Pages

Most Popular

جمعہ، 23 اکتوبر، 2026

مقدس پولس کا پیش کردہ تصورِمسیحیت( قسط اول)

 











مقدس پولس کا پیش کردہ تصورِ مسیحیت(قسط اول)

مترجم:عبداللہ غازیؔ

یہودیوں اور غیر قوموں میں پولس کی تبلیغی خدمت

پولس کی مسیحیت(Pauline Christianity)کی حقیقت سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی ابتدا کیسے ہوئی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ طرسوس کے رہنے والے یہودی پولس نے خود کو حضرت عیسیٰؑ کا منتخب نمائندہ اور رسول کس بنیاد پر سمجھا؟اس سوال کا جواب ہمیں بنیادی طور پر دو ذرائع سے ملتا ہےجن میں اعمال  کی کتاب  کےباب 9 تا 28 اور خود پولس کے خطوط خصوصاً گلتیوں اور دوسرا کرنتھیوں شامل ہیں ۔ تاہم ان دونوں ذرائع میں بعض مقامات پر معلومات ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد بھی معلوم ہوتی ہیں۔اعمال کی کتاب  کے مطابق پولس کا تعلق ایشیائے کوچک (موجودہ جنوبی ترکی) کے شہر طرسوس سے تھا جہاں وہ پیدا ہوا اور مختلف اوقات میں قیام بھی کرتارہا۔ وہ نسلاً یہودی تھالیکن کسی نامعلوم وجہ سے پیدائشی طور پر رومی شہریت بھی رکھتاتھا۔ مزید یہ کہ اس کی تعلیم مبینہ طورپر یروشلم میں اس زمانے کے مشہور فقیہ اور ربی گملی ایل(Gamaliel)کی شاگردی میں ہوئی تھی۔ ان باتوں میں سے کوئی بھی ناممکن نہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پولس اپنے خطوط میں ان میں سے کسی بات کا ذکر نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اپنی اعلیٰ یہودی علمی حیثیت یا رومی شہریت کا حوالہ دیتاتو یہ یہودی اور رومی حکام سے معاملات میں اس کے لیے سودمندثابت ہو سکتا تھا۔

اعمال کی کتاب  کے مطابق پولس نے اپنی تبلیغ صرف غیر قوموں تک محدود نہیں رکھی بلکہ یہودیوں اور غیر قوموں دونوں کو اپنا مخاطب بنایا۔دمشق میں جب اس نے یہودیوں کو حضرت عیسیٰؑ کا پیغام سنایا تو اس  کی جان خطرے میں پڑ گئی ۔[1]بعد ازاں اس نے پسدیہ کے انطاکیہ، اِکونیم، بیریہ، کرنتھ اور روم جیسے شہروں میں بھی سب سے پہلے یہودیوں کو تبلیغ کی لیکن اسے وہاں بہت محدود کامیابی حاصل ہوئی۔ عموماً یہودی عبادت گاہوں کے ذمہ دار افراد اسے فسادی شخص سمجھتے تھے جو ان کی جماعت کے امن و اتحاد کے لیے خطرہ بن گیا تھا، اس لیے انہوں نے پولس کی شدیدمخالفت کی۔اس کے برعکس پولس کی دعوت کو زیادہ پذیرائی دو طبقوں میں ملی۔اولاًوہ غیر یہودی جو پہلے ہی یہودی مذہب سے متاثر ہو کر عبادت خانوں میں آتے تھے اور دوم وہ بت پرست غیر اقوام جن کا پہلے یہودیت سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن وہ پولس کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں۔ یوں پولس کی تبلیغی سرگرمیوں کا اصل اور دیرپا اثر غیر قوموں میں زیادہ نمایاں ہوا جبکہ یہودی معاشرے میں اسے نسبتاً کم کامیابی ملی۔

پولس خود کو کو خدا کی طرف سے غیر اقوام تک خوشخبری پہنچانے کے لیے چنیدہ شخص سمجھتا تھا۔ وہ خود کو”مسیح حضرت عیسیٰؑ  کا خادم، جو غیر قوموں کے درمیان خدا کی خوشخبری کی خدمت انجام دیتا ہے“قرار دیتا ہے ۔[2] وہ اپنے آپ کو غیر قوموں کا استاد، رسول، اور ان لوگوں کے لیے خوشخبری کا امین بھی کہتا ہے جو مختون نہیں ہیں۔[3]اس کے برعکس پولس کے مطابق یہودیوں میں تبلیغ کی ذمہ داری پطرسؔ کے سپرد تھی، کیونکہ وہ "مختون افرادکے لیے خوشخبری“کے رسول تھے۔[4]اگرچہ پولس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہودیوں میں تبلیغ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہےلیکن وہ یہ ضرور یقین رکھتا تھا کہ آخرکار یہودی بھی نجات پائیں گے۔ اس کے نزدیک جب غیر اقوام کی بڑی تعداد مسیح پر ایمان لے آئے گی تو خدا بنی اسرائیل پر بھی اپنا فضل فرمائے گا۔ اسی خیال کو وہ یوں بیان کرتا ہے کہ ”میں نہیں چاہتا کہ تم اس بھید سے ناواقف رہو کہ اسرائیل کا ایک حصہ سخت ہو گیا ہے اور جب تک غیر قومیں پوری طرح داخل نہ ہوں ایسا ہی رہے گا اور اس صورت میں تمام اسرائیل نجات پائے گا۔“[5]

اعمال کی کتاب  کے مطابق، جب بھی پولس فلسطین سے باہر کسی شہر میں پہنچتا تو اپنی تبلیغ کا آغاز عموماً یہودی عبادت گاہ  سے کرتا تھا۔ وہاں مقامی یہودیوں کے ساتھ ساتھ وہ غیر یہودی بھی موجود ہوتے تھے جو یہودیت سے متاثر تھے اور خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ پولس ان سب کے سامنے اپنا پیغام پیش کرتا تھا۔پولس نے ایک موقع پر اپنی تبلیغی حکمتِ عملی کو ان الفاظ میں بیان کیا

”میں یہودیوں کے لیے یہودی بنا تاکہ یہودیوں کو کھینچ لاؤں۔ جو لوگ شریعت کے ماتحت ہیں ان کے لیے میں شریعت کے ماتحت ہوا تاکہ شریعت کے ماتحتوں کو کھینچ لاؤں۔۔۔۔۔میں سب آدمیوں کے لیے سب کچھ بنا ہوا ہوں تاکہ کسی طرح سے بعض کو بچاؤں۔“[6]

اگرچہ پولس اپنی تبلیغ میں یہودیوں تک بھی پہنچنے کی کوشش کرتا تھا لیکن فلسطین سے باہر اس کی سرگرمیاں یہودیوں کے ساتھ شدید تنازعات کا باعث بنتیں۔ بہت سی عبادت گاہوں کے ذمہ دار اس کے مخالف ہو گئے اور اسے سخت سزائیں بھی دیں۔پولس خود بیان کرتا ہے کہ ”میں نے یہودیوں سے پانچ بار ایک کم چالیس چالیس کوڑے کھائے۔تین بار بید لگے۔ ایک بار سنگسار کیاگیا۔ تین بار جہاز ٹوٹنے کی بلا میں پڑا۔ ایک رات دن سمندر میں کاٹا۔“[7](اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس کی تبلیغی زندگی آسان نہیں تھی۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر غیر قوموں کا رسول سمجھا جاتا تھا پھر بھی وہ اکثر یہودیوں سے بھی رابطہ کرتا رہا لیکن اس کوشش کی قیمت اسے شدید مخالفت، جسمانی اذیت اور بار بار سزاؤں کی صورت میں چکانی پڑی۔مترجم)

اگر اعمال کی کتاب  میں موجود معلومات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو غالباً واقعات کی اصل صورتِ حال کچھ یوں تھی۔جب پولس اور اس کے ساتھی مختلف شہروں کا سفر کرتے تو وہ سب سے پہلے وہاں کی یہودی برادری سے رابطہ کرتے اور عموماً انہیں انہی کے ہاں قیام و مہمان نوازی مل جاتی۔ پھر پولس اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سبت(Sabbath) کے دن عبادت گاہ میں حاضر لوگوں سے خطاب کرتا۔ بعض اوقات اسے دوسری مرتبہ بھی وعظ کرنے کی دعوت مل جاتی۔اس کی تقریر کے بعد چند یہودی اور عموماً ان سے زیادہ تعداد میں وہ غیر یہودی جو پہلے ہی یہودیت سے متاثر تھے (جنہیں ”خدا ترس“ یا God-fearers کہا جاتا تھا)، پولس کے ساتھ ہو لیتے اور اس سے مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے۔تاہم اکثر یہودی اس کی باتوں سے متاثر نہ ہوتے۔ اس کے برعکس عبادت گاہ کے رہنما پولس کو اپنی جماعت کے اتحاد اور امن کے لیے خطرہ سمجھتے تھے، اس لیے وہ اس کے نئے پیروکاروں کو دوبارہ اپنی جماعت میں واپس لانے کی کوشش کرتے تھے ۔[8]ایسے حالات میں پولس اور اس کے ساتھی یہودی برادری سے اپنا تعلق ختم کر دیتے اور اپنی تمام تر توجہ ان غیر یہودیوں کی تعلیم و تربیت پر مرکوز کر دیتے جو یہودیت سے متاثر تھے نیز دوسرے دلچسپی رکھنے والے بت پرست لوگوں پر۔اس موقع پر وہ مخالف یہودیوں سے کہتے”ضرور تھا کہ خڈا کا کلام پہلے تمہیں سنایاجائے لیکن چونکہ تم اس کو رد کرتے ہو اور اپنے آپ کو ہمیشہ کی زندگی کے ناقابل ٹھہراتے ہوتودیکھو ہم غیر قوموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ “[9]یہی غیر یہودی ایمان  دار بعد میں پولس کی قائم کردہ کلیسیاؤں کی بنیاد بنے۔ان نئی جماعتوں کے افراد عبادت یا مذہبی اجتماعات کے لیے کسی باقاعدہ عبادت گاہ میں نہیں بلکہ اپنے ہی کسی خوش حال رکن کے کشادہ گھر میں جمع ہوتے تھے۔ ایسے اجتماعات کو بعد میں ”ہاؤس چرچ“(House Church) کہا جانے لگا۔یونانی دنیا میں غیر قوموں پر مشتمل مسیحیت کی باقاعدہ توسیع کا آغاز اسی طریقے سے ہوا۔


[1] اعمال 9 :20 –25

[2] رومیوں 15 :16

[3] گلتیوں 1 :16؛ 2 :7؛ 1- تیمتھیس 2 :7

[4] گلتیوں 2 :7

[5] رومیو۱۱: ۲۵-۲۶

[6] ۱-کرنتھیوں 9 :20–22؛ 10 :33

[7] ۲۔کرنتھیوں 11 :24–25

[8] اعمال 13 :45؛ 17 :13

[9] اعمال 13 :46


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔