Pages

Most Popular

بدھ، 27 نومبر، 2019

تورات کا بنیادی تعارف اور جائزہ



توریت کا بنیادی تعارف اور جائزہ
تورات یا توریت (/ˈtɔːrəˌˈtoʊrə/; عبرانی: תּוֹרָה‎‎، یا اسفار خمسہ یہودیوں کی مرکزی کتاب ہے۔موجودہ بائبل میں پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کے مجموعے کو تورات کہتے ہیں۔جس میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں۔
کتاب پیدائش
کتاب خروج
کتاب احبار
کتاب گنتی
کتاب استثنا
لفظ توراۃ کا مطلب قانون بھی ہے اور توراۃ ان شرعی احکامات کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جو حضرت موسٰی کو اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا ہوئے۔تورات کے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔مثلًا۔یہود توراۃ اور خدائی قوانین کی ترتیب کو ملاکر اسے الٰہی طور پر منسلک کرتے ہیں۔انکے مطابق شریعت کے کل احکامات 613 ہیں۔
ربی رامبام کی لکھی مشناہ میں یہ پوری 613 احکامات کی ترتیب سے لسٹ موجود ہے۔613 میں سے 248 احکامات پر عمل کرنے کا حکم ہے جبکہ 365 سے روکا گیا ہے۔یہودی تورہ کے اعداد کے مطابق یہ کل 613 احکامات بناتے ہیں مثلا۔
تختی کے پہلے دو احکام کے پہلے دو حروف کے اعداد 2 ہوئے۔
تورہ
تاو یعنی ت کے 400
واو یعنی و کے 6
ریش یعنی ر کے 200
ہ کے 5
یہ کل ملا کر 613 ہوئے۔
اسی طرح تلمود کے مطابق چونکہ شمسی سال میں 365 دن ہوتے ہیں اور انسان کی ہڈیوں کی کل تعداد 248 ہے اور یہ تعداد بھی ملکر 613 بنتی ہے اس لئے یہ احکامات قدرتی ہیں۔
تورات کی تصنیف کے متعلق بھی مختلف نظریات و اختلافات پائے جاتے ہیں۔
مثلًا۔
۱۔مکمل تورات موسٰی کی تصنیف ہے۔
۲۔تورات کا اکثر حصہ موسٰی کی تصنیف ہے
۳۔ توریت ان دستاویزات کا مجموعہ ہے جن کی تصنیف موسٰی کے زمانے سے پہلے شروع ہوئی اور 400ق م تک جاری رہی۔
۴۔چونکہ ان کتب کی مرکزی شخصیت موسٰی ہے اسلئے اسے موسٰی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔وغیرہ
یہ سوال خود مسیحی حضرات میں بھی اٹھا اور اسکالرز نے کچھ اس طرح جواب دیا۔
🔴کیونکہ ان کتب کی اہم انسانی شخصیت موسٰی ہے اس لیے روایتی طور پر موسٰی کی کتب بھی کہا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کتب کس شخص یا کن اشخاص نے لکھیں?
اس سوال پر تاریخ دان اور بائبل مقدس کے علماء آج بھی بحث کرتے رہتے ہیں لیکن ممکن نظر نہیں آتا کہ جو قلمی نسخے آج ہمارے پاس ہیں ان کی بنیاد پر اس سوال کا حتمی جواب دیا جاسکے۔
بہت سے علماء کو اسفار خمسہ کے متن میں یہ شہادت نظر آتی ہے کہ انہیں اپنی آخری شکل میں آتے آتے سینکڑوں سال کا عرصہ لگا اور یہ موسٰی کے زمانے سے بہت بعد میں اس شکل میں آئے۔مطالعاتی اشاعت صفحہ۔26
بحرحال تورات کو پڑھنے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ تمام تر تورات کے مصنف بہرحال موسٰی علیہ السلام نہیں ہیں۔جس کا اعتراف مختلف یہودی و مسیحی اسکالرز بھی کرچکے ہیں کیونکہ ان کتب میں مختلف واقعات ایسے ملتے ہیں جن سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے۔لیکن ایسی صورت میں ایک اہم سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ اگر ان واقعات کو موسٰی نے تصنیف نہیں کیا تو پھر انکا مصنف کون ہے۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر مفصل مباحث اور تحقیق کے بعد مدلل جواب معلوم ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہےاور اس ضمن میں جو بھی جواب دیئے جاتے ہیں وہ فقط مفروضے، زاتی اختراع، ظن اور گمان پر مشتمل ہیں جنکے پیچھے کوئی قابل قبول اور مضبوط دلیل موجود نہیں ہے۔تورات کے ان اضافات جسے تحریف بھی کہا جاسکتا ہے کے اعترافات خود مسیحی کتب میں موجود ہیں۔مثلًا۔
(توریت کے)کچھ بیانات جو پڑھنے والے کی مدد کیلئے لکھے گئے یا جنکی غرض یہ تھی کہ ان کتابوں کو موجودہ تاریخ تک مکمل کیا جائے۔(ہماری کتب مقدسہ صفحہ176)
ان تھوڑے سے اضافوں کے سوا تمام کی تمام کتاب موسٰی کی تصنیف ہے۔(ہماری کتب مقدسہ صفحہ177)
توریت کے مصنف کے علاوہ اس کے متعلق یہ امر بھی غور طلب رہا کہ ان کتب کو کس نے اور کب جمع کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ دوسری صدی قبل از مسیح کے آغاز میں تمام شریعت کو ایک ہی کتاب سمجھا جاتا تھا۔
(ہماری کتب مقدسہ صفحہ181)
 اس کو کس نے کب جمع کیا اسکے متعلق مسیحی مصنفین تحریر کرتے ہیں۔
🔴بالآخر کسی کسی ایک مؤلف یا مؤلفین کی جماعت نے ان تمام دستاویزوں کو ایک جگہ جمع کرکے توریت کی تشکیل کی۔(ہماری کتب مقدسہ صفحہ180)
لیکن یہ نہیں بتلا پائے کہ وہ کون تھے۔
اس اعتراف کے بعد وہی مسیحی مصنف اس ترتیب کے تسلی نہ پاکر اس کی ترمیم و نظر ثانی کی طرف کچھ ان الفاظ میں توجہ دلاتے ہیں۔
لیکن کبھی کبھی اس امر کی ضرورت ہوئی کہ مدیرانہ طور پر ترمیم و نظر ثانی کی جائے۔(ہماری کتب مقدسہ صفحہ۔180)
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کتب کے مؤلف، تدوین، کے علاوہ ماخذ پر بھی مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔
کیونکہ کتاب پیدائش کے واقعات اور اسکے علاوہ بھی کچھ اور واقعات موسٰی کے زمانہ سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کتب میں ان واقعات کے ماخذ کی تصریح ملتی ہے جس سے ان ماخذات کا معلوم ہوسکے۔ اس کے متعلق مختلف مفروضات اور تخمینے لگائے جا سکتے ہیں اور لگائے بھی گئے ہیں لیکن کوئی حتمی معلومات میسر نہیں ہے کہ جس سے سؤ فیصد اس کے ماخذ کا معلوم ہوسکے۔کچھ مفروضات جو بیان کئے جاتے ہیں انہیں مسیحی علماء کچھ یوں تحریر فرماتے ہیں۔
گو موسٰی پیدائش کی کتاب کا مصنف ہے لیکن اس میں ایسے واقعات مندرج ہیں جو موسٰی سے بہت پہلے وقوع پذیر ہوچکے تھے اور ان میں سے اکثر خاندانی یادداشتوں اور تحریروں کی شکل میں موجود تھے جو باپ سے بیٹے کو پشت در پشت وراثت میں ملے۔(ہماری کتب مقدسہ صفحہ 187)
توریت کی یہ کتب کس کی تصنیف ہیں؟
کیایہ ایک ساتھ یا الگ الگ ملہم ہوئیں؟
نیز یہ الہام کس دور میں ہوا؟
کس شخص نے کب اور کہاں انہیں یاد کیا یا کروایا؟
کس نے انہیں پہلی بار تحریر فرمایا؟
ان کتب میں مکمل الہام ہے یا انسانی کلام بھی؟
ان کتب کو کب اور کس نے پہلی بار تورات کہا؟
ان کتب کو کس نے اور کب ایک کتاب کہا؟
اسکی سند متصل کیا ہے کہاں ہے؟
کس اصول اور بنیاد پر ان تمام کتب کو تورات اور الہام تصور کیا جاتا ہے؟
یہ اور ایسے کئی سوالات ہیں جنکا جواب بوجود کوشش و مطالعہ ابھی تک نہیں مل سکا۔
تحقیق و ترتیب
ابوالجواد سندھی
For Contact: 03133052561, mmmukalma@gmail.com


مکمل تحریر >>

مقدس پولس اور نذر کی قربانیاں


مقدس پولس اور نذر کی قربانیاں
جب کسی مسیحی کے مذہبی عقیدے کو متضاد بائبلی زبان ، بائبلی تاریخ ، بائبلی کلچر اور ارکیالوجی کی کسوٹی پہ پرکھا اور بے نقاب کیا جاتا ہے تو اُسے سچائی کی روح سے توبہ اور رجوع کے لیئے لچک دار ہونا چاہیئے ۔
اگر آپ اس بات سے متفق ہیں تو پڑھتے جائیں ، ورنہ آپ کو اس سے آگے چلنے کی ضرورت نہیں ۔
آپ کو بچپن سے ایک سبق دیا جاتا ہے اور وہی آپ اپنے بچوں کو دیں گے بلکہ بار بار دیں گے کہ مسیح حتمی قربانی تھا ۔ اور خصوصاٌ یہ بھی پڑھ کر سُنائیں گے۔
اور بکروں اور بچھڑوں کا خُون لے کر نہیں بلکہ اپنا ہی خُون لے کر پاک مکان میں ایک ہی بار داخِل ہو گیا اور ابدی خلاصی کرائی کیونکہ جب بکروں اور بَیلوں کے خُون اور گائے کی راکھ ناپاکوں پر چِھڑکے جانے سے ظاہِری پاکِیزگی حاصِل ہوتی ہے۔ تو مسِیح کا خُون جِس نے اپنے آپ کو ازلی رُوح کے وسِیلہ سے خُدا کے سامنے بے عَیب قُربان کر دِیا تُمہارے دِلوں کو مُردہ کاموں سے کیوں نہ پاک کرے گاتاکہ زِندہ خُدا کی عِبادت کریں اور اِسی سبب سے وہ نئے عہد کا درمِیانی ہے تاکہ اُس مَوت کے وسِیلہ سے جو پہلے عہد کے وقت کے قصُوروں کی مُعافی کے لِئے ہُوئی ہے بُلائے ہُوئے لوگ وعدہ کے مُطابِق ابدی مِیراث کو حاصِل کریں۔ اُسی مرضی کے سبب سے ہم یِسُوع مسِیح کے جِسم کے ایک ہی بار قُربان ہونے کے وسِیلہ سے پاک کِئے گئے ہیں۔
ہم یہ سوچنے پر حق بجانب ہیں کہ جس اُستاد نے ہمیں ایک عقیدہ دیا کہ مسیح کی موت ہی ہمارے گُناہوں کا آخری کفارہ تھا ،اس کی زندگی سے بھی ایسی مثالیں ملنی چاہیئیں کہ اسکا اپنا بھی اس عقیدے پر ایمان تھا ۔
کیا پولس اپنی زندگی سے کوئی ایسے نمونے ہمیں دکھاتے ہیں کہ وہ بھی کفارے اور اس کے ذریعے نجات پر ایمان رکھتے تھے ؟؟
کیا بزرگ پولس نے نذر کی منت مان کر یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ اب بھی تورائت کے سب قوانین کے تابع ہیں ، اور گنتی باب 6 کی نذر کی قربانیاں کفارے کے لیئے ضروری ہیں ؟؟
جواب آپ خود دے لیں ۔
اب آتے ہیں مشکل سوال کی طرف !
اِس پر پولُس اُن آدمِیوں کو لے کر اور دُوسرے دِن اپنے آپ کو اُن کے ساتھ پاک کر کے ہَیکل میں داخِل ہُؤا اور خَبردی کہ جب تک ہم میں سے ہر ایک کی نذرنہ چڑھائی جائے تقدُّس کے دِن پُورے کریں گے۔ اعمال 21 :26
کیا بزرگ پولس خون کی قربانی لائے ؟؟
جبکہ یہ قربانی صلیب کے بعد پیش کی گئی ، اور اگر یہ خون کی قربانی تھی تو مسیحیت میں کفارے کے عقیدے کے لیئے کیا پیغام دیتی ہے ؟؟
جواب آپ خود دے لیں ۔
نذر کا چڑھاوا کیا ہے ؟؟
اور نذیر کے لِئے شرع یہ ہے کہ جب اُس کی نذارت کے دِن پُورے ہو جائیں تو وہ خَیمۂِ اِجتماع کے دروازہ پر حاضِر کِیا جائے اور وہ خُداوند کے حضُور اپنا چڑھاوا چڑھائے یعنی سوختنی قُربانی کے لِئے ایک بے عَیب یکسالہ نر برّہ اور خطا کی قُربانی کے لِئے ایک بے عَیب یکسالہ مادہ برّہ اور سلامتی کی قُربانی کے لِئے ایک بے عَیب مینڈھا۔ اور بے خمِیری روٹیوں کی ایک ٹوکری اور تیل مِلے ہُوئے مَیدہ کے کُلچے اور تیل چُپڑی ہُوئی بے خمِیری روٹیاں اور اُن کی نذر کی قُربانی اور اُن کے تپاون لائے اور کاہِن اُن کو خُداوند کے حضُور لا کر اُس کی طرف سے خطا کی قُربانی اور سوختنی قُربانی گُذرانے اور اُس مینڈھے کو بے خمِیری روٹیوں کی ٹوکری کے ساتھ خُداوند کے حضُور سلامتی کی قُربانی کے طَور پر گُذرانے اور کاہِن اُس کی نذر کی قُربانی اور اُس کا تپاون بھی چڑھائے۔(گنتی باب ۶ آیات ۱۳ تا ۱۷)
کیا آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ کفارے کا عقیدہ دینے والا خود کیا کر رہا ہے ؟؟
کیا آپ کو بزرگ پولس کے عمل سے لگتا ہے کہ اس کا بھی ایمان تھا کہ مسیح کی صلیب پر موت ہی ہمارے لیئے آخری قربانی تھی ؟؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ عبرانیوں 10 کی 1-2 لکھنے والا کہ مسیح کی موت سے قربانیاں موقوف ہو گئیں ، درست کہہ رہا ہے ؟؟
کیا آپ عبرانیوں 10;14 کی اس بات پر یقین کر سکتے ہیں کہ مسیح کی قربانی نے ہمیں ہمیشہ کے لیئے کامل کر دیا ۔ جبکہ اس قربانی کے تیس سال بعد پولس خود گناہ کی قربانی ہیکل میں لا رہے تھے ؟؟
کیا پولس یہ بھول گئے تھے کہ جیسے عبرانیوں 10;18 میں لکھا ہے ، گناہ کی قربانی اب نہیں رہی ؟؟
ہم سچے دل سے خدا کے قریب کیسے ہو سکتے ہیں ، جب چرچ میں ہمیں ایسے عقیدے سکھائے جائیں گے جنہیں مبینہ طور پہ لکھنے والے بھی اپنے کاموں سے ثابت نہیں کرتے ؟؟
بزرگ پولس کیوں خون کی قربانی یا گناہ کی قربانی ہیکل لائیں گے ، اگر مسیح کی صلیب سے شریعت منسوخ ہو گئی ہوتی یا مسیح کے خون سے کفارہ ادا ہو چُکا ہوتا ؟؟
اور زیادہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسیح کے حواریوں کی جماعت کیوں لوگوں کو خون کی یا گناہ کی قربانی دینے ہیکل بھیجیں گے ؟؟
کیا عبرانیوں کے مصنف کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ مسیح کی موت سے کفارہ ادا ہو چُکا ؟؟
خود کو جواب دو :
 کیا آپ جانتے ہیں کہ نہ صرف عبرانیوں ، بلکہ عہد جدید میں جگہ جگہ ایسے ایسے حصے موجود ہیں جو بظاہر سچ سمجھے جاتے ہیں ، لیکن تھوڑی سے جانچ پڑتال سے واضع ہو جاتا ہے کہ یہ رومنوں کی طرف سے مسیح کے دین کو بدلنے کے لیئے گھڑا ہوا جھوٹ ہے ۔آپ ضرور پوچھیں کہ اس سے پہلے کسی نے کیوں ایسا نہیں کہا لیکن یقین رکھیں کہ اب ہجوموں کے ہجوم یہی سوال اپنے چرچ سے کرتے ہیں ۔کیونکہ اب انفارمیشن لوگوں کی ہتھیلی پہ رکھی ہے اور جھوٹ کا چھُپنا ممکن نہیں ۔
آپ شائد ہوسیع میں پڑھا بھی ہو کہ اخیر دنوں میں خدا غیر قوموں کے دین کی جڑیں دوبارہ ہری کر دے گا ۔ اور اب اخیر وقت ہے ، جو سنبھل گیا وہ سنبھل گیا ۔افسوس کے ساتھ کہوں گا کہ آپ کے چرچ پادری اس قابل ہی نہیں کہ کلام کو سمجھ سکیں ، آپ کو کیا سکھائیں گے ۔
آ آج دو باتیں واضع ہو گئیں ،ایک یہ کہ بزرگ پولس اس عقیدے سے واقف نہیں تھے کہ مسیح کی موت تمام قربانیوں کو موقوف کر دینے والی قربانی تھی اور بزرگ پولس یہ بھی نہیں سمجھتے تھے کہ مسیح کی موت سے کسی شریعت کا خاتمہ ہوا ۔
جواب دیں : کیا آپکے چرچ یا پادری نے کلام کی گہرائی میں جا کر کبھی اس سچ کی تلاش کی ہے ، جو بائبل کے ہی اوراق کے نیچے دفن ہے ، یا بس ماضی کی گونج میں مست رہے اور وہی سُنایا جو خود سُنا تھا ؟؟
جواب دیں : کیا آپ اب سوچنے لگ پڑے ہیں کہ آپ نے کلام کے پیغام کو غلط سمجھا اور آدمیوں کی باتوں پہ دھیان دیا ، خدا کا دیا گیا قانون آپ کے لیئے کبھی بھی منسوخ نہیں ہوا ، بلکہ مسیح نے اس پیغام کو چند تبدیلیوں کے ساتھ مکمل کیا ؟؟

جواب دیں : کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس غلطی کا انجام کیا ہوگا جبکہ بزرگ پولس یا مقدس حواریوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مسیح کی موت سے شریعت منسوخ ہوئی یا کوئی گناہ کا کفارہ ادا ہو گیا ؟؟
یہ کہنے کی ضرورت نہ رہی کہ بہت بڑا تضاد جو بائبل کے اوراق میں چھپا ہوا تھا سامنے آ گیا ، بزرگ پولس کی زندگی ہمیں کچھ اور بتاتی ہے اور اُن کے نام سے بائبل میں کچھ اور لکھا ہے ۔
میں بھی پہلے بزرگ پولس کے متعلق کچھ اچھا نہیں سوچا کرتا تھا کہ اس نے مسیح کے دین کو تبدیل کیا اور بگاڑا ، اور ان کے اعمال ان کی باتوں سے میل نہیں کھاتے ، پھر میں نے ایک مسیحی سکالر کی رپورٹ پڑھی کہ عہد جدید میں پولس کے خطوط سب پولس کے نہیں ہیں ۔
میرے لیئے یہ ایک بریکنگ نیوز تھی ، پھر میں نے ان خطوط کو بغور دوبارہ پڑھنا شروع کیااور تضادات پہ غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ نہ صرف تمام خطوط پولس کے نہیں بلکہ جو ہیں ان سے بھی یا رومنوں نے یا چرچ نے چھیڑ چھاڑ کی ہے ۔اپنے آخری دنوں میں پولس گرفتار ہو کر فیلکس کے سامنے پیش کیئے جاتے ہیں تو کیا کہتے ہیں آپ بھی دیکھیں !
 لیکن تیرے سامنے یہ اِقرار کرتا ہُوں کہ جِس طرِیق کو وہ بِدعت کہتے ہیں اُسی کے مُطابِق مَیں اپنے باپ دادا کے خُدا کی عِبادت کرتا ہُوں اور جو کُچھ تَورَیت اور نبِیوں کے صحِیفوں میں لِکھا ہے اُس سب پر میرا اِیمان ہے اور خُدا سے اُسی بات کی اُمّید رکھتا ہُوں جِس کے وہ خُود بھی مُنتظِر ہیں کہ راست بازوں اور ناراستوں دونوں کی قِیامت ہو گی۔اِسی لِئے مَیں خُود بھی کوشِش میں رہتا ہُوں کہ خُدا اور آدمِیوں کے باب میں میرا دِل مُجھے کبھی ملامت نہ کرے۔ بُہت برسوں کے بعد مَیں اپنی قَوم کو خَیرات پُہنچانے اور نذریں چڑھانے آیا تھا۔ (اعمال باب ۲۴ آیات ۱۴ تا ۱۷)
مقدس پولس کا اپنا بیان ہے ( ہاں مقدس پولس کا ) اب میرا بھی دل کرتا ہے کہ انہیں مقدس پولس کہوں ،
انکا بیان ہے توریت پہ میرا ایمان ہے ، نذریں چڑھانے آیا تھا ۔اب کوئی گنجائش نہیں بچی ان پادریوں کے پاس جو ہمیں اب بھی بتانا چاہیں کہ شریعت کا کوئی شوشہ بھی منسوخ ہوا ( جیسے مسیح کا فرمان تھا ) یا گناہ سے نجات کی کوئی قربانی ہوئی ۔
جواب دیں : کیا یہ سوچتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کفارے کی امید پر اعمال کے بغیر جو زندگی گزار دی اور اس میں جو گناہ کیئے وہ آپکو ہمیشہ کی زندگی میں کس آگ میں ڈالنے والے ہیں ۔
ابھی بھی وقت ہے ، توبہ کریں ، اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور پھر خدا کے اس فضل کی تمنا کریں جو آپ کو ورغلا کر مفت میں بانٹا جاتا رہا ہے ۔
آپ کا خیر خواہ
محمد اختر
 mmmukalma@gmail.com
Cell No. 03133052561

مکمل تحریر >>

پیر، 29 اپریل، 2019

پولس کے متعلق بہترین معلوماتی تحریر: از قلم ظفراقبال


مقدس پولوس کے متعلق بہترین معلوماتی آرٹیکل
تحریر: میاں ظفر اقبال صاحب۔
سیدنا عیسٰی علیہ السلام مسیح کے صعود آسمانی کے چھ سال بعد یکایک ایک شخصیت منظرنامہ پر نمودار ہوئی اور دعوٰی کیا کہ انہیں مکاشفہ میں یسوع مسیح نے آ کر فرمایا کہ جو کچھ اسے کرنا ہے اسے بتا دیا جائے گا اور بعدازاں دمشق میں انہیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ خدا کا چنا ہوا وسیلہ ہیں۔اس کے بعد وہ یسوع کی منادی کرنے لگے۔ (اعمال باب 9) یہ شخصیت مسیحیت میں پولوس یا سینٹ پال کی ہے جسے اعمال کی کتاب میں پہلے مسیحیت کا شدید مخالفت اور بعد ازاں اس کی زبردست منادی کرنے والا ظاہر کیا گیا ہے۔
سینٹ پال کون تھے اور کہاں کے رہنے والے تھےاور ان کے مستند سوانح حیات کیا ہیں، تاریخی اعتبار سے سب کچھ اندھیرے میں ہے۔جو کچھ بھی معلومات دستیاب ہیں ان سب کا ماخذ عہد جدید ہی ہے جس کی اپنی استنادی حیثیت اور تاریخی وقائع نگاری دونوں بہت کمزور ہیں اور اس میں پیش کی گئی پولوس کی تصویر پر ناقدین شدید تحفظات رکھتے ہیں کیونکہ تاریخی اعتبار سے اس کی تفصیلات بہت کچھ خلاف واقعہ ہیں۔عہد جدید سے جو کچھ معلومات حاصل ہوتی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ طرسوس کے رہائشی اور بنیامین کے قبیلے سے نسبی تعلق رکھنے والے اور مسلکاً فریسی ہونے کے دعوے دار تھے اور رومی شہریت رکھتے تھے۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر یہودی کو رومی سلطنت کا غلام ہونے کے باوجود یہ حیثیت حاصل نہیں تھی حتی کہ خود یسوع مسیح بھی باقاعدہ رومی شہری نہیں تھے بلکہ رومی غلامی کی زندگی بسر کرنے والی یہودی قوم کے ایک عام فرد تھے۔پولوس دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ مشہور یہودی رابائی گملی ایل کے شاگرد تھے اور مسلکاً فریسی تھے۔ان کی مسیحیت میں آمد سے پہلے کی زندگی کے بارے مستند طور پر کچھ نہیں معلوم اور مسیحیت میں داخل ہونے کے بعد والی زندگی کے متعلق معلومات بھی تضاد کا شکار ہیں۔پولوس اپنے متعلق اپنے خطوط میں جو کچھ بتاتے ہیں اعمال کی کتاب کا مصنف اس کے بالکل برعکس بتاتا ہے جس کی وجہ سے ایک تجزیہ نگار کے لیے حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن مسیحی برادری کے نزدیک متضاد اطلاعات بھی درست ہیں اور سب اچھا ] اعمال کے مطابق:
(1)            پولوس دمشق جاتے ہوئے راستے میں یسوع کی آواز سن کر مسیحی ہو گئے۔
 (2)            اس کے بعد وہ دمشق میں حننیاہ کے پاس پہنچے اور کئی دن قیام کیا۔
 (3)            اس کے بعد وہ یروشلم چلے گئے اور اور وہاں رسولوں سے ملے اور ان کے ساتھ آتے جاتے رہے۔
 (4)      وہ یروشلم میں تبشیری سرگرمیوں میں مصروف رہے لیکن جان کے خطرے کے پیش نظر انہیں طرسوس بھیج دیا گیا۔(یہاں تک کی تفصیلات اعمال باب 9 میں موجود ہیں) 
 (5)            اس کے بعد برنباس اور پولوس دونوں یروشلم اور یہودیہ میں امدادی سامان لے کر پہنچے۔(اعمال باب 11)
 (6)            پولوس تیسری مرتبہ یروشلم آئے (اعمال باب 12 ورس 25)
 (7)      ایک دفعہ پھر پولوس ہمیں یروشلم میں ایک کونسل میں شرکت کیلئے نظر آتے ہیں۔(اعمال باب 15) کچھ لوگ اسے تیسرے یروشلمی سفر کا حصہ قرار دیتے ہیں اور کچھ اسے چوتھا سفر کہتے ہیں۔لیکن پولوسی خطوط ایک مختلف فیہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
 (8)            دمشق کی راہ میں پولوس کی مذہبی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔(غلاطیوں 16:1)
 (9)             اس تبدیلی کے فوراً بعد وہ عرب چلے گئے ناکہ یروشلم اور عرب سے واپسی پر بھی وہ پہلے دمشق ہی پہنچے۔(17:1 غلاطیوں) 
(10)      تبدیلی کے تین سال بعد وہ یروشلم پہنچتے ہیں اور وہاں پطرس سے ملاقات کرتے ہیں۔ان کا قیام 15 روزہ رہا۔تاہم وہ پطرس اور کسی دوسرے رسول سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کرتے (غلاطیوں)
(11)            اس ملاقات کے بعد وہ شام اور کیلکیہ کی طرف روانہ ہو گئے۔(غلاطیوں)
(12)            ان علاقوں میں 14 برس مقیم رہنے کے بعد برنباس اور طیطس کے ہمراہ یروشلم واپس آئے (غلاطیوں ب 2)
(13)            اس کے بعد پولوس اور پطرس کا انطاکیہ کے مقام پر جھگڑا ہو گیا۔(یہ سب کچھ غلاطیوں کے نام خط میں موجود ہے)
اس کے بعد وہ مزید کچھ نہیں بتاتے۔
دونوں کتابوں میں پولوس کے متعلق اطلاعات میں اتنا تضاد موجود ہے کہ باہمی تطبیق کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔مسیحی ان تضادات کو چنداں اہمیت نہیں دیتے اور یہ ان کی مجبوری بھی ہے کیونکہ اس کے علاوہ تاریخی اعتبار سے کوئی تفصیلات موجود ہی نہیں ہیں۔
ان تمہیدی کلمات کے بعد ہم آتے ہیں پولوس کی منادی کی طرف جس نے مسیحیت کی ایک بالکل مختلف نئی جہت متعین کر دی اور اب اس سے مسیحیت کے لیے پیچھے ہٹنا کسی طور ممکن نہیں ۔مسیحی ہمیشہ یہ اصرار کرتے ہیں کہ پولوس نے یسوع علیہ السلام مسیح کی تعلیم کی ہی منادی کی لیکن تنقیدی نظر سے دیکھنے والوں کی رائے اس سے بالکل مختلف ہے۔یہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا مسیح کی منادی کرنے سے کوئی رسول بن سکتا ہے جیسا کہ مسیحی دوست سمجھتے ہیں یا کیا وہ نئے عقائد دینے کا مجاز بن سکتا ہے جیسا کہ ناقدین کا کہنا ہے ؟ مسیحی قوم کی خوش اعتقادی کو سمجھنے کے لیے یسوع مسیح کی بعثت کے پس منظر کو جاننا ضروری ہے۔یہودی ایک ہستی کے بطور مسیح کی بعثت کے منتظر تھے جو ان کی سیاسی قیادت سنبھال کر انہیں داؤدی و سلیمانی رفعت دوبارہ عطا کرتی لیکن سیدنا یسوع علیہ السلام بطور مسیح ہادی قوم اور معلم اخلاق بن کر مبعوث ہوئے اور قوم کو اخلاقی گراوٹ سے اٹھ کر اخلاقیات کی اعلی ترین مثالیں قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بنی اسرائیل کو یاد دلایا کہ وہ خدا کی شریعت کے امین ہیں اور انہیں شریعت پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے ناکہ ریاکارانہ طریق اختیار کرنے کی. یسوع مسیح کی اسی تعلیم کا تسلسل ہم ان کے منظر عام سے ہٹنے کے چند برس بعد تک پاتے ہیں۔شاگردوں کی ساری منادی یسوع کی اسی تعلیم کے گرد گھومتی ہے لیکن بہت جلد پولوس کی دبنگ شمولیت سے سارا منظر نامہ تبدیل ہو جاتا ہے(اعمال ب 9)۔سینٹ پولوس کی تبدیلی محض ایک فرد کی تبدیلی ثابت نہیں ہوئی بلکہ پورے نظریہ کی تبدیلی کا پیش خیمہ بن گئی۔یسوع مسیح کا پیغام ان کی بابت پیغام میں تبدیل کر دیا گیا اور فقط یہودی قوم کی اصلاح و تربیت کے لئے مبعوث مسیح کو عالمگیریت عطا کر دی گئی۔انہیں ہادی بنی اسرائیل سے اٹھا کر منجی العالمین بنا دیا گیا۔(1-قرنتیوں 17:15) سیدنا یسوع علیہ السلام مسیح کے اخلاقی اسباق خدا کے اس فضل تلے دفن کر دئیے گئے جس کی آبیاری مسیح کے صلیب پر بہے خون نے کر دی تھی اور اب ان (اخلاقی اسباق) کو شریعت کی پاسداری اور پشتیبانی کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی تھی۔اب نئی انجیل میں المسیح کی صلیبی موت اور اس سے جڑے معاملات پر مجرد ایمان ہی مسیحی مومنین کو بلا رو رعایت عذاب سے نجات کا پروانہ تھما دیتا تھا۔سینٹ پولوس نے برملا کہہ دیا کہ "میں خدا کے فضل کو بیکار نہیں کرتا کیونکہ صداقت اگر شریعت کے وسیلے سے ملتی تو مسیح کا مرنا عبث ہوتا" (غلاطیوں 21:2)
حقیقت یہ ہے کہ پولوس نے مسیح علیہ السلام کے پیغام کی منادی ہی نہیں کی بلکہ مسیح کا پیغام آگے پہنچانے کی بجائے مسیح علیہ السلام کی بابت اپنا پیغام مسیح کے نام سے دیا۔ اس فرق کو سمجھنے سے بہت سے لوگ قاصر رہتے ہیں. پولوس اپنی تعلیم کو نہایت بے تکلفی سے "میری انجیل" قرار دیتے ہیں۔ پولوس ہی پہلے شخص ہیں جو یسوع مسیح کو نیا عہد باندھنے والا قرار دیتے ہیں. پولوس ہی وہ ہستی ہیں جنہوں نے یسوع علیہ السلام مسیح کی تعلیم کی بجائے ان کی ذات سے سارے عقائد وابستہ کئے ہیں مثلاً عقیدہ کفارہ، الوہیت مسیح اور تجسیم جس سے بالآخر تثلیث کی راہ ہموار ہوئی اور مسیح کی صلیبی موت جس سے بالآخر شریعت کو ساقط ہو کر دور فضل کا آغاز ہوا وغیرہ وغیرہ۔ممتاز مسیحی تھیالوجین ڈاکٹر آرنلڈ میئر نے بہت درست الفاظ میں پولوس کا مسیحیت میں نظریات پیوست کرنے کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے :
"
اگر مسیحیت کا مطلب صحیح طور پر اس طرح کا ایمان رکھنا سمجھا جائے کہ یسوع خدا کا آسمانی بیٹا ہے جو زمینی انسانوں میں سے نہیں تھا بلکہ خدا کی صورت اور شان رکھتا تھا اور وہ آسمان سے زمین پر اتر آیا اور انسانی شکل اختیار کر لی تاکہ وہ صلیب پر اپنے خون کے وسیلے سے لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے اور جسے موت سے جگا کر اوپر اٹھا لیا گیا اور جسے مومنین کے خداوند کے طور پر خدا کے دینے ہاتھ بٹھایا گیا اور اب خود پر ایمان رکھنے والوں کی شفاعت کرتا ہے اور ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی حفاظت و رہنمائی کرتا ہے۔ خود پر ایمان رکھنے والوں میں سے ہر ایک کے اندر رہ کر کام کرتا ہے اور جو دنیا کا انصاف کرنے آسمان کے بادلوں کے ساتھ دوبارہ آئے گا اور خدا کے سب دشمنوں کو ہلاک کرے گا مگر اپنے لوگوں کو اپنے ہمراہ نور کے گھر میں لے جائے گا تاکہ وہ اس کے معظم بدن کی مانند ہو جائیں۔اگر یہ مسیحیت ہے تو اس کی بنیاد مقدس پولوس نے رکھی تھی ناکہ ہمارے خداوند نے "
Jesus or Paul by Dr. Arnold Meyer, page 122, Harper brothers London & New York, 1909.

مکمل تحریر >>

جمعرات، 5 جولائی، 2018

یسوع اور یہودی ربائی آمنے سامنے


 یسوع اور یہودی ربائی آمنے سامنے
میں تم سے سچ کہتاہوں جس کے کان ہوں وہ سن لے کہ "تم اپنے باپ شیطان سے ہواورچاہتے ہو کہ اپنے باپ کی خواہشوں کے موافق کرو۔وہ تو شروع سے ہی خونی تھا اورسچائی پر قائم نہ رہا کیونکہ اس میں سچائی نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تواپنے ہی سے بولتا ہے۔ کیونکہ وہ جھوٹا بلکہ جھوٹے کاباپ ہے۔۔۔۔۔۔جوخدا سے ہوتاہے وہ خداکی باتیں سنتا ہے تم اس لیے نہیں سنتے کیونکہ خدا سے نہیں ہو"۔[1]
          ہیکل میں خداند کی دی ہوئی شریعت کے مطابق عبادت میں دل وجان کی گہرائی سے مصروفیت کے دوران جب یہ کلمات میری سماعت سے ٹکرائے توباوجود کوشش کے میں اپنی عبادت میں یکسوئی برقرار نہ رکھ سکا۔میں نے مڑ کر دیکھا تو شرع کے علماء وفقہاء کامجمع تھا جو کسی شخص کے گرد دائرہ بنائے کھڑے اس سے مباحثہ میں مصروف تھے۔ان علماء فقہاء کی موجودگی نے میری توجہ کو ان کی طرف مبذول کیا اور میرے دل میں شدید خواہش پیداہوئی کہ میں بھی ان کی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے ان کےمخاطب سے کلام کرسکوں جس کے فقط ایک جملے نے ہی میری سماعتوں میں ہلچل مچادی تھی۔مگر جیسے ہی میں ان کے قریب پہنچ کر ان میں شامل ہوا تو میں نے عظیم استاد یسوع مسیح کو ان کے درمیان کھڑا پایا۔اس کی موجودگی میرے لیے قابل تعجب تھی اور اُس کی طرف سے ایسے کلمات کی مجھے ہرگز توقع نہیں تھی جوکہ کچھ ہی دیرقبل میں نے سن کر اس گفتگو میں شریک ہونے کافیصلہ کیا۔
ہیکل میں اس سے سامناہونے  سے قبل میں پہاڑی پر اس کاعظیم الشان وعظ سن چکاتھا جس نے اِس کے لیے انتہادرجے کی عقیدت میرے دل میں پیدا کردی تھی اور میری خواہش تھی کہ میں بھی شرع کے اس زبردست استاد سے کچھ سوالات کرکے شریعت کا کچھ علم مزید سیکھ سکوں مگر چند ساعتوں قبل میرے کانوں سےٹکرانے والے اِس کے الفاظوں نے مجھے،میری اُس خواہش پر ،نظرثانی کرنے پر مجبور کردیاتھا۔بےشک مجھے اس کا پہاڑی وعظ سننے کے بعد اس کے کلام کی لطافت نے مسحور کررکھاتھا کیونکہ اُس  کے کلام کی نوعیت بھی اُسی طرز کی تھی کہ جس طرح موسیٰ نے کوہ سینا پر اسرائیل سے کلام کیا تھا کہ "'تم' اس دن کویاد رکھنا جس میں 'تم'مصرسے جوغلامی کاگھر ہے نکلے کیونکہ خداوند اپنے زور بازو سے 'تم 'کووہاں سے نکال لایا"۔[2]
مبارک ہو'تم'جوغریب ہوکیونکہ خداکی بادشاہی 'تمہاری'ہے
مبارک ہو'تم'جواَب بھوکے ہو کیونکہ آسودہ ہو گے
مبارک ہو'تم'جواب روتے ہو کیونکہ ہنسو گے[3]
میری یہ سوچ اس یقین کامحرک بن رہی تھی کہ تورات میں موعود اسرائیل کے بھائیوں سے آمدہ  'وہ نبی'یقینا یہی ہے کیونکہ اِس کے کلام میں میں نے موسیٰ کے اُس تکلم کے وصف کو پایاجوکوہ سینا پر لفظ'تم"کے ساتھ متصف ہے۔قریب تھا کہ میرا ایقان اس سوچ پر قوی ہوتا،یکدم مجھے چنددن قبل ہی اِس(یسوع) کاشرع کاعلماء وفقہاء سے کیا گیاایک اور مکالمہ یادآیا جہاں اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ
تمہارے باپ دادا نے بیاباں میں من کھایااورمرگئے۔[4]
مجھے یاد آیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اس نے فقیہوں  سے بات کرتے ہوئے یہی طرزتخاطب اختیار کیا تھاکہ "تمہاری شریعت میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔"[5]اوریہ کہنے کے کچھ ہی دیر بعد اس نے وہ کہاجس نے مجھے اس بات پرابھاراکہ میں بھی مجمع میں  شامل ہوکر اس کی گفتگو سنوں۔لیکن پہاڑی پراسرائیل سے خطاب اور اِس وقت اُس کے اسرائیل کے فقہیوں سے خطاب میں کچھ توتھاجونہ صرف مجھے بلکہ مجمع کوبھی بےچین کررہاتھا۔
یقیناً وہ اسرائیل کاداؤدی المسیح ہی تھا اور بہت سے لوگوں نے اسے المسیح کی حیثیت سے قبول بھی کرلیاتھا ،اس کی  شہرت اسرائیل کے گھرانوں میں بڑھتی ہی جارہی تھی  کیونکہ اُس نے 'خداکی بادشاہت 'کی منادی کوفقط اسرائیل تک ہی محدود کررکھا تھامگر اس کے باوجودبھی اس کا پہاڑی پردیاگیاوعظ سننے کے بعد کی گفتگو میں ایسا محسوس ہوتاتھا کہ داؤدی المسیح تودرکنار وہ(یسوع) تو خود کو اسرائیل میں سے بھی نہیں سمجھتا۔آخربیاباں میں من کھانے والے اسرائیل کے اجداد –جنہیں اُس نے'تمہارے اجداد' کہہ کرتعبیرکیا-کیا اُُس کے خود کے بھی اجداد نہ تھے؟توپھر وہ کیوں اس تحقیرانہ انداز سے اسرائیل کے اسلاف کے متعلق گفتگو کررہاتھا ؟ اس کا یہ انداز میرے لیے شدید الجھن کاباعث تھا ۔اس پر مستزاد ، 'تمہاری شریعت'کہہ کر  شرع کے علماء پر اُس کاتنقید کرنا میرے لیے ماورائے تفہیم تھا۔آخر یہ اُسی شریعت ہی کی تو بات کررہاتھا جس کی تکمیل اِس نے –چنددن قبل-اپنی آمد کوقراردیاتھا۔[6]وہی شریعت جسے خدا نے موسیٰ کی معرفت اسرائیل کو ودیعت کیاتھا،اُ پر بھی اِس شریعت کا بحیثیت یہودی ویسا ہی اطلاق تھا جیسا کہ کسی اورعام یہودی پر تھا،توپھر چنددن کے فرق نے ہی  اُس کے انداز وکلام کو اس  قدر کیوں تبدیل کردیاتھاکہ وہ خود کوایک اسرائیلی کے بجائے گویاکہ غیرقوم کاکوئی فرد سمجھ کر خدا کی مقدس شریعت سے خود کولاتعلق ظاہر کرکے اپنا ناطہ بھی یہودیت سے ترک کرنے جیسی گفتگو کررہاتھا؟
فقہیوں سے اس کی گفتگو جاری تھی،میں جوکہ اس کے قریب پہنچ گیاتھا،مگر اس نے میری طرف کوئی توجہ نہیں دی۔وہ مسلسل فقیہوں اور ربائیوں کے ساتھ گفتگو میں  مصروف رہا اور میں اس موقع کی تلاش میں کہ کب مجھے اس سے استفسار کاموقع ملے۔چنانچہ میں نے اس کے یک لحظہ توقف کرتے ہی فوراً یہ سوال کردیا:
اے استاد!تُو اسرائیل کو اُس کے اسلاف سمیت شیطان کیونکر کہتاہے؟کیا تُو نہیں جانتا کہ (تجھ سمیت)ہم کن کی اولادیں ہیں؟ ابراہیم، اسحاق ، یعقوب جس طرح ہمارے باپ ہیں،اُسی طرح کیا یہ سب تیرے باپ نہیں؟کیا ہماری طرح توبھی ہمارے باپ ابراہیم سے کیے گئے اُس عہد کی پاسداری میں شامل نہیں کہ ''تُو میرے حکموں پرچل اور کامل ہو"[7]؟اس عہد کے وسیلے سے تو اسرائیل کی مرضی خداکی خواہش کے ماتحت ہے توپھر تو کیسے کہہ سکتا ہے کہ ہم(یہود)شیطان سے ہیں او راس کی مرضی پوری کرنا چاہتے ہیں؟
اُس نے ایک پُرجلال نظر مجھ  پرڈالی مگر کچھ نہیں کہا۔اس کی گفتگو ربائیوں سے جاری تھی اور ہیکل کے پرنور ماحول میں ان کی آوازیں گونج رہی تھیں مگر میرا ذہن ان کی گفتگو سننے کے بجائے اُس کے انہی کلمات میں الجھا ہواتھا جن کاتسلی  بخش جواب تاحال مجھے نہ مل سکاتھا۔'تمہاری تورات'کہہ کر اُس نےنجانے کس تورات کی بات کی تھی کیونکہ ہماری تورات،اسرائیل کی تورات ،خداوند کی شریعت  تو وہی ایک ہی تھی جس پر نہ صرف وہ (یسوع)خودبھی عامل تھا بلکہ پہاڑی پر اپنے متبعین کو بھی اس پر عمل کرنے کی اس نے بھرپور تاکید کی تھی۔مگر کوہ سیناپر موسیٰ کو ودیعت دی گئی شریعت کی کتاب میں تو کہیں بھی شیطان کا ذکر نہیں پایاجاتا؟توپھر یہ شیطان کون ہے جسے وہ اسرائیل کاباپ قرار دے رہاہے؟ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ شاید وہ ابلیس کے متعلق کہنا چاہ رہاہو مگر تورات میں تو ابلیس کے لیے بھی کہیں نہیں لکھا کہ وہ شروع سے ہی خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہاہے۔توپھر  آخر یہ عظیم استاد کس کی بابت گفتگو کررہاتھا؟ اپنے پہلے سوال کو ردکیے جانے کے بعد مجھ میں دوسرا سوال پوچھنے کی ہمت نہیں تھی لہٰذا میں نے یہ اُس نے نہیں پوچھا۔
          شریعت کا عالموں اور فقیہوں سے گفتگوکرتے ہوئے اب اُس (یسوع) کی آواز خاصی بلند ہوچکی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہاں موجود افراد کے رنگ اور تیور بدلتے جارہے تھے۔ ایک دوستانہ ماحول میں کیے جانے والے مکالمے کاماحول ایک تصادم انگیز ماحول کی صورت اختیار کرنے جارہا تھا جس کی وجہ اس کی ایسی گفتگو تھی جوسراسر اسرائیل کی مخاصمت پر مشتمل تھی اور بحیثیت المسیح اسے ایسی اپنی ہی قوم سے اس طرح گفتگو کرنا ہرگز زیب نہیں دے رہاتھا۔
          اس کی گفتگو سن کر میرے دماغ میں یہ خیال پیدا ہواکہ نجانے کیوں اس کی گفتگو اُسے(یسوع کو) اسرائیل سے ممیز وممتاز کرکے باقی ماندہ دیگر اسرائیل کو خدا  کاچنیدہ وبرگزیدہ قرار دینے کے بجائے اُس کانافرمان  اورباغی بناکرپیش کررہی ہے؟ ایک اسرائیلی یہودی ہوکر اُس کااپنے ہی لوگوں سے یہ رویہ رکھنا ناقابل تفہیم بات  تھی۔ مجھےیہ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ کچھ دن پہلے جس لفظ'تم'کے ذریعے وہ اسرائیل کو خوشخبری سنارہاتھا آج وہی لفظ'تم' کیسے وعید وعداوت میں تبدیل ہوکر پورے اسرائیل کو سراسر خداکی طرف سے ملعون اور متروک قرار دے رہاہے؟کیونکہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے اُس نے کہا تھاکہ "جوخدا سے ہوتاہے وہ خداکی باتیں سنتا ہے تم اس لیے نہیں سنتے کیونکہ خدا سے نہیں ہو"۔ اس کی یہ بات مجھ سمیت دیگر یہودیوں کے لیے ایک دھچکے سے کم نہ تھی جنہوں نے اپنی زندگیوں کو خداوند کی خوشنودی کے حصول کے لیے وقف کررکھا تھااوراس مقصد کے حصول کے لیے کبھی کسی بھی قسم کی جانی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔
          توکیا ہمارے سب اعمال ناراست اور بے کار ٹھہرائے جائیں گے؟ کیا خداوند کے حضور چڑھائی جانے والی ہماری قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی؟ کیا کفارے کادن بھی ہمیں پاک نہیں کرسکےگا؟کتنے ہی سوالوں نے بیک وقت میرے ذہن میں جنم لیا ۔میں نے یک لحظہ سوچا مگر خود ہی اپنی سوچ کورد کردیا۔ کیونکہ اُس(یسوع) کی باتوں کو پرکھنے کے لیے میرے پاس کسوٹی عظیم توراتھی جوکہ ہرآن،ہر لمحہ وہر گھڑی میری رہنمائی کے لیے موجود تھی اور اس تورات کی موجودگی میں مجھے اس طرح کے سوالات سے پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے یاد آیاکہ کوہ سینا پر دی جانے والی تورات (زبانی تورات) میں خداوند نے فرمایا۔
خداوند نے موسیٰ سے کلام کرتے ہوئے اسرائیلیوں سے کہا:میں تمہاراخداوند خداہوں۔
ربائی سائمن بن یوحائی کہتے ہیں:"خداوند نے کلام کرکے یہ سب باتیں فرمائیں کہ میں خداوندتیرا خداہوں جو تجھے ملک مصر یعنی جائے غلامی سے نکال لایا"۔(خروج 20:2)
'کیامیں تمہارا خداوند ہوں جس کی حکومت تم نے مصر میں اپنے اوپر لی تھی؟
اُنہوں(اسرائیل) نے اُس (خدا) سے کہا:"بےشک"
"بےشک  تم نے میری بادشاہی کو تسلیم کرلیا ہے"
'انہوں نے میرے آئین کوتسلیم کیا:تمہارے لیے میرے سوا کوئی خدانہ ہوگا۔'
دوسرے لفظوں میں یہاں یہ کہاگیاہے کہ"میرا تمہاراخداوند خداہوں "کامطلب "کیامیں وہ ہوں جس کی بادشاہی تم نے کوہ سیناپرتسلیم کی"ہے؟
اُنہوں(اسرائیل) نے اُس (خدا) سے کہا:"بےشک"
"بےشک  تم نے میری بادشاہی کو تسلیم کیا ہے "
'انہوں نے میرے قوانین کوتسلیم کیا:تُم ملک مصر کے اعمال کونہیں دہراؤ گے جہاں تم سکونت پذیررہے اور نہ ہی ملک کنعان کے قوانین کی پیروی کروگے جس کومیں تم سے لیتاہوں'۔[8]
          لہٰذا جب بحیثیت اسرائیل ہم خداوند کو سنتے اور اس کی تسلیم کرتے ہیں –جس کی تصدیق وہ (خدا)خود تورات میں بھی کرتاہے- تو پھر وہ کیسے یہ کہاجاسکتاہے کہ اسرائیل خدا سے نہیں؟
          میری سوچ کاتسلسل لوگوں کے شوروغل بڑھ جانے سے ٹوٹ چکاتھا۔اس سے قبل کہ میں صورتحال سمجھتا اور اُس سے سوال کرکے اپنی ذہنی خلش دور کرتا،فقہاء سے اس کی گفتگو ایک جدال کی صورت اختیار کرچکی تھی  اورعنقریب کسی بھی قسم کاناخوشگوار واقعہ ہوسکتاتھا۔صورتحال انتہائی نازک تھی۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے انہیں روکوں؟ وہ اُسے مارنے کے لیے پتھر اُٹھا چکے تھے مگر وہ ،وہ تواپنی باتیں کہہ کر نجانے  کب کاکدھر نکل گیاتھا۔میں نے اُس کی تلاش میں ہیکل کے دروازے کارخ کیا جہاں پہنچ کر میں نے دور اسے جاتے ہوئے دیکھا۔وہ چھپ کر ہیکل سے نکل کر جاچکاتھا۔


[1] یوحناباب8فقرہ44تا47
[2] خروج13:3
[3] لوقا6:20
[4] یوحنا6:49
[5] یوحنا8:17
[6] متی5:17
[7] پیدائش17:1
[8]  (Sifra to Adhare MOT CXCIV:II.1)

مکمل تحریر >>