی مانِند یہ ہے کہ اپنے پڑوسِی سے اپنے برابر محبّت رکھ۔ اِنہی دو حُکموں پر تمام توریت اور انبیا کے صحِیفوں کا مدار ہے۔
(متی٢٢: ٣٤ تا ٤٠)
واقعہ کے دوسرے انداز بیاں میں مکالمہ کا منصفانہ طریقہ بالکل ہی نیست ونابودہوگیاہے۔ فریسی کسی حیرت وتعجب کی وجہ سے یسوع سے سوال پوچھنے نہیں آیا تھاجیساکہ پہلے اندراج میں ذکر ہے(کہ کس طرح اس نے صدوقیوں کا منہ بندکردیا) لیکن اس نے فقط یسوع کا امتحان لینا چاہا تھا۔ پہلے قضیہ میں فریسی سائل یسوع کی تعریف کرتے ہوئے ایک طویل جواب یسوع کو دیتا ہے اور اپنے خود کے تبصرے میں محبت کاقربانی پر فوقیت کے متعلق اضافہ کرتا ہے جبکہ یسوع کی طرف اضافہ کرتا ہے کہ وہ عزت وتہذیب سے جواب دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سائل خدا کی بادشاہت سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ سب دوسری اشاعت سے خارج کردیئے گئے ہیں جوکہ یسوع کی اعلیٰ دانش مندی کے ذریعے حاس فریسی کو لاجواب کرنے کی فقط ایک اضافی داستان ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تنہا یسوع ہی ان دوفقرات کاعبرانی بائبل سے بطور عظیم احکام انتخاب کرتا ہے (ایک تثنیہ شرع کی کتاب سے جبکہ دوسرا احبار سے) جوکہ درحقیقت خود اس کا نظریہ نہ تھا بلکہ فریسی افکار کا مرکزی حصہ تھا۔فریسیوں نے بنیادی مذہبی قائدے کے اصول جو تخلیق کیے تھے اس میں اس کو ”شمع“ کہا گیا ہے(اورآج تک یہودیوں میں استعمال کیاجاتا ہے) جوکہ تثنیہ شرع سے یسوع نے اقتباس کیا ہے۔سُن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے ۔ تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ ۔ یہ حکم فریسیوں میں اس قدر اہم شمار کیا جاتا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ عبادت کی اساسی ذمہ داریوں کی بجاآوری کے لیے ان آیات کو دن میں فقط دوبار ادا کرنا ہی کافی تھا۔(۱) یہ بھی دلچسپ ہے کہ یسوع کے پیش نظر جو آخری جواب فقیہ کو دیا گیا وہ یسوع کی ایجاد نہیں بلکہ فریسی طرز کلام کا حصہ ہے اور ربائی ان آیات کو خدا کی بادشاہت کے ساتھ ایک مضبوط ربط کے طور پر شمار کرتے تھے.
ان کا کہنا تھا کہ ان آیات کی تلاوت خود کو خدا کی بادشاہت میں حلقہ بدوش ہونے کے لیے قبول کرنا ہے. یہ یاد رہے کہ فریسی مکتب فکر میں خدا کی بادشاہت کے دو معنی تھے. اول یہ کہ موجودہ سلطنت یا خدا کی سلطنت یا پھر مستقبل کی خدائی سلطنت جو کہ المسیح کے زمانے میں پوری دنیا میں ہوگی. یسوع کے اس کلام کو سمجھنا قدرے آسان ہے کیونکہ وہ اکثر اس محاورے کو ذومعنی استعمال کرتا تھا. کبھی اس محاورے سے اس کا مطمع نظر مستقبل کے ملکی معاملات تھے جن کی پیشگوئی کے لیے اس کی آمد ہوئی تھی (جیسا کہ توبہ کرو کیونکہ خدا کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے) اور بعض اوقات اِس محاورے سے اُس کی مراد موجودہ خدا کی سلطنت ہوتی تھی جسے ہر بشر نے مجبوراً قبول کیا ہوا تھا (جیسا کہ خدا کی بادشاہت تمہارے درمیان موجود ہے). موجودہ انتخاب میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مؤخر الذکر معانی ہی راجح ہے.
دوسری آیت جو احبار کی کتاب سے یسوع منقول کرتے ہیں وہ " اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جیسے اپنے آپ سے کر تے ہو" ہے. یہ آیت بھی فریسی افکار میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی اور فریسی ازم کے دو عظیم ترین بزرگوں ربائی ہللیل اور اور ربائی اکوبا نے اسے یہودیت کے ایسے اصول قرار دیا ہے جس پر ہر شے منحصر ہے. بےشک اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دیگر قوانین کو یکسر نظرانداز کردیا جائے یا مکمل طور پر ختم کردیا جائے کیونکہ یہ شریعت کا ایک اہم اصول تھا اسکے برعکس شریعت کو بطور مسائل کا حل اور پڑوسی سے محنت کی عملی بجاآوری، روزمرہ زندگی کی پیچیدگیوں میں پڑوسی سے محبت کی کیفیت، کے متعلق رہنمائی دینے والی کے طور سمجھی جاتی تھی. ایسی وضاحت کے بغیر اصول بنا لینا ایسا ہی ہے جیسا کہ فیثا غورث کے مسلمہ اصول کا استعمال ہو جو کسی قوائد متعارفہ کا محتاج ہو. متاخر مسیحی تحاریر اس مقام کی غلط عکاسی کرتی ہیں کہ جب یسوع نے خدا اور پڑوسی کی محبت کا انتخاب کیا تو اس طرح سے اس نے باقی مکمل تورات کو مسترد کردیا تھا. یہاں ایسی فکر کی بظاہر کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ یہاں یسوع کی یہی مراد تھی بالخصوص کہ جب وہ فریسی فقیہ کے ساتھ ایک خوشگوار مکالمہ کررہا تھا. (کم از کم ابتدائی اور کچھ مستند مرقس کی انجیل اسی طرح بیان کرتی ہے).
قربانی کے متعلق فقیہ کی بظاہر تحقیرانہ رائے کو غلط نہیں سمجھنا چاہیے. اُس کا خیال یہ نہیں تھا کہ قربانیاں یا ہیکل کی عبادت کلی طور پر منسوخ ہو جائے گی بلکہ عبرانی نبیوں کے الفاظ کفارے کی قربانی کے بارے میں اس کے ذہن میں مستحضر تھے کہ یہ قربانیاں خدا کے ساتھ سچی توبہ اور تصفیہ نفس کا نشان تھیں. یہودی سال کا سب سے پر جلال دن یوم کفارہ ہوا کرتا تھا، جب ہیکل میں قربانیاں ادا کی جاتیں اور کفارے کا برہ بیاباں میں بھیجا جاتا. ابھی تک یہ فریسی نظریات تھے کہ ان میں سے کوئی بھی حیات بخش رسومات کا اثر بغیر سچی توبہ کے واقع نہیں ہوتا اور پڑوسی کے نقصان کو ادا کئے بغیر بحالی توبہ ممکن نہیں. لہذا فریسی قربانیوں کی ادائیگی کے مخالف نہ تھے (جو کہ مقدس نوشتوں میں مقرر کی گئی تھیں) لیکن وہ ان قربانیوں کو کماحقہ جگہ رکھتے تھے جیسا کہ فریسی ہیکل کی عبادت اور کاہنانہ ذمہ داریوں میں عمومی تعاون کرتے تھے لیکن یہودی مذہب کے تمام تر خاتمے کے لئے اس کے حق میں پائے جانے والے کسی بھی رجحان کے سخت مخالف تھے جبکہ صدوقی اس کا رجحان رکھتے تھے. یہاں یہ فرض کر لینے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ہے کہ یسوع کا رویہ ہیکل کے لیے مختلف تھا.
یسوع اور فریسی کے متعلق واقعے کا تجزیہ دو چیزیں ظاہر کرتا ہے کہ یسوع اور فریسیوں کے درمیان بے ربطگی نہ تھی اور انجیل مرتب کرنے میں تسلسل کے ساتھ نظر ثانی کا عمل اس لیے جاری ہوا تاکہ متاخر اناجیل میں موجود ایک دوستانہ گفتگو کو معاندانہ مکالمے میں تبدیل کیا جائے. اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک غیر متعصب فریسی عکس کے لیے ہمیں ابتدائی انجیل مرقس کی طرف رجوع کرنا پڑے گا. اسکے برعکس انجیل مرقس فریسیوں کے خلاف تعصبانہ رویہ رکھتی ہے لیکن بعد میں آنے والی اناجیل کی نسبت یہ قدیم انجیل مرقس فریسی مخالفت کو ظاہر کرنے کی خاطر کی جانے والی نظر ثانی کا عنصر کم رکھتی ہے.
یہاں ہم انجیلی تفسیر کے ایک اہم اصول پر نقد کریں گے. جب ہم اصل روایت کے خلاف جانے والے حصے کو مدنظر رکھتے ہیں تو احتساب کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے پر اعتماد ہو جاتے ہیں کہ یہ اصل اور مستند روایت کا حصہ ہے کیونکہ اناجیل میں عمومی رجحان فریسی مخالفت کا ہے لہذا وہ روایت یکے بعد دیگرے کی جانے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں مزید سے مزید تر فریسی مخالف ہو جاتی ہے کیونکہ فریسیانہ دوستی پر مبنی کوئی بھی واقعہ بعد کے متون میں شامل نہیں کیا گیا. (تصرف کرنے والوں کا رجحان رہا ہے کہ کچھ جزئیات کو خارج کر دیتے ہیں اور شامل نہیں کرتے) اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعد کی اناجیل ہر واقعہ سے متعلق ہوں کیونکہ مختلف اناجیل بعینہ وہی مواد پیش نہیں کرتیں جو کہ ایک ہی ماخذ سے مستعار ہو. (٣) اسی وجہ سے جب آزادانہ ماخذات سوال میں اٹھائے جاتے ہیں تو مابعد انجیل وہ مواد بھی محفوظ رکھتی ہیں جو کہ ابتدائی انجیل سے مفقود ہے. جب ہم مؤخر انجیل کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ دونوں ایک ہی ذریعے سے حاصل کئے گئے مواد کو محفوظ رکھتی ہیں. یہ صورتحال اوپر دی گئی ہے جہاں یہ واضح ہے کہ فقیہ اور یسوع کے واقعے کی خبر مرقس (جو کہ متی سے قبل ہی اپنی انجیل لکھ چکا تھا) میں پہلے اور متی اس کا ذکر بعد میں کرتا ہے. یہ متی کے مصنف کے ذریعے مرقس میں دی جانے والی خبر کی بنیاد پر ایک موافق تبدیلی ہے.
یہ ابتدائی مثال ان وسیع دلائل کی پیروی کرتی ہے جو ظاہر کرتے ہیں کہ یسوع فریسی ازم کا مخالف نہ تھا بلکہ خود ایک فریسی تھا. یہ بیان اس کتاب کے مرکزی خیال پولس کے موضوع سے متبائن نہیں ہے کیونکہ یسوع کے فریسی ہونے یا نہ ہونا اس سوال سے زبردست تعلق رکھتا ہے کہ کیا پولس فریسی تھا؟
یسوع کی وہ تصویر جو انجیل میں ہے اس کے مطابق فریسی یسوع کو ایذاء پہنچاتے اور اس کو تنگ کرتے تھے. یہ تصویر اعمال میں پولس کی عکاسی کو تقویت دیتی ہے کہ فریسی (مبینہ طور پر پولس بھی فریسی تھا) یروشلم چرچ اور یسوع کے پیروکاروں کو تکلیف دیتے تھے. اگر یہ نظریہ درست ہے کہ فریسیوں نے کبھی بھی یسوع کا تعاقب نہیں کیا اور یسوع خود بھر فریسی تھے تو یہ دعوٰی ناقابل اعتبار ہو جاتا ہے کہ یروشلم چرچ کو ستانے والا پولس دراصل فریسی تھا. پولس کے ہمعصر فریسی سربراہ گملیل کا یروشلم چرچ کے ساتھ رویہ رحمدل اور بردباری کا تھا جس کی معقولی وجہ یہی ہے کہ فریسیوں کے یسوع ساتھ دوستانہ معاملات کا تسلسل تھا. اس کتاب کا تنازع یہ ہے کہ یسوع کو اناجیل میں جس طرح بھی پیش کیا گیا مگر اسکے باوجود وہ ایک فریسی ہی تھا جبکہ مبینہ طور پر ہدایت پانے سے قبل پولس کو ہمیشہ بحیثیت فریسی ہی پیش کیا گیا جو کہ وہ کبھی تھا ہی نہیں. دلائل کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ کس طرح عہدنامہ جدید کے مصنفین کی طرف سے حقائق میں تبدیلی کی گئی ہے. انجیل کے مطابق فریسیوں اور یسوع کے درمیان تنازع کی اہم وجہ یسوع کا سبت کے دن شفاء دینے کا عمل تھا جو کہ مبینہ طور پر فریسی قوانین کے خلاف تھا. انجیل یہ دعوی کرتی ہے کہ سبت کے دن علاج کرنے پر فریسیوں نے یسوع پر نہ صرف تنقید کی بلکہ اس کے باعث یسوع کے قتل کی سازش تک کی. (متی 3:6،متی 12:14) یسوع نے سبت کے دن علاج کرنے کے دفاع میں فریسیوں کے سامنے کچھ دلائل بھی رکھے مثلاً سبت کے دن ختنہ کرنے کی اجازت تھی تو علاج کرنے سے یسوع روکا جاتا ہے. (یوحنا 7:23) یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اگر ہم فریسی قانون کی کتاب سے مدد لیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت سبت کے دن شفاء دینے کی تعلیم دیا کرتے تھے،ہم پاتے ہیں کہ انہوں نے اسے ممنوع قرار نہیں کیا تھا اور وہ یہی دلائل استعمال کرتے تھے جو یسوع نے اس کے جواز کے لیے استعمال کی. یسوع نے کہا کہ "سبت آدمی کے لیے بنا ہے نہ کہ آدمی سبت کے لیے"، انہیں ایک نئی عہد ساز معرفت کی تشبیہ کے طور پر بہت مرتبہ یسوع نے ذکر کیا اور بعینہ یہی لفظ فریسی ماخذات میں پائے جاتے ہیں جہاں اسے انسانی زندگی کے سبت پر فوقیت رکھنے کے فریسی نظریات کی تائید کے لیے کام میں لایا جاتا تھا. انجیل نویس نے یہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یسوع جب ان فریسیوں سے مباحثہ کررہا تھا تو بذات خود فریسی نہ تھا اور اپنے سبت کے دن شفاء دینے کا دفاع کررہا تھا.
سبت کے مخالفین کے اثرات حقیقتاً سبت کے متعلق کہانیوں کی داستانوں میں پائے جاتے ہیں. یہاں یہ بیان ہے کہ سبت کے دن صحتیابی کرنے پر یسوع پر برہم و نالاں فریسی ہیرودیوں کے حامیوں کے حامیوں کے ہمراہ مل کر مخالف چالیں چلنے لگے کہ وہ یسوع کو کس طرح لوگوں سے دور کریں (مرقس 3:6) ہیرودیس کے ساتھی (ہیرودیس اینٹی پاس، جو کہ رومی حکومت کی طرف سے گلیل کا حاکم تھا)سب کے سب سیاسی اور یونانیت زدہ یہودی تھے، ان کا رجحان مذہب میں بالکل کم اور طاقت حاصل کرنے کی طرف زیادہ تھا. فریسی (جو کہ رومی قابضین کی مخالفت کے علمبردار تھے) اور ہیرودیوں کے ساتھیوں میں اتحاد ناممکن تھا لیکن ہیرودیوں اور صدوقیوں میں اتحاد ممکن بلکہ یقینی تھا. جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے کہ صدوقی اگرچہ ایک مذہبی جماعت تھی جو کہ جمود کا شکار اور رومی وزارت کے حصول کے خواہاں تھے. ان کا سربراہ سردار کاہن رومی قابضین کے تحفظ کے لیے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ تھا. اس امر کا زبردست امکان موجود ہے کہ اناجیل کی تصحیح کرنے والوں کی مداخلت کی وجہ سے اصل صدوقی نام کو فریسی نام سے تبدیل کردیا گیا ہو، غالباً ایسا دیگر وقائع میں بھی ہوا ہے جہاں یسوع فریسیوں کے خلاف فریسیانہ نقطہ نظر سے سبت پر ناقابل فہم بحث کررہے تھے. ہم جانتے ہیں کہ فریسیوں کی نسبت صدوقی سبت کے متعلق سخت نظریہ رکھتے تھے. (اگرچہ کوئی صدوقی دستاویز محفوظ نہیں رہی) یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ فریسیوں کے برعکس انہوں نے یسوع کو سبت کے دن علاج سے روکا. ایسے مفروضات جو کہانیاں تشکیل دیتے ہیں وہ ماوراء تفہیم ہیں کہ فریسی یسوع کو فریسی عقائد ہی کی ترویج کرنے کے باعث قتل کرنا چاہتے تھے.
اگرچہ یسوع ان ایام کے سردار کاہن کے مخالف کے طور پر سامنے آتا ہے جو کہ صدوقی تھا لہذا ضروری ہے کہ ان تمام کہانیوں کو محفوظ کیا جائے جس میں یسوع کی تصویر صدوقی مذہبی نظریات کے مخالف کی طرح پیش کی ہے اسکے باوجود یہ واضح ہے کہ یسوع اور صدوقیوں کے مابین تنازع کی اہم وجہ مذہبی کے بجائے سیاسی اختلافات تھے. فریسی دستاویزات میں ان فریسی معلمین کے متعلق متعدد کہانیاں پائی جاتی ہیں جو صدوقیوں کے ساتھ مناظروں میں مصروف رہے. ان مناظروں کا مرکزی عنوان مردوں کی قیامت کا سوال تھا جس پر فریسی یقین رکھتے تھے اور صدوقی اس کے منکر تھے. اسی طرح کی ایک کہانی انجیل میں بھی پیش کی گئی ہے (مرقس باب 12 فقرات 18 تا 27) یسوع کی طرف سے صدوقیوں کو دیئے جانے والے جوابات ان سے کئی گنا زیادہ پیچیدہ ہیں جو فریسی اپنے مباحثوں میں دیا کرتے تھے. غیر یہودی لوگ بھی مردوں کی قیامت کے متعلق فریسیانہ عقیدے کا علم رکھتے تھے اور یہ کہانیاں یسوع اور فریسیوں کو باہم مخالف ظاہر کرنے کے انداز میں مرتب کی گئی ہیں لہٰذا عہد جدید میں تصرف کرنے والوں نے یہاں تبدیلی کیے بغیر یسوع کے فریسی ہونے کی ایک واضح و دلچسپ گواہی چھوڑ دی ہے اگرچہ اناجیل میں اسے اس طرح مباحثہ کرتے دکھایا گیا ہے جیسے وہ فریسی کے بجائے ایسا شخص ہو جس کے خیالات کبھی فریسیوں سے موافق تھے.
ان کہانیوں میں تصرف کرنے والوں کے یسوع اور صدوقیوں کے درمیان مخاصمت کے کیا محرکات تھے کہ انہوں نے صدوقیوں کے بجائے فریسیوں کو مخالف یسوع کے طور پر پیش کیا؟ اس کی وجہ انتہائی سادہ ہے، فریسی یہودیت میں اعلی بالادستی رکھنے والوں کی حیثیت سے معروف تھے جبکہ صدوقی ایسے نہ تھے. حقیقت یہ ہے کہ اناجیل کے لکھنے جانے کے وقت صدوقی اپنی ہر وہ معمولی سی بھی مذہبی شناخت کھو چکے تھے جو ان کے پاس تھی اور فریسی مذہبی اختیارات کے یکتا محافظ تھے. انجیل نویسوں کی حتی الامکان کوشش تھی کہ وہ یسوع کو رومی قابضین کے بجائے یہودی مذہب کے خلاف بطور باغی پیش کریں. اناجیل میں شامل مواد کی متعدد بار تبدیلی کی وجہ یہی ہے کہ مصنفین عہد جدید کا مافی الضمیر ایسی تصویر کی تشکیل دینا تھا جس میں یسوع اور فریسی باہم مخالف ہوں.یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صدوقی رومیوں کے ساتھ معاونت کرتے تھے، یسوع کی اصل مخالفت دراصل صدوقیوں سے تھی جبکہ خالص مذہبی پس منظر پر یسوع کا تاثر بطور رومی مخالف نظر آتا ہے جسے انجیل نویسوں نے چھپانے کی کوشش کی ہے.
درحقیقت یسوع اور فریسیوں کے درمیان کوئی مخالفت نہ تھی جو کہ ان خبر رساں نقوش سے ظاہر ہوتی ہیں جو کہ روایت میں ہی باقی رہ گئی ہے. ایک اہم مثال ہے کہ " اُسی گھڑی بعض فرِیسِیوں نے آ کر اُس سے کہا کہ نِکل کر یہاں سے چل دے کِیُونکہ ہیرودِیس تُجھے قتل کرنا چاہتا ہے" (لوقا13:31) یہ واقعہ تمام مفسرین کے لیے معمہ بن چکا ہے کہ وہ فریسی جنہیں گذشتہ واقعات میں یسوع کے شفائیہ کاموں کے باعث اس کی موت کی کوششیں کرتے پایا گیا ہے وہ اسے تنبیہ کرنے اس ارادے سے آتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی بچا لے؟
کچھ مسیحی مفسرین فریسیوں کی کینہ پرور تصویر محفوظ کرنے کے لیے بےچین نظر آتے ہیں اور ایک ایسا مشکل منظرنامہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں فریسی دہرا معیار کرتے نظر آئیں. وہ یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ یسوع کے لیے گلیل سے زیادہ یروشلم میں خطرہ تھا اس لیے فریسی یسوع کو فرار کرانے کی غرض سے ہیرودیس کے متعلق ایک جعلی تنبیہ کرتے ہوئے راغب کرتے ہیں کہ وہ اپنی موت سے قبل یروشلم سے نکل جائے. حقیقت سے دور یہ تاویل ایک عجوبہ اور بمشکل ہی قابل اعتبار ہے کہ گذشتہ بیان کے مطابق اگر فریسی یسوع کے دشمن تھے تو وہ یہ کیسے امید رکھ سکتے تھے کہ یسوع ان کے ایسے پیغام کو قبول کرے گا جو وہ نیک نیتی کے ارادے سے یسوع کو دے رہے تھے؟
یہ بیان یسوع اور فریسیوں کے درمیان باہمی مواخات کی بیش قیمت شہادت ہے اور ان کا یسوع کو یہ تنبیہ کرنا ہی اس بات کی علامت ہے کہ فریسی یسوع کو اپنی ہی جماعت کا ایک فرد شمار کرتے تھے. زبردست حقیقت یہ ہے کہ یسوع کے ساتھ فریسیوں کے تعلقات کی عمومی تصویر جو اناجیل میں پیش کی گئی ہے یہ کہانی اس کے بالکل برعکس ہے. تاریخی سچائی ہے کہ یہ کہانی اس ترمیمی مواد میں شامل نہیں تھی جو متاخر زمانہ میں انجیل میں داخل کیا گیا، بلکہ یہ شروع سے ہی انجیل میں چلی آرہی تھیں جن کی غلطی سے ترمیم نہیں کی جا سکی.
یہ ایک اہم اور ضروری اشارہ ہے کہ یسوع کی فریسی مخالفت کے متعلق روایات میں سبت کے دن شفاء دینے کا سوال کچھ معنی نہیں رکھتا، حقیقت یہ ہے کہ یسوع کے مقدمہ میں اس الزام کا کہیں ذکر نہیں ملتا. اگر انجیلی بیان کے مطابق یسوع کی سبت کے دن کی سرگرمیاں فریسیوں کی نظر میں بہت بڑا جرم تھا تو یہ فرد جرم اس کے خلاف کیوں شامل نہیں کی گئی جب وہ اپنی زندگی اور موت کے مقدمے میں کھڑا تھا؟ یسوع کے مقدمے میں فریسیوں کی طرف سے بالخصوص کوئی الزام کیوں عائد نہیں کیا گیا؟ جیسا کہ ہم اگلے حصے میں دیکھیں گے کہ یسوع پر کوئی بھی الزام مذہبی نہیں تھا بلکہ تمام الزامات سیاسی نوعیت کے تھے جبکہ اناجیل انہی سیاسی الزامات کو مذہبی رنگ دے کر پیش کرتی ہیں. اگر یسوع کا مقدمہ حقیقتاً مذہبی تھا تو فریسیوں کو اس مقدمہ کی کاروائی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنا تھا جو کہ مبینہ طور پر یسوع کے بدترین معاند تھے.
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ فریسی یسوع کے مقدمے کے وقت یسوع کو اس طرح سے کیوں نہیں بچاتے ہیں جس طرح فریسی سردار گملیل نے یسوع کے شاگرد پطرس کو اس وقت بچایا جب اس پر مذہبی عدالت سے قبل ہی فرد جرم نافذ کر دی گئی تھی؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یسوع کے اس مقدمے میں فریسی حاضر نہ تھے جو خصوصی سیاسی عدالت سے قبل مذہبی عدالت یعنی سنہڈرین میں چلایا گیا تھا جس میں سردار کاہن رومیوں کا قائم مقام اور ہمدرد تھا اور اپنی ہی منظور نظر عدالت کی صدارت کررہا تھا.
سبت کو شفاء دینے کا معاملہ، یسوع اور فریسیوں کے درمیان مخالفت کے تناظر میں ہرگز اہم نہیں ہے. یسوع کی تعلیمات کے نقوش کو اناجیل ایسے انقلابی انداز میں کیوں پیش کرتی ہیں جو اس وقت کی یہودی مذہبی قیادت کے لیے ناقابل برداشت تھیں. یسوع کا دعوی مسیح ہونے سے متعلق کیا تھا؟ کیا یہ فریسیوں کی نظر میں کفر بکنا نہیں تھا؟ ہیکل کو تباہ کرنے کی یسوع کی دھمکی کو اس کے مخالفین نے اس کے خلاف مقدمہ میں بطور دلیل کیوں پیش نہیں کیا؟ موسی کی شریعت کی تجدید یا منسوخ کرنے کے متعلق یسوع کی خواہش کیا تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فریسی مکتبہ فکر کے مطابق ان میں سے کوئی بھی مسئلہ دھمکی کے قائم مقام نہیں ہو سکتا اور بغور مشاہدہ کرنے پر ہم ان تمام معاملات میں یسوع کے نظریات کو خالصتا فریسی اعتقادات کے مطابق پاتے ہیں جو کہ اس بات کی واضح تصدیق ہے کہ یسوع خود بھی فریسی تحریک کے ہی ایک رکن تھے.
یسوع کا المسیح ہونے کا دعوٰی کسی بھی فریسی یا دیگر یہودیوں کی نظر میں کلمہ کفر نہیں تھا کیونکہ مسیح کا لقب خدائی دعوی یا الوہیت کے معنی میں نہیں تھا. مسیح کا سادہ معنی مسیح کیا ہوا ہے جو کہ بادشاہت کا لقب ہوا کرتا تھا. داؤد کے شاہی گھرانے کا ہر یہودی بادشاہ اس لقب کو اختیار کرتا تھا اور یہودی شریعت میں یہ بے ضرر تھا. اس کے برعکس تمام یہودی المسیح کی آمد کی امید پر زندہ تھے جس نے آکر انہیں بیرونی قابضین سے خلاصی دینی اور یہود کی قومی آزادی کو بحال کرنا تھا. ہر وہ شخص جو داؤد کے متبرک گھرانے کو بحال کرنے والے مسیح موعود (جس کی پیشگوئیاں بائبل کے عبرانی انبیاء کرتے رہے) ہونے کا دعوٰی کرتا وہ یقیناً بہت سے پیروکاروں کی ہمدردیاں حاصل کر لیتا. دعوی مسیح کرنے کے وقت یسوع ہرگز یہ دعوی کرنے والا تن تنہا واحد شخص نہیں تھا اور نہ ہی یہ دعوی ایسا تھا جس کی وجہ سے کفر گوئی کا الزام لگایا جاتا. المسیح ہونے کے سارے دعاوی ایک ہی نوعیت کے نہیں تھے، بعض مدعیان المسیح جنگجو تھے جیسا کہ بارکیوبا یا یہوداہ گلیلی جبکہ کچھ المسیح ہونے کا دعوی کرنے والے غیر عسکری ولولہ انگیز جذبہ رکھنے والے تھے جیسا کہ تھیوداس اور مصری (ان دونوں کا ذکر عہد جدید اور جوزیفس(4)نے کیا ہے) انہوں نے معتقدین کا گروہ جمع کرلیا تھا اور پر اعتماد ہو کر ایسے معجزے کے منتظر تھے جس کے ذریعے رومیوں کو زیر و زبر کیا جا سکے. یسوع اسی دوسری قسم کے مدعیان سے تعلق رکھتا تھا اور وہ کوہ زیتون پر ایک معجزے کے ظہور کے لیے پرامید تھا جس کی پیشگوئی زکریا نبی نے کی تھی. (5) کچھ مدعیان المسیح محدود مقاصد کو لے کر اٹھے جن کا مقصود فقط یہودیوں کو رومیوں سے نجات دلانا تھا، انکے برعکس مدعیان بشمول یسوع ایسی آزادی کے متمنی تھے جو پوری دنیا پر مشتمل ہو اور اس عہد میں یہ امن نقیب ہو جائیں جب نبیوں کے مطابق بھیڑیا برہ کے ساتھ آرام کرے گا، لیکن اس کے باوجود ان مدعیان کی کوئی بھی امید کفر گوئی کے رنگ میں نہیں تھی. وہ یہودیت کا ایک کامل حصہ تھے جس میں المسیح کی امید، خدا کی ذات پر یقین کا ایک معقولی نتیجہ تھی جس کی سلطنت ایک دن تمام انسانیت تک وسیع ہوگی.
بہرحال یسوع کی موت کے بعد متاخر مسیحیت میں عبرانی لفظ "مسیح" کا یونانی ترجمہ الوہیت یا خدائی وجود کے معنوں میں ہوگیا اسکے نتیجے میں مسیحیوں نے اس معنی کو قبول کرنے کے لیے آسان پایا کہ یسوع پر کفر گوئی کا الزام لگنے کی وجہ اسکا دعوی مسیح تھا اور اس کے ساتھی یہودی بھی اس دعوے پر حیران تھے. اناجیل یسوع کو ایک الگ ہی مسیانک شپ کے تصور کے ساتھ پیش کرتی ہیں جو کہ دیگر یہودی مدعیان مسیح سے مختلف تھی لیکن حقیقت حال یہی ہے کہ جب وہ المسیح لفظ کو خود کے لیے استعمال کررہا تھا تو اسکے ساتھی یہودیوں کے پاس یہ یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اس کا مطمع نظر اس (لفظ) سے خلاف دستور معنی ہے، خصوصاً جیسا کہ اناجیل کے مطابق وہ اس لفظ کے معانی متعارف کرانے میں بھی محتاط و کم گو تھا لہذا جب اس نے اس لفظ کو سمجھایا تو اس کے شاگرد سمجھ نہ سکے. اس وجہ سے کفر گوئی کا کوئی بھی الزام اس نظریہ پر قائم نہیں ہو سکتا جسے کبھی ظاہر ہی نہیں کیا گیا. بہرحال تاریخ میں ایک خفیہ مسییاح تصور کا اعتقاد کا یسوع کی طرف انتساب فقط بعد میں آنے والے مسیحیوں کی کوشش ہے جس کا یسوع کی موت کے بعد تک کوئی وجود نہیں تھا. یہ بات مزید دلچسپی رکھتی ہے کہ اناجیل متواقفہ میں فریسیوں کے بجائے فقط سردار کاہن کو ہی دعوی مسیح کی بنیاد پر یسوع کو کفر گوئی کا مرتکب قرار دیتے دکھایا گیا ہے. یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یسوع پر لگنے والا الزام کسی طرح بھی مذہبی نہیں تھا بلکہ سیاسی تھا. المسیح ہونے کا دعوٰی کرنا فریسی قانون کی خلاف ورزی نہ تھا بلکہ اس کے معنی بادشاہ ہونا تھا. رومی قابضین یہودی حکومت تہس نہس کر چکے تھے ایسے میں کسی کا بھی المسیح کا دعوٰی کرنا رومی قابضین کے خلاف تخریب کارانہ عمل تھا. سردار کاہن کا تقرر رومی حکومت کی طرف سے ہوا تھا جس کا مقصد روم کے خلاف کسی بھی طرح کی برپا ہونے والی تحریک سے رومی مفادات کی حفاظت کرنا تھا اور یہ اس کے فرائض میں شامل تھا کہ کسی بھی مدعی المسیح کو سزا دینے کے لیے گرفتار کرکے رومی حکومت کے حوالے کرے. اناجیل نے یسوع کو یہودی مذہب کے خلاف بطور باغی پیش کرنے کے طریقہ کار کی پیروی کی ہے اور سردار کاہن کی منظر کشی اس طرح کی یے کہ وہ بغاوت کے بجائے کفر گوئی کے لیے زیادہ فکر مند تھا.
اسی طرح یہ الزام بھی صرف یسوع کے مقدمہ کے وقت فریسیوں کی عدم موجودگی میں ہی سامنے لایا گیا کہ یسوع نے ہیکل کو ڈھانے اور دوبارہ تعمیر کرنے کی دھمکی دی ہے. یہ یقیناً ایک سیاسی الزام تھا نہ کہ مذہبی، کیونکہ فریسی یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ ہیرودیس کا تعمیر کردہ ہیکل آنے والے مسیح کے ایام تک باقی رہے گا. یسوع نے اپنی ساری توجہ ہیکل کی تباہی اور اس کی تعمیر نو پر لگا دی تھی کیونکہ المسیح کا ادعا کرنے والے فرد نے سب سے بنیادی کام جو کرنا تھا وہ یہی تھا. فریسی جو ہیکل کے لیے والہانہ تعظیم نہ رکھتے تھے اور نہ ہی وہ یسوع کے اس ارادے سے خوفزدہ تھے کہ یسوع کا مقصود موجودہ ہیکل کے بانی اول کے طرز کی ایک جدید ہیکل کی تعمیر ہے. وہ لوگ جن سے اس طرح کے ارادے کی وجہ سے پریشانی کی توقع رکھی جا سکتی تھی وہ سردار کاہن اور اس کے ہمراہی ہی ہو سکتے تھے جو مسیح کی سلطنت کی حفاظت کے ذریعے خود کے لیے مکمل کامیابی کی توقع لگائے بیٹھے تھے. یقیناً 66 عیسوی میں برپا ہونے والی یہودی جنگ میں رومی مخالف باغیوں نے سردار کاہن کو برطرف کیا اور رومی اشتراک سے لاوی کے مقدس خاندان سے نئے سردار کاہن کو مقرر کیا. یاد رہے کہ مذہبی کفر گوئی کا جو الزام اناجیل میں پیش کیا گیا ہے یقیناً جمود کے خلاف بغاوت کا ایک سیاسی الزام تھا جس میں حریف ہیکل اور سردار کاہن روم کے آلہ کار تھے.
اناجیل میں یہودیت کی مبینہ تجدید کے حمایتی کے طور پر یسوع کی عکاسی، تجزیہ کرنے پر کسی بھی طرح فریسی نظریات کے خلاف ثابت نہیں ہوتی. اگرچہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ یسوع عبرانی بائبل کی قانونی تعزیرات کے قانون "آنکھ کے بدلے آنکھ" کا مخالف تھا اور وہ خون بہا کے قانون کے بدلے محبت کے قانون کو اس کے قائم مقام کرتا ہے. یہ فریسی ازم میں صورتحال کی بگڑی ہوئی شکل ہے. فریسی آنکھ کے بدلے آنکھ کے بیان کو حرف بحرف شرعی دستور العمل کی طرح نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ اس قانون کو ایسا اصول سمجھتے تھے جو کسی کو ضرر پہنچانے یا زخمی کرنے کے مرتکب کے خلاف مجروح کی تلافی نقصان کے لیے ہو. یقیناً عبرانی بائبل کی شرعی تعزیرات خود ایسے نقصانات کا خون بہا فراہم کرتی ہیں جب صورتحال یہ ہو کہ مضروب کا ہرجانہ اور دوائی کے اخراجات وہ شخص ادا کرے جو اسے زخمی کرنے کا ذمہ دار ہو (خروج 21:19) لہذا یہ واضح ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کا نقدی معاوضہ کے بجائے غیر مہذب تلافی کی طرف رجوع کا رجحان رکھنے کے باوجود فریسی عبرانی بائبل کی خودساختہ تفسیر نہیں کرتے تھے. یسوع کہتے ہیں کہ اگر کوئی مضروب ہو تو بدلہ طلب نہ کرے بلکہ دوسرا گال بھی پیش کردے. اس نے بالکل بھی آزادی کے اس خیال کو زخموں کے معاوضہ کی زمہ داری سے اخذ نہیں کیا جو کہ کوئی عام فرد کر سکتا ہے. معاوضہ وصول کرنے کا تصور فریسی افکار کا بھی حصہ تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کے علاج معالجہ کے بغیر نقصان کے ساتھ شریعت کی رو سے تکالیف کو درگزر کردیا جائے. اس کے برعکس اعلی شخص وہ ہے جو معاف کرنے کے لیے دوسروں کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے قانونی حق کو چھوڑنے کے لیے تیار ہو بالخصوص اس وقت جب وہ خود بھی زخمی ہوا ہو. یہ وہ مقام ہے جہاں خیالات کے الجھاؤ کا تصادم زوروں پر ہے جس میں یسوع کی تعریف ایک محبت کے قانون کو برقرار رکھنے والے شخص کی حیثیت سے کی ہے جو کہ محض فضول گوئی ہے جس کا نتیجہ ایک متشدد اور جبری سماج کا قیام ہے جو کہ ہرگز قابل عمل قرار دیا نہیں جا سکتا. فریسی بھی محبت کے اس قانون پر یقین رکھتے تھے جیسا کہ انکے نظریہ سے جھلکتا ہے کہ خدا اور پڑوسی کی محبت، تورات کے بنیادی اصول ہیں لیکن تمام حقوق کی منسوخی کی بنسبت اس کے حقوق کی حفاظت کے فیصلے سے ایک پڑوسی کی محبت زیادہ ظاہر ہوتی ہے. یہاں یہ فرض کر لینے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ہے کہ یسوع نے ایک احمقانہ نظریہ پیش کیا یا اسکے نظریات دیگر فریسیوں سے مختلف تھے.
یہودی شریعت کی اصلاح کا یسوع سے تعلق، عدم موجود ہے. مرقس 7:19 میں ہم یسوع کو تمام غذاؤں کو پاک قرار دیتے ہوئے پاتے ہیں، لیکن اس مقام کا ترجمہ بہت زیادہ اختلافات رکھتا ہے اور اکثر علماء کا اس حصے کے متعلق خیال ہے کہ یہ مرتبین نے اضافہ کیا ہے. ایک اور مقام پر ہم طہارت کے یہودی قانون کی یسوع سے تصدیق وضاحت کے ساتھ پاتے ہیں جہاں وہ کوڑھی کو شفاء یاب ہونے کی خبر دیتا ہے " جا کراپنے تِئیں کاِہن کو دِکھا اور اپنے پاک صاف ہو جانے کی بابت اُن چِیزوں کو جو مُوسی نے مُقرّر کِیں نذرگُزران تاکہ اُن کے لئِے گواہی ہو" (مرقس 1:43)
پہاڑی وعظ میں ہم یسوع کو ایک مصلح کی آواز میں گفتگو کرتے ہوئے پاتے ہیں جب وہ کہتا ہے "تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا....... مگر میں تم سے کہتا ہوں" یہاں وہ ایک صاحب اختیار کی آواز میں سابقہ تعلیمات کی خود مختاری کو ایک مصلح کی تصریحات کا جواز فراہم کرتا ہے. بہرحال پہاڑی وعظ کا مکمل قصہ متی کی ایجاد ہے (یہ بیان مختلف اقساط کی صورت میں دیگر اناجیل میں بکھرا ہوا ہے سوائے لوقا کے، کہ جہاں یہ خطبہ ایک سادہ اسلوب دھار لیتا ہے جس میں پر شکوہ بلند مرتبت کا اختیار مفقود ہے) سادہ تشریح یہ ہے کہ مصلح کی آواز اس کہانی میں متاخرین مسیحی مرتبین کے ذریعے داخل کی گئی ہے جن کے نزدیک یہ خیال کرنا ناپسندیدہ تھا کہ یسوع نے دیگر فریسی فقہاء کی مانند تعلیم دی ہے.
گندم کی بالیاں توڑنے کا واقعہ ایک دلچسپ قصہ ہے جو ایک بے رحم تورات کے مصلح اور شریعت کی تعمیل سے لاتعلقی رکھنے والی یسوع کی عکاسی کو تقویت دیتا ہے. سب سے پہلے مرقس باب ثانی میں یہ پیش کیا گیا ہے.
اوریوں ہُؤاکہ وہ سَبت کے دِن کھیتوں میں ہوکرجارہاتھا اور اُس کے شاگِردراہ میں چلتے ہُوئے بالیں توڑنے لگے اورفرِیسِیوں نے اُس سے کہا دیکھ یہ سَبت کے دِن وہ کام کِیُوں کرتے ہیں جو روا نہِیں؟ اس نے اُن سے کہا کیا تُم نے کبھی نہِیں پڑھا کہ داؤد نے کیا کِیا جب اُس کو اور اُس کے ساتھیوں کو ضرُورت ہوئی اور وہ بھُوکے ہُوئے؟ وہ کیونکر ابیاترسَردار کاہِن کے دِنوں میں خُداکے گھرمیں گیا اوراس نے نذر کی روٹِیاں کھاہیں جِن کوکھانا کاہِنوں کے سِوا اور کِسی کو روانہِیں اور اپنے ساتھیوں کا بھی دیں؟ اور اُس نے اُن سے کہا سَبت آدمِی کے لیے بنا ہے نہ آدمِی سَبت کے لیے۔ پَس اِبنِ آدم سَبت کا بھی مالِک ہے۔
یہ واقعہ صدوقیوں کے ساتھ ایک حقیقی تکرار کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ زرعی مزدوروں کی تمام اقسام کے بشمول سبت کے دن بالیاں توڑنے سے بھی فریسی منع کرتے تھے لہذا یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے شاگردوں کو سبت کے دن گندم کی بالیاں توڑنے کی اجازت دے کر یسوع یقیناً فریسی قانون کی توہین کررہا تھا. بظاہر نظر آنے والا یہ واقعہ ایسا نہیں جیسا ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ یسوع آخر میں کہتا ہے کہ " سَبت آدمِی کے لیے بنا ہے نہ آدمِی سَبت کے لیے" جیسا کہ پیچھے ذکر ہوا ہے کہ یہ ایک فریسی محاورہ ہے اور یہی سارے واقعے کی تفہیم کے لیے کلید ہے کیونکہ فریسی اس محاورے کو یہ ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے کہ انسانی زندگی کے لیے پر خطر حالات میں سبت کے قوانین کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے. اس پورے مبینہ واقعے میں انسانی زندگی کے لیے ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ سبت کے قانون کو نظرانداز کرکے شاگردوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے لیکن ہم یہاں ایسے کچھ اشارے پاتے ہیں کہ یہ واقعہ انتہائی خطرناک حالات میں پیش آیا تھا.
یسوع خالصتاً فریسی انداز میں فریسیوں کو وضاحت دیتے ہوئے گندم کی بالیاں توڑنے کے عمل کے پس منظر میں کتاب مقدس کا حوالہ دیتا ہے جو کہ داؤد اور نذر کی روٹی کی تقدیس کی خلاف ورزی کی صورتحال ہے اور فریسی دستاویزات میں اس واقعہ کو زندگی کے لیے انتہائی خطرناک حالات میں سے ایک حالت قرار دیا ہے کیونکہ داؤد اور انکے ساتھی بادشاہ ساؤل سے بھاگ رہے تھے اور فاقہ کشی میں قریب المرگ تھے. یہی وجہ ہے کہ فریسی نظریہ کے مطابق داؤد اور انکے ساتھی مقدس روٹی کھانے میں حق بجانب تھے جبکہ ایسے حالات میں جہاں انسانی زندگی کو کوئی خطرہ نہ ہو اسے انتہائی قبیح فعل سمجھا جاتا تھا. غرض کہ داؤد اور انکے ساتھیوں کا واقعہ انتہائی کٹھن حالات میں سے ایک تھا مگر کسی مایوس اور پریشان کن حالات کے بغیر گندم کی بالیاں توڑنے کے واقعہ کی مثال یسوع اور اس کے شاگردوں کے لیے دینا بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے جیسا کہ روایت کے مطابق وہ سبت کے دن گندم کے کھیت میں اطمینان سے گشت کررہے تھے اور اسکے شاگرد گندم کی بالیاں توڑنے کو فارغ رہنے سے بہتر سمجھ رہے تھے اور سستی سے اسے چبا رہے تھے. داؤد کا واقعہ بالکل ہی بےجوڑ (سبت کے دن کچھ کرنے سے بالکل جدا) ہے لیکن اگر ہم سخت اور ہنگامی حالات کا عنصر روایت کی طرف پھیر دیں تو یہ ایک بالکل درست اور قابل تفہیم مضمون بن جاتا ہے.
یسوع اور اس کے شاگرد ہیرودیس اینٹی پاس اور رومیوں کی حدود سے مفرور تھے یہاں تک کہ بھوک اور تھکاوٹ کی انتہا انہیں سبت کے دن گندم کے کھیت میں پہنچا دیتی ہے لیکن یسوع اس درپیش صورتحال کا موازنہ داؤد کے واقعہ سے کرتے ہوئے اپنے شاگردوں کو اجازت دے دیتا ہے کہ وہ اطمینان سے کھیت میں سے اپنی بھوک مٹا لیں کیونکہ یہ ایسی ہنگامی صورتحال تھی جس میں خواہ سبت ہو یاہیکل دونوں کی ہی تمام رسمی تعمیل فریسی قانون کے مطابق منسوخ ہو جاتی ہے،بعد میں جب اسکے فریسی دوست سوال کرتے ہیں تو وہ وضاحت کرتا ہے کہ وہ اس مقام پر آگیا ہے کہ جہاں سبت کا قانون ٹوٹ جاتا ہے. یہ وضاحت ایک گھمبیر مسئلے پر روشنی ڈالتی ہے کہ کھیت سے گندم توڑنا فقط سبت کا قانون توڑنا نہیں تھا بلکہ چور کے مخالف قانون کی بھی خلاف ورزی تھا. کچھ مسیحی علماء نے استثناء 23:25 کا حوالہ دے کر اس نقطہ کو چھپانے کی کوشش کی ہے. "جب تو اپنے ہمسائے کے تاکستان میں جائے تو اپنی بھوک کی خواہش کے مطابق انگور کھا لیکن اپنی ٹوکری میں ہرگز نہ لے جانا اور اگر تو اپنے ہمسائے کے کھیت میں جائے تو تو ہاتھ سے بالیں توڑ لے مگر اپنے ہمسائے کے کھیت کو درانتی نہ لگانا"تاہم جیسا کہ فریسی مذہبی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے(e.g Mishnah Bava Metzia 7:2) اس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اپنے مالک کے لیے کھیتوں میں کام کرتے ہوں کیونکہ اگر ہر راہگیر کو کھیت سے فصل توڑنے کی اجازت دے دی جاتی تو کسانوں کے لیے زندگی گزارنا ہی ناممکن ہو جاتا لیکن وہ حالات جس میں زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوں تو چوری کے قوانین درحقیقت کالعدم اور باطل ہو جاتے ہیں. درحقیقت فریسی قانون اسے زندگی بچانے کے لیے فرائض کے معنوں میں لیتا تھا. (9) اس لیے ایسے حالات میں چوری اور سبت کے قوانین پر متفق نہ ہونے پر یسوع قطعی طور پر فریسیوں کا ہم خیال تھا.
پھر کیوں ان ہنگامی حالات کے عنصر کو اس کہانی سے نکال دیا گیا جو کہ اس پورے قضیہ کو مہمل اور بے معنی بنا دیتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ وجوہات کے سبب ہنگامی حالات کا عنصر اناجیل سے عنقا کردیا گیا ہے جو کہ مہربان رومی حکومت کے ماتحت یہودیہ اور گلیل کو پرسکون علاقے کی طرح پیش کرتی ہے. اس کے برعکس اُس وقت کے تاریخی حقائق میں یہ رومیوں کی ظالم اور پرتشدد حکومت کے خلاف مستقل بغاوت، محصولات کی ادائیگی کے منکرین اور غارت گردی کا دور تھا. اگر کہانی میں مشکل صورتحال کا جز برقرار رکھا جاتا تو نہ صرف یہ ظاہر ہو جاتا کہ یسوع فریسی قوانین کی توہین نہیں کررہا تھا بلکہ یہ بھی واضح ہو جاتا کہ وہ ستم رسیدہ اور رومی حکومت کے مطلوب شخص تھے کیونکہ وہ انکے خلاف بغاوت کرنے والوں میں سے تھے.
لہذا گندم توڑنے کا واقعہ یسوع کے فریسی ہونے کی بابت معلومات فراہم کرنے والے حقائق کا مخالف ہے اور مفروضہ قائم کئے بغیر یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ یسوع انہی میں سے تھے. فریسی محاورے اور بائبل کے متقدمین شراح میں اس کا استعمال یہ تاثر دینے کے لیے تھا کہ غیر معمولی حالات میں شریعت کی خلاف ورزی کا اختیار ہے جو کہ مکمل طور پر فریسی تعامل اور اصولوں کے عین مطابق ہے اور تفسیر میں شریعت کے خلاف بغاوت کی اصطلاح کا جواز نہیں ملتا. اسی طرح یسوع کا آخری تبصرہ " اِبنِ آدم سَبت کا بھی مالِک ہے" کا عام مطلب یہی نکلتا ہے کہ یسوع یہودی شریعت سے برات کا اظہار اور اس کی دفعات کو اپنی مرضی سے منسوخ کرنے کے حق کا اعلان کررہے تھے. تاہم ضروری نہیں کہ اس جملے کا مفہوم یہی ہو. آرامی محاورے میں "ابن آدم" کا مطلب انسان یا آدمی ہی ہے، لہذا اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ انسان سبت سے زیادہ اہم ہے اور یہ ایسا بیان ہے جس سے تمام فریسی متفق ہو سکتے تھے. عہد نامہ جدید میں وارد بہت سے پیچیدہ مقامات جہاں "ابن آدم" استعمال ہوا ہے ان کی وضاحت انہی سطور پر کی جا سکتی ہے تاہم پھر بھی کچھ مقامات باقی رہ جاتے ہیں جہاں یسوع نے اپنے کردار کی ترجمانی کے لیے "ابن آدم" کا خطاب استعمال کیا ہے. جیسا کہ لقب سے ہی ظاہر ہے کہ اس کا مفہوم الوہی ہستی نہیں بلکہ ایک رسولی درجہ ہے اور حزقیل کی پوری کتاب میں انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے.
گنہگاروں اور محصول لینے والوں کے ساتھ تعلق رکھنے رکھنے کے سوال پر یسوع اور فریسیوں کے درمیان منسوب کردہ مخالفت بھی تبصرہ کی متقاضی ہے. عام طور پر جو رائے پیش کی جاتی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ درحقیقت کسی معتبر معنوں میں گنہگار نہیں تھے بلکہ لوگ ان کو عزت کم دیتے تھے اور یہ رسم طہارت کے قوانین نظر انداز کرتے تھے. حقیقت تو یہ ہے کہ رسم طہارت اور نہ ہی عزت و توقیر کوئی مسائل تھے بلکہ محصول لینے والے ڈاکو، ایذارساں اور قاتل تھے جو حکومت روم کی طرف سے محصول وصول کرنے والوں کی معاونت کرتے تھے اور اپنے ہی ہم قوم یہودیوں سے جبرا کھانا اور پیسے چھیننے کے معاملے میں کافی بدنام تھے. یہ لوگ غلامی اور مفلسی کا سامنا کرنے کے بجائے باغی ہو گئے تھے تاہم یسوع اپنی ملک گیر توبہ کی مہم سے بہت پراعتماد تھے اور رومی غلامی سے قوم کو نکالنے کے لیے ایک مسیحیانہ معجزے کی تیاری کررہے تھے. وہ حالات سے مایوس گنہگاروں کے پاس فقط اس امید پر پہنچے تھے کہ ان کو برے طور طریقوں سے نکال سکیں. وہ محصول لینے والا جن کا یسوع سے سابقہ پڑا انہوں نے اپنے فعل سے رجوع کر لیا تھا ان میں سے ایک کی مثال زکائی کی ہے (لوقا 19) جس نے اپنی زندگی کے تمام برے کام ترک کر دیئے اور تمام لوٹا ہوا مال واپس کر دیا اور اپنی آدھی جائیداد خیرات کر دی. یہ رجوع کرنے کا صرف ایک طریقہ تھا جو فریسی عمل Tosefta میں محصول لینے والوں کی توبہ کے لیے مقرر کیا گیا تھا. کچھ علماء نے یہ دعوی قائم کیا ہے کہ فریسیوں کو محصول لینے والوں سے توبہ کی کوئی امید نہیں تھی. یہ حقیقت نہیں ہے لیکن بیان کیا جاتا ہے کہ ندامت اور رجوع کرنا ان کے لیے بہت مشکل تھا. (10) اس موقع پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یسوع اور فریسیوں میں اختلاف کی یہی اصل وجہ ہو، یسوع محصول لینے والوں کی توبہ کے ذریعے واپسی کے لیے پرامید تھے جبکہ فریسی استادوں کی سوچ یہ تھی کہ ڈاکوؤں کے ساتھ تعلقات انہیں راہ راست پر لانے کے بجائے رجوع کرنے والوں کو خراب کرنے میں زیادہ اثر دکھائیں گے.
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر یسوع نے دیگر فریسیوں سے اختلاف نہیں کیا تھا تو یسوع کو متشدد فریسی ہونا چاہیے تھا. جیسا کہ پہلے ہی وضاحت کی گئی کہ دوستانہ اختلافات فریسیوں اور فریسی ازم کا حصہ تھے اور فریسی ادبی دستاویزات میں تحریک کے بزرگوں کے درمیان اختلافات بھرے ہوئے ہیں. کچھ حالات میں عہد نامہ جدید فریسی اور یسوع کے درمیان مخالفت کو بے جا تراشتا ہے، صدوقیوں کو فریسیوں کی جگہ رکھنے کے بجائے یا پھر واقعہ کے بعض حصے حذف کرکے یسوع اور فریسیوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور جو دوستانہ بیانات تھے اسے بآسانی مخالفانہ مباحثے میں تبدیل کردیا.
اس طرح بہت سے طریقوں سے اناجیل میں یسوع کو اس تحریک سے جدا کردیا گیا جس کا وہ باقاعدہ حصہ تھے مگر اسکے باوجود ان کی شناخت پر ان کا انداز تبلیغ ایک فریسی ہونے کی مہر ثبت کردیتا ہے. ان کا تمثیلیں استعمال کرنا دراصل فریسی طریقہ تبلیغ تھا (فریسی ادب کے ناواقف لوگوں کو یہ انوکھا نظر آتا ہے) اور ان کے عجیب بیانات "سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزر جانا" یا "اپنی آنکھ کا شہتیر نکالنا" تلمود میں پائے جانے والے فریسی محاورے ہیں. بلاشبہ یہ سچ ہے کہ یسوع صرف اناجیل متوافقہ (متی، مرقس، لوقا) میں پائے جاتے ہیں. چوتھی انجیل میں یسوع ناقابل شناخت ہو جاتے ہیں جہاں وہ کوئی تمثیل استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی کسی خاص انداز کے حامل ربائی خیالات کا اظہار کرتا ہے. اس کے بجائے وہ زبردست یونانی تصوف کا جابجا اظہار کرتے ہیں اور خود کو ایک الوہی ہستی کے طور پر متعارف کرواتے ہیں. یسوع کے مابعد اساطیر میں اصل یسوع گم ہو چکا ہے. یہاں ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اصل یسوع کو اس وقت کے یہودی مذہب میں پا لیا ہے جو ان مقاصد کی ترغیب دے رہے تھے جو انکے رفقاء کے نزدیک قابل فہم تھے.

مکمل تحریر >>

ہفتہ، 24 دسمبر، 2016

ایک پادری کے اسلام پر اعتراضات کا جواب




ایک پادری کے اسلام پر اعتراضات کا جواب

تحریر:عبداللہ غازیؔ




(۱) سورہ بنی اسرائیل آیت ۱ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا۔ یہ مسجدِ اقصیٰ تو 691 مین بنی تھی ۔
 الجواب : یہ اعتراض ہی فضول ہے اور ہمارے دیسی عیسائی بھائیوں کی "علمیت" کی بہترین عکاسی کرتا ہے. واقعہ معراج کی آپ جو اہم ترین بات نظر انداز کر رہے ہیں وہ ہے ہم عصر لوگوں کی گواہی. فتح مکہ تک مسلمان اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اپنی ہر بات پر اصرار کر سکتے. پیغمبر اسلام کے بدترین دشمن خود ان کے قبیلے قریش کے ہی لوگ تھے جنہوں نے کم از کم پانچ مشہور جنگیں لڑیں. ان میں سے کسی ایک نے بھی کبھی یہ اعتراض نہیں کیا کہ ہمیں قرآن مجید کی اس آیت پر شک ہے کہ اِس وقت مسجد اقصٰی موجود نہیں.مسجد اقصٰی سے مراد عمارت نہیں بلکہ مقام ہے اب ایسا بھی نہیں تھا کہ قرآن مجید ان کی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں تھا جسے سمجھنے سے قاصر تھے. انہی کی صفوں میں وہ لوگ زندہ موجود تھے جنہوں نے متعدد بار تجارتی اغراض سے بلاد شام کے اسفار کئے تھے اور یروشلم میں واقع بیت اللہ کی زیارت بھی کر چکے تھے .جسے رومیوں نے مسیحیت کو قبول کرنے کے بعد بھی آلائشیں اور غلاظت پھینک کر متعفن کررکھا تھا. مسلمانوں نے تو اس کو صاف کرکے اس کا کماحقہ مقام اس کو واپس لوٹایا . پیغمبر اسلام کے بعد کوئی فرد اس وجہ سے مرتد نہیں ہوا کہ مسجد اقصٰی کا وجود نہیں اور یہ جھوٹ ہے بلکہ ارتداد کی وجوہات دوسری تھیں. اس آیت کے نزول کے بعد وہ صحابہ کرام جو مکہ میں انتہائی کسمپرسی کے عالم میں پیغمبر اسلام کا ساتھ دے رہے تھے کیوں ایک ایسے شخص سے چمٹے رہے جو خدا کے نام سے صریحاً ایسا جھوٹ بول رہا تھا جس کی کوئی تاویل بھی ممکن نہیں تھی اور نہ ہی کبھی اس کی تاویل کی گئی. انہیں کیا مفاد عزیز تھا جس کی وہ حفاظت کرتے رہے اور جھوٹ سے چمٹے رہے؟ شعب بنی ہاشم کے مصائب، جو تین برسوں تک ممتد رہے، ان لوگوں کو ایک غیر صادق شخصیت سے کس طرح منسلک رکھ سکتے تھے جس کا جھوٹا ہونا اظہر من الشمس ہو گیا تھا؟ لیکن اب یہ آپ ہی بتائیں کہ قیصر طبریاس کی حکومت کے پندرہویں برس (٢٩ عیسوی) میں لسانیات ابلینے کا حاکم کیسے بن گیا؟ جبکہ تاریخی شواہد کے مطابق اس کا دور حکمرانی تو چالیس قبل مسیح ہے.
(۲) سورہ طہٰ آیت نمبر ۹۰ سے ۱۰۰ بچھڑا سامری نے بنایا تھا۔ یہ سامری قوم تو اس واقعے سے ۱۰۰۰ سال بعد وجود میں آئے۔
الجواب :  مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے محترم بھائی ایسی کچی بات کریں گے. یہودیوں شروع سے ہی مخلوط اقوام کو سامری کا لقب دیا کرتے تھے زرا خروج باب ١٢ ورس ٣٨ تو ملاحظہ فرمائیں جہاں بنی اسرائیل کے خروج کے وقت ان کے ساتھ ملی جلی جماعت کے ہمراہ ہونے کا ذکر ہے. یہ ملے جلے افراد کون تھے؟یہی لوگ ہی سامری تھے جو غیر اقوام سے آمدہ شریعت موسوی کے پیروکار تھے اور انہی کے لیے ہیکل میں غیر اقوام کا برآمدہ بنایا گیا تھا. اب اگر قرآن کریم نے ان لوگوں میں سے کسی کو سامری کہہ دیا تو ہماری دیسی عیسائی بھائیوں کے پیٹ میں کیوں درد؟ یقیناً بغض اسلام کی وجہ سے.
(٣) سورہ الاعراف ۱۲۰ سے ۱۲۵ فرعون نے جادوگروں کو صلیب دینے کا حکم دیا ۔ مصرمیں صلیب دنے کا رواج تھا ؟
الجواب : بھائی صاحب اگر آپ کچھ قدیم مصر کی تاریخ کا علم بھی رکھتے تو ایسا بونگا اعتراض کبھی نہ کرتے لیکن کیا کریں اگر آپ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں تو مسیحیت کی اصل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ الہام کے نام پر قدیم بت پرستی کا ہی تسلسل ہے. John G. Jekson نے اپنی مایہ ناز کتاب Man, God & civilization میں Gerald Mesi کی کتاب Ancient Egypt سے اخذ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ قدیم مصری دیوتا ہورس (جس کی باقیات بھی اہرام سے دریافت ہو چکی ہیں) کی جو منظر کشی کی گئی ہے اس میں صلیب کی علامت نظر آتی ہے. اس کے علاوہ آپ کی اطلاع کے لئے عرض کرتا چلوں کہ مصر کے قدیم دیوتا اوسائی رس کو بھی مصلوب ہی کیا گیا تھا بلکہ اس کی زندگی کے بڑے واقعات اناجیل میں موجود یسوع کی حیات سے مماثلت رکھتے ہیں صرف یہی نہیں سکاٹ لینڈ کے ممتاز محقق آرتھر فنڈلے تو یسوع سے قبل تیس ایسے دیومالائی منجی دیوتاؤں کی خبر دیتے ہیں جن کی کہانی بعینہ وہی ہے جو اناجیل میں یسوع کی ہے اور یہ سب تیس دیوتا یسوع سے قبل گزرتے ہیں زرا "روح القدس" سے خبر پا کر اس پر بھی روشنی ڈالیں.
(۴) سورہ یوسف ۲۰ حضرت یوسف کو درھم کے عوض بیچ دیا گیا ثبوت دیں کہ اس وقت سکہ رائج الوقت درھم ہی تھا۔
 الجواب : بھائی صاحب اگر آپ کو اپنی کتاب کی خبر ہوتی تو ایسی فضول بات کبھی نہیں کرتے. اب پیدائش کی کتاب باب ١٤ ورس ١٤ ملاحظہ فرمائیں جہاں لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے دان تک اپنے دشمنوں کا تعاقب کیا اب دان تو یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادے کا نام تھا جس کے نام پر گلیل کے شمالی علاقے لیس کا نام "دان" رکھا گیا (قضاۃ 18:29)جب ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں دان کا وجود ہی نہیں تھا پھر کیسے ابراہیم علیہ السلام نے دان تک اپنے دشمنوں کا تعاقب کر لیا؟پیدائش کے مصنف نے دان کیوں لکھا لیس کیوں نہیں لکھا؟ اسی طرح پیدائش 23:2 میں سارہ کی وفات قریت اربع میں ہونے کا ذکر ہے جبکہ اس وقت قریت اربع کا نام حبرون تھا(پیدایش 35:27)اور قریت اربع یشوع کے زمانے میں رکھا گیا (یشوع 14:15)تو پھر کیسے ابراہیم علیہ السلام نے قریت اربع میں سارہ کی تدفین کر لی؟ بالکل اسی طرح قرآن مجید نے قدیم غیر معروف نقدی اصطلاح کو مروجہ اصطلاح میں استعمال کر لیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر آپ کے نزدیک فرق پڑتا ہے تو پہلے بائبل کی خبر لیں اور اس کا انکار کریں پھر ہم بھی قرآن کے متعلق آپ کے مؤقف کی تائید کریں گے۔
فیس بک پر جوائن کرنے کے لیے یہاں کلک کیجئے!
مکمل تحریر >>

یسوع مسیح اورمذہبی شدت پسندی!

یسوع  مسیح اور مذہبی شدت پسندی

تحریر:ظفراقبال

مذھبی شدت پسندی نہ تو نئی چیز ہے اور نہ ھی اور انوکھی. یہ تو ھر دَور میں موجود رھی ھے حتی کہ اس کے قدموں کے نشان خود یسوع علیہ السلام مسیح کی تحریک کے بالکل آغاز میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ھیں. یہ الگ بات ھے کہ ھر دَور میں اس کا نام مختلف رھا ھے. آج یہ لوگ اگر مذھبی جنونی یا شدت پسند کہلاتے ھیں تو کسی دَور میں انہیں غیور (Zealot) کہا جاتا تھا. خود یسوع علیہ السلام مسیح کے شاگردوں میں یہ غیور شامل تھے جن کا لیڈر شمعون غیور تھا. یہ غیور کون تھے؟ وھی آج کے دَور کے مذہبی شدت پسند جنہیں غیر ملکی استبداد قبول نہیں تھا. یہاں یہ بات فراموش نہیں کی جا سکتی کہ یسوع علیہ السلام مسیح کا زمانہ یہودی تاریخ میں مغلوبیت کا زمانہ تھا. اس دَور میں شدت پسندی کی کئی تحریکوں نے جنم لیا. خود یسوع علیہ السلام مسیح کے لڑکپن میں یہوداہ گلیلی کی پر تشدد تحریک بڑی شدت سے اٹھی تھی. یہودیوں نے جنہیں غیرت مندوں کا لقب دیا رومنوں نے فسادی قرار دے کر ان کی سرکوبی کر دی. کل کے یہی غیور آج کے شدت پسند ھیں. اصل بات جسے سمجھنے کی ضرورت ھے اور جس سے عمداً نظریں چرا لی جاتی ھیں وہ یہ ھے کہ جب بھی کسی گروہ کو سیاسی کشمکش میں بقا کا سوال دامنگیر ھوتا ھے اور فوجی مغلوبیت کی تلوار اس کے سر پر لٹک رہی ھوتی ھے تو وہ ھمیشہ اپنی تسلی کا سامان اپنے مذھب میں تلاش کرتا ھے اور اسی کا سہارا لے کر جدوجہد کرتا ھے. یہ فطری عمل ھے. یسوع علیہ السلام مسیح کے دَور میں خود ان کے ھم قوم یہودیوں کے غیوروں اور خنجر برداروں (سکارائی) کی تحریکیں اس کی گواہ ھیں. یسوع علیہ السلام مسیح سے قبل مکابین کی تحریک کیا تھی؟ جس کے نتیجے میں پورا علاقہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ خون سے رنگین رہا. تفصیل قاموس الکتاب میں دیکھ سکتے ھیں. اب یہ بات بھی فراموش کر دی جاتی ھے کہ غلبہ حاصل کرنے والے گروہ کو مذھب کاسہارا لینے کی اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوتی جبکہ مقہور ومجبور گروہ کا واحد سہارا مذھب ھی ھوتا ھے. اسی لئے غالب گروہ ھمیشہ مغلوب جماعت کے مضبوط فکری محور پر حملہ آور ھوتا ھے جیسا کہ تاریخ میں بت پرستوں نے یہودی ھیکل کو بار بار تباہ کر کے اور کبھی اس میں مجسمے رکھ کر اس کی بے حرمتی کر کے کیا. اس سارے عمل کے پس پردہ مقصد وحید یہی ھوتا ھے کہ محکوم کا ناتا اس کے فکری محور سے منقطع کر دیا جائے. بخت نصر کو کیا خطرہ لاحق تھا جو اس نے یروشلم تباہ کیا؟ ایپی فینس نے کیوں اپنا مجسمہ قدس الاقداس میں رکھوایا؟ رومن شہنشاہ کیلی گولا کے اقدامات کس چیز کے غماز ھیں؟ طیطس نے کیوں ھیکل جلا ڈالا؟ کبھی یہودیوں کو مغلوبیت کا سامنا تھا، کبھی عیسائیوں کو اور موجودہ دَور میں مسلمانوں کو. یہودیوں کو تو تا حال اس مغلوبیت کا سامنا تھا. حتی کہ موجودہ اسرائیل کا ایک وزیراعظم بیگن برطانوی حکومت کا مسلمہ(declaredl) دہشت گرد تھا. یہ بات البتہ کہی جا سکتی ہے کہ ھر دَور میں آلات حرب وضرب اور مقامی حالات کے لحاظ سے شدت پسندی کے طریقہ کار اور اس کی شدت میں فرق رہا ہے. سیاسی لحاظ سے غالب گروہ یا اس کے ھمدرد ھمیشہ ان مذھبی جنونیوں کو اپنا دشمن تصور کرتے ھیں اور مجبور ومقہور انہیں اپنا نجات دہندہ. یہ فرق دراصل اپنے اپنے زاویہ نگاہ اور مقاصد کے لحاظ سے ھوتا ھے افعال کے لحاظ سے نہیں. یہی بات آج کی شدت پسندی پر بھی صادق آتی ھے. اس کا علاج نہ تو تاریخ میں کبھی کیا گیا ھے اور نہ ھی آئندہ کئے جانے کا امکان ھے کیوں کہ ھر شدت پسند تحریک یا تو تشدد آمیز خاتمے پر منتج ھوئی ھے یا پھر کامیاب رہی. مثال کے لئے یہودی تاریخ کا حوالہ دیتا ہوں. کامیاب تحریکوں کے لیے مکابین اور موجودہ اسرائیل کی مثالیں موجود ہیں اور تشدد آمیز خاتمے کے لئے 70ء میں رومن طیطس کے ھاتھوں ھیکل کی تباہی اور 135ء میں بارکوچبا کی بغاوت. یہ مثالیں میں نے قصداً دی ھیں تا کہ کچھ مخصوص فکر کےحامل لوگوں کو میری بات سمجھ میں آ سکے. تفصیل کا موقع نہیں ورنہ اس موضوع پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ھے۔
فیس بک پر جوائن کرنے کے لیے یہاں کلک کیجئے
مکمل تحریر >>