Pages

Most Popular

ہفتہ، 5 مارچ، 2016

تحریف بائبل: عہدنامہ جدید تاریخ کے آئینے میں





                                          تحریف بائبل: عہدنامہ جدید تاریخ کے آئینے میں
بائبل مقدس مسیحی دنیا کے لئے خدا کا ناقابل تغیرکلام ہے۔ مسیحی علماء کے مطابق یہ دعوی بنی اسرائیل/یہودیوں کی تاریخِ وحی کےاندر اپنی جڑیں رکھتا ہے، لہٰذا یہ دلیل بحیثیت ثبوت تاریخی طور پرناقابل مواخذہ ہے!
تاہم، تاریخ کا مطالعہ کرنے پرہمیں کچھ ایسےحقائق سے بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے، جوعیسائی دعوی کے خلاف جاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔۔ بائیبل مقدس کی انگریزی اور دنیاکی دیگرزبانوں میں ترجمے (Translation Process) کی داستان بہت عجیب مگر دلچسپی سے بھرپورہے۔ دنیا بھر کی زبانوں میں ہونے والے "بائبلی تراجم" کی بنیادعصرحاضرکے انگریزی ترجمہ ورژن (English Versions) ہیں، جن کو دیگراقوام بطور"سند" (Certified Text) استعمال کرتی ہیں اوران پراندھا اعتماد رکھ کردُنیا بھرکے مسیحی اپنی اپنی زبانوں میں بائبل کے ترجمہ کاکام کررہے ہیں۔۔ مثال کے طور پربائبل کے ایک اہم "اُرْدُوترجمہ" کی بنیاد انگریزی زبان کا 1978ء میں شائع ہونے والا "نیوانٹرنیشنل ورژن" (NIV) ہے۔اِس سے ایک چیزواضح طور پرثابت ہوتی ہے کہ بائبل کے 99 % تراجم درحقیقت کسی”ترجمے کا ہی ترجمہ“ ہیں، جبکہ دنیاکی کسی بھی معتبرزبان میں پائے جانے والے ترجمے اور بائبل کےعہدنامہ ہائے جدیدوقدیم (New & Old Testaments) کےاصل متن کے مابین کوئی براہ راست تعلق اور ربط ضبط موجود نہیں ہے۔
حیرت انگیز امریہ ہے کہ جن مختلف یونانی "متون /مخطوطات" (Greek Manuscripts) پرآج تک کیےجانے والےانگریزی تراجم کی بنیاداستوار ہے، وہ بھی کم ازکم " چار" (4) بنیادی قِسموں میں منقسم ہیں۔۔ لہٰذا ہم بادلیل کہہ سکتے ہیں کہ آج کم از کم "چارعدد عہدنامہ جدید" مسیحی دنیا میں موجود ہیں، جوکہ اصل ہونے کے دعویدار ہیں۔۔ تاہم ان میں سے کسی کے متعلق بھی سوفیصد (100%) یقین سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ہی اصل عہد نامہ جدید ہے۔۔ اِس پرمزید حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک دریافت ہونے والے 14 ہزارسےزائد قدیم مخطوطات میں سے کوئی ایک مخطوطہ یا متن بھی مکمل شکل میں دستیاب نہیں ہے۔۔ مزید برآں، اس سے بڑھ کردلچسپ امریہ ہےکہ ان ہزاروں مخطوطات میں سے کوئی سے دونسخے بھی باہم مشابہت نہیں رکھتے۔ یعنی اُن کی عبارت میں کسی نہ کسی مقام پرتفاوت ضرورموجود ہے۔
آج مسیحی دنیا کے پاس سب سے قدیم نسخہ "کوڈیکس ویٹیکانس" (Codex Vaticanus) ہے، جو310 ء سے 325ء کے لگ بھگ کہیں لکھا گیا۔۔ دوسرا قدیم ترین واہم ترین نسخہ "کوڈیکس سیناٹیکس" (Codex Sinaiticus) ہے، جوکہ 375ء یا اس کے بعد مسیحی کاتبین کی جانب سے تحریرکرکے صحیفے (Codex) کی شکل میں ڈھالا گیا ۔ جبکہ تیسرا قدیم ترین یونانی نسخہ "کوڈیکس الیگزینڈرینوس" (Codex Alexandrinus) کہلواتا ہے، جس کے لکھے جانے کا زمانہ پانچویں صدی عیسوی ہے۔۔ مسیحیت کے پاس تصدیق عہدجدید کےلئے فخرکئےجانےکے قابل کل اثاثہ یہی 3 قدیم نسخے ہیں۔۔ تاہم یہ سب نسخے عہدجدید کے لکھے جانے کے اصل زمانہ سے کم از کم 2 سے 4 صدیاں بَعْد کی پیداوارہیں اوراصل متن کی نمائندگی نہیں کرتے۔۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی نسخہ مکمل عہد نامہ جدید یعنی موجودہ 27 کتابیں اپنے اندر نہیں رکھتا۔ یعنی یا تو کُتب کی تعداد کم پائی گئی ہے، یا پھرزیادہ! مثال کے طورپر، کوڈیکس ویٹیکانس میں پوری یہودی بائبل (عہدِقدیم) کایونانی ترجمہ جوکہ”Septuagint“ کہلاتا تھا موجود ہے،لیکن مسیحی صحیفہ کے 1 اور 2 تیمتُھیس (Timothy)، ططُس،(Titus) فلیمون (Philemon) اورمکاشفہ (Revelation) نامی کُتب اِس کوڈیکس کا حصہ نہیں ہیں۔ دوسری طرف ”کوڈیکس سیناٹیکس“ کا معاملہ قدرے مختلف اورپیچیدہ نظرآتا ہے،کیونکہ اِس میں پوراعہدنامہ جدید توبیشتراِملائی تحریفات کےساتھ موجود ہےہی،لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ”شیپرڈ آف ہرماس“ (Shepherd of Hermas) اور ”برنباس کا خط“ (Epistle of Barnabas) بھی الہامی کتب کی فہرست میں خُدا کےکلام کی حیثیت سےموجود ہیں۔ تاہم، اِس کےبرعکس عہدِقدیم اِس کوڈیکس میں پوری طرح سےسلامت حالت میں نہیں پایا گیا۔ تیسرا اورجامع ترین مخطوطہ ”کوڈیکس الیگزینڈرینوس“ بھی اِن مسائل سےخالی نہیں،کیونکہ اِس کےمسودہ کےمسیحی عہدنامےوالےحصے میں 27 قا نونی کُتب کےعلاوہ ”1 اور2 کلیمنٹ“ (Clement) بھی موجودہیں،جبکہ عہدِقدیم میں ”اپوکریفا“ (Apocrypha) کتب کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ لہٰذا تنقیدی اعتبارسےدیکھا جائے تواِن مسودات کی صحت پر سوال پیداہونےکےساتھ ساتھ بائبل کےمجموعی ”قانون“ (Canon)کےمتعلق بھی شبا ت پیداہوجاتےہیں۔
دوسرے لفظوں میں عیسائی "صحیفائی قانون" (Scriptural Canon) کی توثیق بھی ان مسودات سےکسی طور ممکن نہیں ہے! مزید برآں، مسیحی فاضلین تسلیم کرتےہیں کہ ان مسودات میں کثرت سے "کاتبین کی غلطیاں" اور بعد کی "تحریفات واضافہ جات" (Scribal Errors & interpolations) موجود ہیں، جن کی ایک لمبی فہرست اضافوں کے ساتھ فاضل مغربی مسیحی علماء متعددبارشائع بھی کرچکے ہیں۔ ان میں سے اکثرتحقیقی نتائج پر مشتمل شائع ہونےوالی کتابوں کے حقوق "United Bible Society" کے ہاتھ میں ہیں، جسےعُرفِ عام میں UBS کےنام سے پُکاراجاتا ہے۔۔
ان نسخوں کی بنیاد پر"عہدنامہ جدید" کے جو 4 اہم یونانی ورژن (Greek Versions) یونانی متن کی تعمیرنوکےبعد تخلیق کئےگئے ہیں، وہ یہ ہیں:
1۔"ویسٹکاٹ اینڈ ہورٹ" (Westcott & Hort) -- انیسویں صدی عیسوی!
2۔ "نیسلے ـ الاند" (Nestle-Aland) -- انیسویں صدی عیسوی!
 3۔ " UBS گریک نیو ٹیسٹامنٹ " (United Bible Society Greek New Testament) -- بیسویں صدی عیسوی! (آج کے جدیدترین بائبلی ورژن، مثلاً نیو انٹرنیشنل ورژن (NIV) ، نیو امریکن اسٹینڈرڈ ورژن (NASB) ، ریوائزڈ اسٹینڈرڈ ورژن ( RSV) ، امریکن ریکوری ورژن (ARV) وغیرہ انہی 3 مختلف المتن یونانی متنوں پرمبنی انگریزی تراجم ہیں۔)
4۔ " ٹیکٹوس ریسپٹوس " (Textus Receptus) ۔۔ سولہویں صدی عیسوی!
1881ء میں شائع ہونےوالے بائبل کے "ریوائزڈ ورژن" (Revised Version) نے اُنیسویں صدی میں ترتیب دیئےگئے "ویسٹکاٹ اینڈ ہورٹ" کے یونانی متن کو کام میں لاتے ہوئے زمانہ قدیم سے "مقدس گائے" سمجھی جانے والی "کنگ جیمس ورژن بائیبل" (KJV) کی قانونی ومذہبی حیثیت کو چیلنج کردیا تھا۔ یہ ایسا موقع تھا جب مسیحی پادریوں نے ”ریوائزڈ ورژن“ نامی اِس نئے ترجمہ کو ”شیطان کی بائبل“ اور مسیحیت کےخلاف سازش قراردیا تھا۔ لہٰذا، قدامت پسند مسیحیوں کی جانب سے اِس ترجمہ کے ہزاروں نسخےسرِعام جلا کرغصہ نکالا گیا۔
"کنگ جیمس ورژن بائبل" (1611ء) کا انگریزی ترجمہ سولہویں صدی عیسوی میں کیتھولک چرچ کے تحت تشکیل دئےگئے یونانی متن "ٹیکٹوس ریسپٹوس" پر استوار کیا گیا تھا۔ تاہم یہ ترجمہ کلی طور پر نیا اور جدت پر مبنی نہیں تھا (اِس بات کا وضاحتی ذکر آگے آ رہا ہے)۔ "ٹیکٹوس ریسپٹوس" کیتھولک اِسْکالَر"اراسمس" (Desiderius Erasmus) کا تیار کیا ہوا متن تھا، جواس نے "سینٹ جیروم" (Saint Jerome) کے مشہورزمانہ لاطینی ترجمہ "وولگاتا" (Vulgate) اورفی زمانہ دستیاب کچھ یونانی قلمی مسودات کی مدد سے تیار کیا تھا۔ یاد رہےکہ تشکیل متن کےدوران کئی ایک مقامات پر"اراسمس" نے یونانی مسودات میں عہدنامہ جدید کی کسی غیردستیاب (Missing) آیت کو رائج الوقت لاطینی متن سے اٹھا کرواپس یونانی میں ترجمہ کردیا اوراسکو عہدنامہ جدید کا اصلی متن قراردے دیا۔۔ مثال کے طور پر، کتاب مکاشفہ (Revelation) کی آخری 8 آیات (باب 22 ، آیات 14 تا 21) ، 1 یوحنا 5 : 7-8 (باب 5 ، آیات 7 تا 8) وغیرہ اسی زمرے میں آتی ہیں (اِس پرمزید بات آگے چل کرہوگی)۔ مزید حیران کن امریہ ہےکہ اِس سے قبل کم ازکم پورے ایک ہزار سال تک مسیحی دنیا کے پاس عہدنامہ جدید کا کوئی باقاعدہ "متفق الآراء" یونانی متن سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ اس لئےکیتھولک چرچ نے سینٹ جیروم کے "وولگاتا" (Latin Vulgate) کو ہی "خدا کے الہامی کلام" کا درجہ دے رکھا تھا ، جس کی یہ حیثیت کسی نہ کسی طورآج بھی برقرار ہے!
چونکہ یہ سارا عمل بازنطینی سلطنت کی زیرِسرپرستی طے پایا، لہٰذا یہ ضروری تھا کہ قسطنطنیہ میں نشست فرما شہنشاہ کی درباری زبان کو کلام خدا کا آلہءاظہاربنایا جائے۔لہٰذا کلیسیا کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی،جس نے فوری طورپر“جیروم“نامی متقی مسیحی اورماہرِلسانیات والہٰیات کویہ فریضہ سرانجام دینےکی ذمہ داری منتقل کردی۔ بازنطینی سلطنت کی سرکاری زبان لاطینی میں بائبل کے ترجمے کےاس منصوبے کی شروعات سینٹ جیروم کی نگرانی میں 382 عیسوی میں ہوئی اوریہ منصوبہ 405ء میں مکمل ہوا۔ اس ترجمہ کولاطینی زبان میں "Vulgate" یعنی روزمرہ محاورہ کی ”عام فہم زبان" کا نام دیا گیا۔ جیروم کے "Latin Vulgate" پرمبنی انگریزی زبان میں کیا گیابائبل کا ترجمہ "Douay-Rheims English Bible" کہلاتا ہے، جوکہ صرف "کیتھولک عیسائیوں" کے ہاں استعمال کیا جاتا ہے،جبکہ پروٹسٹنٹ فرقہ کے لوگ اِس کو استعمال کرنے سے کتراتے ہیں!
مسیحی دنیا میں آج بھی یہ تنازعہ بڑی شدت کے ساتھ موجود ہے کہ یونانی زُبان میں موجود عہدنامہ جدید کے ان ”چاروں ورژنز“ میں سے اصلی "مسیحی عہدنامہ" کے قریب ترین کون سا ہے؟ کیا یہ مسیحیت کے سرچشمہ سے پُھوٹنے والےاِلہامی متن کے اِرتقاء کو ظاہر کرتے ہیں یا پھریہ سبھی باہم مختلف صحیفے ہیں جو مختلف مکاتب ِ فکر کے فکری اسلوب اور متنی فہم کی نمائندگی کرتے ہیں؟ تاہم، اِس بات کا کسی کے پاس کوئی مؤثرجواب نہیں ہے۔۔ البتہ مسیحی اسکالرز مسیحی صحیفہ کے متن کی تعمیرنو (Reconstruction) کےعمل پربڑی شدّومد سے کام کرتے ہوئے اِس جستجو میں ضرورنظرآتےہیں کہ اصل متن کے جتنا قریب ممکن ہو سکے پہنچا جا ئے۔ لہٰذا اِس مقصد کے مدنظر ناقدینِ متن ایک سائنسی اسلوب اختیار کرتے ہیں اور درجہ بندی کا طریقہء کار وضع کرتے ہوئے وہ بائبل کےمتن کو اے (A)، بی (B)، سی (C)، ڈی (D)، ای (E)، اور ایف (F) کے درجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اِس درجہ بندی کا مطلب کیا ہے،اِس کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے:
☜ "اے" سے مراد وہ متن ہے،جو ہر طرح سے تصدیق شدہ ہے۔
 ☜ "بی" سے مراد وہ متن ہے،جواکثریت سے تصدیق شدہ ہے۔
 ☜ "سی" سے مراد وہ متن ہے،جو کافی مخطوطات میں موجود ہو۔
 ☜ "ڈی" سے مراد وہ متن ہے،جو بہت کم نسخوں میں پایا گیا ہو۔ لیکن اس پرعلماء کی پختہ رائے موجود ہو کہ یہ قابل اعتماد ہے۔
 ☜ "ای" سے مراد وہ متن ہے،جوایک یا دو نسخوں میں موجود ہو، اورمشکوک کی فہرست میں آتا ہو۔
☜ "ایف" سے مراد وہ متن ہے،جومحض ایک نسخہ میں یا صرف بعدکےزمانہ کے مسودات میں پایا گیا ہو،اورمتن کےنقاد ماہرین اسے 'ناقابل اعتماد' قرار دے چکے ہوں۔۔ مثال کے طور پر، انجیل مرقس کے 16 ویں باب کا طویل اختتام (آیات 9 تا 20) جس میں "یسوع مسیح کی حیات ثانیہ" (Resurrection) کا ذکر ہے،اسےمتن کے ماہرین"ایف" کا درجہ دے کر مسترد کر چکے ہیں۔ لہٰذا بائبل کےہرجدید ورژن کے حاشیہ میں اِس بات کا ذکر ضرور موجود ہوتا ہے کہ یہ تحریرقدیم نسخوں میں نہیں پائی جاتی،لہٰذا یہ مشکوک ہے۔ اسی طرح ماہرین متن انجیل یوحنا کے 8 ویں باب میں موجود "بدکارعورت اور اس کی سزا" والے واقعہ (آیات 1 تا 11) کو بھی "ایف" کا درجہ دے چکے ہیں،جس سے مُراد یہ ہے کہ یہ واقعہ بعد میں کیا گیا دانستہ اضافہ ہے اورانجیل ِ یوحنا کے اصلی متن میں سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ یوحنارسول کے پہلے خط کامتن بھی اضافہ جات سے نہ بچ سکااورناقدینِ متن کواِس کے اندر بھی ”ایف“ کادرجہ جاری کرناپڑا۔ یوحنا کے پہلے خط میں موجود ”یوحانوی کوما“ (Johannine Comma) مسیحی الہٰیات کی ایک معروف اصطلاح ہے،جس سےمراد وہ ’واحد‘ بائبلی حوالہ ہےجس کی بنیاد ہر ”تثلیث“ کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ تاہم اِس یوحانوی کوما کے متعلق علماءکاخیال ہےکہ یہ قرُونِ وسطیٰ کی ایجاد ہے۔ لہٰذا خط کے اندر سے اِس اضافی متن کومسترد کرکے بائبل سے کلیۃً نکال دیاگیا۔ تاہم دلچسپ امریہ ہےکہ یہ متنازع متن آج بھی ”کنگ جیمس ورژن بائبل“ اور اِس مکتبہءفکرسے منسلک انگریزی ودیگرزبانوں کے تراجم کا بدستورحصہ ہے۔ حوالہ کے لئے یہاں انگریزی متن پیش کیا جا رہا ہے۔
✈   King James Version Bible (KJV):
“For there are three that bear record in heaven, the Father, the Word, and the Holy Ghost: and these three are one. And there are three that bear witness in earth, the Spirit, and the water, and the blood: and these three agree in one.” (1 John 5:7-8)
اوراب اِس قدیمی متنِ بائبل سے موازنہ کے لئےعصرِحاضر کی معروف ترین انگریزی بائبل کا متن ملاحظہ ہو:-
✈  New International Version Bible (NIV):
“For there are three that testify: the Spirit, the water and the blood; and the three are in agreement.” (1 John 5:7-8)
ایک اور حیرت انگیزتاریخی حقیقت یہ ہےکہ ”کنگ جیمس ورژن بائبل“ تقریباً 92٪ چربہ ہےاِس سے پون صدی قبل شائع ہونے والی ”Tyndale Bible“ کا،جوکہ William Tyndale نامی سولہویں صدی کے معروف انگریز مسیحی سکالرکاکیا ہوا ترجمہ تھا۔ تاہم یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ ٹِنڈیل بائبل میں ”یوحانوی کوما“ کا کہیں کوئی وجود نہیں تھا،جبکہ پون صدی بعد ”کنگ جیمس ورژن“ کی صورت میں شائع ہونے والا اِس کا Updated ایڈیشن اپنے اندر‘کوما‘ نامی تثلیثی تحریف رکھتا تھا۔
علاوہ ازیں، انجیلِ یوحنا کے ابواب اوّل اورسوّم میں موجود ایک انتہائی اہم تحریف کوبھی مسیحی علماءِفنِ متن کی جانب سےحذف کر دیا گیا۔ انجیلِ یوحنا کے پہلےباب کی آیت نمبر14اورتیسرےباب کی آیت نمبر16 کےمتن میں موجود ”متولد“ (Begotten) کا لفظ بعد کےزمانہ کی تحریف مان کرمٹادیا گیا،اورمتن کو ’اِکلوتا متولد بیٹا‘ (only begotten son) کی جگہ ’اِکلوتا بیٹا‘ (one and only son) کردیا گیا۔ اِس اہم تبدیلی کاحوالہ بھی مذکورہ بالامعروف انگریزی ترجموں سے ذیل میں دیا جا رہا ہے:-
✈    “And the Word was made flesh, and dwelt among us, (and we beheld his glory, the glory as of the only begotten of the Father,) full of grace and truth.” (John 1:14 KJV)
“The Word became flesh and made his dwelling among us. We have seen his glory, the glory of the one and only Son, who came from the Father, full of grace and truth.” (John 1:14 NIV)
✈ “For God so loved the world that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but has everlasting life.” (John 3:16 KJV)
      ✈“For God so loved the world that he gave his one and only Son, that whoever believes in him shall not perish but have eternal life.” (John 3:16 NIV)
یہ بات دل چسپی سےخالی نہیں کہ مذکورہ بالاتحریف مسیحیت کو ”بیٹاپرستی/ابنیت“ (Sonship) کی بائبلی بنیاد فراہم کرنے کے لئےکرنا پڑی، کیونکہ اِس کےعلاوہ یسوع کا ”خُداباپ“ سے رشتہ بالکل ویسے ہی عمومی نوعیت کا تھا،جیساکہ یہودی عقیدہ کےمطابق ہریہودی خُدا کا بیٹا ہے۔ اِس عمومی یا غیرتثلیثی ”لےپالکی“ (Son Adoption) کے بکثرت حوالہ جات عہدنامہ قدیم کےاندر جگہ جگہ بکھرےپڑےہیں۔
ایک اور اہم تحریف انجیلِ لوقا کےباب23، آیت34 کی زینت بنی، جہاں بعد کے کاتبین نے نامعلوم کس کے ایماء پریسوع کے منہ میں یہ الفاظ ڈالے:
                               ”اے باپ! اِن کو معاف کرکیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتےہیں۔“
محققینِ تاریخ کے مطابق اِن الفاظ کا اضافہ پہلےادوارکےمسیحیوں کی ’یہود دشمنی‘ کا نتیجہ تھا،کیونکہ مسیحی دُنیا میں یہودیوں کوہمیشہ”قاتلینِ مسیح“ (Christ Killer) کے لقب سے ملقّب کرکےنفرت کی تلوارکی نوک پررکھا گیا۔ اِس آیت میں یسوع کی دُعا کا مطلوب ”رومیوں“ کوبناکر اُن کے لئے مسیحیت کے اندرنرم گوشہ پیدا کیا گیا،تاکہ رُومی سلطنت کے مسیحیت قبول کرنے پراُن پر کوئی داغ باقی نہ رہ جائے۔ اِس عبارت کوبعض علماء نے”ای/E“ اوربعض نے”ایفF/“ کےدرجےمیں رکھا۔ لہٰذایہ عبارت جدید یونانی ورژنز اور انگریزی تراجم کے متن کا بدستورحصہ تورہی، لیکن ہرایک بائبل کےاندراِس آیت کےحاشیہ میں اِس کی مشکوک حیثیت کا ذکرضرورکردیا گیا۔ مزید، اِسی باب کی آیت 17 کوبھی مسیحی محققین کے ہاں بائبل کے متن میں اِضافہ شمار کیا جاتا ہے، لہٰذا اِس تحریف کا ذِکر بھی بائبل کے تقریباً ہر جدید ورژن میں موجود ہے۔
✔  مزید برآں، اِنجیلِ متی باب 17، آیت 21 کا بھی قدیم مسودات میں کہیں کوئی وجود نہیں ہے۔ لہٰذا اِس پیچیدگی کا حل یہ نکالا گیا کہ یا تو بائبل کے کچھ جدید نسخہ جات سے اِس آیت کو مکمل طور پر حذف کر کے 20 کے بعد متن میں آیت نمبر 22 کو ڈال دیا گیا، یا پھر ”کنگ جیمس ورژن بائبل“ کے متن کو ہی بریکٹیں ڈال کر جدید ترجمہ کے ساتھ شامل کرلیا گیا، تاہم، ساتھ ہی حاشیہ میں اِس عبارت کی مشکوک تاریخی نوعیت کا ذکر بھی کر دیا گیا۔
  ✔     اِسی طرح اِنجیلِ متی باب 18، آیت 11 کے ساتھ بھی بالکل یہی معاملہ پیش آیا اور اِس آیت کو یا توبائبلی متن سے مکمل طور پر حذف کر کے آیت کا نمبر چھوڑ دیا گیا، یا پھر بریکٹوں کا سہارا لے کر کنگ جیمس ورژن والی عبارت کو ہی جدید زبان میں منتقل کر کے حاشیہ آرائی کر دی گئی کہ عبارت قدیم ترین مستند صحائف سے غائب ہے۔
 ✔       علاوہ ازیں، اِنجیلِ متی باب 23، آیت 14 کے ساتھ بھی بالکل یہی معاملہ پیش آیا اور یہ آیت بھی بریکٹوں میں بند کر دی گئی۔
  ✔       اِس کے بعد انجیلِ یوحنا کے باب 5، آیات 3 اور4 میں بھی مسیحی علماء کو یہی مسئلہ درپیش تھا کہ قدیم مسوداتِ عہدنامہ جدید کے اندر اِن آیات کی آج پائی جانے والی عبارت کا کہیں کوئی نشان نہ تھا، لہٰذا معاملہ یہاں بھی بریکٹوں کے سپُرد کر کے حاشیہ میں تحریف کا گول مول الفاظ میں  اعتراف کر لیا گیا اور قصہ ختم سمجھاگیا۔
 ☜         یہاں تک کی گئی گفتگو سے یہ تاثر یقیناً مضبوط ہو رہا ہو گا کہ تحریف پر مبنی زیادہ تر مسائل ”اناجیلِ اربعہ“ میں ہی پائے جاتے ہیں۔ تاہم، یہ تاثر حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ دراصل اناجیل سے باہر دیگر کُتبِ عہدِ جدید میں بھی بکثرت تحریفات پائی جاتی ہیں، جن میں جہاں اکثر کاتبین کی قلمی غلطیوں کا نتیجہ ہیں، تو وہیں ایک کثیرتعداد  اِرادتاً  و دانستہ  کی جانے والی تحریفات کی بھی ہے۔
   ✔      مثال کے طور پر، تیمٗتھیُس (Timothy) کے نام پہلے خط کے باب 3، آیت نمبر 16 میں ایک ایسا ہی تحریفی واقعہ پیش آیا، جوناقدینِ متن کے مطابق پولوسی مسیحیت کے پیروکار کلیسیاء کی قرُونِ اُولیٰ کی دینیاتی منشاء کو ظاہر کرتا ہے۔ اِس مخصوص تحریف نے بلاشبہ مسیحی دینیات والٰہیات کی تدریجی تشکلیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تحریف کی سنگین نوعیت پر روشنی ڈالنے کے لیے ہمیں یونانی رسم الخط کا بھی سہارا لینا پڑے گا، کیونکہ اِسی رسم الخط میں اِبتداً عہدِ جدید لکھا گیا تھا۔ یہاں آیت 16 میں یسوع کی طرف نسبت رکھنے والا ایک اہم جملہ ”وہ جو جسم میں ظاہر ہُوا“ ہے۔ انگریزی زُبان کے جدید ترجموں میں یہ جملہ کچھ یُوں پایا گیا ہے:
“He appeared in the flesh...” (NIV) یا “He who was revealed in the flesh...” (NASB)
تاہم، ”کنگ جیمس ورژن بائبل“ اور اِس سے متعلقہ دیگر سبھی تراجم اِس کو کچھ اِس طرح لکھتے ہیں:-
“God was manifest in the flesh ۔۔۔” (KJV) یا “God was revealed in the flesh...” (MEV)
   ☚   اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا بنیادی فرق کیوں ہے؟ آخر ”وہ“ کے انسانی صیغہءمذکر کو ”خدا“ کے لفظ کے ساتھ کیسے بدل دیا گیا؟
 ☜         اِس پیچیدگی کا جواب یُونانی متن میں ہے۔ اصل متن میں اسمِ ضمیر”وہ“ (He) کی ثانوی حالت ”جو“ (who) کے لیے جو یُونانی لفظ استعمال ہُوا ہے، وہ    Omicron Sigma   یعنی Ὃς (ہوس) ہے۔ مزید واضح کرتا چلوں کہ یُونانی زُبان میں خُدا کے لیے θεός (تھیوس) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ غور کرنے پر معلوم ہو گا کہ θεός کے آخری دونوں حروف بھی Omicron Sigma ہی ہیں، جو مذکر کی حالتِ ضمیر”جو“ کے لیے قدیم یُونانی زُبان میں مستعمل تھے۔ لہٰذا مسیحی دُنیا کی تیسری اور چوتھی صدیوں کی باہمی لڑائی اور مذہبی مناظرہ جات کے دوران یسوع کو خُدا ماننے والے تثلیثی فرقہ کے کاتبین نے کلیسیائی زُعما کے ایماء پر  Ὃς   کے ساتھ Theta Epsilon یعنی  θε   کا اضافہ کر کے نیا متن وسیع پیمانے پر شائع کر دیا۔ پس، یُوں Ὃς کے لفظ کو θεός بنا کر ”وہ جو“ سے ”خُدا“ بنا دیا گیا۔ اِس تحریف کا محرک ”توحیدی“ مسیحیوں کے ساتھ مباحثوں اور مناظروں میں یسوع کی اُلوہیت کو عہدنامہ جدید کے متن سے ثابت کرنا تھا۔ چونکہ ”خُدا“ کا لفظ پچھلی دو صدیوں میں دریافت ہونے والے قدیمی مخطوطات میں نہیں پایا گیا، لہٰذا جِدّت پسند مسیحی علماء نے عمداً کی گئی اِس صریح تحریف کا اعتراف کرتے ہوئے عبارت کو واپس ”وہ جو“ (He who) سے بحال کر دیا ہے۔ تاہم، دُوسری طرف رجعت پسند مسیحی علماء و مُقلّدین آج بھی لفظ ”خُدا“ والی عبارت سے چمٹے ہوئے ہیں۔
اِس کے علاوہ بھی بائبل کے مسیحی عہدنامہ (New Testament) کے اندر کئی ایک مزید ایسے مقامات موجود ہیں، جن کو خود مسیحی علماء کی طرف سے "ایف" کا درجہ دیا جا چکا ہے اوراب ان کوعلمی حلقوں میں بطورِ حوالہ مسترد کیاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ "کنگ جیمس ورژن بائبل" اور بائبل کے دیگر جدید تراجم کے درمیان لفاظی، اسلوب اورمضامین کا واضح فرق موجود ہے!
تاہم مغرب کے غیرتعلیمی وتحقیقی کلیسیائی حلقوں میں اب بھی اِن تحریفات کےتسلسل اورتقدیس کا سلسلہ اُسی شدت سے پایا جاتا ہے،جس کی وجہ سے ”کنگ جیمس ورژن“ آج بھی سب سے زیادہ فروخت ہونےوالی بائبل ہے۔ چونکہ مسیحی الہٰیات میں اِن مرکزی نوعیت کی تحریفات پرقائم شدہ عقائدعام مسیحی افراد کے ایمان اورشخصیت کے اندر اِس قدرڈھل چکےہیں،کہ مسیحیت کی کوئی اور(مثلاًخالص توحیدی) شکل قبول کرنا اُن کے لئےممکن ہی نہیں، لہٰذاعلماء ومحققین کی نِت نئی دریافتوں، شبانہ روزکی ریاضتوں اورکاوشوں کی طرف مسیحی دُنیا (Christendom) کےعام باسیوں کی جانب سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ البتہ یہاں بائبل کےمتن پرکام کرنے والے مسیحی علماء وناقدین کوداد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی،کیونکہ نقذِ متن کےعمل میں اُن کےآگے”عقیدہ“ نےرُکاوٹ ڈال کرسچ کوجھوٹ کےپردوں میں چھپانےپرمجبورنہیں کیا!
☚     لہٰذا، آخرمیں اِس بحث کے فطری نتیجہ کے طور پریہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ باقی ماندہ بائبل پراب کس حد تک اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ اوراگر کیا بھی جائے توان مسائل کی واضح موجودگی میں آخرکیسےکیا جائے؟ مزید یہ کہ اِس شعبہ میں ہونے والی جدیدعلمی پیش رفت کے بَعْد کیا "قرآن کریم" کا یہ دعویٰ سچ ثابت نہیں ہوجاتا کہ یہودی اورمسیحی علماء اورکاتبین بلاشبہ الہامی کتابوں کے متن میں دانستہ ونادانستہ دونوں طرح سے”تحریف“ کرتے رہے ہیں؟ کاتبین کی نادانستہ اغلاط اوراِملائی تغیرات (Textual Variants) کی آج تک دریافت ہونےوالی کُل تعداد ایک لاکھ سے اُوپر بنتی ہے،جوکثرتِ تعدادکےباعث محققین کےمطابق عہدنامہ جدید کےمجموعی الفاظ کےحجم کے ہم پلہ ثابت ہوتی ہے۔ تاہم، ہم یہ موضوع یہاں ہماری بحث کا حصہ نہیں،کیونکہ یہ بحث محض دانستہ کی گئی تحریفات تک محدود ہے۔
( واضح رہےکہ اِس مضمون میں بحث محض "عہدنامہ جدید" تک محدود رکھی گئی ہے، جبکہ "عہد نامہ قدیم" کے بارے میں بحث علیحدہ مضمون میں شائع کی جائے گی!)۔
نوٹ : مسیحی بھائیوں کے سامنے میدان کھلا ہےکہ وہ اِس تحریر میں پیش کیے گے حقائق کو ثبوت کی بنیاد پراگر جھٹلا سکتے ہیں تووہ ضرورایساکردکھائیں...خوش آمدید!
                               
                 





مکمل تحریر >>

جمعرات، 21 جنوری، 2016

اصل عیسائی کون؟





حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے تقریبا پینتیس  سال بعد رومیوں نے یروشلم پر حملہ کردیا اور پورے شہر کو تباہ برباد کرکے رکھ دیا،عورتوں اور مردوں ،بچوں اور بوڑھوں کو بے دریغ قتل کیا گیا(بحوالہ بنی اسرائیل کی تاریخ،کیتھولک سلسلہ تفسیر) حتی کہ  مؤرخین لکھتے ہیں کہ یروشم کا قصبہ گلیل میں واقع جھیل لاشوں سے بھر گئی اور سرخ ہوگئی،،اس بڑے پیمانے پر قتل وغارت گردی ہوئی کہ اس زمانے کی تاریخ ہی عنقاء ہوگئی کیونکہ لوگوں کو تو اپنی جان بچانے کے لالے پڑے ہوئے تھے اور ایسے حالات میں تاریخ کو لکھنے کی حماقت کون عقل مند کرتا ہے؟
،،عیسیٰ علیہ السلام سے متعلقہ افراد اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی مبارک آنکھوں سے اللہ کے اس برگذیدہ اور جلیل القدر پیغمبر کی زیارت کی،وہ بھی اس فساد کی نذر ہوگئے،،اس زمانے کی تاریخ تو ہوگئی ختم،،جو کچھ بچے کچھے لوگ تھے انہوں نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا شروع کردئیےاوررفتہ رفتہ بھانت بھانت کے واقعات اور دیومالائی داستانیں عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہوگئیں۔ مروجہ اناجیل اربعہ بھی انہی من گھڑت روایات کی پیداوار ہے کیونکہ ان میں جن واقعات و عقائد کا انتساب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب ہے بعینہ وہی واقعات قدیم بت پرستوں کے دیوتاؤں کے ساتھ بھی واقع ہوئے ہیں۔مثلاً بعل دیوتا کو بھی خدا کا بیٹا کہا جاتا تھا،اسکو بھی مصلوب کیا گیا اور وہ تین دن بعد مردوں میں سے جی اٹھا ،اسی طرح یہی کہانی ہندودیوتا کرشنا سے بھی منسوب ہے ۔اگر ہم مقدس گوگل کی مدد لیں اور اس پر
the sixteen saviour لکھ کر تلاش کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا کی تاریخ میں  حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قبل سولہ ایسی ہستیاں گزر چکی ہیں جن کے ساتھ وہی واقعات پیش آئے جو انجیل نویسوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے پیش کئے ہیں ۔صرف یہی نہیں بلکہ مروجہ انجیل میں مرقوم پہاڑی وعظ (جوکہ مسیحی تعلیمات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے)ہزاروں سال قبل بدھ مت کی تعلیمات سے مسروقہ ہے،نیز یہی پہاڑی وعظ وادی قمران سے دریافت ہونے والے دوسو قبل مسیح کے صحف میں بھی موجود ہے،یعنی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیدائش سے قبل بھی یہ تعلیمات موجود تھیں جو بعد ازاں جھوٹ بول کر ان کے نام سے پیش کردی گئیں۔ان تمام حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ مروجہ عیسائیت کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بت پرستی کا ایسا سلسلہ ہے جو الہام کے نام پر پیش کرکے لوگوں کو دھوکہ دیا جاتاہے۔
اس بات کا کلیسیاء کو بھی اقرار ہے کہ ہمارے پاس یسوع المسیح کے بالکل درست الفاظ کا ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔(بحوالہ معتدبہ کلام مقدس، پاکستان بائبل سوسائٹی)کیونکہ فتنوں اور فسادوں کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام کے متعین بھی تتربتر ہوگئے۔جب کچھ امن وامان قائم ہواتوعیسائی بھی مجتمع ہونا شروع ہوگئے۔اس وقت عیسائیوں کے معاندین میں سرفہرست دو لوگ تھے ایک یہودی اور دوسرے رومی۔ یہودی طاقت تو ہیکل کی تباہی کے بعد ختم ہوچکی تھی مگر رومیوں کی طرف سے عیسائیوں کی ایذاں رسانی کا سلسلہ جاری تھا۔ان سب حالات کے ساتھ ساتھ عیسائیوں میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری تھا۔اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد عیسائیوں میں بے شمار فرقے وجود میں آچکے تھے مگر بنیادی اعتبار سے ان کو دو حصوں میں تقسیم کی جاسکتا ہے۔
ایک عیسائی تو وہ تھے جوپکے تثلیثی مشرک تھے اور سینٹ پولس کی تعلیمات پر عمل پیرا تھے بعد میں اسی پولوسی مسیحیت کو رومی حکومت کے جھنڈے تلے سیاسی اغراض کی بناء پر پناہ مل گئی اور پھر انہوں نے اپنے مخالفین کا استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوٹی۔دوسرا گروہ میں شامل عیسائی  پکے مؤحد تھے اور ان کے پاس عیسیٰ علیہ السلام کی کچھ نہ کچھ تعلیمات زبانی روایات کے ذریعے موجود تھیں۔یہ لوگ پولوسی مسیحیوں سے ان کے مشرکانہ عقائد کی وجہ سے شدید اختلاف رکھتے تھے اور پولوسی مسیحی بھی ان توحیدی عیسائیوں کو ملعون سمجھتے تھے کیونکہ مقدس پولس نے خود اپنے خط میں لکھا ہے کہ "اگرہم یا آسما ن کا کوئی فرشتہ بھی اس انجیل کے سوا جو ہم نے تمہیں سنائی کوئی اور انجیل تمہیں سنائے تو وہ خدا کی طرف سے ملعون ہو۔(گلتیوں1:8)مقدس پولس کے ان دونوں گروہوں کے درمیان ہونے والی رسہ کشی واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ توحیدی عیسائی بھی اصل عیسائیت کی تبلیغ میں مصروف تھے اور ان کے پاس بھی انجیل تھی جس پر کان دھرنے والوں کو مقدس پولس نے لعنتی قرار دے دیا۔
یہی وہ توحیدی عیسائی تھے جو تثلیث کے بجائے خدائے واحد کو ایک مان کر اس کی عبادت کرتے تھے۔نقائیہ کونسل کے بعد مسیحیوں نے ان کا استحصال کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی،ان کی کتب کو نذرآتش کیا،ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے اور اس طرح سے یہ مؤحد عیسائی بلادعرب میں پھیل گئے اور نبی آخرالزماں کا انتظار کرنے لگے جن کے آنے کی بشارت سیدناعیسیٰ علیہ السلام اپنی لسان مبارک سے دے چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولات باسعادت کے موقع پر اطراف عرب میں یہی توحیدی عیسائی ہی آباد تھے جو انجیل (عیسیٰ علیہ السلام کی وہ انجیل جو زبانی روایات کے ذریعے ان تک پہنچی) میں موجود نبی کریم صل اللہ علیہ  وسلم کے اوصاف کو پہچان کر جوق درجوق اسلام میں داخل ہوگئے اور ہجرت حبشہ کے موقع پر یہی لوگ ناصرین ِمسلمین بنے کیونکہ یہ لوگ حق پہچان چکے تھے یہی وجہ ہے کہ جب مشرکین مکہ کا وفد ان لوگوں کو حبشہ سے دربدر کرانے کی سازش کرکے حبشہ پہنچا تو نجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کو طلب کیا اور ان کےنبی آخرالزماں کے متعلق سوالات کئے جن کے جواب میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے ایسی پراثر تقریر کی کہ بادشاہ کا دل نرم ہوگیا اور پھر جب بادشاہ کی فرمائش پر انہوں نے سورۃ مریم کی آیات جلیلہ کی تلاوت کرنا شروع کی تو نجاشی اس قدر رویا کہ اس کی داڑھی تر ہوگئی۔نجاشی کے دربار میں اُس وقت عیسائیوں کے بڑے بڑے اساقف(بشپ) بھی موجود تھے وہ بھی حضرت جعفررضی اللہ عنہ کی تقریر وتلاوت سن کے ایسا روئے ان کے پاس موجود صحائف مقدسہ تک ان آنسوؤں سے بھیگ گئے۔پھر نجاشی نے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے دونوں ایک ہی شمعدان سے نکلے ہیں اور پھر اس مؤحد بادشاہ نے کفار مکہ کو اپنے دربار سے نکال دیا اور اسلام لے آیا(بحوالہ الرحیق المختوم،مولاناصفی الرحمن مبارک پوری)
یہی وہ عیسائی تھے جن کی تعریف میں رب العالمین نے بھی اپنا قرآن عظیم نازل فرمادیا۔
لتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَة لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهمْ مَّوَدَّة لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهمْ قِسِّيسِينَ وَرُهبَانًا وَأَنَّهمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ ﴿82﴾  وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْيُنَهمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهدِينَ ﴿83﴾ وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّه وَمَا جَاءنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ ﴿84﴾ (سورۃ المائدہؒ:رقم الایۃ 82 تا 84)
ترجمہ:  تو سب لوگوں سے زیادہ مسلمانوں کا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائے گا اور تو سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں سے ان لوگوں کو پائے گا جو  کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں علماء اور فقراء ہیں اور اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے ۔اور جب اس چیز کو سنتے ہیں جو  رسول پر اتری تو ان کی آنکھوں کو دیکھے گا کہ آنسوؤں سے بہتی ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا کہتے ہیں اے رب ہمارے کہ ہم ایمان لائے تو ہمیں ماننے والوں کے ساتھ لکھ لے ۔اور ہمیں کیا ہے ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں اور اس چیز پر جو  ہمیں حق سے پہنچی ہے اور اس کی طمع رکھتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیکوں میں داخل کر ے گا۔
دوسری طرف پولوسی مسیحی گروہ تھا جو اپنی ہٹ دھرمی ،کفر اور عناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتارہا حالانکہ یہ لوگ بھی حق کو پہچانتے تھے اور نبی آخرالزماں کے منتظر تھے۔قرآن کریم ان کے بارے میں فرماتا ہے۔
وَكَانُـوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّـذِيْنَ كَفَرُوْاۚ فَلَمَّا جَآءَهُـمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ۚ فَلَعْنَةُ اللّـٰهِ عَلَى الْكَافِـرِيْنَ(سورۃ البقرۃ رقم الایۃ89)

اور اس سے پہلے وہ کفار پر فتح مانگا کرتے تھے، پھر جب ان کے پاس وہ آیا جسے انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کیا، سو کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔
یہی مسیحی اہل نجران بھی تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مناظرہ کرنے کے لئے مدینہ عالیہ آئے اور پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مناظرہ شروع کیا اور اللہ رب العزت سورۃ آل عمران اتارتا چلا گیا یہاں تک کہ یہ مسیحی دلائل میں عاجز آگئے مگر حق پھر بھی قبول نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہٹ دھڑمی اور کٹ حجتی دیکھتے ہوئے آیت مباہلہ بھی نازل فرمادی کہ اگر دلائل سے بات کو نہیں مانتے تو آجاؤ خدا کی عدالت سے ہی فیصلہ کرا لو۔
َفَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (61)
ترجمہ: پیغمبر علم كے آجانے كے بعد جو لوگ تم سے كٹ حجتى كريں ان سے كہہ ديجئے كہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند ،اپنى اپنى عورتوں اور اپنے نفسوں كو بلائيں او رپھر خدا كى بارگاہ ميں دعا كريں او رجھوٹوں پر خدا كى لعنت قرا رديں _ 
مگر یہ پولوسی مسیحی اپنے کفر پر قائم رہے اور پیغمبراسلام ﷺ سے مناظرہ کے بعد مباہلہ تک کے لئے تیار ہوگئے۔صبح کو جب رسول اللہ ﷺ اپنی آل اولاد کے ساتھ میدان کی طرف نکلے اور یہ مسیحی اساقف بھی صف باندھ کر رسول اللہﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے تو اساقف (بشپ)کے سردار نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم جانتے ہو کہ محمدﷺ سچے اور برحق نبی ہیں اور جس قوم نے اپنے نبی سے مباہلہ کیا وہ ہلاک ہوئی ہے۔ان مقربان الٰہی چہروں سے مباہلہ کرنے سے بچو۔خدا کی قسم میں دیکھتا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں گے تو خدائے تعالیٰ پہاڑوں کو بھی ان کے کہنے پر ہٹا دے گا۔اب اگر تم میری بات نہیں مانتے اور مباہلہ کرتے ہو تو یاد رکھو روئے زمین پر پھر ایک بھی مسیحی زندہ نہیں بچے گا۔اسقف اعظم کے ساتھیوں نے جب یہ سنا تو ان کی عقل بھی ٹھکانے آگئی اور وہ مباہلہ سے پیچھے ہٹ گئے اور ایک مخصوص مقدار جزیہ مقرر کرا کر واپس نجران روانہ ہوگئے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر آگ برساتا اور پتھروں کی بارش ہوتی اور یہ سب ہلاک ہوجاتے ایک بھی نہ بچتا۔اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسیحیان عالم رسول اللہ ﷺ کی بعثت کو حق جانتے تھے اور اور ان کو سچا نبی بھی مانتے تھے مگر ان کا تعصب اور مذہبی پیشوائیت انہیں قبول حق سے مانع تھی۔بادشاہ روم ہرقل کا واقعہ اس پر شاہد ہے کہ اس ہرقل پر حق واضح ہوچکا تھا مگر اس کو اپنے دربار(اسٹیبلشمنٹ) سے خطرہ تھا کہ یہ بغاوت کرکے میرا تخت وتاج چھین لیں گے جبھی وہ اسلام قبول کرنے سے بعض رہا وگرنہ جب ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو اس نے اپنے دربار میں بلا کر ان سے مکالمہ کیا اور باوجود بدترین دشمنی کے ابوسفیان پیغمبراسلام کے بارے میں کوئی غلط بات نہ کہہ سکے تو ہرقل نے بھی انہیں سچا نبی مان لیا کہ کہا کہ  اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہو سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ (پیغمبر) آنے والا ہے۔ مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہارے اندر ہو گا۔ اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا تو اس سے ملنے کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔(صحیح بخاری،رقم الحدیث 7)
فتح مکہ کے بعد جب اسلام کی نشرواشاعت جمیع بلاد عرب میں پھیل گئی تو اطراف عرب وشام میں رہنے والے توحیدی عیسائیوں نے اسلام کو قبول کرلیا اور اسلام میں ضم ہوگئے اور اب دنیا میں فقط تثلیثی مشرک مسیحی ہی باقی بچے ہیں۔چند مسیحی گروہ ایسے ہیں جو آج بھی توحید پرستی کادعویٰ کرتے ہیں مگر ان کا دعویٰ بذات خود کذب بیانی کے سوا کچھ نہیں بلکہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب جھوٹی روایات پر مبنی کتب پر ہی یقین رکھتے ہوئے انہیں الہام کا درجہ دیتے ہیں اور ساتھ ہی عیسیٰ علیہ السلام کو مجسم خدا بھی مانتے تھے جبکہ قرآن کریم اس بات کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پاک ہے اس کو کسی چیز کے تجسم کی ضرورت نہیں۔
غرض کہ آج کی دنیا توحیدی عیسائیوں کو وجود عنقاء ہوچکا ہے اور دنیا میں فقط مشرک مسیحی ہی باقی بچے ہیں جن کا سیدناعیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سب انسانی تعلیمات ہی ہیں جنہیں الہام کے نام  پر کونسلز کا انعقاد کرکر کے قبول کیا گیا۔وادی قمران کے صحائف دنیا کے سامنے آنے سے تو یہ بات اور بھی زیادہ واضح ہوگئی ہےکہ موجودہ مسیحیت ایک غیرالہامی مذہب ہے ۔مجھے رہ رہ کر مشہور مسیحی محقق وقمرانی صحائف پر ریسرچ کرنے والے اسکالر جان الیگرو کو مقولہ یادآرہاہے جو انہوں نے اپنی کتاب"دی ڈیڈ سی اسکرول" میں لکھا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسیحیت کو انسانی ہاتھوں سے اتقاء پذیر مذہب قرار دے کر ہمیشہ کے لئے خیرآباد کہہ دیا جائے۔
تحریر:عبداللہ غازیؔ


مکمل تحریر >>

جمعرات، 1 اکتوبر، 2015

“اگر کسی اور قوم کی قید میں ہوتی تو میرا حال گوانٹاناموبے او رابو غریب جیل کے قیدیوں جیسا ہوتا، مجھے اسلام کی دشمنی افغانستان لے گئی، مگر اسلام میری آخری تمنا بن گیا” ایوان ریڈلی وہ برطانوی صحافی خاتون ہیں جو 28 ستمبر2000ء کو خفیہ طور پر افغانستان میں داخل ہوتے ہوئے طالبان کی قید میں چلی گئی تھیں اور 10 دن تک طالبان کی قید میں رہیں۔ اسی قید نے انہیں کفر کی زندگی سے آزادی دلوائی۔

قید سے آزاد ہونے کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور عیسائیت کو ترک کرکے اسلام قبول کر لیا۔ آج کل وہ اسلام اورامت مسلمہ کے مسائل کی انتہائی سرگرم ترجمان ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں چاہتی ہوں جدھر بھی جاؤں اسلام کی روشنی پھیلا دوں اور اسلام کے لیے لوگوں نے جو تعصب کی آ گ پھیلا دی ہے اسے بجھادوں۔ ون ریڈلی لندن کے اخبار”سنڈے ٹائمز“ میں ایک صحافی کی حیثیت سے کام کرتی تھیں۔ جب امریکی وبرطانوی فوج کی طرف سے افغانستان پر حملہ ہونے والا تھا تو رپورٹنگ کے لیے انہوں نے اپنے اخبار کو افغانستان جانے کی پیش کش کی۔ پاکستان پہنچنے کے بعد انہوں نے افغانستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ملی، لیکن انہوں نے افغانستان جانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا، اس لیے ایک افغانی کی مدد سے جعلی شناختی کارڈ بنواکر وہ افغانستان میں داخل ہوگئیں۔ ان کا گائیڈ جب ان کو اپنے گاؤں لے کر گیا تو وہاں کے لوگوں نے بڑی محبت سے ون ریڈلی کا استقبال کیا۔ گاؤں والوں کو جب یہ پتا چلا کہ ریڈلی ایک مغربی عورت ہے تو وہ ڈر گئے، کیوں کہ وہاں بلا اجازت غیر ملکیوں سے رابطہ رکھنا جرم تھا لیکن اپنی روایتی میزبانی نے ان کو ریڈلی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کی میزبانی سے فارغ ہو کر ریڈلی اپنے گائیڈ کے ساتھ وہاں سے آگے روانہ ہو گئیں۔ کچھ دور وہ دونوں پیدل چلے، اس کے بعد گائیڈ نے ون ریڈلی کو خچر پر سفرکرنے کو کہا۔ ریڈلی نے سوچا پہاڑی راستے پر چلنے سے بہتر ہے کہ وہ خچر پر بیٹھ جائیں۔ ان کے خچر پر بیٹھتےہی وہ بد کا اور اس نے دوڑ لگا دی اورکچھ دور جاکر رک گیا۔

ریڈلی نے دیکھا کہ وہاں مقامی لباس میں ملبوس ایک مسلح شخص کھڑا ہے، وہ ایک خوب صورت نوجوان تھا، جس کے چہرے پر داڑھی تھی ، وہ ریڈلی کے گلے میں جھولتے کیمرے کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ ایک صحافی ہیں۔ اس شخص جس کا مجھے کچھ دیر بعد علم ہوا کہ وہ طالبان فوجی ہے نے کیمرہ ان سے لے لیا اور خچر سے اترنے کو کہا ، اسی اثنا میں وہاں پر اور بھی مسلح طالبان آگئے۔ ایوان ریڈلی کہتی ہیں کہ ” میں نے سوچا اس وقت میں دنیا کے سب سے ظالم اور شیطان طالبان کی قید میں ہوں ، اب پتہ نہیں وہ میرا کیا حشر کریں گے؟ “ مسلح لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے، لیکن نہ کسی نے انہیں ہاتھ لگایا اور نہ کسی نے ان سے کوئی بات کی ۔ پھر ان کو اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ آگے بڑھے۔ ایک مقام پر رک کر کھڑے ہو گئے ، وہاں پر بہت سے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ ریڈلی نے سوچا شاید ان کو سنگسار کیا جائے گا۔ اتنے میں شور اٹھا، ایک آدمی ایک خاتون کے ساتھ ادھر ہی آرہا تھا۔ اس عورت نے آتے ہی ون ریڈلی کے جسم کو ٹٹولنا شروع کیا۔ پتہ چلا کہ یہ لوگ یہاں رک کر اسی عورت کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آکر اس کی تلاشی لے سکے۔

ریڈلی کہتی ہیں کہ اس وقت میں نے سوچا کہ میں دنیا کے مہذب ترین ملک کی شہری ہوں، لیکن وہاں کسی عورت کی جامہ تلاشی کے لیے اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا، یعنی عموماً مرد سیکورٹی اہلکار ہی خواتین کی جامہ تلاشی لیتے ہیں اور یہ دنیا کے سب سے جاہل اور ظالم فوجی اس بات کا خیال کر رہے ہیں کہ ایک عورت کی جامہ تلاشی مرد نہ لے، بلکہ ایک عورت ہی لے ۔ تلاشی کے دوران ون ریڈلی نے اپنے کپڑے اوپر اٹھا دیے تو وہاں موجود تمام لوگ اپنا چہرہ دوسری طرف کرکے کھڑے ہو گئے۔ گرفتاری کے بعد ون ریڈلی نے اس گروہ کے ایک فرد سے سٹیلائٹ فون کا مطالبہ کیا، تاکہ وہ اپنے گھر اور دفتر والوں کو اپنی گرفتاری کی اطلاع دے سکیں۔ ان کے انکار پر ریڈلی نے بھوک ہڑتال کر دی۔ ون ریڈلی کا خیالی تھا کہ دنیا کی سب سے ظالم فوج کو ان کی بھوک ہڑتال کی کیا پروا ہو گی؟ لیکن وہ لوگ اس کی بھوک ہڑتال سے پریشان ہو گئے اور طرح طرح سے ان کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کی کوشش کرنے لگے ، پھر ایک بزرگ آئے ، وہ ون ریڈلی کو انگریزی میں سمجھانے لگے اور ان کے کھانے سے مسلسل انکار پروہ رونے لگے۔ بھوک ہڑتال کے دوران ایک دن ان کی طبیعت خراب ہو گئی تو ان کے لیے فوراً ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ جس فوج کے بارے میں ون ریڈلی نے سن رکھا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے ظالم اور شیطانی فوج ہے، ان کے اس رویے سے وہ بہت حیران تھیں۔

ایک دن ان کا ترجمان ان کے پا س آیا ،جو انگریزی جانتا تھا، اس نے ان سے کہا کہ ایک بہت بڑی شخصیت ان سے ملنے آرہی ہے ، ترجمان نے ان سے یہ بھی کہا کہ ان سے کوئی بدتمیزی نہ کرنا۔ اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد دروازہ پردستک ہوئی ۔ یہ بھی ایک عجیب بات تھی کہ وہ ایک قیدی تھیں، لیکن دروازہ کھولنے کا اختیار اور چابی انہیں کے پاس تھی ، ون ریڈلی نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا، سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر وہ تھوڑی خوف زدہ ہو گئیں ، وہ ایک طویل القامت شخص تھا، اس کی لمبی داڑھی تھی اور اس نے لمبا چغہ پہن رکھا تھا، اس کے چہرے سے جیسے ایک نور نکل رہا تھا۔ وہ شخص اجازت لے کراندر داخل ہوا اور ریڈلی کا حال واحوال پوچھنے کے بعد اس نے اس سے اسلام کے بارے میں پوچھا۔ ریڈلی نے سوچا اگر اس کے سوال کا جواب نہ دوں گی تو رہائی مشکل ہو جائے گی، لہٰذا اس نے درمیانی بیان دیا کہ اسلام بہت اچھا مذہب ہے ، اسلام امن اورسلامتی کامذہب ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ تم اسلام کیوں قبول نہیں کر لیتیں ؟ ایوان ریڈلی نے سوچا کہ ابھی اسلام قبول کیا تو سمجھیں گے کہ دباؤ میں اسلام قبول کیا ہے، اس لیے اس نے چالاکی سے کہا کہ اگر مجھے رہا کر دو تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ اسلام اور قرآن کا مطالعہ کروں گی۔ جاتے وقت اس شخص نے کہا، تم ان شاء الله جلد گھر چلی جاؤ گی۔ اگلی صبح کچھ فوجی آئے اور اسے لے کر چلے ۔ ون ریڈلی نے سوچا شاید اسے رہاکیا جارہا ہے، مگر وہ اسے خواتین کے قید خانے میں لے گئے۔

جب وہ وہاں داخل ہوئیں تو اس نے دیکھا کہ وہاں کچھ یورپی خواتین دائرہ بنائے با آواز بلند بائبل کا مطالعہ کر رہی ہیں۔ انہیں ان کی عبادت سے کوئی نہیں روک رہا تھا، کیوں کہ اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو اپنی عبادت کرنے کی مکمل آزادی ہے، البتہ وہ اپنے دین کی تبلیغ نہیں کرسکتے۔ ون ریڈلی نے سگریٹ پینا چاہا تو ان خواتین نے بتایاکہ نو اسموکنگ ایریا ہے، یہاں مرد اور عورت کوئی سگریٹ نہیں پیتے۔ ایک دن ون ریڈلی نے ایک افسر کے سامنے تھوک دیا، افسروں کو برا بھلا کہنا تو اس کا معمول تھا، ون ریڈلی کو لگا کہ تھوکنے کی وجہ سے اسے سزائے موت ضرور دے دی جائے گی۔ ایک شخص نے کہا کہ تم نے ہمارے لیڈر کے ساتھ بدتمیزی کی ہے، جس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی اور تمہاری سزا یہ ہے کہ آج سبھی قیدی اپنے اپنے گھر فون کریں گی، مگر تمہیں فون کرنے کی اجازت نہیں ملے گی ۔ دنیا میں مشہور ”ظالم“ حکومت نے یہ سزا اسے دی تھی۔ ون ریڈلی اپنی قید کے دوران ہوئے ایک دلچسپ واقعہ کو اس طرح سناتی ہیں کہ ” ہماری جیل میں مرد کم ہی آتے تھے، بس قید خانہ کے دروازہ پر مرد پہرے دار رہتے تھے۔ ایک بار میں نے اپنا زیر جامہ دھو کر سکھانے کے لیے قید خانے کے ایک حصے میں پھیلا دیا۔ کچھ دیر بعد ایک افسر میرے پاس آیا اور زیر جامہ وہاں سے ہٹانے کو کہا، میں نے ہٹانے سے صاف انکار کر دیا، اس پر انہوں نے ایک کپڑا اس کے اوپر ڈالوا دیا، لیکن مجھے انہیں پریشان کرنے میں مزا آتا تھا، میں نے وہ کپڑا اوپر سے ہٹا دیا اور کہا ، تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے، اگر ان کے اوپر کپڑاڈال دو گے تو یہ خشک کیسے ہو گا؟ کچھ دیر بعد میں نے دیکھا ایک شخص میرے پاس آیا، تعارف کرایا گیا کہ یہ افغان نائب وزیرخارجہ ہیں۔ انہوں نے بھی مجھ سے میرے زیر جامہ وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہاں ہمارے پہرے دار ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے انہیں فاسد خیالات آسکتے ہیں ۔ اس وقت میں سوچتی رہی کہ یا خدا! یہ کیسے لوگ ہیں؟ چند گھنٹوں بعد امریکا وبرطانیہ بھرپور طاقت کے ساتھ ان کے ملک پر حملہ کرنے والے ہیں اور یہ صرف اس خوف سے مجھ سے میرے کپڑے ہٹانے کے لیے گفتگو کرنے آرہے ہیں کہ کہیں ان کے پہرے داروں کے دل میں فاسد خیالات نہ آجائیں۔ امریکی حملے کے دوسرے روز طالبان فوجی ریڈلی کے پاس آئے اورکہا کہ ہم تمہیں حفاظت کے ساتھ پاکستان پہنچا دیتے ہیں ۔

ریڈلی حیران تھیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں،موت ان کے سروں پر کھڑی ہے اور یہ اسے حفاظت سے یہاں سے باہر نکالنے کی فکر میں ہیں؟ اس کے بعد وہ بحفاظت اُسے سرحد تک لائے اور پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا۔ اگر کسی اور قوم کی قید میں ہوتی تو میرا حال گوانٹاناموبے اور ابو غریب جیل کے قیدیوں جیسا ہوتا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا حال دیکھ کر وہ الله کا شکر ادا کرتی ہیں کہ وہ امریکا کی قید میں نہیں تھیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ون ریڈلی نے ان کی بہن فوزیہ صدیقی کے ساتھ کئی بار پریس کانفرنس میں حصہ لیا۔

ریڈلی نے قید کے دوران طالبان سے وعدہ کیا تھا کہ رہا ہونے کے بعد قرآن کریم کا مطالعہ کروں گی اس لیے آزادی نصیب ہونے کے بعد انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا، ساتھ ہی اسلام میں انسانی حقوق اور عورت کے مقام کو بھی جاننا شروع کیا، طویل مطالعہ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورتوں کو سب سے زیادہ حقوق دیے ہیں۔ ون ریڈلی جون2002ء میں کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام کے دائرے میں شامل ہو گئیں۔

ایوان ریڈلی کہتی ہیں کہ مجھے اسلام دشمنی کے لیے افغانستان بھیجا گیا تھا، مجھے کیا پتہ تھا کہ اسلام میرے لیے آخری تمنا بن جائے گا اورمیری زندگی اسلام کے لیے وقف ہو جائے گی۔ الله تعالیٰ میرا حامی وناصر ہو اورمجھے راہ حق پر قائم رکھے۔ آمین
مکمل تحریر >>